ذیابیطس کے مریض روزہ رکھ سکتے ہیں مگر ضروری ہے کہ پہلے وہ اپنے معالج سے مشورہ کرلیں۔

ذیابیطس یہ صحت کی ایک ایسی کیفیت ہے جس میں آپ کے خون میں گلوکوز کی مقدار بہت زیادہ ہو جاتی ہے۔ یہ اس وقت ہوتا ہے جب پینکریاز (لبلبہ) یا تو انسولین بالکل نہیں بناتا یا اتنی مقدار میں نہیں بناتا کہ گلوکوز کو آپ کے جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دے سکے، یا وہ جو انسولین بناتا ہے وہ ٹھیک طرح سے کام نہیں کرتی۔ انسولین نامی ہارمون لبلبے میں پیداہوتا ہے۔ یہ گلوکوز کو جسم کے خلیوں میں داخل ہونے میں مدد دیتا ہے۔

جسم میں گلوکوز ایندھن کا کام کرتا ہے جس کی توانائی (انرجی) سے ہم کام کرسکتے ہیں، کھیل سکتے ہیں، اور عام طور پر اپنی زندگیاں گزار سکتے ہیں۔ یہ زندگی کے لیے ناگزیر ہے۔گلوکوز کاربوہائیڈریٹ ہضم کرنے سے آتا ہے اور اس کو جگر بھی بناتا ہے۔اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو آپ کا جسم اس ایندھن کا مناسب استعمال نہیں کر سکتا، لہٰذا یہ خون میں جمع ہوتا رہتا ہے جو خطرناک ہوسکتا ہے۔

جب ہم روزے میں کھانے پینے سے اجتناب کرتے ہیں تو ہمارے آخری کھانے کے تقریباً 8 گھنٹے کے بعد ہمارا جسم بلڈ گلوکوز کی سطح کو عام رکھنے کے لیے توانائی کے ذخیرے کو استعمال کرنا شروع کردیتا ہے۔ زیادہ تر لوگوں کے لیے یہ مضر یا نقصان دہ نہیں ہوتا۔اگر ذیابیطس ہو، بالخصوص اگر آپ مخصوص گولیاں یا انسولین لیتے ہیں، تو آپ کو ہائپوگلاسیمیا (خون میں گلوکوز کی کمی) یا ’’ہائپوز‘‘ کا خطرہ ہوتا ہے۔

اگر آپ کو ذیابیطس ہے تو ایک اور مسئلہ پیدا ہوسکتا ہے! سحر یا افطار کے وقت زیادہ مقدار میں کھانا کھانے کے بعد گلوکوز کی سطح زیادہ بڑھنے کا خطرہ بھی ہوتا ہے۔ ہائپوگلاسیمیا (خون میں گلوکوز کی کمی)، گلوکوز کی سطح کا بڑھ جانا، اور ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) ذیابیطس کے حامل لوگوں کے لیے خطرناک ہوسکتے ہیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کے لیے بلڈ گلوکوز کی سطح کو باقاعدگی سے چیک کرنا اہم ہے۔ روزے سے ہوتے ہوئے بھی یہ کام کیا جاسکتا ہے۔ اس سے روزے پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔

ذیابیطس کے مریضوں کو سحری ضرور کرنی چاہیے اس سے روزے کے دوران خون میں گلوکوز کی سطح کو زیادہ متوازن رکھنے میں مدد دے گا۔ سحری کے وقت آپ کو نشاستہ دار کھانے کھانے چاہیئں جو توانائی کو آہستہ آہستہ مہیا کرتے ہیں، مثلاً کئی قسم کے اناج (ملٹی گرین) کو ملا کر بنائی گئی روٹی، جو کے بنے ہوئے دلیے، باسمتی چاول بمع لوبیا (بینز)، دالیں، پھل اور سبزیاں۔ مزید خوراک جو روزے کے دوران آپ کے گلوکوز کی سطح کو زیادہ متوازن رکھے گی اس میں روٹی بریڈ، چپاتیاں اور سوجی شامل ہیں۔ کھانا حد سے زیادہ نہ کھائیں، اس کے ساتھ ساتھ زائد مقدار میں پانی پینا یاد رکھیں۔

ذیابیطس کے مریضوں کو سال بھر کی طرح رمضان میں بھی کھانے پینے میں احتیاط کرنا ضروری ہے۔ افطار کے وقت ضرورت سے زیادہ کھانا اور غیرموزوں کھانے (مثلاً تلی ہوئی خوراک، جس میں چربی اور شوگر زیادہ ہو) زیادہ مقدار میں کھانے سے نہ صرف آپ کا وزن بڑھے گا بلکہ یہ آپ کے بلڈ گلوکوز کی سطح کو بھی زیادتی اور عدم توازن کی جانب لے جائے گا۔ کھانے کے حصوں کی مقدار کو معتدل رکھیں۔ روزے میں کئی گھنٹوں تک بھوکا رہنا اور اگر آپ کے بلڈ گلوکوز کی سطح زیادہ رہتی ہے تو یہ آپ کو ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) کے خطرے میں ڈال سکتا ہے۔ سحری کے وقت اور افطار کے بعد کافی مقدار میں مشروبات (جن میں شوگر نہ ہو)، بالخصوص پانی پیئں۔

ذیابیطس کے مریض تراویح پڑھ سکتے ہیں لیکن اس دوران آپ ڈی ہائیڈریشن (جسم میں پانی کی کمی) یا بلڈ گلوکوز کی سطح میں کمی کا شکار ہو سکتے ہیں۔

تراویح کے دوران مسئلوں سے بچنے کے لیے یقینی بنائیں کہ:

٭افطار میں نشاستہ دار خوراک کھائیں کیوںکہ یہ آہستہ آہستہ ہضم ہوتی ہے۔

٭افطار کے بعد کافی مقدار میں پانی پیئں۔

٭تراویح میں اپنے ساتھ پانی کی بوتل اور گلوکوز ٹریٹمنٹ لے کر جائیں۔

روزے کے دوران یہ احتیاطی تدابیر ضرور اپنائیں:

٭ہمیشہ گلوکوز ٹریٹمنٹ اپنے ساتھ رکھیں۔

٭ہمیشہ ذیابیطس کی شناخت ساتھ رکھیں، مثلاً میڈیکل بریسلٹ (کڑا)۔

٭بلڈ گلوکوز کی سطح پر نظر رکھنے کے لیے اپنے خون کو باقاعدگی سے چیک کرتے رہیں۔ اس سے آپ کا روزہ نہیں ٹوٹے گا۔

٭اگر آپ روزے کے دوران اپنے آپ کو صحت مند محسوس نہ کریں تو اپنا بلڈ گلوکوز لیول چیک کریں۔

٭اگر آپ کا بلڈ شوگر لیول زیادہ یا کم ہے تو لازماً اس کا علاج کریں۔

٭آپ کو انسولین کا استعمال کبھی بھی بند نہیں کرنا چاہیے لیکن آپ لازماً اپنے ڈاکٹر سے بات کریں کیوںکہ ہو سکتا ہے کہ آپ کو انسولین کے ٹیکوں کی مقدار اور اوقات تبدیل کرنے کی ضرورت ہو۔

(Visited 64 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT