اسیہ کیس اور حکومتی رویہ

اسیہ کیس2009 میں دائر کیا گیا، 2010 میں سزا موت سنادی گئی۔ پورے کوائف مکمل کئے گئے 2014 میں ہائی کورٹ میں اپیل کی گئی، کئی مہینے عدالت نے کیس سنا دونوں طرف کے دلائل سنے اور فیصلہ کیا گیا کہ ٹرائل کورٹ نے ائین کے عین مطابق فیصلہ کیا ہے لہذا سزا موت کو برقرار رکھا گیا۔2018 میں یہ کیس دوبارہ اٹھایا گیا سپریم کورٹ کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ پچھلی عدالتی فیصلوں کو قلعدم قرار دے سکتی ہے اور یہ سپریم کورٹ کا قانونی اور ائینی حق بھی ہے لیکن اس حساس فیصلے پر اعتراض یہ ہے کہ سپریم کورٹ نے دو تین گھنٹوں کے اندر اندر پہلی ہی پیشی میں ۹ سال پر محیط اس حساس کیس کو نمٹا دیا جس سے پوری امت مسلمہ کے جذبات مجروح ہوگئے ہیں اور یہ تاثر ملا کہ سپریم کورٹ نے اس فیصلے میں منصفانہ طرز عمل اختیار نہیں کیا – اس بحث سے قطع نظر کہ فیصلہ صحیح ہے یا غلط یہ سپریم کورٹ کا اختیار ہے کہ وہ جو چاہے فیصلہ کرے اور عوام کو ماننا بھی پڑے گا۔ لیکن عدالتی پراسیسں کو تو پورا کرے جو ان کی اخلاقی ذمہ داری ہے کیونکہ ایسے حساس ایشو میں دو تین گھنٹوں کے اندر اندر کسی کو رہائی دینا یقیناٰٰ شکوک وشبہات کو دعوت دیتا ہے اور عوام کا ریکشن اس پر ایک فطری عمل بھی ہے۔ اگر پچھلی عدالتوں کے موافق فیصلہ اتا اور اس پر اتنا ہی وقت صرف کردیا جاتا جتنا پچھلی عدالتوں نے کیا تھا ، دونوں طرف کے وکلاء اور مدعی سمیت ہر ایک کی بات سنی جاتی۔تو اکثریت کو اس فیصلہ پراعترض ہی نہیں رہتا. اگر عدالت دو تین گھنٹوں میں پچھلی عدالت کے کسی فیصلہ کو برقرار رکھتی ہے تو اس سے تاثر نہیں پڑتا کہ جلدی فیصلہ کیا گیا کیونکہ اس میں سارا کام پچھلی عدالتوں نے کیا ہوا ہوتا ہے اور کوئی حاص تبدیلی کیس میں نہیں اتی لیکن یہاں پر معاملہ برعکس او زیادہ حساس ہے، عدالت نے پچھلے دو عدالتوں کے فیصلے کو قلعدم کردیا، اسلئے عوام کو مطمئن کرنے کیلئے کیس کو تھوڑا سنا جاتا، دونوں اطراف کو صفائی اور نقطہ نظر بیان کرنے کا موقع دیا جاتا، لیکن بہت ہی جلدی میں سارا کیس نمٹا کر ملزم کو رہا کردیا گیا جسکا نتیجہ یہ نکلا کہ علماء سمیت عوام کے ذہنوں میں شکوک و شبہات نے جنم لے لیا اور وہ سوچنے لگے کہ عدالت کا یہ فیصلہ منصفانہ نہیں اور اس میں حکومت سمیت عدالت بھی بیرونی دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔

حکومت کو اسیہ کیس میں عدالت کی وکالت کی بجائے مدعی کا کردار ادا کرنا چاہیے، کیونکہ قانونی طور پر بھی ایسے کیسز میں عوام کیطرف سے نمائندہ حکومت ہی ہوتی ہے۔اور حکومت عوام کے جذبات کا ترجمان ہوتی ہے لیکن بدقسمتی سے حکومتی رویے سے لگ ایسا رہا ہے کہ وہ عوام کیبجائے عدالت کیطرف سے وکالت کررہی ہے۔وہ قوم کیطرف سے مدعی نہیں بن رہی۔ عمران خان بطور وزیراعظم عوام کی ترجمانی کرتے ہوئے عدالت میں نظر ثانی اپیل کرئے اور عدالت سے التجا کرے کہ اپ نے جو دو تین گھنٹے میں ایک ہی پیشیی میں فیصلہ کیا ہے اس سے عوام میں تشویش کی لہر پائی جاتی ہے اور عدالت کو بتائے کہ میں قوم کا منتخب نمائندہ ہوں اور مجھے قوم کو بھی جواب دینا ہے۔لہذا میں درخواست دے رہا ہوں کہ اس کیس پر نظر ثانی کیجائے۔ اور یہ مطالبہ بھی ہو کہ وکلاء کا پورا پینل اس کیس کو دیکھیے اور اوپن ٹرائل ہو۔اسکے بعد فیصلہ چاہے جو بھی ائے عوام بھی مطمئن ہوگی اور کسی کو ایسا نہیں لگے گا کہ عدالت یا حکومت کسی جگہ پر دباؤ کا شکار ہوئی ہے۔اس سے حکومت کیساتھ ساتھ اداروں پر بھی عوام کا اعتماد بحال ہوگا. اور عمران خان سمیت اعلیٰ عدلیہ کے مخترم جج صاحبان کی عزت اور وقار میں بھی اضافہ ہوگا

Loading...
(Visited 119 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT