مشروم ۔۔۔ ایک بیش بہا قدرتی تحفہ Mashroom

تحریر: نسرین شاہین حضور اکرمﷺ کے مرغوب کھانوں میں کھنبی یعنی مشروم بھی شامل ہے۔ حضرت عبداللہ بن عباس
سے روایت ہے کہ ہمارے یہاں رسول اکرمﷺ تشریف لائے اور فرمایا کہ ”جب جنت مسکرائی تو مشروم زمین پر آ گئی اور جب زمین مسکرائی تو کُبر نکل آئی۔

“ مشروم ایک خود رُو پودا ہے جس کا تعلق Fungusخاندان سے ہے۔ اس میں نہ تو شاخیں ہیں اور نہ پتے اور کُبر ایک خودرو کانٹوں والی جھاڑی ہے جس کے ساتھ بیر کے مانند پھیکے پھل لگتے ہیں بعض محدثین کے مطابق خود رروں ہونے کے باعث بغیر کاشت کے بنی اسرائیل کی سکونت کے علاقے میں پیدا کر دی گئی یوں یہ تحفہ خداوندی بن گئی اور بعض محدثین کا خیال ہے کہ اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کی مشکلات کے زمانے میں ان پر آسمان سے پکے ہوئے کھانے من و سلویٰ نازل فرمائے اس میں من سے مراد کئی قسم کی سبزیاں ہیں مشروم من کی ایک قسم اور ایک جز ہے اور سلویٰ سے مرادپرندوں کا گوشت ہے۔
حضرت سعید بن زید سے روایات ہے کہ مشروم اس منہ میں سے ہے جو اللہ تعالیٰ نے بنی اسرائیل کے لئے نازل فرمایا تھا اور اس کا پانی آنکھوں کے لئے شفا ہے۔ مشروم کی اقسام: مشروم کی کئی اقسام دریافت ہو چکی ہیں لیکن عام استعمال کے لئے Campestris Agaricusکے خاندان کی مشروم درست ہے۔
مشروم کو چھتری دار ہونے کی وجہ سے ”کماة“ کہا جاتا ہے محاورے میں ”کماة الشہادة“ یعنی گواہی چھپانے کے معنی میں استعمال کیا جاتا ہے مشروم کی ایک قسم گول سر والی ہوتی ہے جو عام طور پر سالن میں پکا کر کھائی جاتی ہے سفید رنگ کی مشروم سب سے عمدہ غذا ہے مشروم کی ایک اورقسم کا رنگ سرخی مائل ہوتا ہے یہ مہلک ہوتی ہے بعض اطباء نے سرخ کو بھی اچھا کہا ہے مگر سرخ اور سیاہ زہریلی ہوتی ہیں یوں تو مشروم کی کئی قسمیں زہریلی ہیں مگر ایک تحقیق کے مطابق مشروم کی کاشت میں زہریلی مشروم کا اگاؤ خارج از امکان ہے کاشت کی جانے والی مشروم میں اس قسم کا خدشہ یا خوف نہیں ہوتا اس کی کاشت کے لئے جس خاص مشروم کا بیج لگایا جاتا ہے اس سے وہی فصل حاصل ہوتی ہے۔
دنیا بھر میں ہزاروں اقسام کی مشروم پائی جاتی ہیں، جن میں سے تقریباً ڈھائی ہزار اقسام کھائی جا سکتی ہیں لیکن عام طور پر 20اقسام اگائی جاتی ہیں۔ ”اسٹرا مشروم“ (جسے چائینز مشروم بھی کہا جاتا ہے) بہت مقبول مشروم ہے۔ اس کی کاشت اور فروخت تجارتی بنیاد پر ہوتی ہے اسے تازہ اور خشک دونوں حالتوں میں استعمال کیا جاتا ہے اس کی تین اقسام کو مصنوعی طور پر کاشت کیا جاتاہے اس مشروم میں 206.27mgوٹامن سی پایا جاتا ہے اس مشروم میں لحمیات بھی ہوتے ہیں جو کئی اقسام کے ٹیومر کے خلیوں کوبڑھانے سے روکتا ہے۔
