سعودی عرب نے عیرملکی افراد کی روزگار کے متعلق بہت شرائط میں نرمی کا اعلان دیکھیے تفصیلات

سعودی عرب نے اپنے ہاں کئی ملین غیر ملکی کارکنوں کے لیے روزگار کی سخت اور متنازعہ شرائط میں نرمی کا اعلان کیا ہے۔ اب وہاں مہمان کارکن باآسانی ملازمتیں بدل سکیں گے۔ اس فیصلے سے ایک کروڑ سے زائد کارکنوں کو فائدہ ہو گا۔

سعودی دارالحکومت ریاض سے موصولہ رپورٹوں کے مطابق افرادی قوت کے نائب وزیر عبداللہ بن ناصر ابوثنین نے بدھ چار نومبر کے روز اعلان کیا کہ یہ نرمی ملک میں مہمان کارکنوں سے متعلق روزگار کے شعبے میں اصلاحات کے ایک وسیع تر عمل کا حصہ ہو گی، جس کے ذریعے روزگار کی ملکی منڈی کو مزید پرکشش بنایا جائے گا۔

سعودی عرب کا غیرملکی ملازمین کیلئے رائج ‘کفالہ کا نظام’ ختم کرنے کا فیصلہ

اس نرمی کا مقصد خاص طور پر ان کئی ملین غیر ملکیوں کے لیے پیشہ وارانہ زندگی کے حالات بہتر بنانا ہے، جن کی تنخواہیں کم ہوتی ہیں اور جو غیر مقامی باشندے ہونے کی وجہ سے اکثر اپنے آجرین کے ہاتھوں بدسلوکی اور استحصال کا شکار ہوتے ہیں۔

کفالت کے نظام کے تحت استحصال

خلیج کی اس قدامت پسند عرب بادشاہت اور تیل برآمد کرنے والے دنیا کے سب سے بڑے ملک میں غیر ملکی کارکن اکثر اپنی ملازمتوں سے متعلق ‘کفالت‘ کے نظام کے تحت کیے جانے والے ان معاہدوں کے باعث ناانصافی کا شکار ہوتے ہیں، جن میں اصلاحات کے انسانی حقوق اور مزدوروں کے حقوق کی کئی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے عرصے سے مطالبے کیے جاتے رہے تھے۔

عبداللہ بن ناصر ابوثنین نے صحافیوں کو بتایا کہ ملکی لیبر مارکیٹ میں ان قانونی اصلاحات کا نفاذ 14 مارچ 2021ء سے ہو گا۔ ان اصلاحات کے تحت سعودی عرب میں آئندہ نہ صرف مہمان کارکن اپنی ملازمتیں آسانی سے بدل سکیں گے بلکہ اپنے آجرین کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر بھی جا سکیں گے۔

سعودی عرب میں ابھی تک نافذ قوانین کے تحت کوئی بھی غیر ملکی کارکن اپنے آجر کی مرضی کے بغیر اپنی ملازمت تبدیل نہیں کر سکتا۔ اس کے علاوہ اسے دوران ملازم کو آجر کی تحریری رضا مندی کے بغیر ملک سے باہر جانے کی بھی اجازت نہیں ہوتی اور مدت ملازمت پوری ہونے کے بعد کوئی بھی کارکن اپنے آجر کی اجازت کے بغیر ملک سے مستقل طور پر رخصت بھی نہیں ہو سکتا۔ اب لیکن یہ صورت حال بالکل تبدیل ہو جائے گی۔

مغرب اسلام کے خلاف ’دوبارہ صلیبی جنگیں‘ شروع کرنا چاہتا ہے، اردوان

فائدہ کتنے تارکین وطن کو ہو گا؟

ان قانونی اصلاحات سے تقریباﹰ 10.5 ملین یا ایک کروڑ سے زائد مہمان کارکن فائدہ اٹھا سکیں گے۔ یہ تعداد سعودی عرب کی قومی آبادی کے تقریباﹰ ایک تہائی کے برابر بنتی ہے۔

ان لیبر اصلاحات کے حوالے سے بہت اہم بات یہ بھی ہے کہ ان کا اطلاق سعودی عرب میں گھروں میں کام کرنے والے ان ملازمین پر نہیں ہو گا، جن کی تعداد تقریباﹰ 3.7 ملین بنتی ہے۔

ایسے ملازمین میں اکثریت خواتین کی ہوتی ہے۔ اقتصادی جریدے ‘عریبین بزنس‘ کے مطابق گھریلو ملازمین کے حالات کار کے حوالے سے ریاض حکومت ان دنوں ایک علیحدہ قانون سازی پر کام کر رہی ہے۔

چند خلیجی ممالک میں حکومتیں ‘کفالت‘ کا نظام یا تو بدل رہی ہیں یا اسے بہتر بنا رہی ہیں اور روزگار سے متعلق شرائط کو زیادہ انسان دوست بنایا جا رہا ہے۔ مہمان کارکنوں کے لیے شرائط کار میں نرمی کی اس لہر میں بیرونی حکومتوں اور انسانی حقوق کی ایمنسٹی انٹرنیشنل اور ہیومن رائٹس واچ جیسی بڑی بین الاقوامی تنظیموں کی طرف سے تنقید کا بھی ہاتھ رہا ہے۔

سعودی عرب سے کچھ عرصہ قبل خلیجی ریاست قطر نے بھی اپنے ہاں ایسی ہی اصلاحات کا اعلان کر دیا تھا۔ ان اصلاحات کا مقصد بھی وہاں روایتی ‘کفالہ‘ نظام میں بنیادی تبدیلیاں لانا تھا۔ قطر کو 2022ء میں فٹ بال کے فیفا ورلڈ کپ کی میزبانی کرنا ہے اور وہاں مہمان کارکنوں کے استحصال کی رپورٹیں ماضی میں بار بار ذرائع ابلاغ کی سرخیوں کا موضوع بنتی رہی ہیں۔

(Visited 88 times, 1 visits today)

Also Watch

?