نواز شریف حق پرستی وہ نہیں جو آپ کو صرف تب تب یاد آئے جب جب آپ پر جبر ہو۔

نواز شریف… تمہیں یاد ہو کہ نہ یاد ہو!

ہاتھوں کی بھینچی گرہیں دانتوں سے کھولنی پڑتی ہیں جو بلاشبہ ایک مشکل کام ہے، اور اگر گرہوں کی تعداد زیادہ ہو تو دانتوںپسینہ آنا منطقی ہے۔ اول تو اس بات کا امکان ہی محدود ہوتا ہے کہ دانتوں پسینہ لانے کے باوجود گرہیں کھلنے پر رضامند ہو جائیں لیکن اگر ایسا ہو بھی جائے تو بقول میر

ہم بہت رنج و الم کہتے ہیں
تب کہیں جا کے غزل کہتے ہیں

حق کے راستے پر چلنا کسی پہاڑ پر چڑھنے کی طرح ہوتا ہے۔ ہر قدم اٹھانے کےلیے بہت ہمت کرنے، بہت جان لگانے اور بہت سی آزمائشوں سے گزرنے کی ضررت پڑتی ہے اور باطل کا راستہ کسی پہاڑ سے اترنے سے مماثل ہوتا ہے۔ آپ ایک قدم اٹھائیں تو دوسرا اور تیسرا خود ہی اٹھ جاتا ہے۔ اب اگر کوئی شخص بیک وقت دونوں راستوں پر چلنے کی خواہش رکھتا ہو تو اس کی زندگی دوچار قدم آگے اور دو چار قدم پیچھے ہونے ہی میں صرف ہو جاتی ہے۔ نہ تو اس کا سفر طے ہو پاتا ہے اور نہ ہی وہ منزل پر پہنچ پاتا ہے۔ نہ ہی باطل کی پستیاں اس کا مقدر ٹھہرتی ہیں اور نہ ہی حق کا اوج اس کا نصیب ہوتا ہے۔ یعنی

نہ خدا ہی ملا نہ وصال صنم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے
رہے دل میں ہمارے یہ رنج و الم، نہ ادھر کے ہوئے نہ ادھر کے ہوئے

پاکستان کے ایک سابق وزیراعظم کی زندگی پر نظر ڈالیں تو بھی کچھ ایسی ہی صورتحال دکھائی دیتی ہے۔ فی زمانہ انہیں اپنے ہی ہاتھوں سے بھینچی گرہیں دانتوں سے کھولنا پڑ رہی ہیں۔ وہ دو قدم آگے جاتے ہیں تو چار قدم پیچھے چلے جاتے ہیں۔ انہیں اگر کسی نادیدہ قوت نے وزیر خزانہ یا وزیر اعلیٰ، اپوزیشن لیڈر یا وزیراعظم، بھاری مینڈیٹ والا وزیراعظم بنایا یا انہیں کسی ایسے صوبے میں بھی حکومت دے دی جس میں وہ اکثریت میں نہیں تھے تو انہوں نے کبھی کوئی اعتراض نہ کیا، اور اس ’’زبردستی‘‘ ملنے والی حکومت یا منصب کے خلاف ریگل چوک سے لے کر تین تلوار تک اور اسلام آباد سے لے کر راولپنڈی تک کبھی کسی علاقے میں احتجاج بھی نہ کیا۔

97ء کا جعلی ’’بھاری مینڈیٹ‘‘ ہو یا 2013ء میں بلوچستان میں ملنے والی جعلی اکثریت، انہوں نے ایسی کسی ناانصافی کے خلاف کبھی کوئی آواز ہی نہ اٹھائی۔ بلوچ لاپتہ ہوئے یا ہزارہ ٹارگٹ کلنگ کا شکار یا پختون بیگناہ مارے جاتے رہے، یا مشاہد اللہ، پرویز رشید، طارق فاطمی اور راؤ تحسین جیسے لوگ برطرف ہوتے رہے؛ لیکن سابق وزیر اعظم کے کان پر جوں تک نہ رینگی۔ انہیں مطلق کوئی دکھ نہ ہوا۔ الٹا زرداری کے خلاف وہ خود کالا کوٹ پہن کر میمو گیٹ اسکینڈل لے کر عدالت پہنچے۔ آصف زرداری کو سیف الرحمٰن کے حوالے کیا۔ ضیاء کے ہاتھوں جونیجو کی برطرفی پر اپنی جماعت کے وزیر اعظم کو اس کے حال پر چھوڑ کر وزیر اعلیٰ پنجاب بنے رہنا قبول کیا۔ بی بی شہید کی حکومتوں کے خلاف اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ مل کر ساز باز کرتے رہے اور انہیں ایک بار بھی اپنی مدت پوری نہ کرنے دی۔ اور تو اور، یہ سوچ کر آصف زرداری سے ملنے سے انکار کر دیا کہ کہیں کوئی برا نہ مان جائے۔ مشرف تک کو بینظیر بھٹو، اکبر بگٹی اور سانحہ لال مسجد و بغاوتوں کے مقدمات میں ملوث ہونے کے باوجود باہر فرار ہونے کی اجازت دے ڈالی؛ صرف اور صرف اپنا اقتدار بچانے یا اقتدار حاصل کرنے کی غرض سے۔ لیکن جب جب جبر کا شکار ہونے کی ان کی اپنی باری آئی تو انہوں نے جھٹ اصولوں کے دامن طیب میں پناہ لینے کی ٹھان لی۔