مشروم کی دو اقسام Ganodrma Lucidumاور Trametes Versicolonصدیوں سے دواؤں کی تیاری میں استعمال ہو رہی ہیں۔ مشروم کو مختلف معاشروں میں مختلف طریقوں سے استعمال کیا جاتا رہا ہے قدیم یونانی اسے ”خدا کی خوراک“ کہا کرتے تھے ان کا عقیدہ تھا کہ طوفان بادو باراں کے موقع پرسیارئہ عطارد سے زمین پر خاص روشنی آتی ہے جس سے مشروم اگتے ہیں مصرف اسے ”اوسیرس کا تحفہ“کہتے تھے جب کہ چینیوں کا خیال تھا کہ مشروم میں تمام بیماریوں کا علاج پایاجاتا ہے۔
تازہ ترین کیمیائی تجزیے سے معلوم ہوا ہے کہ مشروم کے عرق کی تطہیر سے جو کمپاؤنڈ حاصل ہوتا ہے اس کی تجارتی پیمانے پر خریدو فروخت ہونے لگی ہے، کیونکہ یہ ادویہ کی تیاری میں استعمال ہوتا ہے۔ Basidiomyceteمشرومز کی بہت سی اقسام حیاتیاتی سطح پر بہت فعال ہوتی ہیں اس میں ٹیومرز کی خلاف مدافعت کی خاصیت پائی جاتی ہے ادویہ کی تیاری میں استعمال کیلئے اگلے جانے والے مشرومزسرطان کے علاج کی ادویہ میں بھی استعمال کئے جاتے ہیں ہائی بلڈ پریشر، ذیابیطس (ایک اور دو) اور دیگر کئی بیماریوں کے علاج میں بھی یہ موٴثر ثابت ہوتے ہیں۔
مشروم کے غذائی اجزاء: تحقیق کے مطابق مشروم کے کیمیائی اجزاء کا تناسب کچھ اس طرح سے ہے۔ پروٹین 5فیصد، چکنائی 5فیصد، کاربو ہائیڈریٹس 5فیصد، کیلوریز 2فیصد، سوڈیم 2.6فیصد، پوٹم شیم 33فیصد، کیلشیم 18فیصد، میگنیشیم 2.18فیصد، کاپر 18فیصد، آئرن 29فیصد، سلفر 9.6فیصد، کلورین 24فیصد۔
نبی کریمﷺ کی تجویزکردہ دیگر ادویہ اور غذاؤں کے مانند اس میں سوڈیم کی مقدار کم سے کم اورپوٹاشیم کی زیادہ ہے۔ مشروم میں 30سے 40فیصد لحمیات، حیاتین اور نمکیات پائے جاتے ہیں عالمی ادرئہ صحت اور رائل کالج آف فزیشن انگلینڈ کی ٹیم کی ایک خوراک سے متعلق مستند رپورٹ کے مطابق مشروم میں 16فیصد امینو ایسڈ مختلف تناسب میں پائے جاتے ہیں حیاتین اور نمکیات بھی وافر مقدار میں پائے جاتے ہیں خصوصاً Bگروپ کے ساتھ D.A.Kاور فولک ایسڈ بھی موجود ہوتے ہیں اس میں موجودBکا گروپ گلو کوز یاتین اور میٹا بولزم خوراک کوجز و بدن بنانے کے لئے بہت ضروری ہے یہ بچوں میں پائے جانے والی بیماری ”ریکٹس“ جس میں ہڈیاں ٹیڑھی ہو جاتی ہیں کا قدرتی علاج ہے مشروم میں پائے جاننے والے نمکیات میں کیلشیم، پوٹاشیم، مینگنیز، فاسفورس اور فولاد خاص طور پر قابل ذکر ہیں۔
طبی فوائد: مشروم میں قدرتی طورپر بے شمار طبی فوائد پائے جاتے ہیں۔ رسول اکرمﷺ نے فرمایا کہ ”کھنبی ”من“ میں سے ہے اور اس کا پانی آنکھوں کی بیماریوں کے لئے شفا ہے جب کہ ”عجوہ“ کھجور جنت سے ہے اور وہ زہروں کے لئے تریاق ہے۔
“ حضرت ابوہریرہ کہتے ہیں کہ اس کے بعد میں نے تین، پانچ یا سات کھنبیاں لیں اور ان کاپانی نچوڑ کر ایک شیشی میں ڈال لیا پھر میں نے یہ پانی اپنی ایک لونڈی کی آنکھوں میں ڈالاجس کی آنکھیں چندھائی ہوئی تھیں اس پانی سے وہ شفا یاب ہو گئی۔
(ترمندی) یہ حدیث مشروم کے پانی سے آنکھوں کی بیماریوں سے شفا کی بہترین مثال ہے۔ مشروم کو آنکھوں میں ڈالنا قعیف بصارت اور سوزش کے لئے از حد مفید ہے اس کی تصدیق فاضل اطباء میں بو علی سینا نے کی ہے اور آنکھ کی متعدد بیماریوں میں مشروم کو اکسیرقرار دیا ہے مشروم کا رس نکال کر اور خاص کر اسے بند دیگچی میں ڈال کر بھوننے پر جو پانی اس میں سے نکلتا ہے آنکھ میں ٹپکانے سے آنکھ کاجالا کٹ جاتا ہے مشروم کے پانی میں سرمے کو گھول کر آنکھ میں لگایا جائے تو بصارت تیز ہوتی ہے۔
بعض اقسام میں مشروم کو سکھا کر، پیس کر کھانے سے اسہال رُک جاتے ہیں۔ مشروم حرارت کو مٹاتی، بلغم کوکم کرتی اور گاڑھا کرتی ہے مشروم کو سریش کے ساتھ کوٹ سرسکے میں حل کرکے بچوں کی بڑھتی ہوئی ناف پر لگانے سے ناف اندر چلی جاتی ہے ہرنیا کیلئے بھی یہی لیپ مفیدہے مشروم سے خون میں اضافہ ہوتا ہے اسے پیس کر بآسانی مند مل نہ ہونے والے زخموں پر لگائیں تو فائدہ ہوگا وید کے مطابق خشک مشروم سر پر ملنے سے بال آگ آتے ہیں مشروم پر تجربات کا سلسلہ جاری ہے جس کے تحت مشروم سے حاصل ہونے والے مرکبات سے علاج کاقوی امکان ہے کیونکہ مشروم میں جراثیم کش ادویہ کی موجودگی ثابت ہو چکی ہے اگر مشروم کوشہدکے ساتھ ملاکر کھایا جائے تو ٹائیفائیڈ اور دوسرے بخاروں میں مفید ہے تپ دق، پرانی کھانسی کے لئے بے حد مفید ہے جونک لگنے کے بعد زخم سے بہنے والا خون اس سے رُک جاتا ہے۔
مشروم کا جوہر Agaricsہومیو پیتھک طریقہ علاج کی ایک مقبول دوا ہے۔ سر کے بھاری پن میں اور خواتین کے بعض امراض میں مشروط مفید ہے۔ بالخصوص مشروم کا عرق بعض امراضِ نسواں میں بے حد فائدہ مند ہے کالی کھانسی، پیٹ کی آنتوں میں درد کی کیفیت میں مشروم کا عرق استعمال کرنا چاہئے جرمن اطباء کے مطابق Muscarineکے جسم پر اثرات کو ختم کرنے والی کوئی دوا نہیں ہوتی البتہ ابتدامیں پتہ چل جائے تو مریض کا معدہ دھو کر اسے جسم سے نکالا جا سکتا ہے۔
چین کے محققین کے مطابق مشروم دورانِ خون کی بہتری اور کولیسٹرول کی سطح کم رکھنے میں معاون ثابت ہوتی ہے۔ اس کے علاوہ گلٹیوں کے بڑھنے اور بعض بیماریوں کوپھیلانے والے وائرس کے خلاف قوتِ مدافعت بڑھاتی ہے ذہنی امراض میں بھی مشروم کے شفا بخش اجزاء مفید ہیں اس کے علاوہ مشروم خشک کرکے پیس کر کھانے سے پیچش میں فائدہ ہوتا ہے مشروم کو حلوے کے ساتھ پکا کر کھانے سے لاغر جسم فربہ ہوتا ہے شوگر اور کولیسٹرول کے لئے قدرتی علاج ہے بواسیر سے محفوظ رکھتا ہے یرقان اور شدید فلو کا موٴثر علاج ہے گردوں کی صفائی کے لئے کارآمد ہے تازہ مشروم اینٹی الرجک دوا کے طورپر پر مفید ہے ادویات میں مشکوم کا استعمال عام ہوتا جا رہا ہے جاپانی طریقہٴ علاج Moxa اسی کو پیش نظر رکھ کر ایجاد کیا گیا ہے۔
زہریلے مشروم: جہاں مشروم کے بے شمار فوائد ہیں وہیں اس کے مضر اثرات کو بھی نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔ جدید تحقیق کے مطابق مشروم کی زہریلی اقسام میں ایک زہر Muscarinہوتا ہے یہ زہر اعصابی نظام پر اثر انداز ہوتا ہے جس سے پٹھوں میں درد، اعضاء میں اینٹھن اور رشے کی مانند کپکپی ظاہر ہونے لگتی ہے اس کے بعد دماغی اثرات سے فالج اورتشنج ہو جاتا ہے ایک سے زائد مقدار میں مشروم کھانے اور علامات ظاہر ہونے کے باوجود احتیا ط نہ کی جائے تو موت واقع ہو جاتی ہے لیکن یہ اثرات صرف زہریلی مشروم میں پائے جاتے ہیں۔
مشروم کے زہریلے ہونے یا نہ ہونے کے بارے میں معلوم کرنے کے لئے ایک چھوٹا سا تجربہ بھی کیا جا سکتا ہے کہ دو تین مشروم اور دو تین لہسن کے جوے پانی میں ڈال کر ابال لیں اگر اگر پانی کا لایا براؤن رنگ کا ہو جائے تو سمجھ لیں کہ مشروم زہریلے ہیں وگرنہ پکا کر کھانے میں کوئی حرج نہیں ہے یہ طریقہ انتہائی سادہ اور آسان ہے اس کے مضر اثرات سے بچنے کے لئے زیتون کے تیل میں بھوننا زیادہ مفیدہے۔
مشروم کو استعمال کرنے سے پہلے انہیں اچھی طرح صاف ضرور کرلیں۔ خاص طورپر جنگلی مشروم مٹی میں لدھے ہوتے ہیں لہٰذا انہیں اگر تھوڑی دیر کے لئے پانی میں بھگو کر رکھ دیں اور پھر کچھ دیر بعد انہیں صاف کریں تو مشروم اچھی طرح سے صاف ہو جائیں گے جنگلی مشروم کو پانی میں بھگو کر صاف کرنا ضروری ہے پانی میں بھگونے کے بعد مشروم کو اچھی طرح سے خشک کرنا بھی ضروری ہے انہیں کبھی بھی بہت زیادہ دیر تک نہ بھگوئیں ورنہ یہ مرجھائیں جائیں گے۔
عام طور پر مشروم کوچھیلنا ضروری نہیں ہوتاصرف صاف کرلینا ہی کافی ہوتا ہے مشروم ایک ایسی خودروسبزی ہے جو کہ بہت زیادہ عام تو نہیں ہے مگر یہ جہاں جہاں پائی جاتی ہے لوگ اس سے خوب فائدہ حاصل کرتے ہیں ذائقے سے بھرپور مشروم مختلف کھانوں میں استعمال کی جاتی ہیں۔
