مولانا سمیع الحق کا سانحہ ارتحال – ابتسام الہی ظہیر

2 نومبر کا دن اپنے جلومیں ایک بہت ہی افسوسناک خبر کو لیے ہوئے آیا کہ ملک کے بااثر اور نمایاں مذہبی رہنما دفاع پاکستان کونسل اور جمعیت علمائے اسلام کے سربراہ مولانا سمیع الحق کو قاتلانہ حملہ کرکے شہید کر دیا گیا۔ مولانا سمیع الحق نے اس اعتبار سے بڑی شاندار زندگی گزاری کہ آپ پوری زندگی دینی تحریکوں سے وابستہ رہے۔ آپ نے جامعہ حقانیہ میں طویل عرصے تک حدیث کی تدریس کا فریضہ بھی انجام دیا۔ ہر سال آپ سے طالب علموں کی ایک بڑی تعداد دینی علم حاصل کرتی رہی۔ جامع حقانیہ کی سالانہ تقریب تقسیم اسناد میں ہزاروں افراد شرکت کرتے اور مولانا کی تقریر سے استفادہ کرتے۔مولانا سمیع الحق ملکی معاملات کو دین سے ہم آہنگ کرنے کے لیے ہمہ وقت متحرک‘ بے تاب اور برقرا ر رہے۔ مجھے مولانا سمیع الحق کو بہت قریب سے دیکھنے کا بھی اتفاق ہوا۔ علامہ احسان الٰہی ظہیر کے ساتھ دوستانہ اور گرمجوش تعلقات کے سبب مولانا سمیع الحق میرے ساتھ ہمیشہ شفقت والا برتاؤ کرتے رہے ۔لاہور میں کئی مرتبہ وہ میرے زیر نگرانی چلنے والے مرکز قرآن وسنہ میں بھی تشریف لائے اور مجھے بھی کئی مرتبہ ان کے پاس اکوڑہ خٹک جانے کا موقع ملا۔ مولانا انتہائی ملنسار‘ متواضع‘ مہمان نواز‘ خوش اخلاق اور دورنگی سے پاک انسان تھے‘ جو بات آپ کے دل میں ہوتی‘ اسی کو زبان سے بھی ادا کر دیا کرتے تھے۔ اس حوالے سے آپ کو نہ تو کسی ملامت کرنے والے کی ملامت کی پروا ہوتی اور نہ ہی آپ کسی خوشامد کرنے والے کی خوشامد سے متاثر ہوتے۔
مولانا سمیع الحق اسلامی جمہوری اتحاد کے بھی فعال رہنما تھے اور آپ نے اس پلیٹ فارم سے پیپلز پارٹی کا سیاسی زور توڑنے میں نمایاں کردار ادا کیا۔آپ ایک طویل عرصے تک سینٹ میں بھی جمعیت علمائے اسلام اور دینی جماعتوں کے نمائندے کی حیثیت سے کام کرتے رہے۔ مولانا کی زندگی پر اگر نگاہ ڈالی جائے‘ تو اس بات کو سمجھنا کچھ مشکل نہیں کہ مولانا ملک میں اسلامی اقدارکو فروغ دینا چاہتے تھے اور سیاسی اعتبار سے بھی اسلام کی سربلندی کے خواہاں تھے۔ مولانا سمیع الحق نے اپنی پوری زندگی میں اسلام ‘آئین اور ریاست کے ساتھ والہانہ وابستگی کا اظہار کیا اور وہ اس حوالے سے کسی بھی قسم کے سمجھوتے پر آمادہ وتیار نہ ہوئے۔
مولانا سمیع الحق کی سیاست روایتی دنیا داروں کی سیاست نہ تھی‘ بلکہ آپ ہمیشہ نظریے کو فوقیت دیتے رہے۔ آپ نے طویل عرصے تک دفاع پاکستان کونسل کی بھی قیادت کی اور اس پلیٹ فارم کے ذریعے پاکستان کی نظریاتی اور جغرافیائی سرحدوں کی حفاظت کا فریضہ نہایت احسن طریقے سے انجام دیا۔کشمیریوں پر ہونے والے مظالم ‘ آبی جارحیت اور انڈیا کی پاکستان کے خلاف سازشوں کے خلاف ساری زندگی سینہ سپر رہے۔ مولانا سمیع الحق نے نیٹو سپلائی کی بندش کے لیے بھی ملک کے طول وعر ض میں بہت بڑے بڑے پروگراموں کا انعقاد کیا۔ ان جلسوں میں مولانا کا کلیدی خطاب سننے سے تعلق رکھتا تھا۔ میں نے مینار پاکستان لاہور‘ جناح پارک کراچی‘ اسلام آباد اور دیگر بہت سے پروگراموں میں مولانا کے ہمراہ شرکت کی۔ مولانا کے خطاب میں دلائل کے ساتھ ساتھ جوش اور جذبے کے اثرات بھی نمایاں ہوتے تھے۔ اور آپ اپنے خطاب میں قرآن مجید کی آیات اور احادیث کے متون کے ساتھ ساتھ مستند ترین حوالہ جات کو بھی پیش کیا کرتے تھے۔
مولانا سمیع الحق کی مدلل اور جذباتی گفتگو سے نوجوانوں میں بیداری کی ایک نئی لہر اور تحریک پیدا ہوتی تھی۔ مولانا نے اپنی زندگی کے آخری حصے میںدفاع پاکستان کونسل کے پلیٹ فارم پر متحر ک رہے‘ اس کے علاوہ میں نے انہیںتین مواقع پر انتہائی سرگرم دیکھا۔
1 ۔ جس وقت ممتاز قادری کو پھانسی دی گئی‘ تو مولانا نے اس حوالے سے شدید ردعمل کا اظہار کیا اور اس پھانسی کی شدید انداز میں مذمت کی۔ آپ کا یہ گمان تھا کہ ممتاز قادری کی پھانسی کے نتیجے میں ملک میں مذہبی اور غیر مذہبی تفریق میں اضافہ ہو گا۔
2۔مسلم لیگ کے دور حکومت میں پنجاب اسمبلی میں پیش کیے جانے والے وومن پروٹکشن بل کیخلاف پر بھی مولانا نے بھرپور انداز میں سٹینڈ لیا اور ا س بل کو اسلامی اقدار کے خلاف ہونے کی وجہ سے شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔
3۔ مولانا نے شق 62,63 کے حوالے سے مسلم لیگ کے موقف کو قطعی طور پر قبول نہ کیا اور شق 62,63 کی بحالی کے مطالبے پر شدت سے کاربند رہے۔ آپ ان شقوں میں تبدیلی کو پاکستان کی آئینی بنیاد سے متصادم قرار دیتے رہے۔آپ نے اس حوالے سے اسلام آباد میں ایک آل پارٹی کانفرنس کو بھی طلب کیا‘جس میں مختلف دینی اور رہنماؤں کے ہمراہ مجھے بھی شرکت کا موقع ملا۔ اس کانفرنس کے شرکاء نے بھرپور انداز میں مولانا کے مطالبے کی حمایت کی۔ یوں مولانا کے مطالبے کو سیاسی اور مذہبی حلقوں میں بہت زیادہ پزیرائی حاصل ہوئی۔مولانا نے بھرپور نظریاتی زندگی گزاری یہاں تک کہ مولانا نے اپنی زندگی کی آخری تقریر میں بھی مسئلہ حرمت رسول اللہﷺ کو پوری طرح اجاگر کیا اور سپریم کورٹ کے حالیہ فیصلے شدید تشویش کا اظہار کیا۔
مولانا سمیع الحق کی نجی زندگی میں پائی جانے والی سادگی اور تواضع ہر اعتبار سے قابل تعریف تھی۔ مولانا سے ایک مرتبہ میری ملاقات مکہ مکرمہ میں بھی ہوئی۔ میں نے مولانا کو حرم کے باہر بڑی عاجزی اور یکسوئی کے ساتھ اللہ تبارک وتعالیٰ کی بارگاہ میں متوجہ دیکھا۔ اس موقع پر مولانا بڑی گرم جوشی سے پیش آئے اور آپ نے روایتی شفقت اور تبسم کا مظاہرہ کیا۔ مولانا نجی مجالس میں اپنی ماضی کی بہت سی یادوں کو بڑے خوشگوار انداز میں پیش بھی کیا کرتے تھے۔ مولانا کے تجربات کو سن کو انسان کو اندازہ ہوتا ہے کہ مولانا حقیقت میں ایک نظریاتی انسان ہیں۔ مجھے مولانا کے ہمراہ ایک سیاسی اتحاد ”متحدہ دینی محاذ ‘‘میں بھی کام کا موقع ملا۔ ان ایام میں بھی میں نے مولانا کو اقتدار کی سیاست کی بجائے نظریاتی سیاست کا خورگر پایا۔ مولانا نے اپنی پوری زندگی جس انداز میں گزاری اور جس سادگی سے اپنے معاشی معاملات کو چلاتے رہے اس کی مثال ملنا مشکل ہے۔ یقینا آپ کی زندگی دین کے ساتھ محبت اور قربانی اور ایثار پر مبنی طرز عمل کی آئینہ دار تھی۔ مولانا نے خود ایک مرتبہ مجھ سے نجی مجلس اس بات کا اظہار بھی کیا کہ میں معاشی اور کاروباری مصروفیات میں اپنی جوانی ہی کے ایام سے سرگرم نہیں رہا اور میں نے اپنی زندگی کا زیادہ حصہ دینی ‘تدریسی اور تنظیمی معاملات میں ہی گزارا ہے۔
مولانا سمیع الحق قاضی حسین احمدکے بعد ان بزرگوں میں شامل تھے‘ جنہوں نے میرے ساتھ انتہائی شفقت والا رویہ اپنایا اور مختلف آل پارٹیز کانفرنسز میں بھی میری تقاریر پر بڑی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ مولانا سمیع الحق کے چاہنے والوں دائیں اور بائیں بازو کے افراد کی بڑی تعداد شامل تھی۔ مولانا سمیع الحق ہر کسی سامنے بے لاگ اور مؤثر انداز میںبغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے مؤقف کا بروقت اظہار کر دیا کرتے تھے۔ مولانا سمیع الحق کی صاف گوئی اور دو ٹوک انداز یقینا ہر اعتبار سے قابل تحسین ہے اور آپ کی وفات سے پیدا ہونے والا خلاء شاید ایک طویل عرصے تک پورا نہ ہو سکے۔مولانا سمیع الحق مرحوم کی وفات کے ساتھ پاکستان کی سیاست میں طویل عرصے تک فعال رہنے والے اور ہر موقع پر مذہبی طبقوں کی نمائندگی کرنے والے ایک عظیم رہنما کی کمی واقع ہو چکی ہے۔ مولانا کی اولاد بھی مولانا کے نقش قدم پر چل رہی ہے اور توقع کی جا سکتی ہے کہ مولانا کے فرزند آنے والے ماہ وسال میں مولانا کی فکر اور بصیرت کو مد نظر رکھتے ہوئے ان کے طرز عمل کو اجاگر کرنے کے لیے اپنا کردار ادا کریں گے۔
مولانا سمیع الحق قاضی حسین احمدکے بعد ان بزرگوں میں شامل تھے‘ جنہوں نے میرے ساتھ انتہائی شفقت والا رویہ اپنایا اور مختلف آل پارٹیز کانفرنسز میں بھی میری تقاریر پر بڑی حوصلہ افزائی کیا کرتے تھے۔ مولانا سمیع الحق کے چاہنے والوں دائیں اور بائیں بازو کے افراد کی بڑی تعداد شامل تھی۔مولانا سمیع الحق ہر کسی کے سامنے بے لاگ اور موثر انداز میںبغیر کسی ہچکچاہٹ کے اپنے مؤقف کا بروقت اظہار کر دیا کرتے تھے۔

Loading...
(Visited 39 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT