حکومتؔ اور اپوزیشنؔ، غزوۂ تبوک ؔسے روشنی لے !

معزز قارئین!۔ خرابیٔ صحت کی بنا پر مَیں چند دِن تک کالم نہیں لکھ سکا ۔مودی حکومت کی طرف سے صدارتی فرمان کے تحت بھارتی آئین میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت سے متعلق آرٹیکل 370 اور 35 A ختم کرنے کے نتیجے میں مقبوضہ کشمیر کی خصوصی حیثیت تبدیل کرنے کے واقعہ کے ردِ عمل میں مقبوضہ کشمیر میں حریت پسندوں کی سرگرمیاں تیز سے تیز تر ہوگئی ہیں ۔فی الحقیقت عالمی ضمیر جاگ اُٹھا ہے اور شاید اقوام متحدہ اور سلامتی کونسل کا بھی ؟۔ 5 اگست کو وزیراعظم عمران خان کی صدارت میں قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس کے بعد ( جس میں عسکری قیادت بھی شریک تھی) ایک اعلامیہ جاری کِیا گیا کہ ’’ کشمیریوں کو بھارتی مظالم سے نجات دلانے کا وقت قریب آگیا ہے۔ دو ایٹمی ممالک ( بھارت اور پاکستان) میں خطرناک ٹکرائو بھی ہوسکتا ہے۔ کشمیری عوام کو حقِ خود ارادیت کے تحت اپنے مستقبل کا فیصلہ کرنے میں ہم اقوام متحدہ کی قراردادوں سے پیچھے نہیں ہٹیں گے‘‘۔ ادھر مقبوضہ کشمیر میں کرفیو نافذ کر کے 8 ہزار فوجی تعینات کردئیے گئے ہیں اور 70 ہزار مزید بھجوائے جائیں گے ۔ متعدد حریت پسند راہنمائوں کو گرفتار کر لِیا گیا۔ معزز قارئین!۔ 6 اگست کو پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس میں وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ’’ بھارتی سوچ، ساری دُنیا کو نقصان پہنچا سکتی ہے ۔ اب اگر دُنیا نے کچھ نہ کیا تو سنگین نتائج نکلیں گے ۔ ہم مقبوضہ کشمیر کا مقدمہ ، سلامی کونسل ، عالمی عدالتِ انصاف میں لے جائیں گے ۔ پاک بھارت روایتی جنگ کا خطرہ بڑھ رہا ہے ۔ ہم جنگ میں شیر میسور حضرت ٹیپو سُلطان شہیدؒ کی پیروی میں خون کے آخری قطرے تک لڑیں گے‘‘ ۔ قومی اسمبلی میں پاکستان مسلم لیگ کے صدر قائد حزبِ اختلاف میاں شہباز شریف نے اپنے خطاب میں کہا کہ ’’ قائداعظمؒ کے فرمان کے مطابق ’’کشمیر ۔ پاکستان کی شہ رگ ہے ‘‘۔ اِس سے پہلے کے مودی ہماری شہ رگ کاٹے ہم اُس کے ہاتھ کاٹ دیں گے‘‘۔ بلاول بھٹو زرداری نے کہا کہ ’’ جہاں کشمیریوں کا پسینہ گرے گا ہم وہاں ہمارا خون بہائیں گے!‘‘۔ ڈی ۔جی ۔آئی ۔ ایس۔ پی ۔ آر کے مطابق ’’ 6 اگست کو اسلام آباد میں آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کی صدارت میں “G.H.Q” میں منعقدہ کور کمانڈر کانفرنس میں حکومتِ پاکستان کی طرف سے مقبوضہ کشمیر میں بھارتی حکومت کے اقدامات کو مسترد کئے جانے کے فیصلے کی بھرپور حمایت کی گئی‘‘ کور کمانڈرز نے کہا کہ ’’ پاکستان نے کبھی جموں و کشمیر پر بھارتی تسلط کو قانونی بنانے والے آرٹیکل 370 یا A35 کو تسلیم نہیں کِیا۔ اب بھارت نے خود اِس کھوکھلے بہانے کو ختم کردِیا‘‘۔ اِس موقع پر آرمی چیف نے کہا کہ ’’ پاک فوج کشمیریوں کی جائز جدوجہد آزادی کی کامیابی تک اُن کے شانہ بشانہ کھڑی ہے اور اپنی ذمہ داری کو نبھانے کے لئے مکمل تیار ہے۔ پاک فوج اِس سلسلے میں آخری حد تک جائے گی‘‘۔ اجلاس میں جب ’’جئے بھٹو ‘‘ کے نعرے لگائے گئے تو، مجھے یاد آیا کہ ’’ ستمبر 1965ء کی پاک بھارت جنگ میں وزیر خارجہ جناب ذوالفقار علی بھٹو نے (13 ستمبر کو ) میڈیا سے خطاب کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’ اگر ضرورت پڑی تو، ہم مقبوضہ کشمیر کو آزاد کرانے کے لئے بھارت سے ایک ہزار سال تک جنگ لڑیں گے ‘‘۔افسوس کہ’’ جنابِ بھٹو پاکستان کے دولخت ہونے کے بعد 20 دسمبر 1971ء میں سویلین چیف مارشل لاء ایڈمنسٹریٹر و صدرِ پاکستان رہے اور اُس کے بعد 14 اگست 1973ء سے 4 جولائی 1977ء تک وزیراعظم بھی لیکن ، موصوف نے مقبوضہ کشمیر کے عوام کی آزادی کے لئے کچھ کِیا اور نہ ہی دوبار وزارتِ عظمیٰ پر فائز رہنے والی اُن کی بیٹی محترمہ بے نظیر بھٹو نے 9 ستمبر 2008ء کو صدارت کا منصب سنبھالتے ہی ’’دامادِ بھٹو‘‘ جنابِ آصف زرداری نے ’’خود کلامی ‘‘ کرتے ہُوئے کہا تھا کہ ’’ کیوں نہ ہم 30 سال کے لئے مسئلہ کشمیرکو “Freeze” کردیں؟‘‘۔ اپنے اِس مقصد کے حصول کے لئے صدر زرداری نے ’’ کانگریسی مولویت کی باقیات‘‘ امیر جمعیت عُلماء اسلام ( فضل اُلرحمن گروپ) کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین مقرر کردِیا اور اُن کے بعد جب تیسری بار منتخب ہونے والے کشمیری وزیراعظم ، میاں نواز شریف نے بھی فضل اُلرحمن صاحب ہی کو کشمیر کمیٹی کا چیئرمین بنائے رکھا۔ وزیراعظم نواز شریف 26 مئی 2014ء کو بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کی حلف وفاداری تقریب میں شرکت کے لئے گئے اور رات کو “One On One” اُن سے ملاقات کی ۔ دوسرے دِن میڈیا پر خبر آئی کہ ’’ وزیراعظم نریندر مودی نے وزیراعظم پاکستان کو “Man of the Peace” (مردِ امن) کا خطاب دِیا۔ پھر مودی جی کی ماتا جی اور میاں نواز شریف کی والدۂ محترمہ شمیم اختر المعروف آپی۔جی میں تحائف کا تبادلہ ہُوا؟۔25 دسمبر 2015ء کو قائداعظمؒ کی سالگرہ تھی اور وزیراعظم نواز شریف کی بھی۔ اُس موقع پر وزیراعظم نواز شریف کی نواسی ( مریم نواز کی بیٹی) مہر اُلنساء کی رسمِ حنا پر اپنے لائو لشکر سمیت وزیراعظم نریندر مودی جاتی عُمرا پہنچ گئے۔ وزیراعظم نواز شریف نے مودی جی کو اپنی والدہ صاحبہ سے ملوایا۔ وغیرہ ، وغیرہ اور پوری دُنیا میں بدنامی کی حد تک ’’مودی نواز شریف دوستی‘‘ عام ہوگئی۔ معزز قارئین!۔ 7 اگست کو وزیراعظم کی زیر صدارت منعقدہ ’’قومی سلامتی کمیٹی ‘‘ کے اجلاس میں بھارت کے ساتھ سفارتی تعلقات میں بتدریج کمی اور باہمی تجارت معطل کرنے کا فیصلہ کِیا گیا۔ یہ بھی فیصلہ کِیا گیا کہ ’’ بھارت کے ساتھ دو طرفہ معاہدوں پر نظر ثانی کی جائے گی، مقبوضہ کشمیر کا معاملہ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں اُٹھایا جائے گا ۔ 14 اگست یوم یکجہتی کشمیر اور 15 اگست کو ( بھارت کے یوم آزادی پر ) یوم سیاہ منایا جائے گا ‘‘۔ وزیراعظم نے مسلح افواج کو چوکس رہنے کی ہدایت کردِی ہے ۔ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں میں پاکستان میں بھارتی سفیر اجے بساریہ کو ملک چھوڑنے کا حکم دے دِیا ہے اور یہ بھی واضح کردِیا گیا ہے کہ ’’پاکستان اپنے سفیر (ہائی کمشنر) معین الحق کو بھی نہیں بھیجے گا ‘‘۔ قومی سلامتی کمیٹی کے فیصلوں کے مطابق آزاد کشمیر کے راستے تجارت بھی بند کردِی گئی ہے، جب کہ ’’پاکستان نے واہگہ سرحد کو بند کرنے اور بھارت کے ساتھ ثقافتی تعلقات ختم کرنے پر غور شروع کردِیا ہے ۔ فضائی حدود کھولنے پر بھی نظر ثانی کی جائے گی ۔ سمجھوتہ ایکسپریس کو بھی بند کرنے دِیا گیا ہے ‘‘۔ آئندہ کیا ہوگا؟ ۔ بھارتی وزیراعظم نریندر مودی کیا کریں گے ؟اور ہمارے وزیراعظم کا کیا ردِ عمل ہوگا؟ ۔ مقبوضہ کشمیر میں حالات کتنے خراب ہو جائیں گے ؟۔ ظاہر ہے کہ ’’ دونوں ایٹمی ملکوں پاکستان اور بھارت میں ایٹمی جنگ تو نہیں ہوگی لیکن، بقول وزیراعظم عمران خان روایتی جنگ تو شروع ہوسکتی ہے ؟۔ اُس کا لائحہ عمل تو ہماری سیاسی اور عسکری قیادت ہی کرے گی؟ لیکن، پاکستان کے 60 فی صد مفلوک اُلحال عوام تو ، پہلے ہی مسائل کا شکار ہیں ۔ معزز قارئین!۔ اِس میں کوئی شک نہیں کہ ’’ ہماری فوج دُنیا کی بہترین فوج ہے اور ہر فوجی میں ’’جذبہ ٔ شوق شہادت ‘‘ موجود ہے لیکن، جنگ کی صورت میں بے روز گاری اور بے کاری تو بڑھ جاتی ہے ، مختلف کاروبار بند ہو جاتے ہیں ، دونوں صورتوں میں کثیر مال و دولت کی ضرورت پڑتی ہے ۔ کیوں نہ 9 ہجری (نومبر 630ء ) کے غزوۂ تبوک ؔ سے روشنی حاصل کی جائے ؟ کہ ’’ جب پیغمبر انقلاب صلی اللہ علیہ و آلیہ وسلم نے صحابہ کرام ؓ کو جنگی اخراجات کے لئے خُدا کی راہ میں مال خرچ کرنے کی ترغیب دِی تو، اکثر صحابہ نے بڑی ، بڑی رقوم پیش کردِی تھیں۔ حضرت عُمر ؓ اپنے سارے مال و اسباب میں سے نصف لے آئے تھے اور حضرت صدیق اکبر ؓ کے پاس جو کچھ تھا وہ سارے کا سارا پیش کردِیا تھا ‘‘۔ کیا ہی اچھا ہو کہ’’ حکومت میں شامل ارکان اور اپوزیشن کے قائدین بھارت کی طرف سے پاکستان پر مسلط کی گئی جنگ میں اپنا زیادہ سے زیادہ مال و متاع سرکاری خزانے میں جمع کرادیں (اور خاص طور پر ) وہ لوگ جن پر منی لانڈرنگ کے مقدمات چل رہے ہیں ، اُنہیں بھی توبہ کا موقع مل رہا ہے؟ ۔

(Visited 140 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT