شہادتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یکم محرم کو ہوئی،،

بسم اللہ الرحمن الرحیم

شہادتِ سیدنا عمر رضی اللہ عنہ یکم محرم کو ہوئی،،
دلیل یہ ہے:
قال ابن إسحاق: وحدثني يحيى بن عباد بن عبد الله بن زبير عن أبيه عن جده عبد الله بن زبير قال: طعن عمر يوم الأربعاء لثلاث بقين من ذي الحجة، ثم بقي ثلاثة ايام ثم مات رحمه الله.
( كتاب المحن:1/67)

Loading...

اعتراض: یہ روایت چونکہ “ کتاب المحن کے مصنف ابوالعرب کی ہے اور انکی توثیق ثابت نہیں، لہذا اس روایت کی صحت میں میں نظرہے،
جواب :- یہ راوی ثقہ ،حافظ اور قابل اعتماد ہے ، ابوعبداللہ الخراط اورابن فرحون مالکی نے اسکی توثیق کی ہے،
انکے الفاظ ہیں :”وكان رجلاً صالحاً ثقة عالماً بالسنن والرجال من أبصر أهل وقته بها كثير الكتب حسن التقييد كريم النفس والخلق كتب بخطه كثيراً في الحديث والفقه يقال إنه كتب بيده ثلاثة آلاف كتاب وخمسمائة وشيوخه نيف وعشرون ومائة شيخ سمع منه محمد بن أبي زيد والحسن بن مسعود وابناه وزياد السروي والناس.
كان حافظاً للمذهب مفتياً وغلب عليه الحديث والرجال “( الدیباج )
اس پر یہ اعتراض کیاگیاکہ ابن فرحون مالکی اور ابوعبداللہ الخراط کی توثیق نہیں ، تو عرض ہے کہ ابن حجر اور سخاوی نےانکو اپنی کتب میں ذکر کیاہے، انکے ترجمہ کو دیکھنے سے وہ عادل معلوم ہوتے ہیں، انکے متعلق کہاگیا:” العلامة، القاضی،الشیخ ، الفقیہ، الجلیل، النبیل، الفاضل ، الکامل، المجید،المفید”،،،، انہ ممن استفاد فافاد ،وبلغ من العلم المراد، وانھا قراءة کشف فیھا عن اسرارھا واستخرج الدرمن بحارھا واجتنی الغض من ازھارھا ، وعرف مطالع اقمارھا واستملی علیھا وقید واتَّھَمَ فی اقتناص مافیھا وانجد الی کشفت لہ قناعھا فصارممن یخبر امتناعھا ویحقق اوضاعھا”واذن لہ فی حملھا عنہ حسبما القاھا بل اجاز لہ جمیع روایاتہ ومالہ من نظم ونثر وتفقہ وبرع فی مذھبہ وجمع وصنف وحدث وسمع منہ الفضلاء”( التحفة اللطیفة:۱/۸۱) للسخاوی
ابن حجر فرماتے ہیں :” وتفقہ وبرع وصنف وجمع وولی قضاء المدینة، والف کتاب نفیسا فی الاحکام وآخرفی طبقات المالکیة”( الدرر الکامنة:۱/۴۹)
ابن فرحون آٹھویں صدی ہجری کے ہیں، انکی وفات ۷۹۹ھ میں ہوئی ہے، یہ دور، دورالروایہ نہیں کہ اس کے ضبط کوجانچاجائے ، اور نہ ہی ضبط کی ضرورت ہے،، کیونکہ کتب اصول حدیث میں ضبط کواحادیث کے ساتھ مقید کیاگیاہے، لہذا جب ابن فرحون حفظ سے روایات کا راوی ہے ہی نہیں توحفظ کی شرط چہ معنی دارد!
ابن فرحون کی عدالت ثابت ہے، جس کامطلب ہے وہ معتمد ہے، اس کی بیان اور نقل کی ہوئی بات قابل اعتبار ہے، اگر انکی عدالت میں کوئی جرح ہوتی تو یہ محدثین ضرور بیان کرتے، نیز ابن حجر نے انکی جس کتاب “طبقات الماکیة” کو نفاست والا یعنی عمدہ کتاب قرار دیا ہے، “کتاب المحن” کے مصنف ابوالعرب کاترجمہ اسی میں ہی موجود ہے،
لہذا ابن فرحون قابل اعتماد مصنف ہے، اسکی نقل پر محدثین نے اعتماد کیاہے ، اگر انکے نزدیک وہ غیر معتبر اور ناقابل اعتماد ہوتا تو ضرور وضاحت کرتے اور انہیں غیرمعتبرقراردیتے، ہمیں بھی چاہئے کہ اگر یہ محدثین کے ہاں معتمد ہے تو ہم بھی اسے معتمد ہی سمجھیں، ورنہ محدثین کرام ایک ڈگر پر ہونگے اور ہم دوسری ڈگر پر،
باقی رہے ابوعبداللہ الخراط، تو یہ بھی محدثین کے ہاں نول میں معتمد ہیں، حافظ ذہبی سمیت کئی محدثین نے انکی نقل پر اعتماد کیاہے، تفصیل کی تلاش جاری ہے،، فی الحال اتناہی،،
اسکے بعد ابوالعرب کے متعلق امام ابن بشکوال کی توثیق بھی مل گئی ، والحمدللہ، آپ فرماتے ہیں:”
قدم الأندلس تاجرا سنة ست عشرة وأربعمائة، وكان شيخا مسمتا من أهل الفضل والثقة، واسع الرواية، وكان من أهل الصدق والتحري فيما ينقله، روى عن أبيه كثيرا وعن غيره من شيوخ قرطبة، والقيروان،والحجاز، والشام، ومصر، بلغنا أنه توفي بعد منصرفه عنا بنحو ثلاثة أعوام”
(الصلة رقم ١٣١٤)
دیکھیں ! ابن بشکوال انہیں ثقہ، نقل میں معتمد کثیرالروایة جیسے اوصاف سے متصف کررہے ہیں، لہذا “کتاب المحن “ کے مصنف کی توثیق میں ابن ابن بشکوال سے جیسے قابل اعتماد محدث اور حافظ کی توثیق بھی شامل ہے، والحمدللہ
۰۰( ابوالمحبوب سیدانورشاہ راشدی)

(Visited 13 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT