قومی سلامتی کے لیے اپنے مشیر جان بولٹن کو اس لیے برخاست کیا کیونکہ…

جان بولٹن ذہانت اور ذکاوت سے عاری ہیں: ٹرمپ

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے انکشاف کیا ہے کہ انہوں نے قومی سلامتی کے لیے اپنے مشیر جان بولٹن کو اس لیے برخاست کیا کہ وہ ایک “ذہین آدمی نہیں ہیں”۔ بالخصوص بولٹن کا وہ بیان جو شمالی کوریا کے سربراہ کے لیے ایک دھمکی شمار کیا گیا۔

وہ جمعرات کے روز وائٹ ہاؤس میں صحافیوں سے گفتگو کر رہے تھے۔ مذکورہ برطرفی کے حوالے سے پہلی وضاحت میں ٹرمپ نے شمالی کوریا کے سربراہ کے ساتھ بولٹن کے کشیدہ تعلق پر تنقید کی۔ ٹرمپ شمالی کوریا کے جوہری ہتھیاروں کے حوالے سے بات چیت کے لیے کِم یونگ اُن سے تین مرتبہ ملاقات کر چکے ہیں اور وہ کِم کو بارہا اپنا “دوست” قرار دے چکے ہیں۔

ٹرمپ کا کہنا تھا کہ ان کا اپنے سخت گیر مشیر کے ساتھ اختلاف کا تعلق 2018 کے آغاز سے ہے .. جب بولٹن نے یہ کہا تھا کہ معمر قذافی کے دور میں لیبیا کے جوہری ہتھیاروں کی تلفی شمالی کوریا کے لیے ایک نمونہ ہونا چاہیے۔

اگرچہ بولٹن عالمی برادری کے ساتھ قذافی کے مکمل تعاون کا حوالہ دے رہے تھے تاہم ان کا بیان وسیع پیرائے میں کِم یونگ اُن کے لیے ایک دھمکی شمار کیا گیا۔ اس لیے کہ قذافی کو 2011 میں ایک خونی انقلاب میں اقتدار سے ہٹا دیا گیا اور اس انقلاب کو نیٹو اتحاد کی حمایت حاصل تھی۔

ٹرمپ نے صحافیوں سے کہا کہ “یہ کوئی اچھا بیان نہیں تھا۔ صرف یہ دیکھ لیں کہ قذافی کے ساتھ کیا ہوا … بولٹن کی جانب سے لیبیا کے نمونے کی بات کرنے سے ہم انتہائی برے طریقے سے پیچھے چلے گئے”۔

امریکی صدر نے مزید کہا کہ “اس کے بعد کِم نے جان بولٹن کے ساتھ معاملات کا ارادہ نہیں کیا۔ میں اس سلسلے میں کِم کو ملامت نہیں کروں گا … یہ امر ثابت قدمی کا نہیں بلکہ عدم ذکاوت کا ثبوت ہے”۔

ٹرمپ کے مطابق عراق کی جنگ کی حوصلہ افزائی کرنے پر بھی ان کو بولٹن کے ساتھ اختلاف تھا۔

امریکی صدر نے بتایا کہ بولٹن کے جاں نشیں کے طور پر ان کے پاس پانچ نامزد امیدوار ہیں اور توقع ہے کہ آئندہ ہفتے قومی سلامتی کے نئے مشیر کا تقرر ہو جائے گا۔

یاد رہے کہ نیا امیدوار ٹرمپ کے دور صدارت میں قومی سلامتی کا چوتھا مشیر ہو گا۔

العربیہ

(Visited 91 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT