نئے راستے کے ذریعے الربع الخالی میں حرض کے علاقے سے داخل ہوا جاتا ہے۔ اس کے بعد البطحاء سے گزرتے ہوئے الشیبہ آئل فیلڈ کی سمت سفر جاری رکھا جاتا ہے اور پھر سلطنت عمان کی نئی سرحدی گزر گاہ کی جانب رخ کیا جاتا ہے۔ اس راستے کی لمبائی 700 کلو میٹر ہے۔

وزارت ٹرانسپورٹ کے ذریعے کے مطابق مذکورہ راستے سے ہٹائی جانے والی ریت کا حجم 13 کروڑ کیوبک میٹر سے زیادہ ہے۔ اس کام میں 600 سے زیادہ ورکروں نے خصوصی نوعیت کے عظیم الجثہ ساز و سامان کے ساتھ حصّہ لیا۔ سڑک کی تعمیر انجام دینے والی کمپنیوں نے متحرک ریت کے درمیان بنائی جانے والی سڑکوں کے خصوصی معیارات کا خاص خیال رکھا۔

الربع الخالی طویل برسوں سے مہم جوئی انجام دینے والوں کے لیے خطرناک ترین صحرا رہا ہے۔ یہ ابھی تک دنیا کا سب سے بڑا متصل صحرا ہے جس کا بنیادی حصّہ سعودی عرب میں جب کہ کچھ حصّے یمن، متحدہ عرب امارات اور سلطنت عمان میں بھی ہیں۔ الربع الخالی میں سکونت اختیار کرنے والے خانہ بدوش اس پراسرار صحرا کے بارے میں تفصیلات سے آگاہ ہیں۔ اسی وجہ سے اس کا پُر خطر سفر کرنے والے بعض ادارے، محققین اور سیاح اپنی رہ نمائی کے واسطے ان خانہ بدوش افراد کی معاونت حاصل کرتے ہیں۔

بہت سے سیاحوں نے اپنے سفرناموں میں الربع الخالی کا ذکر کیا ہے۔ ان اسفار کا حال بعض مشہور کتابوں میں موجود ہے جب صاحب سفر نے اونٹ پر بیٹھ کر خانہ بدوش رہبروں کے ساتھ اس خطرناک ترین صحرا میں مسافت طے کی۔

برطانوی سامراج میں انٹیلی جنس افسر جان فلبی عُرف عبداللہ فلبی نے بھی مملکت سعودی عرب کے بانی شاہ عبدالعزیز آل سعود کی رضامندی سے الربع الخالی کو طے کیا تھا۔