خانہ کعبہ کے بالکل سامنے کلاک ٹاور کے اوپر موجود چاند کے اندر ایک کمرہ کس لئے بنایا گیا ہے؟  

سعودی عرب میں بیت اللہ کے عین سامنے ایک خوبصورت عمارت ایستادہ ہے جس کا نام ’مکہ کلاک ٹاور‘ ہے۔ اس بلندوبالا کلاک ٹاور کا افتتاح 2013ءمیں ہوا اور اس وقت یہ دنیا کی تیسری بلند ترین عمارت تھی۔ اس ٹاور کی بلندی 607میٹر (1991فٹ)ہے اور اس کی چوٹی پر سنہرے رنگ کا خوبصورت ہلال(پہلی تاریخ کا چاند) بنایا گیا ہے جو اس قدر بڑا ہے کہ بہت فاصلے سے بھی اسے دیکھا جا سکتا ہے۔

اگرچہ بہت سے لوگ اس کلاک ٹاور کے بارے میں بہت سی معلومات رکھتے ہوں گے لیکن اس کی ایک چیز ہے جس کے بارے میں یقینا کسی کو معلوم نہیں ہو تا اور وہ یہ ہے کہ اس ٹاور کی چوٹی پر بنائے گئے اس خوبصورت ہلال کی تہہ میں ایک ہال نما خاص کمرہ موجود موجود ہے جس کی چھت نہیں ہے۔ یہ اوپن ایئر ہال صرف اللہ تعالیٰ کی عبادت کے لیے مختص کیا گیا ہے۔ اس وقت یہ ہال دنیا بھر میں عبادت کی بلند ترین جگہ ہے۔ آپ اسے دنیا کی بلند ترین مسجد بھی کہہ سکتے ہیں۔

اس ہال تک رسائی ایک تیز رفتار لفٹ کے ذریعے ممکن ہے۔ لفٹ کا سفر ختم ہونے پر 18میٹر کا فاصلہ پیدل طے کرنا پڑتا ہے اور پھر آدمی اس ہلال کے اندر بنے اس کمرے میں پہنچ جاتا ہے جس کی چھت نہ ہونے کے باعث اس میں سے آسمان نظر آتا ہے اور اگر یہاں سے نیچے دیکھیں تو باقی عمارتوں کے ساتھ ساتھ خانہ کعبہ بھی نظر آتا ہے۔ اس کمرے تک پہنچنے کا ایک متبادل چیئرلفٹ بھی ہے جسے دنیا کی بلند ترین چیئر لفٹ ہونے کا اعزاز حاصل ہے۔

اس ٹاور کی تمام اطراف میں نصب کیے گئے گھڑیال اس قدر بڑے سائز کے ہیں کہ ان میں سے ہر ایک 43میٹر جگہ گھیرتا ہے اور ان گھڑیالوں کی ہر ایک سوئی کا وزن 1.5میٹرک ٹن ہے۔ اس ٹاور کی خوبصورتی کو رات کے وقت مزید چار چاند لگ جاتے ہیں جب اس میں نصب کی گئی 20لاکھ ایل ای ڈی لائٹس روشن کی جاتی ہیں اور پورا ٹاور ان رنگا رنگ روشنیوں میں نہا جاتا ہے۔ یہ روشنیاں 17کلومیٹر کے فاصلے سے دیکھی جا سکتی ہیں۔

(Visited 313 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT