آپ کی رائے میں پاکستان کے حق میں کون سا نظام بہتر ہے، صدارتی یا پارلیمانی؟

عاصمہ شیرازی کا کالم: کیا صدارتی نظام کے لیے پچ تیار کی جا رہی ہے؟

صدارتی نظام کے فوائد اور پاکستان میں نظام بدلنے کی ڈرائنگ روم بحث سنجیدہ رُخ اختیار کررہی ہے۔

ایسا کبھی سوچا نہ تھا۔ ملک ناں ہوا کوئی تجربہ گاہ ہو گئی جہاں آئے روز نت نئے طریقوں سے آزمودہ ناکام نظام کے تجربات کیے جاتے ہیں۔ سیاست نا ہوئی کھیل کا میدان ہو گیا جس میں پرانے کھیل نئے انداز میں پیش کرنے کی کوشش لگاتار جاری ہے۔ نظام ناکام نہیں ہو رہا، نظام ناکام کرنے کی البتہ کوشش جاری ہے۔

سنہ 2016 میں مصطفیٰ کمال صاحب پاکستان آئے اور الطاف حسین سے لاتعلقی کے علاوہ جو سب سے بڑھ کر انوکھی بات لگی وہ تھی صدارتی نظام کے حق میں بھر پور دلائل۔ اس سے کچھ دن پہلے یا بعد میں سابق چیف جسٹس نے بھی اپنی جماعت تشکیل دی اور محض اتفاق کہ انھوں نے بھی صدارتی نظام کو ہی مطمع نظر قرار دیا۔

مجھ جیسے جمہوریت پسند اس وقت چونکے جب کوئی اور نہیں بلکہ ملک کے وزیراعظم نے 18ویں ترمیم کو وفاق کے دیوالیہ ہونے کی وجہ قرار دے دیا۔ وزیراعظم نے یہ بیان کہیں اور نہیں بلکہ سندھ کے دورے کے دوران داغا۔

اس سے قبل جس تواتر کے ساتھ جناب وزیراعظم جنرل ایوب خان کی خوبیاں اور اُن کے دور اقتدار کی معاشی کامیابیاں گنواتے ہیں، وہ اس بات کی غماز ہے کہ وزیراعظم صدارتی نظام کے متوالے نہیں بھی تو بھی مداح ضرور ہیں۔ یہ جانے بنا کہ صدارتی نظام کے ون یونٹ نے مملکت پاکستان کی یکجہتی کو جس قدر نقصان پہنچایا اس سے قبل اور بعد میں بھی اتنا کسی نے نقصان نہیں پہنچایا۔

محض اتفاق ہے کہ گذشتہ چند دنوں سے واٹس ایپ گروپس پر جنرل ایوب کی ایک ویڈیو کی گردش قدرے بڑھ گئی ہے جس میں وہ پارلیمانی نظام کو فقط مغرب میں ہی کامیاب قرار دیتے ہیں۔

کبھی مشرف کے دور کے اٹارنی جنرل انور منصور خان 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات دیتے دکھائی دیتے ہیں اور کبھی مشرف کے وکیل موجودہ وزیر قانون فروغ نسیم، تو کبھی فیصل واوڈا کی زبان پھسل جاتی ہے۔

اور تو اور انصافی اداکار بھی صدارتی نظام کے حق میں ٹویٹ کرتے ہیں اور دیکھتے ہی دیکھتے روزانہ کی بنیاد پر صدارتی نظام کی حمایت سوشل میڈیا پر ٹاپ ٹرینڈ بن جاتے ہیں۔ ۔ یا خدا یہ ماجرا کیا ہے؟ ان تمام اصحاب کی کج فہمیوں پر مہر وزیراعظم کے 18ویں ترمیم پر اقوال زریں ثبت کرتے ہیں۔

یوں تو 18ویں ترمیم کا صدارتی نظام سے کوئی خاص تعلق نہیں تاہم وفاقیت اور صوبائی خود مختاری کا نظریہ صدارتی نظام کی ضد ضرور ہے۔ مثلاً اگر آپ بہو کو سنانا چاہیں اور بیٹی کو بُرا بھلا کہیں تو پیغام بہترین انداز میں پہنچ جاتا ہے۔

