دل کی صحت کے لیے سلمون ٹراؤٹ اور دیگر مچھلی کتنا فائدہ مند

انسانی صحت کے لئے مچھلی کا گوشت اورتیل بہت ہی مفید ہے مثلا دل کے امراض کو لیسٹر ول، وزن کا بڑھنا، ڈپریشن، کینسر، حاملہ ،آنکھ کی تکالیف، جلد، زخم اور دوسرے بہت سارے امراض میں مچھلی کا تیل بہت ہی مفید ہوتا ہے کیونکہ مچھلی کے تیل میں موجود اومیگا دل کے امراض میں ایک بہت مفید چیز ہے امریکن ہارٹ ایسوسی ایشن کی ایک تحقیق کے مطابق مچھلی دل کے امراض کی شرح کو بہت حد تک کم کر سکتاہے وزن کو کم کرنے میں مچھلی کا تیل بہت مفید ہوتا ہے۔

یو نیو رسٹی آف سائو تھ آسٹر یلیا ء کی ایک تحقیق…

اپنے دل کو زندگی میں امراض سے بچانا چاہتے ہیں ؟ تو مچھلی کو اپنی غذا کا حصہ بنالیں۔

کے مطابق مچھلی کے تیل میں ایسے اجزاء پائے جاتے ہیں جن سے ورزش کے دوران وزن کم کرنے میں کافی مدد ملتی ہے ورزش کے ساتھ ساتھ اگر مچھلی کا تیل اپنی روز مرہ خوراک میں شامل کرلیا جائے توورز ش کے ذریعے کم کرنا آسان ہوتاہے جسم میں خون کے بہاؤ کو بہتر بنانے مین بھی مچھلی کا تیل کا فی مدد گاد ثابت ہوتاہے اور اس کی مدد سے کو لیسٹر ول کنٹرول کیاجاسکتاہے مختلف موسمی قسم کی بیماریوں مثلا بخار نزلہ کھا نسی وغیرہ سے بچائو میں بھی مدد ملتی ہے نیچر ل سائنس پروگرام کی ریسرچ کے مطابق مچھلی کے تیل کو ایڈ ز کے علاج کے طور پر بھی استعمال کیا جا سکتاہے ۔

ایرتیرٹس فونڈیشن کی ویب سائٹ پر موجو د ریسر چ کے مطابق مچھلی کا تیل جوڑوں کے در د کے لئے ایک جاد و اثر دوا کے طور پر استعمال کیا جاسکتا ہے مچھلی کے تیل میں اومیگا ۳ فیٹی ایسڈکی مدد سے ٹینشن کو کم یا ختم کرنے میںبھی مد د ملتی ہے یہ بات سامنے آئی ہے کہ وہ ممالک جن میں مچھلی کے تیل کا استعمال زیادہ کیا جاتاہے وہاں پر ڈپر یشن کے مریض کی شرح بہت ہی کم ہوتی ہے یا دداشت کی کمزوری کے مرض میںبھی مچھلی کے تیل کا استعمال بہت مفید ہے۔ مچھلی کے تیل کے بارے میں یہ بھی مشہور ہے کہ دیکھنے کی قوت کو بڑھا تاہے نیشنل آئی انسٹی ٹیوٹ کے طلبہ ایک سروے کر رہے ہیں جس میں وہ اس بات کے ثبوت اکھٹے کرنے کی کو شش کریں گے کہ مچھلی کا تیل آنکھ کی کن کن بیماریوں کے علاج میں مدد گار ہوتاہے ۔مچھلی کا تیل آپ کی خشک جلد کو صاف اور اجلا کرتی ہے اس کی مدد سے جلد کے بہت سارے امرا ض میں کمی لائی جاسکتی ہے جیساکہ آئلی اسکین روکھی اور بے جان جلد چہر ے پر زخم کے نشان وغیرہ ذیا بیطس کے مریضوں میں دل کے امراض کی شرح میں اضافہ دیکھا گیاہے ۔اور آکسفورڈ یونیو رسٹی انگلینڈ کی ریسر چ کے مطابق مچھلی کا تیل ذیا بیطس کے مریضوں میں دل کے امراض کی شرح کو واضح حد تک کم کر سکتاہے السر ے مر ض کی مختلف علامات مثلا سینے کی جلن سینے میں درد بھوک کا نہ لگنا وغیرہ کے علاج میں مچھلی کا تیل کا فی مفید ہے ۔حاملہ عورتوں کے لئے مچھلی کا تیل ہی مفید ہوتاہے مچھلی کا تیل ماں کے پیٹ میں بچے کی آنکھوں اور دما غ کی نشوونما میں مدد گار ثابت ہوتاہے اس کی مدد سے پیدائشی بچے میں وزن کی کمی اوردوسرے مسائل کے حل میں مفید ہے ڈنمار ک میں کئے گئے ایک سروے کے مطابق مچھلی کا تیل استعمال نہ کرنے والی حاملہ عورتوں میں قبل از وقت پیدائش کا مسئلہ زیادہ پایاگیا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ مچھلی کا تیل استعمال نہ کرنے والی مائوں کو پیدائش کے فورا بعد ڈپر یشن کا مسئلہ بھی دیکھا گیا ہے کیونکہ حمل کے آخری دنوں میں ماں کے دماغ کا بہت سا راحصہ بچے کے دماغ میں منتقل ہوجاتاہے جس کی وجہ سے پیدائش کے بعد ما ں ڈپریشن اور کمزوری محسوس کرتی ہیں مچھلی کے تیل کے استعمال سے مراض سے بھی کافی حد تک بچاجاسکتاہے۔ مچھلی کے تیل مین جہاں اور بہت سارے فائدے پائے جاتے ہیں وہاں اس کی وجہ سے سرکے بالوں کی نشوونما میں بھی خاطر خواہ بہتری لائی جاسکتی ہے اس کے استعمال سے سر کے بالوں میں چمک پیدا ہوجا تی ہے اور وہ مضبوط بھی بنتے ہیں ہائی بلڈ پر یشر ایجو کیشن پروگرام امریکہ کی رپورٹ کے مطابق مچھلی کا تیل ہائی بلڈ پریشر کو نا رمل کرنے میں بھی کام آتاہے آپ یہ سوچ رہے ہوں گے کہ آپ کو اپنے باقی ویجیٹبل آئلز کی جگہ پر مچھلی کے تیل کا استعمال شروع کر نا چاہئے لیکن اس کی ضرورت نہیں آپ اپنے دوسرے ویجٹیبل آئل کے ساتھ ساتھ روز کے کھانے میں کچھ مقدار میں مچھلی کا تیل استعمال کرکے بھی بہت سارے فائد ے حاصل کر سکتے ہیں ماہر طب کا کہنا ہے کہ آپ باقی تمام آئلز بند کرکے صرف مچھلی کا تیل ہی استعمال کریں تو وہ دوست نہیں مچھلی کے تیل میں وٹامن اے ڈی اورای پایا جاتاہے جو کہ بہت سارے خطرناک امراض میں مفید ہوتے ہیں ۔
دماغی طاقت کے لئے اومیگا۔3 سے بڑھ کر شاید ہی کوئی چیز کارآمد ہے۔اگر جسم میں اومیگا۔3 کی مقدار کم ہو تو یہ دماغ کی خراب کارکردگی پر منتج ہوتی ہے۔ اومیگا۔ 3 سرد پانی کی مچھلیوں کی مخصوص اقسام میں پایا جاتا ہے۔ مثلاً سلیمون اور ٹراؤٹ ایسی مچھلیاں ہیں کہ جن میں اومیگا ۔3 پایا جاتا ہے۔ یہ دماغی استعداد کار اور دماغ کے باہم متصل افعال کو بہترین بناتا ہے۔
ہر ہفتے دو تین مرتبہ مچھلی کھانے والے افراد میں دل کے دورے کا امکان اُن لوگوں کے مقابلے میں کم ہوتا ہے جو ہر ہفتے صرف ایک بار یا بالکل ہی مچھلی نہیں کھاتے۔ امریکہ میں ہونے والی ایک تحقیق میں یہ بات سامنے آئی ہے کہ ہفتے میں ایک بھی مچھلی کھانا یاداشت کے لئے فائدہ مند ثابت ہو سکتا ہے۔تحقیق میں کہا گیا کہ جو لوگ بھنی ہوئی یا بیکڈمچھلی کو اپنی خوراک کا حصہ بناتے ہیں ان کی یاداشت میں اضافہ ہونے کے امکانات بڑھ جاتے ہیں اور اس سے دماغ کو توانائی ملتی ہے۔
ایک رپورٹ امریکن میڈیکل ایسوسی ایشن کے جریدے میں شائع ہوئی ہے، جس میں ایسی پچاس ہزار خواتین کو شامل کیا گیا جنہیں ابتداء میں مرض قلب نہیں تھا۔ سولہ سال تک ان کے کوائف کا مشاہدہ کرنے کے بعد نتیجہ یہ نکالہ گیا کہ جن خواتین نے ہفتے میں کم از کم ایک مرتبہ مچھلی کھائی۔ ان پر حملہ قلب کا شکار ہونے کا امکان ان خواتین کی نسبت تیس فیصد کم ہو گیا جو ایک مہینے سے بھی زیادہ عرصے میں ایک بار مچھلی کھاتی رہتی تھیں۔
مچھلی کے تیل سے خون کی چپ چپاہٹ کم ہوتی ہے اور گاڑھے پن میں کمی آتی ہے۔اس کا اثر اسپرین جیسا ہوتا ہے،اس تیل سے بظاہر ان شریانوں کی تنگی میں کمی آتی ہے جو کولیسٹرول کی زیادتی کے باٰعث تنگ ہو چکی ہوتی ہیں۔

ہفتے میں اک دو دن مچھلی کھانا صحت کے لیے بہت مفید ہے اور جو لوگ مچھلی نہیں کھاتے وہ اخروٹ،سویابین یا لاسی کے بیج یا ان کا تیل کھا کر اومیگا3 چکنائی حاصل کر سکتے ہیں عام خیال ہے کہ یہی چکنائی دل کو محفوظ رکھتی ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ٹھنڈے پانی کی مچھلیاں، خاص طور سے ٹونا، سامن ٹراوٹ اور دیگر چکنی مچھلیوں میں اومیگا تھری ایسڈ وافر مقدار میں پایا جاتا ہے جو دماغی اور دل کے امراض کے علاوہ انسانی جسم کے مختلف اعضا کے لئے بہت فائدے مند ہے۔

اس قسم کی مچھلی صحیح معنوں میں بڑھاپے کی روک تھام والی غذا ثابت ہوتی ہے۔

چربی والی مچھلی میں اومیگا تھری فیٹی ایسڈز کی مقدار بہت زیادہ ہوتی ہے جو امراض قلب، ورم اور متعدد دیگر امراض کے خلاف فائدہ مند ثابت ہوتے ہیں۔

مختلف طبی رپورٹس کے مطابق مچھلی کا استعمال سورج کی شعاعوں کی زد میں رہنے سے ہونے والے نقصان اور جسمانی ورم سے بھی تحفظ فراہم کرسکتا ہے۔

سالمون نامی مچھلی خاص طور پر چربی والی مچھلیوں میں سب سے زیادہ فائدہ مند ہوتی ہے جس میں موجود اضافی اجزاءجلد کو زیادہ عرصے تک جوان رکھتے ہیں۔

اس کی وجہ اس میں شامل ایک جز astaxanthin ہے جو جلد کی لچک اور نمی میں نمایاں بہتری لاتا ہے۔

(Visited 96 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT