بے نماز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نگاھوں میں

*بے نماز صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کی نگاھوں میں*

*{پہلا حصّہ}*
اللہ تعالیٰ اور نبی کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کے نزدیک بے نماز کی جو حیثیت ھے، وہ آپ اکثر پڑھتے اور سنتے رھتے ھیں۔
آئیں! ذرا دیکھیں کہ صحابہ کرام رضی اللہ عنہم کی نظروں میں بے نماز کی کیا حیثیت ھے؟
*((کَانَ اَصْحَابُ مُحَمَّدٍ صَلَّی اللہُ عَلَیْہِ وَسَلَّمَ لَا یَرَوْنَ شَیْئًا مِّنَ الْاَعْمَالِ تَرْکُہُ کُفْرُُ غَیْرَ الصَّلوٰۃِ))*
ترجمہ: تمام اصحابِ محمد صلی اللہ علیہ وسلم ترکِ نماز کے علاوہ کسی دوسرے عمل کے ترک کرنے کو کفر نہ گردانتے تھے۔
[جامع ترمذی: 2622]

*بے نماز ابوبکر رضی اللہ عنہ کی نگاہ میں:*
سیدنا ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ نے مانعینِ زکٰوۃ کے خلاف جہاد کا اعلان کیا اور فرمایا:
*((وَاللّٰہِ لَاُقَاتِلَنَّ مَنْ فَرَّقَ بَیْنَ الصَّلَاۃِ وَالزَّکٰوۃِ))*
ترجمہ: اللہ کی قسم! البتہ میں ضرور ھر اس شخص سے جہاد کروں گا، جو نماز اور جہاد میں تفریق کرتا ھے۔
[صحیح بخاری: 1400]

*بے نماز عمرِ فاروق رضی اللہ عنہ کی نظر میں:*
بے نماز کے متعلق حضرت عمر رضی اللہ عنہ کا فرمان:
*((لَا حَظَّ فِی الْاِسْلَامِ لِمَنْ تَرَکَ الصَّلَاۃ))*
ترجمہ: اس شخص کا دین اسلام سے کوئی تعلق نہیں، جس نے نماز ترک کر دی۔
[سنن دار قطنی: 9، سنن بہقی: 36613]

*بے نماز کے متعلق عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ کا مؤقف:*
سیدنا عبداللہ بن مسعود رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ھیں کہ:
*((مَنْ تَرَکَ الصَّلٰوۃَ فَلَا دِیْنَ لَہُ))*
ترجمہ: جس شخص نے نماز ترک کی اس کا کوئی دین نہیں۔
[الترغیب و الترھیب: 574]

*بے نماز ابودردآء رضی اللہ عنہ کی نظر میں:*
سیدنا ابودردآء رضی اللہ عنہ بیان فرماتے ھیں کہ:
*((لَا اِیْمَانَ لِمَنْ لَّا صَلٰوۃَ لَہُ))*
ترجمہ: بے نماز کا کوئی ایمان نہیں۔
[الترغیب و الترھیب: 575]

(Visited 36 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT