فلیپر سے می ٹو تک(2) – اوریا مقبول جان

معاشی خوشحالی، سائنسی ترقی اور کاروباری وسعت،ان تینوں کو جدید دنیا نے ایک نئے اخلاقی نظام اور نئے تہذیبی تصورات کا غلام بنا دیا ہے۔ یہ تہذیبی تصور اور اخلاقی نظام ایک دن میں وضع نہیں ہوا بلکہ اسے تخلیق کرنے کے لئے صدیوں محنت کرنا پڑی۔ انسانی تاریخ میں ایسی تہذیبی اور اخلاقی تبدیلی پہلی دفعہ نہیں آئی بلکہ ہر بڑی تہذیب،معاشرت اور معیشت کے زوال سے پہلے ایسے معاشرے ضرور تخلیق ہوئے جن میں عورت شمع محفل اور مرکز نگاہ بنا دی گئی۔ سیدنا یوسف علیہ السلام کے زمانے کا مصر، سُلا اور نیرو کے زمانے کا روم، اور یونان کی شہری ریاستیں اپنی تباہی وبربادی سے ذرا پہلے ایسے ہی معاشروںمیں تبدیل ہو گئی تھیں، جہاں جنسی اختلاط، بے راہ روی، خاندانی اقدار کا زوال اور لذت عریانگی جیسی پستی معاشرتی حسن بنا دی گئیں۔ یہ معاشرے کچھ عرصے ایسے چلے لیکن پھر وہ ایسے زوال کا شکار ہوئے کہ دنیا صرف ان کی تباہی پر ماتم کرتی رہ گئی۔ لیکن جدید تہذیبی تبدیلی ان تمام سے مختلف ہے۔ ان معاشروں میں جنسیت و شہوانیت کا غلبہ تو ہوا،لیکن کسی نے انسانی معاشرے کے بنیادی جوہر ”Nucleus”یعنی خاندان کو بالکل نہیں چھیڑا۔ اس کے برعکس،موجودہ جدید مغربی تہذیب جس کا آغاز تحریک نسواں (Feminism) سے ہوا، اس نے اپنی پہلی ضرب خاندان پر لگائی۔ عورت کے دو بنیادی کردار پورے معاشرے کو استحکام بخشتے ہیں، ایک ماں اور دوسرا بیوی۔ ماں کا کردار عزت و توقیر اور محبت و قربانی سے عبارت ہے، جب کہ بیوی خاوند کے لیے وجہ تسکین بھی ہے اور اخلاقی برائیوں کے سامنے ڈھال بھی۔ چونکہ مقصود یہ تھا کہ عورت کی عزت و احترام کو ان دونوں رشتوں کی بجائے اس کے پیشے، شوق اور صلاحیت سے وابستہ کیا جائے، اس لئے سب سے پہلے اس کی عزت کو جسمانی خوبصورتی سے منسلک کیا گیا۔ 1920 ء میں فلوریڈا کے ساحلوں پر پہلا ملکہ حسن کا مقابلہ منعقد ہوا۔ فلیپر کے آنے کی وجہ سے عورت پہلے ہی شرم و حیا سے آزاد ہو چکی تھی اس لئے اسے یہ کوئی زیادہ برا محسوس نہ ہوا۔ جرمنی کے جزیرے سائلٹ (Sylt) میں پہلا بے لباس ساحل بنایا گیا۔ جسے جرمن زبان میں ”FREI KOERP KULTURY (FKK) یعنی جسمانی آزادی کا کلچر کہا جاتا ہے۔ کہانیاں سنانے والی دادی نانی (Granny) رخصت ہوئی اور کارٹون، کومک اور بچوں کی فلموں نے ان کی جگہ لے لی۔ صرف میاں بیوی پر مشتمل خاندان (Nuclear) فیملی کا رواج ہوا۔ پہلے عورت کو خاندان کی معاشی حالت سدھارنیاور شہری زندگی کے اخراجات پورا کرنے کے لئے باہر نکالا گیا اور پھر جب وہ باہر نکل آئی تو اسے ہر شعبہ زندگی میں کامیاب ہونے، اس کی اعلی ترین سطح حاصل کرکے مردوں کو شکست دینے کا راستہ دکھایا گیا۔ جو عورت معاشی طور پر کمزور تھی، اس نے معیشت کے لیے گھربار چھوڑا اور جو خوشحال تھی اس نے کامیابی کے لیے گھریلو زندگی کو خیر باد کہا۔ ایک گھر ڈسٹرب ہوا تو اس کے لیے لاتعداد خدمات (services) اور بے شمار شعبے (Professions) تخلیق کیے گئے۔ گھریلو ملازم (domestic servants)، نوکری پیشہ عورتوں کے بچوں کے لیے ڈے کیئرسینٹر (babysitting) یہاں تک کہ دو سال کی عمر سے سکولوں میں پری نرسری کلاسیں، کام کاج کی مصروفیت کی وجہ سے فاسٹ فوڈ انڈسٹری کا قیام، جو اس وقت 570 ارب ڈالر کی ہے۔ کپڑے دھونے، ڈرائی کلین کرنے، یہاں تک کہ ایسے کپڑے جو بغیر استری پہنے جا سکیں ان کی تخلیق کا کاروبار چمکا۔ بچوں کی تربیت اور ان کے نفسیاتی مسائل جو والدین کی عدم موجودگی سے پیدا ہوئے تھے،ان کے لیے کونسلنگ سروسز کا جال بچھایا گیا۔ گھر میں کم سے کم وقت صرف کرنے اور جلد از جلد کچن اور دیگر امور نمٹانے کیلئے لاتعداد مشینیں تخلیق ہوئیں، جن سے ایک عورت ایک گھنٹے میں گھر کا سارا کام مکمل کرکے سوچنے میں پڑگئی کہ وہ اب کیا کرے۔ بچے تو اس نے سکول، ماہر الاطفال،ماہر نفسیات اور کیریئر کونسلر کے سپرد کردیے تھے۔ خاوند کی اپنی دنیا تھی۔ ایسی بیزاری میں پہلے عورتوں کی دلچسپی کے کلب بنائے گئے اور پھر ہر شعبہ زندگی میں اسے بام عروج پر پہنچنے کی ترغیب دی گئی۔ 1920 ء میں اسے ووٹ کی طاقت عطا کر کے سیاست کے میدان کا شہسوار بھی بنا دیا گیا۔ اب عورت کی وجہ عزت وتوقیر ایسی ماں نہ رہی جس نے اپنے بچوں کی تعلیم و تربیت ایسی کی ہو کہ بڑے ہو کر سقراط، بوعلی سینا اور آئن سٹائن بنیں، بلکہ اس کی وجہ عزت اس کا شعبہ زندگی بن گیا۔ دنیا کے تمام عالمی اور علاقائی ایوارڈ بہترین اداکارہ، شاعر، ادیب، سماجی ورکر، ہوا باز، خلاباز، استاد، سرجن، ڈاکٹر، امن کی سفیر، کوہ پیما جیسے شعبوں کے گرد گھومنے لگے۔ لیکن پوری دنیا کی چکاچوند روشنیوں میں سٹیج پر کوئی عورت کبھی اس لیے نہیں بلائی گئی کہ وہ ماں کی حیثیت سے ”حسن کارکردگی” کی مستحق ہے۔ دنیا کے ہر شعبے میں عورت کے لیے لائف ٹائم اچیومنٹ (lifetime achievement) ایوارڈ ہے، لیکن وہ عورت جو کسی انسان کی تربیت اس انداز سے کرتی ہے کہ وہ دنیا میں معاشی، معاشرتی اور اخلاقی لحاظ سے کامیاب ترین انسان بن جاتا ہے تو ایسی ماں کے لئے کوئی ایوارڈ نہیں۔ لیکن اس عورت کے لئے ایوارڈ ضرور موجود ہے جو بڑھاپے میں بھی اپنے جسم کی مناسب دیکھ بھال کرکے اسے جوانوں جیسا خوبصورت بنائے رکھتی ہے۔ 1848 ء میں نیویارک میں خواتین کے حقوق کا کنونشن ہوا تھا جس میں ”خیالات و جذبات کا اعلامیہ” (Declaration of sentiments) کے نام پر ایک دستاویز لائی گئی۔ 1998 ء میں ڈیڑھ سو سال بعد جب اس سفر پر دوبارہ روشنی ڈالی گئی، تو اس بیچاری عورت کے حقوق کی دنیا میں کودنے اور گھر کی جنت کو ترک کرنے کے بعد جو نئے مسائل پیدا ہوئے ان سے نئے حقوق کی ایک اور طرح کی جنگ شروع ہو گئی۔ عورتوں کو کام کاج کی جگہ پر جنسی استحصال سے بچاؤ کا حق، عورت جس وقت چاہے، اسقاط حمل کا حق، عورتوں کا مذہبی اداروں کی سربراہی کا حق، اور سب سے مضحکہ خیز ”Momy Track” یعنی ادارے اور حکومت عورتوں کی زندگی کی تمام خاندانی ذمہ داریاں اپنے ذمے لیں تاکہ وہ مردوں سے مقابلہ کرسکیں۔ جس کا مقصد تھا کہ عورتوں کو ایک ماں کی ذمہ داری سے مکمل طور پر آزاد کیا جائے۔ لیکن جس حق کا شور بہت زیادہ مچا وہ جنسی استحصال ”sexual harassment” ہے۔اس کی تعریف کرنے کے لئے ایک مضحکہ خیز سوال عورتوں کے ہر کنونشن میں آج بھی رکھا جاتا ہے جس کا جواب ابھی تک ڈھونڈا جا رہا ہے سوال ہے، ”where does flirting leave off and harassment begins” (کہاں پر دل لگی، چھیڑ چھاڑ اور چونچلے بازی ختم ہوتی ہے اورکہاں سے جنسی استحصال شروع ہوتا ہے)۔دنیا بھر میں کہانیاں ہیں، قصے ہیں، داستانیں ہیں، رونا دھونا ہے۔کوئی دوستوں میں بیٹھ کر باس کی فرمائشوں کا ذکر کرتی ہے تو کوئی عزت کی وجہ سے چپ رہتی ہے، کوئی ترقی کے لئے فرمائش پوری کرتی ہے اور کوئی کیریئر تباہ کر لیتی ہے۔ یہ ہے اس تہذیبی تبدیلی کی معراج جس کا نقطہ عروج ”می ٹو” ہے کہ کھل کر بتاو، چھپانے کی ضرورت نہیں اور آج پورا معاشرہ اس می ٹو کے خوف میں ہے۔ یہ خوف ہی وہ سیڑھی ہے جس پر عورت کامیابی کی اگلی منزل طے کر سکتی ہے۔ آپ الزام لگاؤ، بدنامی کا خوف تو نکل گیا، کیونکہ اب تو بولنے والی عورت بہادر اور قابل فخر ہے۔ الزام لگائو اور پھر مرد کی لاش پر کھڑے ہو کر ترقی کی منزل طے کر لو۔ جس کا کیریئر چاہے تباہ کر دو، اور جس کی عزت چاہے برباد کر دو۔ لیکن ایک وقت ایسا بھی آئے گا کہ جب اس می ٹو کا اثر بھی ختم ہوجائے گا۔مرد عورتیں سب شرم و حیا ترک کر کے میدان میں نکل آئیں گے ایسے میں کیا ہو گا۔یہ ہے اس تہذیب کا انجام۔ اس لیے کہ رسول اکرم ﷺ نے فرمایا کہ جب تم میں حیا نہیں تو پھر جو چاہے کرو (بخاری: 7483)۔ سید الانبیاء ﷺ نے دور فتن میں دجال کے فتنے کو حضرت آدمؑ سے لے کر اب تک سب سے بڑا فتنہ قرار دیتے ہوئے فرمایا ”دجال کے پاس نکل نکل کر جانے والوں میں اکثریت خواتین کی ہوگی اور نوبت یہاں تک پہنچ جائے گی کہ ایک آدمی اپنے گھر میں اپنی ماں، بیٹی، بہن اور چچی پھوپھی کو رسیوں سے باندھ دے گا کہ وہ دجال کے پاس نہ چلی جائیں (مسند احمد، المعجم الکبیر)۔ یہ ایسا عالم ہوگا جس کے بعد آپ ؐنے فرمایا جب ایسا ہو گا تو پھر اللہ مسلمانوں کو دجال پرتسلط عطا فرمائے گا۔(ختم شد)

(Visited 57 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT