شوال کے چھ روزے رکھنا بنی اسرائیل کا عمل ہے – مفتی زرولی خان

درست بات یہ ہے کہ شوال کے چھ روزے نہ رکھیں – مفتی زرولی خان

دیکھیئے ویڈیو

یہ بھی دیکھیں

شوال کے چھ روزے رکھنا سنت ہے دیکھیئے ویڈیو

○ شوال کے چھ روزں کا حکم :

الحمد للہ رمضان المبارک کے روزوں کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا مستحب ہیں، اور مسلمان کے لیے مشروع ہے کہ وہ شوال کے چھ روزے رکھے جس میں فضل عظیم اور بہت بڑا اجر و ثواب ہے ، کیونکہ جو شخص بھی رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال میں چھ روزے بھی رکھے تو اس کے لیے پورے سال کے روزوں کا اجر و ثواب لکھا جاتا ہے ۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم سے بھی یہ ثابت ہے کہ اسے پورے سال کا اجر ملتا ہے ۔

ابو ایوب انصاری رضي اللہ تعالی عنہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا:

“جس نے رمضان المبارک کے روزے رکھنے کے بعد شوال کے چھ روزے رکھے تو یہ ایسا ہے جیسے پورے سال کے روزے ہوں “
صحیح مسلم ، سنن ابوداود ، سنن ترمذی ، سنن ابن ماجہ ۔

نبی مکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی شرح اور تفسیر اس طرح بیان فرمائی ہے کہ:

“جس نے عید الفطر کے بعد چھ روزے رکھے اس کے پورے سال کے روزے ہیں۔”

( جو کوئي نیکی کرتا ہے اسے اس کا اجر دس گنا ملے گا )

اور ایک روایت میں ہے کہ:

“اللہ تعالی نے ایک نیکی کو دس گنا کرتا ہے لھذا رمضان المبارک کا مہینہ دس مہینوں کے برابر ہوا اورچھ دنوں کے روزے سال کو پورا کرتے ہيں ۔”

سنن نسائی ، سنن ابن ماجہ ، صحیح الترغیب والترھیب ( 1 / 421 ) ۔

اور ابن خزیمہ نے مندرجہ ذيل الفاظ کے ساتھ روایت کیا ہے:

“رمضان المبارک کے روزے دس گنا اور شوال کے چھ روزے دو ماہ کے برابر ہیں تواس طرح کہ پورے سال کے روزے ہوئے.”

• فقھاء کرام نے تصریح کی ہے کہ:

رمضان المبارک کے بعد شوال کے چھ روزے رکھنا پورے ایک سال کے فرضی روزوں کے برابر ہے، وگرنہ تو عمومی طور پر نفلی روزوں کا اجروثواب بھی زيادہ ہونا ثابت ہے ، کیونکہ ایک نیکی دس کے برابر ہے ۔

• پھر شوال کے چھ روزے رکھنے کے اہم فوائد میں یہ شامل ہے کہ یہ روزے رمضان المبارک میں رکھے گئے روزوں کی کمی وبیشی اور نقص کو پورا کرتے ہیں اور اس کے عوض میں ہیں، کیونکہ روزہ دار سے کمی بیشی ہوجاتی ہے اور گناہ بھی سرزد ہو جاتا ہے جوکہ اس کے روزوں میں سلبی پہلو رکھتا ہے ۔

اور شاید روز قیامت فرائض میں پیدا شدہ نقص نوافل سے پورا کیا جائے گا ، جیسا کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے بھی فرمایا ہے :

روز قیامت بندے کے اعمال میں سب سے پہلے نماز کا حساب ہوگا، نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا :

“ہمارا رب عزوجل اپنے فرشتوں سے فرمائے گا حالانکہ وہ زيادہ علم رکھنے والا ہے میرے بندے کی نمازوں کو دیکھو کہ اس نے پوری کی ہیں کہ اس میں نقص ہے ، اگر تو مکمل ہونگي تو مکمل لکھی جائے گي، اور اگر اس میں کچھ کمی ہوئي تو اللہ تعالی فرمائے گا دیکھوں میرے بندے کے نوافل ہیں، اگر تو اس کے نوافل ہونگے تو اللہ تعالی فرمائے گا میرے بندے کے فرائض اس کے نوافل سے پورے کرو ، پھر باقی اعمال بھی اسی طرح لیے جائيں گے.”
سنن ابو داود حدیث نمبر ( 733 ) ۔

(Visited 146 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT