ارطغرل!! چراغ حسن حسرت کی لکھی گئی جامع کتاب


ارطغرل چراغ حسن حسرت

علامہ اقبالؒ کی وفات سے چند ماہ قبل، جون 1937ء کا کوئی دن تھا جب چراغ حسن حسرت جاوید منزل میں حاضر تھے، ان کے ساتھ عبدالمجید سالک اور احمد ندیم قاسمی بھی تھے۔ دورانِ گفتگو علامہ اقبالؒ نے اس بات کا اظہار کیا کہ :
”کچھ عرصہ سے یورپ میں سوانح نگاری کا ایک نیا انداز مقبول ہو رہا ہے یعنی سوانح نگار جس شخص کے حالات لکھنے بیٹھتا ہے، اس کی عادات و خیالات کو اس انداز میں بیان کر دیتا ہے کہ تصور کی آنکھ اسے دیکھ لیتی ہے۔اردو میں اس انداز کی کتابیں ابھی نہیں لکھی گئیں۔ اگر کوئی خدا کا بندہ اس کام کا بیڑا اُٹھائے اور مسلمان فرماں رواﺅں ، عالموں ، شاعروں اور ادیبوں کے حالات سیدھی سادی زبان میں اس طرح بیان کردیے جائیں کہ عام لوگ بھی انھیں ذوق وشوق سے پڑھیں ۔ یہ اُردو کی بہت بڑی خدمت ہو گی۔“
 

[چراغ حسن حسرت،اقبال نامہ،لاہور، تاج کمپنی،س۔ن،ص۵]
علامہ صاحب کی اسی خواہش کو عملی جامہ پہناتے ہوئے حسرت صاحب نے مختلف موضوعات پر قلم اٹھایا ، بالخصوص بچوں کے لیے چھوٹے چھوٹے تاریخی، اسلامی، اخلاقی اور سوانحی کتابچے تحریر کیے۔ انھی میں سے ایک “ارطغرل” بھی ہے۔ 23 صفحات پر مشتمل یہ کتابچہ تقریباً 80 برس قبل لکھا گیا جس کی اشاعت بعد میں نیشنل بک فائونڈیشن سے بھی ہوئی۔ “ارطغرل” کے حقیقی اور تاریخی کردار کو چراغ حسن حسرت صاحب کے قلم سے دیکھیے، مختصر مگر جامع۔

(Visited 70 times, 1 visits today)

Also Watch

?