تقدیرِ امم اور فراستِ مومن اوریا مقبول جان 27 فروری 2020


یہ کون لوگ ہیں، انہیں عالمی سفارتکاری کے داؤ پیچ کس نے سکھائے، ان میں سے کوئی ایک بھی ایسا نہیں جس نے ہاورڈ کے سفارت کاروں کی تربیت کے مشہور ادارے،”فیلچر سکول آف ڈپلومیسی” سے سفارتی زبان و بیان اور عالمی معاہدات کو تحریر کرنے کی تربیت لے رکھی ہو۔ ان میں سے اکثر تو ایسے ہیں جو گزشتہ اٹھارہ برسوں سے پوری دنیا سے کٹے ہوئے تھے۔ کوئی گوانتاناموبے کے عقوبت خانے میں تھا تو کوئی پاکستانی جیل میں، اور باقی افغانستان کے پہاڑوں میں امریکہ سے جنگ لڑ رہے تھے۔ مگر کمال یہ ہے کہ گذشتہ ایک سو سال کی جنگوں اور صلح ناموں کی تاریخ میں، طالبان نے عالمی معاہدات کو ایک نیا لفظ اور نیا تصور تحفے میں دیا ہے۔ جنگ عظیم اول سے لے کر اب تک کی ہونے والی بڑی جنگوں میں عموماً ایک فاتح اور دوسرا مفتوح ہوتا ہے۔ ایسی صورت میں کسی دو طرفہ معاہدے کی ضرورت نہیں پڑتی، بلکہ فاتح ہی اپنی مرضی کی شرائط لکھ کر اس پر مفتوح سے دستخط کروا لیتا ہے۔ جیسے جنگ عظیم اول کے بعد جرمنی اور جنگ عظیم دوم کے بعد جاپان کے ساتھ کیا گیا۔ دوسری وہ صورت ہوتی ہے کہ جب دو ملکوں میں جنگ جاری ہو، ختم ہونے کا نام نہ لے، اور کچھ گروہ اور ملک مل کر جنگ بندی کروا دیں۔ ایسی صورت میں پہلے عارضی جنگ بندی ہوتی ہے اور پھر اس کے بعد دونوں ملکوں یا گروہوں کو ایک ساتھ بٹھا کر تنازعات کا خاتمہ کرکے مستقل جنگ بندی اور امن قائم کیا جاتا ہے۔ ایسا دو ملکوں کے درمیان ہوتا آیا ہے، جیسے پاک بھارت جنگ یا ایران عراق جنگ کو کسی منطقی نتیجے پر پہنچانے کے لیے کیا گیا۔ مگر گزشتہ ستربر سوں سے جب سے سرد جنگ کے دور کا آغاز ہوا ہے، ایک اور طرح کے معاہدات بھی وجود میں آتے رہے ہیں۔ ایسا اسوقت ہوا،جب ایک بڑی طاقت نے ایک چھوٹے سے ملک پر حملہ کیا، فوجیں اتاریں اور وہاں کے عوام نے اپنی آزادی کی حفاظت کے لیے لڑنا شروع کر دیا اور پھر ہزیمت سے بچنے کیلئے عالمی طاقت نے ان کے ساتھ امن معاہدہ کرلیا۔ اس طرح کی صورتحال کی بہترین مثال ویتنام ہے، جہاں لڑنے والے گوریلوں اور امریکیوں کے درمیان فرانس کے شہر پیرس میں سیزفائر یا جنگ بندی کا اعلان ہوا تھا۔ کچھ ایسی ہی صورتحال روس کے افغانستان سے نکلنے کے وقت تھی۔ لیکن گذشتہ دنوں جب طالبان اور امریکہ کے درمیان امن معاہدے کی شرائط پر اتفاق رائے ہوا اور یہ طے ہوا کہ ایک ہفتے ”لڑائی میں شدت کم” کرنے کے بعد اس پر دستخط ہو جائیں گے تو ایسا کرتے ہوئے اس معاہدے نے دنیائے عالم کو ایک نیا تصور دیا۔یعنی جنگ بندی نہیں بلکہ ”شدت میں کمی”۔ دونوں قوتوں نے اس بات پر اتفاق رائے کیا کہ معاہدے پر دستخط سے پہلے دونوں قوتیں ایک محفوظ اور پرامن ماحول (Security Environment) فراہم کریں گی۔ جس کی تفصیل یہ تھی کہ اس ایک ہفتے کے دوران کوئی بڑا حملہ نہ ہو اور امن کو تباہ کرنے والی قوتوں پر کڑی نظر رکھی جائے۔ یوں لگتا ہے جیسے افغان سرزمین پر دو برابر کی سطح کی عالمی طاقتیں کسی معاہدے پر دستخط کرنے جارہی ہیں اور ایک دوسرے کو برابر کی حیثیت دے کر ضمانت دی گئی ہے۔ عموما اس سے پہلے جنگ بندی یا سیزفائر کا لفظ استعمال ہوتا تھا جس کے بعد دونوں جانب سے ایک دوسرے پر الزامات لگنا شروع ہو جاتے تھے کہ ادھر سے فائرنگ ہوئی، وہاں سے خلاف ورزی ہوئی اور بہانہ بنا کر کمزور قوت پر دوبارہ حملے کا بہانہ ڈھونڈا جاتا تھا۔ لیکن اس معاہدے میں یوں لگتا ہے کہ جیسے امریکہ کو بخوبی اندازہ تھا کہ اگر اس نے لفظ سیزفائر استعمال کیا تو اس کے حواریوں خصوصاً افغان حکومت میں سے اگر کوئی بھی شرارت کر بیٹھا تو اس کا خمیازہ بھی امریکہ کو بھگتنا پڑے گا اور وہ جتنے دن مزید افغانستان میں رہے گا اتنے دن اس کا نقصان بڑھے گا۔ معاہدات کی تاریخ میں یہ ایک بالکل نیا تصور ہے جو عالمی سفارتکاری کے لیے طالبان کی فراستِ مومن کی طرف سے ایک تحفہ ہے۔ کیا زبردست فقرہ ہے ”شدت میں کمی” (Reduction of violation)۔ کیا اعتماد ہے۔ یہ صرف ایک بات ہی نہیں جو اس جنگ میں نئی ہو رہی ہے۔یہ جنگ ہی” وکھری ٹائپ ” کی تھی۔ آج تک کی معلوم انسانی تاریخ میں یہ واحد جنگ ہے جس میں پوری دنیا ایک جانب تھی، بہت سے افغان گروہ بھی اس دنیا کے ساتھ تھے، اور مقابلے میں صرف پچاس ہزار طالبان تھے۔ افغانستان پر حملے سے پہلے جارج بش نے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا ” ہمارے ساتھ چالیس سے زیادہ ممالک کی افواج ہیں اور اس کے علاوہ وہ ممالک بھی ہیں جو ہمیں معلومات فراہم کریں گے اور نقل و حمل کی سہولیات دیں گے۔ اب طالبان کو قیمت چکانی ہوگی (Taliban will have to pay the price)۔ اس عالمی اتحاد کے افغانستان پر حملے کا اعلان کرتے ہوئے جارج بش کے سامنے دشمن بالکل واضح تھا۔ اس نے افغان قوم کا نام نہیں لیا، طالبان کا لفظ استعمال کیا۔ لیکن تاریخ اس بات پر ہمیشہ گواہ رہے گی کہ میرے اللہ نے ان طالبان کو وہ نصرت عطا فرمائی کہ اس وقت امریکہ میں لاتعداد رپورٹیں مرتب ہو چکیں ہیں اور بے شمار کتابیں لکھی جا چکیں ہیں کہ امریکہ نے طالبان سے لڑنے کی کیا قیمت چکائی۔ جو کہتے تھے ”تمہیں قیمت چکانا پڑے گی ”، آج اپنا نقصان گن رہے ہیں۔ لیکن دوسری جانب ان فاتح طالبان کے سر اللہ کے سامنے سربسجود ہیں۔ ان بوریا نشین اور خاک بسر افراد کے سر میں نہ غرور و تکبر کی بو ہے اور نہ ہی گردنیں نخوت سے ٹیڑھی۔ آج سے صرف چند ہفتے پہلے تک کسی نے یہ تصور بھی کیا تھا کہ جس سراج الدین حقانی کی تلاش میں امریکہ اور اس کے اتحادی پاگل ہو رہے تھے۔ جس کے حقانی نیٹ ورک کی وجہ سے پاکستان کو مطعون کیا جا رہا تھا، اسی سابقہ مفرور اور مطلوب عالمی دہشت گرد کا مضمون ”ہم طالبان کیا چاہتے ہیں” کے عنوان سے نیویارک ٹائمز کے صفحہ اول پر شائع ہوگا۔ جس مضمون کا آغازہی اس بات سے ہو کہ ”مذاکرات کے آغاز پر ہمارا امریکہ پر اعتماد صفر تھا”اور اختتام اس بات پر ہو کہ ”ہم افغانستان کو ایک صحیح اسلامی ریاست کیسے بنائیں گے”۔ یہ ہیں میرے اللہ کے فیصلے۔ جس دن امریکہ اور عالمی اتحاد افغانستان پر حملہ آور ہوئے تھے تو عالمی برادری کا ایک ہی نعرہ تھا کہ ہم افغان سرزمین کو دوسرے ملکوں کے خلاف استعمال نہ ہونے کی ضمانت دیں گے۔عالم یہ ہے کہ آج اٹھارہ سال بعد اس کی ضمانت طالبان سے مانگی گئی اور وہ دے رہے ہیں۔ شاید کسی کو یاد ہو، کہ1999میں بل کلنٹن کے دور میں پاکستان میں امریکی سفیر ولیم میلام (William Milam) نے فخر سے قہقہہ لگاتے ہوئے کہا تھا ” ہم نے جب سے طالبان حکومت کو پوری دنیا میں تنہا کیا ہے اور ان پر طاقت کا استعمال کیا ہے، اس پر طالبان سخت تکلیف میں ہیں” ۔ اسی سال راولپنڈی کے ایک محفوظ ٹھکانے پر امریکہ کا ایک بہت بڑا سفارتکار طالبان کے وزیرِ سرحدات سراج الدین حقانی سے ملا تو اپنے استقبالیہ فقرے میں حقانی نے اس سے کہا تھا ” مجھے اس ملک کے سفارت کار سے مل کر خوشی ہورہی ہے جس نے میرا مدرسہ تباہ کیا اور پچیس مجاہدین کو شہید کیا”۔اس ملاقات کی رپورٹ، جو امریکی سفارت خانے نے بھیجی اس میں ایک فقرہ لکھا ہوا تھا کہ” جب سراج الدین حقانی مسکرا کر یہ بات کر رہا تھا اس کا نائب اس امریکی سفارتکار کو خونخوار نظروں سے دیکھ رہا تھا۔ ”مسکراہٹ اور خونخوار نظروں کا یہ امتزاج طالبان کی بصیرت اور بصارت کا آئینہ دار تھا۔اس کے بعد کے بیس سال ایک تاریخ ہیں۔ ایک ایسی تاریخ جس نے طاقت کے معیارات بھی بدل کر رکھ دیئے ہیں اور جیت کے پیمانے بھی تبدیل کر دیئے۔ اس پوری تاریخ میں صرف اور صرف ایک تصور فتح یاب ہوا ہے اور وہ ہے ”فراستِ مومن ”کی فتح،جو تقدیر امم پڑھ لیتی ہے اور جسے اللہ کی جانب سے وہ بصیرت میسر آتی ہے جو کسی سفارتی اکیڈیمی کی تعلیم سے نہیں ملتی ؎ تقدیر امم کیا ہے کوئی کہہ نہیں سکتا مومن کی فراست ہو تو کافی ہے اشارہ

(Visited 374 times, 1 visits today)

Also Watch

Comment (8)

  1. Pingback: viagra pills
  2. Pingback: cialis vs viagra
  3. Pingback: cialis pills

LEAVE YOUR COMMENT