مشروم کی غذائی اہمیت: مشروم ایک غذائیت سے بھرپور اور ذائقے دار سبزی ہے۔ زمانہ قدیم سے ہی لوگ اس سے استفادہ کرتے چلے آ رہے ہیں۔ مصری تہذیب میں مشروم نفیس ترین غذا کا درجہ رکھتی تھی اور شہنشاہوں اور صف اول کے امرا تک محدود تھی۔
روم میں مشروم کو دیوتاؤں کی خوراک تصور کیا جاتا تھا اہل ثروت تحفتاً اس کا باہمی تبادلہ کرتے اور یہ تحفہ کسی معززشخص کے ہاتھ بھیجا جاتا ادنیٰ درجے کے ملازم کے ہاتھ نہیں بھیجا جاتا تھا اس سے مشروم کی اہمیت کا اندازہ لگایا جا سکتا ہے مشرق بعید کے بیش تر ممالک میں مشروم روز مرہ غذا میں شامل ہیں۔
مشروم کی غذائی اہمیت مسلم ہے۔ زمانے اور وقت کی رفتار کے ساتھ جہاں اور بہت سی تبدیلیاں آئیں وہاں خواص کے ساتھ عوام کو بھی بعض چیزوں کے استعمال کے مواقع نصیب ہوئے۔ ان میں سے ایک مشروم بھی ہے۔ جب لوگوں کو احساس ہوا کہ مشروم غذائیت سے بھرپور فصل ہے تو وہ اس کی جانب متوجہ ہوئے اورحال یہ ہے کہ اب مشروم ا کثر کھانوں کا لازمی جُزبنتی جا رہی ہے۔
مشروم کو چاولوں کے ساتھ پکاکر پلاؤ بنا کر کھانا جسم میں توانائی کا باعث بنتا ہے۔م نہ تو سردی کی شدت میں پیدا ہوتی ہے اور نہ ہی یہ گرمی کاپودا ہے بلکہ یہ اس وقت نمو پاتی ہے جس موسم معتدل اور خوشگوار ہو خاص طور پر موسمی بارشوں کے دوران عرب کے لوگ اسے آسانی بجلی کی سبزی ”یعنی نبات الرد“ کا نام بھی دیتے آئے ہیں، کیونکہ یہ بجلی چمکنی اور مینہ برسنے کے بعد پیدا ہوتی ہے۔
عرب کی زمین پر اس کی پیداوار زیادہ ہے۔ عمدہ قسم کی مشروم وہی ہوتی ہے جو ریتلی زمین کی ہو جہاں پانی کم ہو۔ مشروم ایک مقبول غذا ہے۔ یورپی ہوٹلوں میں لوگ بڑے شوق سے مشروم سے بنے پکوان کھاتے ہیں۔ یہ دنیا کے چند مہنگے ترین پکوان میں سے ایک ہے۔
متعدد ملکوں میں اب کافی خوردنی کھنبیاں ڈبو میں بند ہو کر اسٹوروں پر آسانی سے مل جاتی ہیں کیونکہ ان میں ذائقے کے علاوہ لحمیات کی اضافی مقدار ان کو مفید بنا دیتی ہے چینی کھانوں میں مرغی اور مشروم، مرغی اور گائے کا گوشت یا مچھلی کے علاوہ مشروم کا پلاؤ بڑا مقبول ہے مشروم کو کچا بھی کھایا جاسکتا ہے اور پکا کر بھی اس کی سفید شکل کھانے میں بہتر ہے مشروم کا زراعت کے بغیر پیدا ہونا اس کی افادیت کا بہت بڑا ثبوت ہے کیونکہ ایسا کرکے اللہ تعالیٰ نے اپنی مخلوق کو اپنی طرف سے ایک بیش بہا تحفہ عطا کیا ہے اس لحاظ سے مشروم کا مفید ہونا ایک لازم امر ہے

(Visited 129 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT