خیبرپختونخوا میں کرونا سے صحت یاب افراد کی شرح اچانک کیسے بڑھی؟

پاکستان میں کرونا کے تصدیق شدہ مریضوں میں روز بروز اضافہ دیکھنے کو ملتا ہے  تاہم صوبوں کے اعدادوشمار کو اگر  دیکھا جائے تو کرونا سے صحت یاب ہونے والے افراد کی تعداد میں واضح فرق ہے۔

خیبر پختونخوا میں صحت یاب افراد کی شرح ایک دن میں 30 فیصد سے 40 فیصد پر پہنچ چکی ہے۔

اگر مکمل جائزہ لیا جائے تو سرکاری اعدادوشمار کے مطابق  سندھ میں سب سے زیادہ تقریبا 52  فیصد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جب کہ دوسرے نمبر پر مریض اسلام آباد میں44.6  فیصد صحت یاب ہوئے، بلوچستان میں صحت یاب ہونے والے مریضوں کی شرح 38.2  فیصد، پنجاب میں 28.6 جب کہ خیبر پختونخوا میں یہ شرح 30  فیصد سے زائد بتائی جا رہی ہے۔

یہ بھی پڑھیں ﻭﮦ ﺁﺳﺎﻥ ﺍﺣﺘﯿﺎﻃﯽ ﺗﺪﺍﺑﯿﺮ ﺟﻦ ﭘﺮ ﻋﻤﻞ ﮐﺮﮐﮯ ﮐﻮﺭﻭﻧﺎ ﮐﯽ ﻭﺑﺎ ﭘﺮ ﻗﺎﺑﻮ ﭘﺎﻧﺎ ﻣﻤﮑﻦ

تاہم خیبر پختونخوا کے منگل کے اعدادوشمار کے مطابق صحت یاب مریضوں کی شرح اب 40 فیصد تک پہنچ گئی ہے۔

انڈپینڈنٹ اردو نے یہ جاننے کی کوشش کی ہے کہ کچھ صوبوں میں کرونا کے مریضوں کی صحت یابی کی شرح کم اور کچھ میں زیادہ کیوں ہے۔

اب تک پورے پاکستان میں کرونا کے ایک لاکھ 85 ہزار 34   کیس سامنے آئے ہیں جس میں  73 ہزار سے سے زائد مریض صحت یاب ہو چکے ہیں جس کی شرح تقریبا 40 فیصد بنتی ہے۔

خیبر پختونخوا میں ایک طرف اگر کروناسے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد دیگر صوبوں میں سب سے زیادہ ہے تو دوسرے طرف کرونا سے صحت یابی کی شرح میں بھی وہ 22 جون تک پنجاب کے بعد دوسرے نمبر پر رہا ہے۔

خیبر پختونخوا  میں اموات کی شرح 3.7  فیصد، پنجاب میں 2.3  فیصد، سندھ میں 1.5  جبکہ بلوچستان میں یہ شرح ایک فیصد ہے۔

یہ ببھی پڑھیں : کرونا وائرس کے مریضوں کے سونگھنے کی صلاحیت کیوں ختم ہوجاتی ہے؟؟

سرکاری ذرائع کے مطابق خیبر پختونخوا میں کرونا سے صحت یاب افراد کی کم شرح اس وجہ سے تھی کہ وہاں کا محکمہ صحت عالمی ادارہ صحت کی مرتب سفارشات کی روشنی میں کرونا سے صحت یاب مریض کے لیے قواعد و ضوابط جاری کرتا تھا اور اسی کی روشنی میں مریضوں کی صحت یابی کی شرح مرتب ہوتی تھی۔ تاہم اب نئی گائیڈ لائنز کے بعد یہ شرح تقریبا دیگر صوبوں کے برابر ہوگئی ہے۔

صوبائی کرونا ٹاسک فورس کے ممبر زین رضا نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ عالمی ادارہ صحت اس وبا کے شروع میں یہ بتاتا تھا کہ کرونا  کے تصدیق شدہ مریض کو اس وقت تک آئیسولیشن سے نہیں نکلنا ہوگا جب تک ان کی صحت یابی کے بعد ان کے دو ٹسیٹ منفی نہ آجائیں۔

جنوری 2020  میں عالمی ادارہ صحت نے تمام ممالک کو یہ گائیڈ لائنز ایشو کیں کہ اگر کسی  شخص میں کرونا وائرس کی تصدیق ہو جائے اور وہ 14  دن آئیسولیشن میں گزارے  تو اس کے بعد اس کے دو ٹیسٹ کیے جائیں گے اور جب تک ان دونوں ٹیسٹ کا نتیجہ منفی نہ ہو، وہ شخص آئیسولیشن میں رہے گا۔

تاہم مئی میں عالمی ادارہ صحت نے کچھ تحقیقی مقالوں کے بعد یہ گائیڈ لائنز تبدیل کر دیں۔

عالمی ادارہ صحت نے مئی کے آخر میں گائیڈ لائنز ایشو کیں کہ صحت یابی کے لیے  نیگیٹیو ٹسیٹ کی ضرورت نہیں ہے، کیونکہ تحقیق سے پتہ چلا ہے کہ کرونا سے صحت یاب ہونے کے بعد کچھ مریضوں کے جسم میں وائرس کے آثار موجود ہوتے ہیں جس کی وجہ سے ٹیسٹ کا نتیجہ مثبت آتا ہے۔

اسی حوالے سے زین رضا نے بتایا کہ ‘خیبر پختونخوا میں اب تک عالمی ادارہ صحت کی پرانی گائیڈ لائنز پر عمل کیا جاتا تھا لیکن ابھی دو ہفتے پہلے قومی سطح پر نئی گائیڈ لائنز آچکی ہیں  اور اب صحت یاب مریضوں کے بارے میں انہی گائیڈ لائنز پر عمل کیا جائے گا۔’

صحت یاب مریضوں کے حوالے سے نئی گائیڈ لائنز کیا ہیں؟

اس حوالے سے زین رضا نے بتایا کہ ‘نئی گائیڈلائنز میں  صحت یاب مریض کی تعریف تبدیل کر دی گئی ہے  اور اب ہم 14 دن بعد گھر میں کرونا کے تصدیق شدہ مریض کو کال کر کے پوچھتے ہیں کہ ان میں علامات موجود ہیں یا نہیں اور اسی کے مطابق مریض کو صحت یاب ڈکلیر کیا جاتا ہے۔’

‘ہم نے ایک ہفتے پہلے یہ گائیڈ لائنز نوٹیفائی کیے ہیں اور اب اس پر کام شروع ہو جائے گا۔’

عالمی ادارہ صحت نے بھی ان گائیڈ لائنز کو مزید تفصیل سے اپنی ویب سائٹ پر اپلوڈ کیا ہے۔

ان نئی گائیڈ لائنز کے مطابق علامات والے کرونا مریض کو دس دن بعد اس صورت میں ڈسچارج کیا جائے گا اگر وہ صحت یاب ہو گیا ہو اور اسے اگلے تین دن تک یعنی 13  ویں دن تک دیکھا جائے گا کہ اس میں دوا کھائے بغیر کوئی علامت موجود نہیں ہے تو اس کو ڈسچارج کیا جائے گا۔

اسی طرح ایسے کرونا کے مریض جن میں شروع دن سے کوئی علامات موجود نہ ہوں تو ان کو دس دن کے بعد ڈسچارج کیا جائے گا اور انہیں صحت یاب مریض ڈکلیر کیا جائے گا۔

عالمی ادارہ صحت نے اس حوالے سے مزید تفصیل میں یہ لکھا ہے کہ مثال کے طور پر کسی مریض میں 14  دن تک کرونا کی علامات موجود ہیں تو ان کو اگلے تین دن تک مزید دیکھا جائے گا اور اگر ان تین دنوں میں علامات ختم ہو گئیں تو ان کو 17  دن بعد ڈسچارج کیا جائے گا۔

تاہم عالمی ادارہ صحت نے ان نئے گائیڈ لائنز کے حوالے سے لکھا ہے کہ اس میں رسک اور فائدہ دونوں موجود ہیں لیکن ان کے مطابق کسی بھی گائیڈ لائنز پر رسک  لیے بغیر عمل ممکن نہیں ہوتا اس لیے ہمیں رسک لینا پڑے گا۔

عالمی ادارہ صحت کے مطابق یہ گائیڈ لائنز اس لیے تبدیل کی گئی ہیں کیوں کہ 14  دنوں کے بعد کرونا کا مریض وائرس کو پھیلا نہیں سکتا اور اس کے جسم میں اس وائرس کے خلاف مدافعت مضبوط ہو جاتی ہے۔

زین رضا نے نئی گائد لائنز کے حوالے سے بتایا کہ خیبر پختونخوا میں ان نئی گائیڈ لائنز پر عمل کرنے سے کرونا سے صحت یاب افراد کی  شرح میں خاطر خواہ اضافہ دیکھنے کو ملے گا۔

خیبر پختونخوا میں نئی گائیڈ لائنز کے حوالے سے جاری مراسلے کے مطابق (جس کی کاپی انڈپینڈنٹ اردو کے پاس موجود ہے) یہ نئی گائیڈ لائنز ان مریضوں پر اپلائی نہیں ہوگی جن کی قوت مدافعت وائرس کی وجہ سے بہت زیادہ کمزور ہوگئی ہو یا ایسے افراد جو کسی پرہجوم جگہ پر رہ رہے ہوں جیسا کہ جیل یا مدارس ، تو اس صورت میں صحت یابی کے حوالے سےپہلے  کی طرح دو ٹیسٹ کیے جائیں گے اور اگر وہ مفنی آتے ہیں تو مریض کو ڈسچارج کیا جائے گا۔

زین رضا سے جب پوچھا گیا کہ دیگر صوبوں میں صحت یابی کی زیادہ شرح کی وجہ کیا نئی گائیڈ لائنز پر پہلے سے عمل شروع کرنا تھا؟ تو اس کے جواب میں انھوں نے بتایا ‘مجھے اندازہ ہے کہ باقی صوبوں نے حال ہی میں نئی گائیڈ لائنز کے مطابق مریضوں کے ڈیٹا کو ایڈجسٹ کیا ہے [اور ان کی  صحت یابی کی شرح اس لیے زیادہ ہے۔]

ڈاکٹر سید عرفان علی شاہ خیبر پختونخوا میں کرونا ریسپانس ٹیم کے ڈاریکٹر ہیں۔ انھوں نے انڈپینڈنٹ اردو کو بتایا کہ ہمارے صوبے میں پہلے ہم پر میڈیا میں یہ تنقید کی جاتی تھی کہ یہاں پر اموات کی شرح سب سے زیادہ ہے جب کہ اس کی وجوہات اور ہمارے اموات رپورٹنگ کے طریقہ کار پر کوئی بات نہیں کرتا تھا۔

انھوں نے بتایا کہ اموات کی شرح صوبےمیں اس لیے زیادہ ہے کہ ہم عالمی ادارہ صحت کی سخت ترین گائیڈ لائنز پر عمل کرتے ہیں اور انھی کے مطابق کرونا سے ہلاک ہونے والے افراد کا ڈیٹا اکھٹا کرتے ہیں۔

انھوں نے بتایا ‘ہمارے صوبے میں کرونا وائرس کے تصدیق شدہ مریض چاہے کسی بھی بیماری سے ہلاک ہوگئے ہوں لیکن اگر ان کا کرونا ٹیسٹ مثبت ہے تو ہم ان کو کرونا سے مرنے والے افراد میں شامل کرتے ہیں۔ اب دیگر صوبوں میں مجھے لگتا ہے ایسا نہیں ہو رہا ہے ۔’

اسی طرح اب صحت یابی کی شرح کی بات ہو تو اس میں بھی پہلے ہم عالمی ادارہ صحت کی گائیڈ لائنز پر عمل کرتے تھے اور کسی بھی مریض کے 14  دن بعد دو دفعہ ٹسیٹ منفی نہ آنے کی صورت میں ہم ان کو صحت یاب تصور نہیں کرتے تھے۔

تاہم ڈاکٹر شاہ نے بتایا کہ ایک ہفتہ پہلے قومی سطح پر بنائی گئی صحت یابی کی نئی گائیڈ لائنز کےمطابق ہم نے اضلاع کو کہا ہے کہ ہسپتالوں اور گھروں میں موجود مریضوں کو چیک کیا جائے اور اگر ان میں 14 دن بعد علامات موجود نہیں ہیں تو انہیں صحت یاب ڈیکلیر کیا جائے۔

شاہ نے بتایا، نئی گائیڈ لائنز پر عمل کرنے سے بدھ یعنی 23  جون کے بعد روزانہ کی بنیاد پر صوبے میں کرونا کے صورتحال کے حوالے سے  جاری ہونے والے اعدادوشمار میں 2500  مریض صحت یاب ہوگئے ہیں۔

یہ گزشتہ ایک مہینے میں وہی لوگ ہیں جو منفی ٹیسٹ آنے کے انتظار میں تھے اور اب ہم نے ان کو صحت یاب ڈکلیر کردیا ہے۔’

سندھ کے محکمہ صحت کے ترجمان مہران شاہ سے جب پوچھا گیا کہ سندھ میں صحت یابی کی شرح کیوں زیادہ ہے، تو اس کے جواب میں انھوں نے 18 مئی کو محکمہ صحت کی جانب سے جاری شدہ ایک مراسلہ بھیج دیا۔ 

اس مراسلے میں صحت یاب مریضوں کے حوالے سے عالمی ادارہ صحت کی نئی گائیڈ لائنز موجود ہیں اور متعلقہ اداروں کو یہ ہدایات جاری کی گئی ہیں کہ اگر 13 دن تک علامات کسی مریض میں ختم ہوگئی ہیں تو ان کو ڈسچارج کر کے ان کو صحت یاب ڈکلئیر کیا جائے۔

اس سے یہ بات واضح ہو جاتی ہے کہ سندھ میں عالمی ادارہ صحت کی صحت یابی سے متعلق نئی گائیڈ لائنز پر 18 مئی سے عمل درامد شروع کیا گیا جبکہ خیبر پختونخوا میں اس پر عمل درامد 11 جون سے شروع کیا گیا ہے۔

(Visited 265 times, 1 visits today)

Also Watch

?