ایران نے گستاخانہ خاکوں سے متعلق فرانسیسی صدر کی حمایت کو ‘احمقانہ حرکت’ قرار دیا ہے۔

ایران نے گستاخانہ خاکوں سے متعلق فرانسیسی صدر کی حمایت کو ‘احمقانہ حرکت’ قرار دیا ہے۔

غیرملکی خبررساں رساں ادارے ‘اے ایف پی’ کے مطابق ایران کے اعلی رہنما آیت اللہ علی خامنہ ای نے کہا کہ ایمانوئیل میکرون کا عمل احمقانہ ہے اور ان کی توہین ہے جنہوں نے فرانسیسی صدر کو ووٹ دیا۔

انہوں نے اپنے خطاب میں فرانسیسی عوام کو مخاطب کیا کہ ‘اپنے صدر سے پوچھیں کہ وہ آزادی اظہار کے نام پر اللہ کے رسول کی توہین کرنے کی حمایت کیوں کرتے ہیں؟ کیا اظہار رائے کی آزادی کا مطلب مقدس شخصیت کی توہین ہے؟

پاکستان کا فرانس کو بڑا جھٹکا ، بڑی ڈیل کینسل

ایرانی کے روحانی پیشوا نے فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون کا ذکر کرتے ہوئے اپنی سرکاری ویب سائٹ پر ‘فرانسیسی نوجوانوں’ سے خطاب میں کہا کہ ‘کیا احمقانہ عمل ان لوگوں کے لیے باعث توہین نہیں جنہوں نے فرانسیسی صدر کو ووٹ دے کر منتخب کیا۔

دوسری جانب کویت کی کنزیومر کوآپریٹو سوسائٹیوں کی یونین نے کہا ہے کہ اس کے 69 اسٹوروں میں سے 60 نے فرانسیسی مصنوعات کی فرخت کا بائیکاٹ کردیا ہے۔

یونین کے سربراہ نے کہا کہ جب تک حضرت محمد ﷺ کے خلاف توہین آمیز رویہ ترک نہیں کیا جاتا اس فیصلے پر نظر ثانی کی گنجائش نہیں رہتی۔

انہوں نے کہا کہ ‘کسی بھی اشتعال انگیزی کی صورت میں آنے والے دنوں میں مزید دباؤ بڑھایا جائے گا’۔

ان کا کہنا تھا کہ ‘ہم فرانس کی مصنوعات اور برانڈز کی مارکیٹنگ بند کردیں گے’۔

خیال رہے کہ فرانس، یورپ میں مسلم اقلیتی آبادی کا سب سے بڑا ملک ہے جہاں ایک اندازے کے مطابق 50 لاکھ یا اس سے زیادہ مسلمان آباد ہیں۔

یہ بھی پڑھیں :مغرب اسلام کے خلاف ’دوبارہ صلیبی جنگیں‘ شروع کرنا چاہتا ہے، اردوان

فرانسیسی میڈیا کے مطابق صرف 2015 میں عوامی مقامات میں چہرے کے مکمل نقاب پر 223 جرمانے عائد کیے گئے تھے۔

اقوام متحدہ کی انسانی حقوق کمیٹی نے فرانس کی جانب سے مسلمانوں کے پورے چہرے کے نقاب پر عائد پابندی کو انسانی حقوق کی خلاف ورزی قرار دیتے ہوئے اس قانون سازی پر نظرثانی کا مطالبہ کیا تھا۔

(Visited 22 times, 1 visits today)

Also Watch

?