متحدہ عرب امارات نے اپنے مفاد کے لیے فلسطینیوں کو دھوکہ دیا : ترکی

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان کا کہنا ہے کہ فلسطینیوں کیساتھ یہودیوں کا رویہ نا قابل قبول ہے۔ جبکہ ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ متحدہ عرب امارات نے اپنے اس عمل سے فلسطینیوں کو دھوکہ دیا ہے۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان ایک معاہدہ ہوا جس کے بعد متحدہ عرب امارات نے باضابطہ طور پر اسرائیل کو تسلیم کر لیا ہے، یو اے ای مسلم ممالک میں سے تیسرا ملک ہے جس نے اسرائیل کو تسلیم کیا ہے، اس سے قبل اُردن اور مصر بھی اسرائیل کو تسلیم کر چکے ہیں۔

معاہدہ ہونے کے باوجود اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے معاہدے کے ایک روز بعد کہا ہے کہ متحدہ عرب امارات کے ساتھ ہونے والے معاہدے کے باوجود مغربی کنارے کے الحاق میں تاخیر پر راضی ہو گئے ہیں لیکن منصوبہ ابھی زیر غور ہے۔

اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو نے کہا کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے ساتھ معاہدے میں انہوں نے مغربی کنارے کے ساتھ الحاق کے منصوبوں کو مؤخر تو کیا ہے لیکن وہ اپنی سرزمین پر حقوق سے کبھی دستبردار نہیں ہوں گے۔

اسرائیل اور متحدہ عرب امارات کے درمیان ہونے والے معاہدے کے بعد ترک صدر رجب طیب اردوان نے رد عمل دیتے ہوئے کہا ہے کہ یو اے ای کے ساتھ اپنے سفارتی تعلقات معطل کر سکتے ہیں۔

ایرانی حکام کا کہنا تھا کہ یہ شرمناک اقدام ہے جبکہ فلسطینیوں کا کہنا تھا کہ ہمارا پیٹھ میں چھرا گھونپا گیا ہے۔ایران نے متحدہ عرب امارات اور اسرائیل کے تعلقات کی بحالی کی مذمت کی ہے اور معاہدے کو سٹریٹجک حماقت قرار دے دیا۔

ایرانی وزارت خارجہ کے مطابق یہ اقدام ابو ظبی اور تل ابیب کی طرف سے اسٹریٹجک حماقت ہے، اس اقدام سے خطے میں مزاحمت اور مضبوط ہوگی۔ فلسطینی عوام اسرائیل کے ساتھ تعلقات بحالی کو کبھی معاف نہیں کریں گی=

ترک صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ اسرائیل اور یو اے ای کے درمیان ہونیوالی ڈیل کے بعد یہ بھی ہوسکتا ہے ہم ابوظہبی سے اپنا سفیر واپس بلا لیں۔

دوسری جانب ترک وزیر خارجہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل سے تعلقات بنا کر یواے ای خطے میں کشدیگی چاہتا ہے، عرب امارات نے اپنے مفاد کے لیے فلسطینیوں کو دھوکہ دیا ہے۔

امارات اسرائیل امن معاہدے کے بعد فلسطین نے ابوظبی سے احتجاجاً اپنا سفیر واپس بلالیا ہے۔ فلسطینی صدر محمود عباس نے یو اے ای کے اس عمل کو غداری قرار دیا ہے۔

فلسطینی صدر نے یو اے ای کی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اس فیصلے کو واپس لے اور انہوں نے یہ بھی اپیل کی ہے کہ دیگر عرب ممالک یو اے ای کے نقش قدم پر چل کر فلسطینیوں کے حقوق کو پامال نہ کریں۔

(Visited 25 times, 1 visits today)

Also Watch

?