تھائی لینڈ میں غار میں پھنسے بچوں کو بچانے والے امدادی کارکنوں کا ’پانی سے مقابلہ

 

تھائی لینڈ امدادی کارروائیاں

تھائی لینڈ میں امدادی کارکنوں کا کہنا ہے کہ غار میں پھنسے 12 بچوں اور ان کے فٹبال کوچ کو بچانے کے لیے موسم سے مقابلہ ہے کیونکہ چند روز میں بارشیں شروع ہونے والی ہیں۔

چیانگ رائی میں گذشتہ چند دن سے موسم خشک تھا تاہم آئندہ چند دن میں بارشیں شروع ہونے والی ہیں اور ان کے نتیجے میں غار میں پانی کی سطح بڑھ جائے گی جس سے اس جگہ کو خطرہ ہے جہاں پر بچوں کے گروپ نے پناہ لے رکھی ہے۔

امدادی کارکن اب جائزہ لے رہے ہیں کس طرح محفوظ طریقے سے بچوں کو غار سے باہر نکلا جائے۔

جمعرات کی صبح چیانگ رائی کے گورنر نارونگسک اوستھاناکورن نے ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ’ ہم پانی کے خلاف مقابلہ کر رہے ہیں‘۔

حکام کا کہنا ہے کہ اگر بارش زیادہ دیر تک نہ ہو تو اس بات کا امکان ہے کہ بچوں کا گروپ غار سے پیدل باہر آ سکتا ہے اور انھیں خوطہ خوری کرتے ہوئے باہر نکلنے کی ضرورت پیش نہ آئے۔

غار میں پھنسے ہوئے گروہ کا غار کے داخلے تک سفر 11 گھنٹوں پر محیط ہے۔ ان میں زیادہ تر بچوں کو تیرنا نہیں آتا اور انھیں تیراکی اور خوطہ خوری کی بنیادی تربیت دینا ہو گا تاکہ وہ غار سے باہر نکل سکیں۔

غار

اس سے پہلے امدادی کارکنوں کا کہنا تھا کہ وہ غار میں پھنسے بچوں کے گروپ تک ٹیلی فون لائن فراہم کرنے کی ایک اور کوشش کر رہے ہیں۔

اس سے پہلے کی جانے والی ایک کوشش اس وقت ناکام ہو گئی جب واٹر پروف سیل ٹوٹ گئی تھی۔

امید کی جا رہی ہے کہ ٹیلی فون لائن کی فراہمی کے بعد بچوں کے والدین کو ان سے بات کرنے کی اجازت دی جائے گی جس سے بچوں کا حوصلہ بڑھے گا۔

دوسری جانب غار میں موجود ہزاروں لیٹر پانی کو ہر گھنٹے کے بعد باہر نکالا جا رہا ہے۔

خیال رہے کہ بدھ کو غار میں پھنسے 12 بـچوں اور ان کے فٹبال کوچ کی ایک تازہ ویڈیو جاری کی گئی تھی جس میں وہ بہتر حالت میں نظر آ رہے ہیں۔

اس ویڈیو میں انھوں نے مسکراتے اور بعض اوقات ہنستے ہوئے باری باری اپنا تعارف کروایا۔

 

غار میں پھنسے بچوں کو نکالنے کے لیے تمام آپشنز زیرِ غور ہیں

نو دن تک لاپتہ رہنے کے بعد پیر کو اس گروپ کا پتہ چلا تھا کہ غاروں میں پانی بھر جانے کے سبب وہ ایک جگہ پھنس کر رہ گئے تھے لیکن اب انھیں کھانا اور دوائیں پہنچائی جا چکی ہیں۔

تاہم تھائی فوج کا کہنا ہے کہ ان افراد کو وہاں سے نکالنے میں مہینوں لگ سکتے ہیں اور اس کے لیے انھیں یا تو غوطہ خوری سکھائی جائے گي یا پھر پانی کے کم ہونے کا انتظار کیا جائے گا۔

اس بات پر بھی تشویش ظاہر کی جار رہی ہے کہ ابھی تو وہاں برسات کا موسم شروع ہی ہوا ہے اور آنے والے دنوں میں تھیم لوانگ غاروں میں پانی کی سطح میں اضافہ ہی ہوگا۔

تازہ ویڈیو بھی تھائی بحریہ سیل کے فیس بک پر پوسٹ کی گئی ہے جس میں یہ دیکھا جا سکتا ہے بچے خود کو گرم رکھنے کے لیے فوائل کے بنے کمبل کا استعمال کر رہے ہیں۔

ویڈیو میں ٹارچ کی روشنی میں غوطہ خوروں کے ساتھ بیٹھ کر وہ اپنا نام بتاتے ہیں اور دونوں ہاتھ جوڑ کر روایتی انداز میں ‘وائی’ یعنی سلام کر رہے ہیں۔

بچے

دوسری دو ویڈیوز میں فوجی ڈاکٹروں کو ان بچوں کو آنے والی ہلکی خراش کا علاج کرتے دیکھا جا سکتا ہے۔ ایک ویڈیو میں بچے پھر ان سے پوچھتے ہیں کہ ان کے لیے اب کھانا کب آئے گا۔

اور دیوار پر اس فٹبال ٹیم کے نام کے ساتھ ان بچوں کے بچانے میں لگی بحریہ کی یونٹ کا نام لکھا ہوا ہے اس ویڈیو میں ان بچوں نے مسکراتے اور بعض اوقات ہنستے ہوئے باری باری اپنا تعارف کروایا تھا۔

‘بچانے کے لیے ساز گار حالات’

جب سے غار میں بچوں کے زندہ ہونے کا پتہ چلا ہے اس وقت سے اب تک کئی غوطہ خور گروپ وہاں پہنچے ہیں۔

امدادی کاموں میں شامل لوگ ان کو وہاں سے بحفاظت نکالنے کی تدابیر پر غور کر رہے ہیں جبکہ حکام کسی قسم کے خطرہ مول لینے کے لیے تیار نہیں ہیں۔

بدھ کی صبح ایک پریس کانفرنس میں حکام نے کہا کہ آج ان کو وہاں سے نکالنے کی کوئی کوشش نہیں کی جائے گی لیکن ان کو نکالنے کی مشق کے لیے حالات بہت مناسب ہیں۔

غار میں پانی کی سطح کم کرنے کے لیے پمپ کے ذریعے مستقل طور پر پانی نکالا جا رہا ہے اور حکام کا کہنا ہے کہ وہ مزید پانی اس چیمبر میں جانے سے روکنے میں کامیاب ہوئے ہیں جہاں بچے ہیں۔

ایمرجنسی ٹیم وہاں فون لائن پہنچانے کی کوشش کر رہی ہے تاکہ بچے اپنے اہل خانہ سے بات کر سکیں لیکن اس ضمن میں منگل کو کی جانے والی کوشش ناکام ہو چکی ہے۔

دوسری جانب غار کے باہر طبی عملے بچوں کو جلدی غار سے نکالے جانے کی صورت سے نمٹنے کے لیے مشق کر رہے ہیں۔

تھائی غار نقشہ

وہ وہاں کیسے پہنچے؟

11 سے 16 سال کی عمر کے 12 بچے اور ان کے 25 سالہ کوچ 23 جون کو لاپتہ ہو گئے تھے۔ کہا گیا کہ وہ شمالی صوبے چیانگ رائی کے غاروں میں داخل ہوئے تھے لیکن اچانک بارش کے سبب وہ اسی میں پھنس کر رہ گئے۔

وہ خشک حالت میں غاروں میں داخل ہوئے تھے لیکن پانی اور کیچڑ نے ان کا راستہ بند کر دیا جس کے سبب وہ تاریکی میں گھر گئے۔

ان کا پتہ کیسے چلا؟

لاپتہ ہونے کے نو دنوں بعد پیر کی شام دو برطانوی غوطہ خور ان تک پہنچے۔

وہ بچے غار کے دہانے سے تقریبا چار کلو میٹر کے فاصلے پر ایک غار کے اندر ایک چٹان پر بیٹھے ملے۔

ان کے ملنے کی پہلی ویڈیو بھی تھائی بحریہ سیل نے فیس بک پر پوسٹ کی تھی جس میں بچوں کو پانی کے کنارے ٹارچ کی روشنی میں دیکھا گیا۔

ان بچوں نے غوطہ خوروں کو بتایا کہ وہ سب زندہ ہیں اور بہت بھوکے ہیں۔

تھیم لوانگ کے غار عام طور پر برسات میں پانی سے بھر جاتے ہیں اور وہاں ستمبر اور اکتوبر تک پانی رہتا ہے۔

تھائی غار نقشہ

https://www.bbc.com/urdu/world-44720675?ocid=socialflow_facebook

(Visited 46 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT