تبلیغی جماعت نے ایک آسان راستہ اپنا لیا ہے جو کہ قتال اور جہاد سے پاک ہے

برصغیر میں انگریزوں کی آمد اور پھر ان کی حکمرانی کے بعد اسلام کے خلاف مخصوص پلاننگ کے تحت پراپیگنڈہ شروع کیا گیا جس کا بنیادی نکتہ یہ ہوا کرتا تھا کہ اسلام ایک متشدد مذہبی رحجانات رکھنے والا دین ہے جو کہ تلوار کے ذریعے پھیلا۔ یہ پراپیگنڈہ اتنا مضبوط تھا کہ برصغیر کے بہت سے علما نے اس کا توڑ کرنے کیلئے قرآن اور سیرت ﷺ کے حوالے سے انسانی حقوق، صلہ رحمی اور عبادات والے احکامات پر زیادہ توجہ دینا شروع کردی اور جہاد، غزوات اور قتال سے متعلق احکامات، احادیث اور روایات کو اجاگر کرنا کم کردیا۔ اس کے پیچھے یقینناً ان علما کی نیت نیتی تھی کیونکہ وہ اس دور میں انگریز کے پھیلائے اس فتنے کا توڑ اپنی حکمت سے کرنا چاہتے تھے۔

انگریز کی دوسری حکمت عملی یہ رہی کہ دین اسلام کے جہاد اور شرعی احکامات کے حوالے سے لوگوں کو بدظن کرنا شروع کیا اور اس کے مقابلے میں صوفی ازم کو زیادہ ترویج دینا شروع کیا۔ صوفی ازم کا پرچار کرنے والوں کو خصوصی عہدے دیئے جاتے، ان کی پہنچ سٹیٹ کے اہم عہدیداروں تک ہوتی، ان کے آستانوں پر گورے یا ان کے چمچے حاضری دیا کرتے ۔ ۔ ۔ یوں ایک عام تاثر یہ ملتا کہ غیر مذہب کے لوگوں کو متاثر کرنے کا راستہ صوفی ازم سے ہو کر جاتا ہے۔ دوسری طرف ہندو اکثریت رکھنے والے برصغیر میں جوگی اور سادھو سنت پہلے سے ہی اہمیت کے حامل ہوا کرتے تھے، انگریزوں میں بھی رہبانیت کا بیانیہ مقبول تھا، چنانچہ مسلمانوں کو لگا کہ شاید دوسرے مذاہب کا مقابلہ کرنے کیلئے انہیں صوفی ازم کو ہی اپنانا ہوگا، اور یہی ہماری غلطی کا نقطہ آغاز بنا۔

صوفی ازم ابتدا میں تو بدعت سے پاک تھا لیکن پھر جوں جوں بزرگان اور علما نے وفات پانا شروع کی، توں توں ان کے مزارات بنا کر ایڈمنسٹریشن گدی نشینوں کے ذریعے غیرعلما کو کنٹرول ملنا شروع ہوگیا، یوں مزارات کے نام پر بدعات شروع ہوئیں، نذر نیاز کی شکل میں پیسہ بنانے کی ایک نئی انڈسٹری وجود میں آئے جس کا خام مال جہالت اور پراڈکٹ دینی جذبات تھے جنہیں جاہل اور کمزور عقیدہ رکھنے والے مسلمانوں کو بیچ کر ان سے مال بٹورا جانے لگا۔ بعد میں یہ بدعتیں شرک میں تبدیل ہونا شروع ہوئیں اور آج برصغیر میں اسلام کی جو حالت ہوچکی، وہ آپ سب کے سامنے ہے۔

قرآن کریم کی تفسیر بذریعہ ڈاکٹر اسرار صاحب پڑھیں تو اندازہ ہوتا ہے کہ جہاد بالقتال کے بغیر تو مسلمان اپنے حرم کا کنٹرول بھی حاصل نہ کرپاتے۔ بارہ برس کی مکی زندگی کا کل آؤٹ پٹ ڈیڑھ سو سے بھی کم مسلمان تھے جنہیں بے سروسامانی کے عالم میں نبی ﷺ ہجرت فرما کر اپنے ساتھ مدینہ لے گئے۔ ہجرت کے بعد اور غزوہ بدر سے قبل، تقریباً ڈیڑھ برس کے عرصے میں مسلمانوں اور قریش مکہ کے درمیان تقریباً آٹھ چھوٹی جنگیں ہوئیں جن میں غالباً چھ میں خود حضور ﷺ بھی شریک ہوئے۔ لیکن ہمارے نصاب کی کتب میں ان کا ذکر نہیں ملتا کہ کہیں اسلام کو تلوار کا مذہب نہ کہا جائے۔

قرآن مجید میں جہاد اور قتال کی اتنی اہمیت بیان فرمائی گئی ہے کہ جو مسلمان اس سے انکار کرے، اسے دین سے ہی خارج قرار دے دیا گیا۔ ایک مسلمان کیلئے مومن ہونے کی بنیادی شرائط میں یقین بالقلب اور ضرورت پڑنے پر جہاد و ہجرت پر آمادگی لازم قرار دیا گیا۔

سورہ توبہ میں اتمام حجت کی تکمیل اس الٹی میٹم کے ذریعے ہوئی جو قریش مکہ کو دیا گیا کہ تمہارے پاس ایک مخصوص مہلت ہے، اس دوران یا تو اسلام قبول کرلو، یا پھر قتل ہونے کیلئے تیار ہوجاؤ۔ یہ فتح مکہ کی بنیاد تھی، اس الٹی میٹم کے بغیر حرم کبھی مشرکین سے خالی نہ ہوپاتا۔

مجھے یہ تسلیم کرنے میں کوئی عار نہیں کہ میں بھی بہت سے دانشوران سے متاثر ہو جہاد بالنفس کو ہی اصل جہاد مانتا رہا، ٹھیک ہے کہ نفس کا جہاد بہت عظیم ہے لیکن قتال کے بغیر نہ تو چودہ سو سال قبل اسلام پھیل سکا اور نہ ہی اب پھیلے گا۔

تبلیغی جماعت پر سب سے زیادہ تنقید اہل حدیث حضرات کی طرف سے اسی حوالے سے ہوتی آئی ہے جو کہ میرے خیال میں کافی حد تک جائز ہے۔ تبلیغی جماعت نے ایک آسان راستہ اپنا لیا ہے جو کہ قتال اور جہاد سے پاک ہے، اسے آپ شرک سے پاک صوفی ازم تو کہہ سکتے ہیں لیکن مکمل دین کبھی نہیں کہہ سکتے کیونکہ پچھلے سو برسوں میں تبلیغی جماعت کے کسی ایک بھی بزرگ نے جہاد کے حوالے سے نہ تو اپنے پیروکاروں کو تیار کیا، اور نہ ہی خود کچھ کرسکے۔

جہاد کے بغیر اقامت دین کی جدوجہد ایسے ہی ہے جیسے بغیر پٹرول کے گاڑی کو دھکا دے کر ایک جگہ سے دوسری جگہ جانا۔ جہاد وہ فیول ہے جو دین کی گاڑی کو تیزرفتاری سے ایک مقام سے دوسرے مقام تک لے جاسکتا ہے، اس فیول کو اہمیت دیں، قطع نظر اس بات کے کہ دوسرے مذاہب والے کیا کہیں گے!!!
بقلم خود باباکوڈا

(Visited 31 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT