اگر کینسر کے شکار مریض اپنے معمول کے علاج کے ساتھ ساتھ وٹامن ڈی کے سپلیمنٹ استعمال کرتے رہیں تو ان کی عمر میں اضافہ ہوسکتا ہے۔

امریکی سوسائٹی آف کلینکل آنکالوجی کی سالانہ میٹنگ میں ماہرین نے اس ضمن میں اپنی تحقیقات پیش کی ہیں۔ یہ سروے مشی گن اسٹیٹ یونیورسٹی اور اسی شہر میں ہرلے میڈیکل سینٹر نے مشترکہ طور پر انجام دیا ہے۔ ٹیم کے سربراہ طارق ہیکل نے کہا ہے کہ کینسر سے متاثرہ افراد میں وٹامن ڈی کا مسلسل استعمال ان کی موت کے خطرے کو کم تو کرتا ہے لیکن بدقسمتی سے اس بات کا کوئی ثبوت نہ مل سکا کہ وٹامن ڈی کینسر لاحق ہونے کو روکنے میں اہم کردار ادا کرتا ہے۔

ماہرین نے اپنی تحقیق میں 79 ہزار مریضوں کا ڈیٹا کھنگالا ہے جس میں تین سال تک مریضوں کو وٹامن ڈی دیا گیا تھا اور بقیہ مریضوں کو فرضی دوا (پلے سیبو) کھلائی گئی اس کے بعد کینسر کے وقوع ہونے اور اموات کو نوٹ کیا گیا تھا۔

تحقیق سے معلوم ہوا کہ جنہوں نے تین سال تک وٹامن ڈی استعمال کیا دیگر کے مریضوں کے مقابلے میں وہ زیادہ عرصے تک زندہ رہے۔ اسی بنا پر کہا جاسکتا ہے کہ سرطان کے شکار مریض وٹامن ڈی سے اپنی بقا کا دورانیہ طویل کرسکتے ہیں۔

ان سب کے باوجود طارق ہیکل یہ بتانے سے قاصر ہیں کہ درحقیقت وٹامن ڈی کی کتنی مقدار اس میں مفید ثابت ہوسکتی ہے تاہم انہوں نے اس پر مزید تحقیق کرنے کا ارادہ ظاہر کیا ہے۔ دوسری جانب یہ بھی واضح نہ ہوسکا کہ وٹامن ڈی درحقیقت کتنے عرصے تک کھایا جائے لیکن سروے میں تین سال تک وٹامن ڈی کھانے کے فوائد ضرور سامنے آئے ہیں۔

اپنے اس مطالعے کے بعد انہوں نے ڈاکٹروں کو زور دیا ہے کہ وہ کینسر کے شکار مریضوں کو وٹامن ڈی کا نسخہ ضرور لکھ کر دیں۔

(Visited 83 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT