حفیظ” اور “علیم” حکمران

“حفیظ” اور “علیم” حکمران

کسی بھی ادارے یا شعبے کا انتظام سنبھالنے کے لیے کیا متعلقہ شخص کا کامل طور پر پابند شرع ہونا ضروری ہے؟؟

قرآن میں آتا ہے کہ حضرت یوسف (ع) نے جب امیر مصر سے وزیر خزانہ کا عہدہ مانگا تب یوسف (ع) نے فرمایا کہ میں اسکا اہل ہوں کیونکہ میں ” علیم ” ہوں اور ” حفیظ ” ہوں۔

یوسف (ع) نے یہ نہیں فرمایا کہ میں اس لیے اہل ہوں کہ میں نبی ہوں یا عبادت گزار اور پابند شرع ہوں۔

میرے خیال میں قرآن جو حکمت کا بیش بہا خزانہ ہے اس واقعے میں ہمیں کسی بھی انتظامیہ کے سربراہ کے لیے بنیادی صفات سے آگاہ کررہا ہے ۔۔۔۔۔۔۔۔ ذرا اسکو سمجھنے کی کوشش کریں۔

“علیم” کا مفہوم علم رکھنے والا ہے یعنی متعلقہ شعبے کو سمجھتا ہو اسکے بارے میں پورا علم رکھتا ہو اور جانتا ہو کہ کیسے اسکو چلانا ہے ۔۔۔۔۔۔ دوسرے لفظوں میں متعلقہ شعبے کا ماہر ہو۔

دوسری صفت “حفیظ” بتائی گئی ہے حفیظ یعنی حفاظت کرنے والا یا امانت دار جو اس چیز یا کام میں بدیانتی نہ کرے جو اسکو دیا گیا ہے، ذمہ دار ہو اور کام کی حفاظت کرے۔

اب ذرا غور کریں تو آپکو اندازہ ہوگا کہ یہ خصوصیات کسی غیر مسلم میں بھی ہو سکتی ہیں کہ وہ حفیظ اور علیم ہو ۔۔۔۔۔۔ مثلاً میں نے اگر کسی گاڑی کا کام کروانا ہے تو میں ضرور اس شخص کو کام حوالے کر دونگا جو اس کام کا ماہر ہو اور ایماندار ہوں چاہے وہ پاپند شرع نہ ہو اور چاہے وہ سرے سے مسلمان ہی نہ ہو اور اگر دوسری طرف کوئی بظاہر پابند شرع مستری ہو لیکن وہ حفیظ اور علیم نہ ہو یعنی یا کام نہ جانتا ہو یا بددیانت ہو تو میں ہرگز اسکے حوالے کام نہیں کرونگا۔

یہی حالت حکومتی اداروں کی بھی ہے ۔۔۔۔ مثلاً اگر ہم نے ریلوے، پی آئی اے یا واپڈا کو درست کرنا ہے تو ہمیں اسکو ایسے شخص کے حوالے کرنا چاہئے جو قرآن کے حکم کے مطابق” ٖحفیظ” اور “علیم” ہو یہی صفات ہماری پہلی ترجیح ہونی چاہئیں۔

ہاں لیکن اگر ان صفات کے ساتھ ساتھ کوئی شخص پابند شرع بھی ہو تو کیا کہنے!

میرے خیال میں اراکین پارلیمنٹ کے لیے بھی یہی شرط ہونی چاہئے جو پورے ملک کا انتظام چلاتے ہیں ۔۔۔۔۔ آرٹیکل 62 اور 63 یقیناً نیک مقصد کے لیے بنائے گئے ہیں لیکن یہ قطعاً غیر موثر ثابت ہوئے اور انکا جو حشر کیا گیا ہے وہ سب کے سامنے ہے۔

علامہ اقبال جن کی بصیرت اور بزرگی سے کسی کو انکار نہیں وہ سارے بر صغیر کے علماء اور فضلاء کو چھوڑ کو قائداعظم کے پیچھے لندن چلے گئے اور اسکو مسلمانوں کی قیادت کرنے کے لیے مجبور کر دیا۔ قائداعظم بظاہر پابند شرع نہیں تھے لیکن وہ قرآنی حکم کے عین مطابق ” حفیظ اور علیم ” ضرور تھے اسلئے قیادت کے کرنے اہل تھے۔

میرے خیال میں عمران خان بھی قرآن کے کلیے کے مطابق حفیظ اور علیم ہے۔ امانت دار ہے اور جانتا ہے کہ نظام کو کیسے ٹھیک کرنا ہے۔

جبکہ دوسری جانب بظاہر بڑے بڑے پابند شرع نظر آنے والے علماء بشمول فضل الرحمن حفیظ اور علیم کی شرط پر پورا نہیں اترتے۔

نہ وہ امانت دار اور ایماندار ہیں نہ ہی وہ جانتے ہیں کہ اس نظام کو کیسے درست کرنا ہے بلکہ الٹا وہ اسی نظام کو برقرار رکھنے کی تگ و دو کر رہے ہیں۔

میرے بس میں ہوتا تو میں آئین میں صادق اور امین کے جگہ “حفیظ” اور “علیم” ہونا لازم قرار دیتا۔

تحریر شاہدخان

(Visited 28 times, 1 visits today)

Also Watch