فرانس کلاس میں پیغمبر اسلام ﷺ کے خاکے دکھانے والے ٹیچر کا سر قلم

پولیس کے مطابق حملہ آور کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران انہیں گولی مار دی گئی۔ پراسیکیوٹرز سر قلم کرنے کے واقعے کو ‘دہشت گرد تنظمیوں سے جڑے قتل’ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔

فرانس میں جمعے کو پیغمبر اسلام کے خاکے کلاس میں طلبہ کو دکھانے والے استاد کا سر سکول کے باہر قلم کر دیا گیا۔

خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق حملہ آور کی شناخت ظاہر نہیں کی گئی۔ پولیس نے بتایا کہ حملہ آور کو گرفتار کرنے کی کوشش کے دوران انہیں گولی مار دی گئی، بعد میں وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے شہید ہو گئے۔

پولیس ذرائع نے بتایا کہ پولیس کے ساتھ آمنا سامنا ہونے پر حملہ آور نے ‘اللہ اکبر‘ کا نعرہ لگایا۔ فرانس کو 2015 میں میگزین ‘چارلی ایبدو’ اور دارالحکومت پیرس میں یہودی سپرمارکیٹ پر حملوں کے بعد پرتشدد کارروائیوں کا سامنا ہے۔

ملک کے انسداد دہشت گردی پراسیکیوٹرز نے کہا ہے کہ وہ تازہ حملے کو ‘دہشت گرد تنظمیوں سے جڑے قتل’ کے طور پر دیکھ رہے ہیں۔ یہ واقعہ پیرس کے مضافات میں شام پانچ بجے کے قریب ایک مڈل سکول کے قریب ہوا جہاں حملے کا شکار ہونے والے استاد کونفلان سینٹ ہونورائن کے علاقے میں کام کرتے تھے۔

صدر میکروں نے جائے وقوعہ کا دورہ کیا اور کہا کہ یہ حملہ ‘اسلامی دہشت گردی’ کی مخصوص علامت ہے۔ جذباتی دکھائی دینے والے صدر کا کہنا تھا کہ ‘پوری فرانسیسی قوم اساتذہ کے دفاع کے لیے تیار کھڑی ہے اور جہالت کامیاب نہیں ہو گی۔’

پولیس ذرائع نے ہفتے کی صبح اے ایف پی کو بتایا چار افراد کو گرفتار کر لیا گیا جن میں ایک بچہ بھی شامل ہے۔ ان تمام افراد کا تعلق حملہ آور سے ہے۔

پولیس کے مطابق حملے کا نشانہ بنے والے ٹیچر تاریخ پڑھاتے تھے اور حال ہی میں انہوں نے کلاس میں اظہار رائے کی آزادی پر ہونے والی بحث کے دوران طلبہ کو پیغبر اسلام ﷺ کے متنازع خاکے دکھائے تھے۔

سکول میں پڑھنے والے ایک طالب علم کے والدین کے مطابق ہو سکتا ہے کہ ٹیچر نے خاکے دکھانے سے پہلے مسلمان طلبہ کو کلاس سے باہر بھیج کر تنازع کھڑا کر دیا ہو۔

عدالتی ذرائع کے مطابق حملہ آور سے ملنے والے شناختی کارڈ سے ظاہر ہوتا ہے کہ وہ 2002 میں روس دارالحکومت ماسکو میں پیدا ہوئے۔  تاہم تفتیش کار ان کی باضابطہ شناخت کا انتظار کر رہے ہیں۔

پولیس نے کہا کہ وہ ایک ٹوئٹر پیغام کی چھان بین کر رہے ہیں جس میں ٹیچر کا سر دکھایا گیا تھا۔ بعد میں یہ ٹوئٹر اکاؤنٹ بند کر دیا گیا۔ تاہم یہ واضح نہیں کہ یہ پیغام جس میں صدر میکروں کو دھمکی دی گئی تھی اور انہیں ‘کافروں’ کا رہنما قرار دیا گیا تھا، حملہ آور نے ٹوئٹر پر پوسٹ کیا۔

Source

(Visited 219 times, 1 visits today)

Also Watch

?