مکہ اور مدینہ جیسے مقدس مقامات کی صفائی سعودی شہری کیوں نہیں کرتے؟

مکہ اور مسجد نبوی مسلمانوں کے نزدیک دنیا کے سب سے زیادہ مقدس مقامات ہیں۔ دنیا بھر سے ہر سال قریب پندرہ ملین مسلمان ان مقامات کا رخ کرتے ہیں۔
حرم کے گرد و نواح میں چودہ ہزار کے لگ بھگ باتھ رومز ہیں جنہیں روزانہ کم از کم چار مرتبہ دھویا جاتا ہے۔

مطاف، جہاں خانہ کعبہ کے گرد طواف کیا جاتا ہے، وہاں عام دنوں میں ایک گھنٹے میں اٹھائیس ہزار لوگ طواف کرتے ہیں جب کہ خاص مواقعوں پر یہ تعداد چالیس ہزار تک پہنچ جاتی ہے۔ اس اعتبار سے دیکھا جائے تو یہاں ایک مربع میٹر میں چار بندے اکٹھے ہوتے ہیں جب کہ سیزن کے دوران ایک مربع میٹر میں چھ بندے اکٹھے ہوتے ہیں۔ ایسے میں مطاف کی صفائی ستھرائی کافی مشکل ہوتا ہے لیکن پھر بھی مطاف کو روزانہ پانچ مرتبہ ڈیٹرجنٹ سے دھویا جاتا ہے کیونکہ عبادت کی جگہ کا صاف ہونا ضروری ہے۔

سعودی حکومت نے اس احاطے کی صفائی کے لیے قریب ستائیس سو افراد تعینات کر رکھے ہیں۔ تین سو سے زائد کنٹرولر اور سو سے زائد منتظم صفائی کے عمل کی نگرانی کرتے ہیں جن میں سے زیادہ تر عرب ہیں۔ تاہم تمام صفائی کرنے والوں کا تعلق پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار جیسے ممالک سے ہے۔

صفائی کرنے والوں کی تنخواہ اور تمام الاؤنس ملا کر بمشکل پچاس ہزار پاکستانی روپے بنتی ہے۔ پاکستان، بھارت، بنگلہ دیش، نیپال اور میانمار سے تعلق رکھنے والے صفائی کرنے والے یہ ملازمین عام طور پر دو یا تین سال بعد ہی چھٹیوں پر اپنے ممالک جا پاتے ہیں کیوں کہ چھٹیوں میں انہیں تنخواہ نہیں دی جاتی۔

بھارتی صوبہ راجھستان سے تعلق رکھنے والے ایسے ہی ایک چوبیس سالہ ورکر نے نام ظاہر نہ کرنے کے شرط پر ڈی ڈبلیو کو بتایا کہ وہ گزشتہ آٹھ برسوں سے یہاں کام کر رہا ہے اور وہ صرف تین مرتبہ اپنے ملک گیا ہے، ’’گھر والوں اور بیٹی سے فون پر روزانہ نہیں تو دوسرے دن بات کرتا ہوں۔ گھر والوں کو ممکن ہے میرے فون کرنے سے اور تنخواہ بھیجنے سے تسلی ہوتی ہو لیکن فون کرنے کے بعد بےچینی سی محسوس ہوتی ہے کہ کاش میں بھی گھر میں ہوتا۔ لیکن خرچہ چلانے کے لیے کام تو کرنا ہوگا، یہاں نہیں تو کہیں اور تو پھر اس سے اچھی جگہ کہاں ہے۔‘‘

زیادہ تر ورکرز خود کو درپیش مسائل یا سہولیات اور کم تنخواہ جیسے معاملات پر بات کرنے سے گریزاں دکھائی دیے۔ ان کے نزدیک اس احاطے میں حکومتی جاسوسوں کی تعداد بہت زیادہ ہے، اس لیے وہ کھل کر اظہار رائے سے کتراتے ہیں۔

یہ امر بھی اہم ہے کہ مقدس مقامات کی صفائی پر مامور یہ لوگ خانہ کعبہ کی دیواروں۔ مقام ابراہیم اور حجر اسود کی صفائی نہیں کرتے۔ ان مقامات کی صفائی خاص دنوں میں کی جاتی ہے جو عرب خود کرتے ہیں۔ سوشل میڈیا پر مسجد الحرام کی صفائی کی ایسی ہی ویڈیوز پوسٹ کی جاتی ہیں۔

مارچ 2011 میں جب مکہ میں صفائی کرنے والوں نے کم تنخواہ کے خلاف ہڑتال کی تھی۔ اس وقت وقت تو تنخواہ چند ریال بڑھا دی گئی تھی لیکن بعد میں ہڑتال کرنے والے زیادہ تر افراد کو سعودی عرب سے ان کے ممالک میں واپس بھیج دیا گیا تھا۔ اس واقعے کے بعد صفائی کرنے والے افراد ہڑتال یا احتجاج کرنے سے کترا رہے ہیں کیوں کہ اقامہ کے پیسے پورے کرنے کے لیے بہت کام کرنا ہوتا ہے۔

Source

(Visited 295 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT