خیبر پختونخوا میں مرنے والوں کی تعداد باقی ملک سے زیادہ کیوں ہے؟

کورونا

دنیا بھر میں کورونا وائرس سے متاثر اور اس کا شکار ہو کر ہلاک ہونے افراد کی تعداد میں تیزی سے اضافہ جاری ہے اور امریکہ کی جانز ہاپکنز یونیورسٹی کے اعدادوشمار کے مطابق اس وبا سے عالمی شرح اموات سات فیصد کے قریب پہنچ چکی ہے۔

پاکستان کی بات کی جائے تو پیر 20 اپریل تک یہاں یہ شرح عالمی شرح سے کہیں کم یعنی دو فیصد سے کچھ زیادہ ہے تاہم ملک کا ایک صوبہ ایسا ہے جہاں اموات کی شرح دیگر صوبوں کے مقابلے میں دگنی سے بھی زیادہ ہے۔

خیبر پختونخوا میں پیر کی شب تک کورونا وائرس کے متاثرین کی تعداد 176 تک پہنچ گئی تھی جبکہ دن میں مزید 14 ہلاکتوں کے بعد اموات کی کل تعداد 74 ہو گئی۔ اس طرح خیبر پختونخوا میں شرح اموات پانچ فیصد سے بھی زیادہ ہے۔

سوال یہ ہے کہ آخر اس صوبے میں اموات کی شرح اتنی زیادہ کیوں ہے۔ کیا یہاں کا صحت کا نظام کمزور ہے یا پھر یہاں رہنے والوں کا مدافعتی نظام؟

خیبر پختونخوا میں ہلاکتوں کی تعدادزیادہ کیوں؟

ماہرین کے مطابق کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد اس علاقے کی آبادی کے مطابق ہے۔ جہاں زیادہ آبادی ہے وہاں کورونا وائرس سے متاثرہ افراد کی تعداد زیادہ ہے۔

تاہم خیبر پختونخوا کے وزیر صحت تیمور سلیم جھگڑا نے بی بی سی کو بتایا کہ اگرچہ صوبے میں وائرس سے ہلاک ہونے والے افراد کی تعداد زیادہ ہے لیکن اس کا یہ مطلب نہیں کہ صوبے میں صحت کا نظام ناقص ہے۔

انھوں نے کہا کہ وائرس سے متاثرہ افراد اس لیے نہیں مر رہے کہ صوبے میں صحت کی سہولیات نہیں ہیں۔ وزیر صحت کے مطابق صوبے میں ایسے افراد کی تعداد زیادہ ہے جو چھپے ہوئے ہیں یا اب تک سامنے نہیں آ رہے۔

’باہر ممالک سے لوگ یہاں زیادہ آئے ہیں‘

تیمور سلیم جھگڑا کے خیال میں خیبر پختونخوا میں زیادہ اموات کی ایک وجہ سے ہو سکتی ہے کہ یہاں متاثرہ افراد میں سب سے زیادہ تعداد ان کی ہے جو بیرون ملک سے آئے ہیں۔

انھوں نے اعداد و شمار کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ خیبر پختونخوا میں گذشتہ تین ماہ میں 60000 کے لگ بھگ افراد برون ملک سے آئے جبکہ صوبہ پنجاب اور صوبہ سندھ میں بیرون ملک سے آنے والے افراد کی تعداد 40 سے 50 ہزار تک رہی ہے۔

کورونا

انھوں نے کہا کہ اگر وائرس کا پھیلاؤ بیرون ملک سے آنے والوں کی وجہ سے ہوا ہے تو یہ ضروری نہیں ہے کہ سب کے سب پشاور ایئر پورٹ سے صوبے میں آئے ہوں، بلکہ ایسا بھی ہو سکتا ہے کہ وہ دیگر شہروں سے ہوتے ہوئے خیبر پختونخوا پہنچے۔

ان کا کہنا تھا کہ شروع کے دنوں میں جب وائرس پھیل رہا تھا تو پشاور ائیر پورٹ کے علاوہ اسلام آباد، کراچی اور لاہور کے ایئرپورٹس سے خیبر پختونخوا داخل ہونے والے افراد چھپے رہے اور وہ صوبے کے مختلف علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہی وجہ سے کہ کورونا وائرس صوبے کے بیشتر علاقوں تک پھیل چکا ہے اور ہو سکتا ہے کہ یہ لوگ باہر سے آنے والے ہوں یا ان سے مقامی آبادی میں یہ پھیلا ہو۔

’ہم نے کچھ نہیں چھپایا‘

سلیم تیمور جھگڑا کا کہنا ہے کہ ان کی حکومت نے کچھ چھپایا نہیں ہے بلکہ تمام حقائق کچھ عوام کے سامنے لایا ہے۔

ان کے مطابق حکام نے مرنے والوں کے میتوں کے بھی کچھ ٹیسٹ کیے جن میں سے تقریباً دس کے نتائج مثبت آئے تو ان کو بھی اعداوشمار میں شامل کر لیا۔ انھوں نے کہا کہ صوبائی حکومت کی پوری کوشش ہے کہ وہ حقیقی صورتحال لوگوں کے سامنے لائیں اور کچھ بھی نہ چھپائیں۔

کورونا

اموات میں عمر کا کردار

صوبائی ترجمان کے مطابق خیبر پختونخوا میں جو لوگ کورونا کے نتیجے میں ہلاک ہوئے ان میں زیادہ تر کی تعداد 60 سال سے زیادہ ہے۔

انھوں نے بتایا کہ صرف چار سے پانچ افراد ایسے ہیں جن کی عمر 50 سال سے کم تھی جبکہ زیادہ تر افراد ایسے تھے جن کی عمر 60 سال سے زیادہ تھی تاہم اس بارے میں مکمل اعداوشمار بعد میں فراہم کیے جائیں گے۔

ترجمان نے بتایا کہ صوبے میں صحت کا نظام مکمل طور پر فعال ہے اور اب تک جتنے مریض سامنے آ رہے ہیں ان کے لیے سہولیات دستیاب ہیں۔

ان کا کہنا ہے کہ اگر کسی کو سہولت دستیاب نہ ہو تو خود بھی کبھی نہیں چھپاتا۔ ان کے مطابق صوبے میں 267 افراد صحت یاب بھی ہو چکے ہیں۔

Source

(Visited 124 times, 1 visits today)

Also Watch