مودی کے جعلی ہسپتال میں جعلی زخمی فوجیوں سے ملاقات میں اداکاری کے جوہر

بھارتی وزیراعظم بھی فنکار، نریندر مودی جعلی ہسپتال میں جعلی زخمی فوجیوں سے ملاقات میں اداکاری کے جوہر دکھاتے رہے

نریندر مودی ڈرامے بازیوں اور اداکاریوں میں دیگر ممالک کے کئی سیاست دانوں کو پیچھے چھوڑ چکے ہیں۔ گزشتہ روز بھارتی حکومت کی جانب سے بتایا گیا کہ مودی وادی گلوان میں زخمی فوجیوں سے ملاقات کرکے بھاشن جھاڑ کر آئے ہیں۔

مگر ایسا کرنا ناممکن تھا کیونکہ اگر مودی جی گلوان میں موجود زخمی بھارتی فوجیوں کو ملتے تو اس سے زخمی فوجیوں کی اصل تعداد سامنے آ جاتی کیونکہ وہاں زخمی ہونے والے فوجیوں کی تعداد 50 کے قریب ہے اور ویسے بھی ان فوجیوں کی حالت دیکھنے لائق تھے بھی نہیں۔

چینی فوجیوں نے کسی کا منہ توڑ دیا ہے تو کسی کی ٹانگ ٹوٹی ہوئی ہے ایسے میں اگر مودی ان فوجیوں سے ملنے جاتے تو وہ رو رو کر برا حال کر دیتے۔

اس لیے اداکاری کا پلان بنایا گیا اور مودی جی گلوان وادی سے سیکڑوں کلومیٹر دور آرمی بیس کیمپ پر جا کر کسی پرانی بی گریڈ بھارتی فلم کے ولن کی طرح چلتے پھرتے نظر آئے اور بھارتی عوام بھی خوش ہو گئے کہ مودی جی لداخ پہنچ گئے ہیں۔

اصل میں مودی جی کی یہ فنکاری الٹا جگ ہنسائی کا باعث بن گئی ہے کیونکہ جعلی فوجی زخمیوں سے ملاقات کی جو تصاویر سامنے آئی ہیں وہ کسی ہسپتال کی نہیں بلکہ ایک کانفرنس روم کی ہیں جہاں عقبی مناظر میں ملٹی میڈیا اور باقی سامان پر سفید چادر نظر آ رہی ہے۔

اور یہ ایک ایسا ہسپتال تھا جہاں زخمیوں کے لیے نہ تو کوئی ڈرپ نہ ہی کسی زخمی کو کوئی پٹی اور نہ ہی ان بہادر اداکاروں کے علاج کے لیے کوئی ڈاکٹر یا نرس موجود تھی۔

پٹی ہوتی بھی تو کیوں آخر ان میں سے کوئی زخمی تھا ہی نہیں وہ تو بیچارے جس طرح حکم ملا بت بن کر بیٹھے رہے اور مودی جی مائیکروفون لگا کر ان سے گفتگو کر کے چلتے بنے۔

دراصل اس کانفرنس روم میں ہسپتال سے صرف بیڈز لائے گئے تھے باقی تندرست فوجیوں کو بٹھا کر مودی جی کا ٹیبلو ہٹ کرانے کی کوشش کی گئی ہے۔مودی جی کی اس حرکت پر بھارتی سوشل میڈیا صارفین نے ہی اس دورے کا پوسٹ مارٹم کر دیا ہے۔

ٹوئٹر پر سنگرام ستپاٹھی نامی صارف نے لکھا کہ میری آرمی کے پیارے جوانوں مجھے شرمندگی ہے کہ نریندر مودی کی خوشی اور سیاسی تھیٹر کی خاطر آپ سب کو اس طرح کرنا پڑا۔ اس نے کہا کہ میں سمجھ سکتا ہوں کہ آپ نے قربانیاں دی ہیں اور اس ڈرامے میں ساتھ دینے کی مجبوری بھی سمجھ میں آتی ہے۔

اس نے مزید لکھا کہ ہسپتال میں کانفرنس کی صدارت والی کرسی کی کیاضرورت تھی؟ کیا مودی اپنی سیاسی شعبدہ بازی کے لیے اتنا گر گئے کہ اپنی فوج کو بھی استعمال کرنے سے نہیں کترائے؟

(Visited 74 times, 1 visits today)

Also Watch