اٹھارویں ترمیم میں این ایف سی ایوارڈ سے متعلق آرٹیکل 160 اصل معاملہ قرار دیا جا رہا ہے جس کے تحت چاروں صوبوں کو وفاق اپنے اپنے حصے کی رقم ایوارڈ کرتا ہے اور صوبے اپنے محاصل کے حقدار بھی خود ہیں۔ ظاہر ہے کہ وفاق مالی مشکلات کا شکار ہے اور وفاق کے ذخائر میں کمی اور اخراجات میں اضافہ ہی ہوتا چلا جا رہا ہے۔ جو وزیراعظم کی نظر میں وفاق کے دیوالیہ پن کا موجب ہے۔ یعنی اٹھارویں ترمیم۔

پاکستانی پارلیمان

یہ بحث شروع کیوں کی جا رہی ہے جبکہ بابائے قوم محمد علی جناح نے ایک سے زیادہ مرتبہ پاکستان میں پارلیمانی اور وفاقی نظام کی حمایت کی ہے۔ ہم صدارتی نظام کے ‘ثمرات’ ملک ٹوٹنے کی صورت بھگت چکے ہیں، کتنے تجربے اور کرنا چاہتے ہیں؟ سوائے ایک آدھی جماعت کے تمام سیاسی جماعتیں پارلیمانی، وفاقی نظام بمع صوبائی خودمختاری متفق ہیں، یہ اتحاد 18ویں ترمیم کا ہی شاخسانہ تھا۔

ملک کو فرد واحد کے اختیار میں دینے کا خواب دیکھنے والوں کو متنبہ ہونا چاہیے کہ پارلیمانی نظام کے علاوہ کوئی بھی نظام پاکستان کی وحدت اور یک جہتی کے لیے نقصان دہ ہو سکتا ہے۔ ایسی دلیلیں کہ پارلیمان کی مشترکہ دانش اور عوام کو براہ راست جواب دہی کا نظام ملک کو کمزور کر رہا ہے دراصل کمزور اور لایعنی دلیل ہے۔ کسی بھی حکومت کی ناکامی کو نظام کی ناکامی سے منسوب کیا جانا درست نہیں۔

کوئی بھی نظام ناکام ہو گا اگر ملک میں قانون کی عملداری اور کارکردگی نہ ہو۔ کیا سیاسی حکومتوں کی ناقص کارکردگی ظاہر کرنے والے دراصل تاثر دینا چاہتے ہیں کہ یہ نظام ہی پرفارم نہیں کر سکتا۔ کیا صدارتی نظام کے لیے پچ تیار کی جا رہی ہے؟

حالت یہ ہے کہ بلوچستان جیسے صوبے کے ترقیاتی فنڈز کا محض 12 فی صد خرچ ہوا ہے اور بقول حکومت کے ہی اتحادی بی این پی مینگل کے ثناء اللہ بلوچ کے پہلی بار کوئی سرکار اپنے ترقیاتی بجٹ کا 85 فی صد ضائع کر دے گی۔ خیبر پختونخواہ میں بی آر ٹی پی ٹی آئی سرکار کے لیے ایک ڈراونا خواب بن چکی ہے اور پنجاب کی بیڈ گورنننس کے تو ریکارڈ بننا شروع ہو گئے ہیں۔

حکمران جماعت کے اراکین اسمبلی عوام سے کترا رہے ہیں اور اتحادی چاہے ایم کیو ایم ہو یا بی این پی پی مینگل، اتحاد سے اکتائے دکھائی دیتے ہیں۔ یہاں تک کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم کو خوش کرنے کے لیے انھیں شروع سے ہی نظریاتی اتحادی قرار دے دیا۔ بی این پی مینگل اپنے چھ نکات پر ایک مرتبہ پھر حکومت کو چار ماہ کی ڈیڈ لائن دے چکی ہے۔ قلیل اکثریت اور اتحادیوں کی مرہون منت حکومت اپنے اتحادیوں کے جائز مطالبوں کو تسلیم کرنے کی بجائے 18ویں ترمیم کے خلاف بیانات دینے میں مصروف ہے۔

موجودہ حکومت کی کار کردگی خاص طور پر معاشی محاذ پر مشکلات تقاضا کرتے ہیں کہ نظام کی تبدیلی کے بجائے کارکردگی پر دھیان دیا جائے۔ سوشل میڈیا پر سرکار چلانے کی بجائے اصلاحات پر زور دیا جائے، ٹوئٹر کی دنیا سے نکل کر عوام سے ناتا جوڑا جائے۔ خدانخواستہ حکومت کی ناکامی کہیں نظام کی ناکامی نہ بن جائے۔ پاکستان نئے تجربوں کا متحمل نہیں ہو سکتا۔

BBC URDU

(Visited 177 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT