جج کے ہاتھوں زیادتی کا نشانہ بننے والی سلمیٰ بروہی کا ویڈیو بیان

جج نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور کہا شوہر کے پاس جانے کا یہی راستہ ہے،سلمیٰ بروہی

جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو کے ہاتھوں مبینہ زیادتی کا نشانہ بننے والی 18 سالہ سلمی بروہی نے اپنا ویڈیو بیان ریکارڈ کرا دیا۔اپنے بیان میں سلمی بروہی نے کہا کہ جج نے زیادتی کا نشانہ بنایا اور مجھے کہا کہ شوہر کے پاس جانے کا یہی راستہ ہے، میں اپنے شوہر اور وکیل کے ساتھ عدالت گئی تو انہیں کہا کہ تم چیمبر سے نکل جاؤ۔ جج نے دونوں کو کمرے سے نکال دیا ۔

جب سب عدالت سے نکل گئے تو جج نے مجھے کہا کہ تم باپ کا انتخاب کروگی یا شوہر کا؟ جس پر میں نے جواب دیا کہ شوہر کا۔۔ پھر جج نے مجھے کہا کہ جانے کیلئے تمہیں جو کہوں گا تم وہ کرو گی؟ میں نے کہا کہ ہاں کروں گی۔

جج نے کہا کہ وعدہ کرو کسی کو نہیں بتاؤ گی۔ میں نے کہا کہ کسی کو نہیں بتاؤں گی۔ پھر مجھے کہا کہ کلمہ پڑھو، میں نے کلمہ پڑھا جسکے بعد جج نے کہا کہ میں تمہارے ساتھ غلط کام کروں گے میں نے روکا تو جج نے زبردستی کی ، میں نے قرآن کا واسطہ دیا لیکن جج نہ مانا اور مجھے زیادتی کا نشانہ بنادیا

پھر جج نے مجھے دھمکی دی کہ اگر کسی کو بتایا تو تمہارے شوہر کیساتھ بہت برا ہوگا

واضح رہے کہ شہداد کوٹ میں سلمی بروہی اور نثار بروہی پسند کی شادی کے لیے گھر سے فرار ہو کر سیہون چلے گئے تھے جہاں 13 جنوری کو لڑکی کے اہل خانہ سیہون پہنچے اور دونوں کو پکڑ لیا۔معاملہ پولیس تک جا پہنچا تو پولیس لڑکی کو بیان کے لیے سینئر جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز بھٹو کے چیمبر میں لے گئی جہاں لڑکی کے ساتھ زیادتی کا افسوسناک واقعہ پیش آیا۔

سلمی بروہی کی شکایت پر سیہون پولیس نے ان کا عبداللہ شاہ انسٹی ٹیوٹ میں طبی معائنہ کرایا جہاں لڑکی کے ساتھ زیادتی کی تصدیق ہو گئی۔بعدازاں چیف جسٹس سندھ ہائیکورٹ احمد علی شیخ نے جوڈیشل مجسٹریٹ امتیاز حسین بھٹو کو معطل کر دیا اور انہیں سندھ ہائیکورٹ میں رپورٹ کرنے کی ہدایت کی۔

(Visited 2463 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT