امریکا نے بھی چین کے عہدیداروں کے لیے ویزا محدود کرنے کا اعلان کردیا

امریکا کے سیکریٹری آف اسٹیٹ مائیک پومپیو نے کہا ہے کہ تبت کے معاملے پر متعدد چینی عہدیداروں کے لیے ویزا محدود کردیا جائے گا۔

خبرایجنسی رائٹرز کے مطابق مائیک پومپیو کا کہنا تھا کہ ‘چین نے امریکی سفارت کاروں، صحافیوں اور سیاحوں کو تبت کے خودمختار خطے اور تبت کے دیگر علاقوں میں سفر کرنے پر بندشیں عائد کررکھی ہیں’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘اسی لیے امریکابھی چین کے متعدد عہدیداروں کے لیے ویزا محدود کرے گا’۔

اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ ‘پی آر سی حکومت اور چین کی کمیونسٹ پارٹی کے ان عہدیداروں کو جو تبت کے علاقوں میں غیرملکیوں کی رسائی کے حوالے سے فیصلوں یا عمل درآمد میں ملوث اراکین پر ویزا محدود کرنے کا آج میں اعلان کررہا ہوں’۔

خیال رہے کہ امریکا اور چین کے درمیان میڈیا کے معاملات پر حالیہ مہینوں میں کورونا وائرس اور ہانگ کانگ سمیت دیگر مسائل کے بعد کشیدگی شروع ہوئی تھی۔

چین نے امریکا کی جانب سے چینی میڈیا کے اداروں کو دیے گئے احکامات کے جواب میں یکم جولائی کو 4 امریکی اداروں کو بھی تفصیلات جمع کروانے کا حکم دیا تھا۔

چین کی وزارت خارجہ نے ایک بیان میں کہا تھا کہ چین میں کام کرنے والے 4 امریکی میڈیا کے اداروں کو اپنی تفصیلات جمع کرنے کو کہا گیا ہے جو امریکا کے فیصلے کا ردعمل ہے۔تحریر جاری ہے‎

ترجمان وزارت خارجہ ژاؤ لیجیان نے بریفنگ کے دوران واضح کرتے ہوئے کہا تھا کہ ایسوسی ایٹڈ پریس (اے پی)، یو پی آئی، سی بی ایس اور نیشنل پبلک ریڈیو کو ان کے اسٹاف، مالی ذرائع اور چین میں جائیداد کی تفصیلات 7 روز میں جمع کرنے کا حکم دیا گیا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم نے زور دے کر کہا ہے کہ امریکا اپنا رویہ بدلے، اپنی غلطیوں کو درست کرے، سیاسی دباؤ ڈالنے اور چینی میڈیا پر بلاوجہ بندشوں سے باز آئے’۔

چینی وزارت خارجہ کے مطابق امریکا نے گزشتہ ماہ کہا تھا کہ چین کے اہم 4 میڈیا کے اداروں کے ساتھ بھی وہی ہوگا جو سال کے شروع میں اقدامات کیے گئے تھے، جس میں اداروں کو اپنے عہدیداروں اور جائیداد سے متعلق تفصیلات فراہم کرنا تھا، جس کے ردعمل میں امریکی اداروں کو بھی پابند کیا گیا ہے۔تحریر جاری ہے‎

چین نے مارچ میں نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل کا دی نیوز کارپوریشن اور واشنگٹن پوسٹ کے درجنوں صحافیوں کو واپس کردیا تھا۔

وائس آف امریکا اور ٹائم میگزین سمیت ان تمام اداروں کو کہا گیا تھا کہ وہ چین میں اپنے آپریشنز کے حوالے سے تفصیلات فراہم کریں۔

اس سے قبل امریکا نے چین کے صحافیوں کے ساتھ اسی طرح کا رویہ اپنایا تھا اور متعدد چینی صحافیوں کو تفصیلات فراہم کرنے کی ہدایت کردی تھی۔

اسی فیصلے کے ردعمل کے طور پر بیجنگ نے نیویارک ٹائمز، وال اسٹریٹ جرنل اور واشنگٹن پوسٹ کے صحافیوں کو چین میں کام کرنے کی اجازت دینے سے انکار کردیا تھا۔

ان اداروں کے افراد کو پابند کیا گیا تھا کہ وہ آئندہ 10دن کے اندر اپنے پریس کارڈ واپس کریں تاہم یہ بات واضح نہیں کہ اس حکم نامے کے نتیجے میں کتنے افراد متاثر ہوں گے۔

چین کے فیصلے میں اہم بات یہ تھی کہ اس نے اپنی نیم خودمختار ریاستوں ہانگ کانگ اور مکاؤ میں بھی امریکی صحافیوں کو کام سے روک دیا ہے حالانکہ ماضی میں چین میں پابندیوں کا سامنا کرنے والے صحافیوں کو ہانگ کانگ میں کام کی اجازت ہوتی تھی۔

کمیٹی ٹو پروٹیکٹ جرنلسٹ کے ایشیا پروگرام کے کوآرڈینیٹر اسٹیون بٹلر نے کہا تھا کہ اس بات کی کوئی مثال نہیں ملتی کہ چین اس کا فیصلہ کرے کہ ہانگ کانگ میں کون صحافی کام کرے یا کون نہیں۔

چینی حکومت کے تازہ احکامات کے بعد اے پی، این پی آر، سی بی ایس اور یو پی آئی نے فوری طور پر کوئی ردعمل نہیں دیا۔

امریکا نے اس کے علاوہ مئی میں کئی چینی صحافیوں کے ویزے کی مدت کو 90 روز تک محدود کردیا تھا تاہم توسیع کا موقع دیا گیا تھا۔

خیال رہے کہ ماضی میں صحافیوں کے لیے ویزے کی مدت کی قید نہیں رکھی جاتی تھی۔

امریکا نے مارچ میں اپنے ملک میں چین کے 4 ریاستی میڈیا اداروں میں کام کرنے والے افراد کی تعداد 160 سے کم کرتے ہوئے صرف 100 کردی تھی۔

(Visited 27 times, 1 visits today)

Also Watch