93ء میں بولے: ’میں ڈکٹیشن نہیں لوں گا، میں ہارس ٹریڈنگ نہیں کروں گا‘ اور ضیاء، جیلانی، حمید گل سے لے کر چھانگا مانگا تک سب کچھ بھول گئے۔ 99ء میں بولے: ’عوام نے مجھے بھاری مینڈیٹ دیا ہے، کسی کو اجازت نہیں ہونی چاہئے کہ وہ عوام کے مینڈیٹ کی توہین کرے‘ اور یہ بھول گئے کہ یہ بھاری مینڈیٹ انہیں ملا کس طرح تھا! آج پوچھ رہے ہیں: ’مجھے کیوں نکالا‘ اور نعرے لگا رہے ہیں ’ووٹ کو عزت دو‘ اور یہ بھول چکے ہیں کہ یوسف رضا گیلانی اور آصف زرداری اور ان سے قبل بینظیر کو ملنے والے ووٹوں کی یہ خود کتنی عزت کرتے رہے ہیں۔ اور یہ بھی فرما رہے ہیں کہ: ’70ء سال سے جو کچھ ہو رہا ہے، اسے بدلنے کی کوشش کرنے کی ہمیں سزا دی جا رہی ہے‘ مگر وہ یہ بھول چکے ہیں کہ اس کے نہ بدلے جانے میں خود ان کا اپنا کتنا ہاتھ ہے۔

ابھی محض چند ہی ماہ قبل پرویز رشید، مشاہد اللہ، طارق فاطمی اور راؤ تحسین کو ان کی منظوری و حکم سے نکالا گیا اور ان پر یہ پابندی بھی لگا دی گئی کہ وہ نہیں پوچھیں گے کہ کیوں نکالا؟ پرویز رشید نے خود سینیٹ میں آ کر کہا: ’قیادت کے حکم کی وجہ سےخاموش ہوں‘۔ اپنا اقتدار کھو جانے کے خوف سے ہی انہوں نے مشرف کو باہر جانے کی اجازت دی۔ اور نہ جانے کیا کیا کرتے رہے!

وائے دیوانگیِ شوق کہ ہر دم مجھ کو
آپ جانا ادھر اور آپ ہی حیراں ہونا

اور یہ بھی کہ

الجھا ہے پاؤں یار کا زلف دراز میں
لو آپ اپنے دام میں صیاد آ گیا

گزارش صرف اتنی ہے کہ حق پرستی وہ نہیں جو آپ کو صرف تب تب یاد آئے جب جب آپ پر جبر ہو۔ حق پرستی یہ ہے کہ آپ ہمیشہ اور ہر حال میں حق کے ساتھ کھڑے ہوں، چاہے جبر کا ہدف آپ کا دشمن ہی کیوں نہ ہو۔ یاد کریں میاں صاحب! آپ (تقریباً) ہمیشہ سے ن لیگی اور اعتزاز احسن ہمیشہ سے جیالے ہیں، لیکن جب آپ نے انہیں پکارا اور انہوں نے آپ کو حق پر پایا تو وہ آپ کی وکالت کرنے پر رضامند ہو گئے، یہ جانتے بوجھتے ہوئے کہ آپ نے ان کی لیڈر اور اس کے شوہر کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا۔ میمو کیس میں عاصمہ جہانگیر حسین حقانی کی وکیل تھیں، کیونکہ تب آپ غلط تھے۔

لیکن نااہلی کے بعد وہ آپ کے ساتھ تھیں، کیونکہ اب آپ مظلوم تھے۔ آپ کے سیف الرحمٰن نے آصف زرداری کے ساتھ کیا کیا نہیں کیا، لیکن دھرنے کے دوران آپ کا اقتدار بچا تو صرف آصف زرداری کی وجہ سے۔ اٹھارویں ترمیم کے وقت رضا ربانی اور جاوید ہاشمی نے آپ کو بار بار سمجھایا کہ باسٹھ تریسٹھ کو ختم کر دیں، لیکن اس وقت آپ کا خیال تھا کہ آپ حسب ضرورت اس پھندے کو اپنے دشمنوں کی گردن میں ڈالیں گے۔ لیکن آج جب آپ خود اسی پھندے میں پھنس چکے ہیں تو آپ کہتے ہیں کہ ’’اسمبلی کو عوام کے ووٹ کی بے حرمتی کا راستہ روکنا ہو گا‘‘ سبحان اللہ!

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں
ضروری بات کہنی ہو کوئی وعدہ نبھانا ہو
اسے آواز دینی ہو اسے واپس بلانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
مدد کرنی ہو اس کی، یار کی ڈھارس بندھانا ہو
بہت دیرینہ رستوں پر کسی سے ملنے جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
بدلتے موسموں کی سیر میں دل کو لگانا ہو
کسی کو یاد رکھنا ہو کسی کو بھول جانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں
کسی کو موت سے پہلے کسی غم سے بچانا ہو
حقیقت اور تھی کچھ، اس کو جا کے یہ بتانا ہو

ہمیشہ دیر کر دیتا ہوں میں ہر کام کرنے میں…

https://www.express.pk/story/1234994/464/

(Visited 24 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT