جنرل قاسم سلیمانی کون تھے ؟دیکھیے دلچسپ رپورٹ

تہران (نیٹ نیوز) ایران میں سپریم لیڈر آیت اللہ علی خامنہ ای کے بعد اگر کسی شخصیت کو طاقتور سمجھا جاتا تھا تو وہ جنرل قاسم سلیمانی ہی تھے ۔پاسداران انقلاب کی قدس فورس کے سربراہ کے طور پر سلیمانی مشرق وسطیٰ میں اپنے ملک کی سرگرمیوں کے منصوبہ ساز تھے ، انہیں شامی صدر بشارالاسد کی باغیوں کیخلاف جنگ، عراق میں ایران نواز شیعہ ملیشیاؤں کے عروج، داعش کیخلاف جنگ کا بھی معمار سمجھا جاتا تھا۔ایران کے خارجہ امور میں انکاکردار مزید ابھر کر سامنے آیا۔ وہ گمنام شخصیت تھے لیکن داعش کیخلاف کارروائیوں کی بدولت انہیں شہرت اور عوامی مقبولیت ملی اور وہ دستاویزی فلموں، ویڈیو گیمز، خبروں اور پاپ گیتوں کا موضوع بن گئے ، تاہم انہیں ناپسند کرنیوالوں کی بھی کمی نہیں، انکی شخصیت کے متعلق کئی کہانیاں گردش کرتی رہی ہیں۔سابق امریکی سفیر رائن کروکر کے مطابق انہوں نے جنرل سلیمانی کا اثرو رسوخ افغانستان میں بھی محسوس کیا تھا جب وہ بطور امریکی سفیر وہاں تعینات تھے ۔ 62 سالہ قاسم سلیمانی کے متعلق خیال کیا جاتا ہے کہ وہ ایک غریب گھرانے سے تعلق رکھتے تھے ۔ 1980 سے 1988 تک ایران عراق جنگ میں قاسم سلیمانی نے اپنا نام بنایا اور جلد سینئر کمانڈر بن گئے ۔قدس فورس کے سربراہ بننے کے بعد بیرون ملک خفیہ کارروائیوں کے ذریعے مشرقِ وسطیٰ میں ایران کے اثرورسوخ میں اضافہ کرنا شروع کیا، اتحادی گروہوں کو مدد فراہم کی اور ایران نواز ملیشیاؤں کا ایک نیٹ ورک تیار کیا۔ انہوں نے عراق میں شیعہ اور کرد گروپوں کی صدام حسین کیخلاف مزاحمت میں مدد کی، وہ حزب اللہ اور حماس کے بھی مددگار رہے ۔2003 میں عراق پر امریکی جارحیت کے بعد انہوں نے وہاں سرگرم گروپوں کی امریکی اڈوں اور مفادات کو نشانہ بنانے کے سلسلے میں رہنمائی بھی کی، جبکہ بشارالاسد کو مزاحمتی تحریک سے نمٹنے کیلئے حکمت عملی بھی بنا کر دی۔

(Visited 343 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT