بھارت میں غربت کے سبب لوگوں کو کچرے میں سے کھانا چن کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

شاہد آفریدی نے وزیراعظم سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی بھی درخواست کی— فائل فوٹو: اے ایف پی
شاہد آفریدی نے وزیراعظم سے ڈپارٹمنٹل کرکٹ کی بحالی بھی درخواست کی— فائل فوٹو: اے ایف پی

قومی ٹیم کے سابق کپتان شاہد آفریدی نے شعیب اختر کے کورونا وائرس کے متاثرین کے لیے پاک بھارت میچ کی تجویز کی مخالفت کرنے والے سابق بھارتی کپتان کپیل دیو کو آڑے ہاتھوں لیتے ہوئے کہا ہے کہ میں نے بھارت میں غربت کے سبب لوگوں کو کچرے میں سے کھانا چن کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے۔

گزشتہ دنوں شعیب اختر نے اپنے یوٹیوب چینل پر تجویز پیش کی تھی کورونا وائرس سے پاکستان اور بھارت میں متاثر ہونے والے افراد کی مدد کے لیے پاک بھارت سیریز کا انعقاد ہونا چاہیے کیونکہ وائرس کی وجہ سے بہت بڑے پیمانے پر نقصان ہوا ہے اور اس سیریز سے معاشی طور پر بھی مدد ملے گی۔

تاہم 1983 کا ورلڈ کپ جیتنے والی بھارتی ٹیم کے کپتان کپیل دیو نے کہا کہ ہمیں رقم جمع کرنے کی ضرورت نہیں کیونکہ ہمارے پاس بہت ہے اور ہمیں اس وقت حکومتی اقدامات کو سپورٹ کرنے کی ضرورت ہے۔

کپیل نے کہا کہ بھارتی کرکٹ بورڈ پہلے ہی امداد کی مد میں 51کروڑ روپے دے چکا ہے اور اگر ضرورت پڑی تو وہ مزید رقم بھی دے سکتے ہیں، صورتحال فوری طور پر بہتر ہوتی ہوئی نظر نہیں آ رہی اور کرکٹ میچ منعقد کرانے کا مقصد اپنے کھلاڑیوں کی زندگی کو خطرے میں ڈالنا ہے اور ہمیں اپنے کھلاڑیوں کو خطرے میں ڈالنے کی ضرورت نہیں۔

شاہد آفریدی نے کوہاٹ سے ویڈیو لنک کے ذریعے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے سابق بھارتی کپتان کپیل دیو کو تنقید کا نشانہ بنایا، انہوں نے کہا کہ کورونا وائرس ایک مشترکہ دشمن ہے اور ہمیں اس دشمن کو شکست دینے کے لیے اتحاد کی ضرورت ہے۔

انہوں نے کہا کہ میں شعیب اختر کی تجویز کی حمایت کرتا ہوں لیکن مودی حکومت کبھی بھی پاکستان بھارت کرکٹ کی حمایت نہیں کرے گی جبکہ مجھے یہ بات بھی سمجھ نہیں آئی کہ کپیل دیو نے یہ کیوں کہا کہ ہمیں پاکستان کے ساتھ مل کر فنڈز جمع کرنے کی ضرورت نہیں۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ بحران کے وقت میں کسی کو بھی اس طرح بات نہیں کرنی چاہیے، میں نے بھارت میں لوگوں کو کچرے میں سے کھانا چن کر کھاتے ہوئے دیکھا ہے اور میرے خیال میں ہم سب کو کورونا جیسے مشترکہ دشمن کا سامنا کرنا چاہیے۔

2011 ورلڈ کپ میں پاکستان کی قیادت کا اعزاز رکھنے والے شاہد آفریدی نے کہا کہ بھارتی میڈیا کی جانب سے پاکستان پر کورونا وائرس کے پھیلاؤ کے الزامات عائد کرنا انتہائی بیوقوفانہ ہے۔

چترال اور کوہاٹ میں راشن کی تقسیم کے لیے موجود سابق کرکٹر نے مزید کہا کہ وزیر اعظم عمران خان کو کوورنا وائرس کے خلاف جنگ کے لیے تمام سیاسی جماعتوں اور ان کے رہنماؤں کو دے کر ایک ہی ایجنڈے پر کام کرنا چاہیے

شاہد آفریدی نے بتایا کہ راشن کی تقسیم کے بعد چترال کے رکن قومی اسمبلی نے ان کے خلاف بات کی جسے دن کر انہیں بات مایوسی ہوئی اور میں نے اس رکن قومی اسمبلی کے حوالے سے امیر جماعت اسلامی سراج الحق صاحب سے بات کی۔

‘چترال سے تعلق رکھنے والے رکن قومی اسمبلی نے راشن کی تقسیم کے بعد شاہد آفریدی فاؤنڈیشن کے خلاف بات کی حالانکہ ہم نے راشن کی تقسیم کے وقت ہر ممکن احتیاط سے کام لیا تھا’۔

اس موقع پر قومی ٹیم کے سابق کپتان نے وزیر اعظم سے ڈپارٹمنٹ کرکٹ دوبارہ شروع کرنے کی درخواست کی۔

ان کا کہنا تھا کہ میں نے خود کھل کر یہ اندازہ لگایا ہے کہ پاکستان میں ڈومیسٹک کرکٹ کا خیال ڈپارٹمنٹس رکھتے ہیں اور اور بہت رقم بھی خرچ کی جاتی ہے جس سے کھیل اور کرکٹرز دونوں کا فائدہ ہوتا ہے۔

انہوں نے وزیر اعظم سے درخواست کی کہ وہ ڈپارٹمنٹ کرکٹ بحال کریں کیونکہ یہ وقت کی ضرورت ہے جبکہ پاکستان کرکٹ بورڈ سے بھی اس بحرانی صورتحال ضرورت مند کرکٹرز کی مدد کی بھی درخواست کی۔

شاہد آفریدی نے سخت ٹریننگ اور متواتر فٹنس ٹیسٹ پر پی سی بی کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ متعدد کھلاڑی ان سے شکایت کر چکے ہیں کہ وہ انجری کا شکار ہو رہے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ مجھے سمجھ نہیں آتی کہ پی سی بی اتنے فٹنس ٹیسٹ کیوں لے رہا ہے، ہر 20-30 دن بعد فٹنس ٹیسٹ کی کیا ضرورت ہے کیونکہ زیادہ ٹریننگ کی وجہ سے متعدد اہم کھلاڑی گھٹنے کی انجری کا شکار ہو رہے ہیں اور اس کی وجہ سے پاکستان کو ٹی20 ورلڈ کپ میں مشکلات کا سامنا کرنا پڑ سکتا ہے۔

سابق کپتان نے کہا کہ ہیڈ کوچ اور چیف سلیکٹر مصباح الحق کو اس بات کا نوٹس لینا چاہیے اور ٹرینرز سے کہنا چاہیے کہ ہر کھلاڑی کے لیے الگ فٹنس پلان بنایا جائے کیونکہ ہر کھلاڑی کی جسامت الگ ہوتی ہے۔

اس موقع پر انہوں نے ایک مرتبہ پھر اسپاٹ فکسنگ سے ملک کی لاکھ کی ساکھ کو نقصان پہنچانے والے کھلاڑیوں پر مستقل پابندی کا مطالبہ کیا۔

شاہد آفریدی نے کہا کہ ہم نے بدنام کھلاڑیوں کو مثال بنانے کے لیے کوئی اقدامات نہیں کیے اور بورڈ کی تمام کھلاڑیوں کے لیے یکساں پالیسی ہونی چاہیے، کچھ کھلاڑی پابندی کے خاتمے کے بعد پاکستان کیلئے کھیل رہے ہیں جبکہ کچھ کو محض ڈومیسٹک کرکٹ تک محدود رکھا ہوا ہے۔

(Visited 89 times, 1 visits today)

Also Watch