معروف سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور بلاگر اسلام آباد میں قتل

معروف سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور بلاگر محمد بلال خان اسلام آباد میں قتل ،میڈیا رپورٹس کے مطابق معروف سوشل میڈیا ایکٹویسٹ اور دینی حوالے سے اپنی الگ اور منفرد شناخت رکھنے والے نوجوان بلاگر محمد بلال خان کو نامعلوم افراد نے بھارہ کہو اسلام آباد میں

گولیاں مار کر قتل کر دیا اور موقع سے فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے ،ذرائع کے مطابق نامعلوم قاتلوں نے محمد بلال خان کو فون کر کے گھر سے بلایا اور اندھا دھند فائرنگ کر کے قتل کر دیا ،محمد بلال خان کو شدید زخمی حالت میں پمز ہسپتال لایا گیا تاہم وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے چل بسے۔

بلال خان کی شہادت کے پیچھے کون؟

تمہیدی کلمات:

بلال خان کے ساتھ فیس بک پر میری ایک سے زیادہ بار جھڑپ ہوئی لیکن اس کے باوجود ہم دونوں نے کبھی بھی اختلافات کو ایک حد سے آگے بڑھنے نہ دیا۔ بلال ان چند بلاگرز میں سے ایک تھا جس کو باقاعدہ نام کے ساتھ ریفر کرتے ہوئے میں نے پوسٹس کیں۔ گزشتہ ڈیڑھ سال سے ہم دونوں کے درمیان باہمی عزت کا رشتہ استوار ہوا جو کہ اب کبھی بھی ختم نہیں ہوسکے گا۔ اللہ اسے جنت میں بلند ترین درجہ عطا فرمائے، آمین۔

قتل کی واردات:

اب تک کی ابتدائی رپورٹ اور شواہد کی روشنی میں مندرجہ ذیل نکات سامنے آچکے ہیں:

بلال کو قتل باقاعدہ منصوبہ بندی اور پلاننگ کے تحت کیا گیا، تاہم یہ منصوبہ بنانے والے نہ تو کوئی پروفیشنل لوگ تھے اور نہ ہی ٹارگٹ کلرز۔ زخموں کے نشانات کاروائی کا طریقہ کار بتاتا ہے کہ قاتل ناتجربہ کار اور خوف کا شکار تھے۔ اس لئے جو لوگ اسے ایجنسیوں کا کام کہہ رہے ہیں، وہ محض اپنی بغض نکال رہے ہیں۔ بلال جیسے لوگ ایجنسیوں کا اثاثہ تو ہوسکتے ہیں، نشانہ نہیں۔

قاتل کون ہو سکتا ہے، یہ جاننے کیلئے قتل کی وجہ تلاش کرنا ہوگی۔ امکانی طور مندرجہ ذیل نکات ذہن میں آتے ہیں:

1۔ بلال مذہبی حوالے سے مخصوص سوچ کا حامل تھا اور اس کا اظہار کرنے میں اس نے کبھی بھی تردد سے کام نہیں لیا۔ اس لئے ایک امکان تو مذہبی مخالفین کی طرف جاتا ہے۔ تاہم چونکہ یہ آرگنائزڈ کاروائی نہیں لگتی، اس لئے یہی کہا جاسکتا ہے کہ سوشل میڈیا پر موجود کسی انفرادی شخص کی کاروائی ہوسکتی ہے۔

2۔ دوسرا امکان سیاسی ہوسکتا ہے لیکن چونکہ بلال کے سیاسی نظریات اتنے شدت پسندانہ نہیں تھے اس لئے اس امکان کو ہم بآسانی رد کرسکتے ہیں۔

3۔ تیسرا امکان ذاتی دشمنی یا چپقلش ہوسکتی ہے، لیکن بلال کی ذاتی دشمنی بھی اس کے نظریات کے حوالے سے ہی ہوسکتی تھی، چنانچہ یہاں بھی مذہبی نقطہ ذہن میں رکھنا ہوگا۔

4۔ چوتھا امکان کاروباری یا خاندانی دشمنی کا ہوسکتا ہے۔ یہ امکان مضبوط نظر آتا ہے کیونکہ بلال کو جس نمبر سے کال آئی، اس شخص کو اس کا کزن بھی مبینہ طور پر جانتا تھا، یا پھر کم از کم اس کا کزن اس وجہ سے واقف تھا جو رات کے وقت اسے موٹرسائکل پر اسلام آباد کے ایک کونے تک لے گئی۔

5۔ پانچواں امکان جسے میں رد کرتا ہوں لیکن تحقیقاتی ایجنسیاں ضرور مدنظر رکھیں گی اور وہ ہے عشق یا رقابت۔ بلال ایک خوبصورت نوجوان تھا، اور یہ بات میں مان نہیں سکتا کہ اس کا کوئی افئیر یا عشق نہ ہو۔ البتہ یہ میں نہیں کہوں گا کہ وہ کردار کا کمزور تھا، لیکن عشق اور چیز ہے اور کردار کی کمزوری دوسری چیز۔ یہ امکان پولیس کو سامنے ضرور رکھنا ہوگا تاکہ کسی بھی حوالے سے تفتیش ادھوری نہ رہے۔

آخر میں یہی کہوں گا کہ اس ملک میں ہر طبقہ اپنی انجمن یا یونین بنا کر اپنے آپ کو تحفظ دینے کی کوشش کرتا ہے، تاجروں سے لے کر مزدوروں تک، ڈاکٹروں سے لے کر صحافیوں تک، سب کی تنظیمیں موجود ہیں ۔ ۔ ۔ لیکن گزشتہ چند برسوں سے ایک نیا طبقہ سامنے آیا ہے جو اپنے آپ کو سوشل میڈیا بلاگر یا ایکٹیویسٹ کہلاتا ہے ۔ ۔ ۔ یہ وہ طبقہ ہے جو اپنی جان جوکھوں میں ڈال کر بغیر کسی طمع یا لالچ کے، اپنے نظریات کی روشنی میں عام لوگوں تک اپنے خیالات پہنچاتا ہے، انہیں حقائق سے آگاہ کرنے کی کوشش کرتا ہے، انہیں اپنے تجزیات کی مدد سے نتائج اخذ کرنے میں مدد دیتا ہے ۔ ۔ ۔ لیکن اس بلاگر طبقے کی نہ تو کوئی تنظیم ہے اور نہ ہی یونین۔ نہ تو اس کے تحفظ کیلئے صحافی کھڑے ہوں گے اور نہ ہی تاجر یا وکلا۔

بلاگرز نے جو کچھ بھی کرنا ہے، اپنی جان ہتھیلی پر رکھ کر کرنا ہے ۔ ۔ ۔ اس حوالے سے پاکستان کا سب سے نڈر اور جرات مند طبقہ یہی ہے۔

بلال شہید سمیت تمام بلاگرز کو سلام ۔ ۔ ۔ اپنی حفاظت خود کریں لیکن حق بات پر ڈٹے رہیں ۔ ۔ ۔ مرنا ہر ایک نے ہے، لیکن بلال جیسی موت کے بعد امر کوئی کوئی ہی ہوتا ہے!!! بقلم خود باباکوڈا

محمد بلال کی آخری ٹویٹ

(Visited 297 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT