نکاح حلالہ: اسلام کی رسوائی کا ایک سبب

ب جبکہ تین طلاق کا مسئلہ کافی واضح ہو چکا ہے حلالہ کے تصور پر اب بھی لوگ غلط فہمی کا شکار ہیں۔ یہ بات حیران کن ہے کہ مسلمان حلالہ کو اپنے غیر اخلاقی امور کی تسکین کا ایک ذریعہ بناتے ہیں۔

اسلام میں ‘حلالہ’ ایک اصطلاح ہے جس کا مادہ ‘حلال’ ہے اور اس سے مراد جائز اور ‘حلال’ اموار ہیں۔ لہٰذا شادی کے تناظر میں اس کا مطلب یہ ہے کہ حلالہ ایک ایسا عمل ہے جس سے گزر کر ایک طلاق شدہ عورت اپنے شوہر کے لیے دوبارہ ‘حلال’ بن سکتی ہے۔

اسلام کا حکم یہ ہے کہ ایک مسلمان مرد کو طلاق دینے اور پھر دو بار اسی عورت سے شادی کرنے کی آزادی حاصل ہے۔ تاہم، اگر مرد تیسرا طلاق دے چکا ہے تو وہ دوباری اسی عورت سے صرف اسی صورت میں شادی کر سکتا ہے کہ اگر وہ عورت پہلے کسی دوسرے شخص سے شادی کرے اور اس کے بعد اس کا دوسرا شوہر بھی مر جائے یا اپنی مرضی سے اسے طلاق دیدے اس کے بعد ہی وہ عورت پہلے شوہر سے دووبارہ نکاح کر سکتی ہے۔

ایک بار جب عورت کو طلاق دیدیا جاتا ہے تو وہ اپنے شوہر پر حرام ہو جاتی ہے ۔یہ ایک انتہائی غلط عقیدہ ہے کہ اگر وہ پہلے خاوند سے دوبارہ شادی کرنا چاہتی ہے تو اسے کسی دوسرے شخص سے شادی کرنا ہوگی اور پھر اپنے سابق شوہر سے نکاح کرنے کے لئے اس سے اسے طلاق بھی لینا ہوگا۔ یہ ایک ایسا مسئلہ نہیں ہے کہ آپ اسے ایک مکمل جرم بنانے کے لئے کس طرح اس معاملے میں بحث کرتے ہیں یا اپنی دلیل پیش کرتے ہیں۔یہ ایک روحانی ارادے کا معاملہ ہے ۔یہ ایک ذات مطلق کے ساتھ کسی کے تعلق کا مسئلہ ہے۔ در اصل حلالہ ایک ایسی سہولت ہے جس سے عورت کو اپنے سابق شوہر کے ساتھ دوبارہ شادی کرنے کا موقع ملتا ہے، لیکن اس کے لئے شرط ہے کہ یہ پورا عمل فطری طور پر انجام پائے اور اس کے لئے پہلے سے کوئی منصوبہ نہ ہو۔ قرآن ایسا اصول پیش کرتے وقت اجنبی جوڑوں کے درمیان مقدر شدہ شادیوں کا تصور پیش کرتا ہے۔

آج جو بات کی جارہی ہے وہ طلاق کے اسلامی قانون کے ساتھ دجل کرنے کے لئے پہلے سے طے شدہ نکاح حلالہ کا معاملہ ہے۔

قرآن کا حکم ہے: “پھر اگر اس کو (تیسری بار) طلاق دے دے تو اب اس کے لئے حلال نہیں جب تک وه عورت اس کے سوا دوسرے سے نکاح نہ کرے، پھر اگر وه بھی طلاق دے دے تو ان دونوں کو میل جول کرلینے میں کوئی گناه نہیں بشرطیکہ یہ جان لیں کہ اللہ کی حدوں کو قائم رکھ سکیں گے، یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں جنہیں وه جاننے والوں کے لئے بیان فرما رہا ہے”(2:230)۔

ایک شخص کو دو مرتبہ علیحدہ طلاقوں کے بعد بھی اپنی بیوی سے رجوع کرنے کا حق حاصل ہے ، یہاں تک کہ اگر وہ تیسری مرتبہ بھی طلاق دے چکا ہے تو وہ اس کی عدت ختم ہونے سے پہلے اس سے رجوع کر سکتا ہے۔ لیکن اس کے بعد زوجین کے درمیان علیحدگی کو نہیں روکا جا سکتا۔ اس کے بعد وہ اپنی پسند کے کسی بھی دوسرے شخص سے شادی کرنے کے لئے آزاد ہے۔ اس کے بعد اگر زندگی کے عام معمولات میں ان دونوں کے درمیان کوئی ایسا تنازع واقع ہوتا ہے جس کے نتیجے میں دوسرے خاوند سے بھی اسے طلاق مل جائے تو پھر وہ اپنی مرضی کے کسی بھی شخص کے ساتھ شادی کرنے کے لئے آزاد ہوجاتی ہے، بشمول دوسرے شوہر اور پہلے شوہر کے بھی۔

یہاں قابل ذکر امر یہ ہے کہ حلالہ کی منصوبہ بندی نہیں کی جاسکتی ہے، کیونکہ طلاق کی نیت کے ساتھ دوسرے شوہر کے ساتھ نکاح جائز نہیں ہوگا۔ اگر وہ ایسا کرتی ہے تو دوسرے شوہر کے ساتھ اس کا تعلق ناجائز ہوگا اور پہلے شوہر کے ساتھ بھی یہی حکم ہے جس سے وہ پہلے سے طے شدہ حلالہ کے بعد نکاح کرنے آئی ہے امام سفیان ثوری فرماتے ہیں: “اگر کسی نے حلالہ کے لئے کسی عورت سے شادی کی اور اس کے بعد وہ اسے اپنی بیوی کے طور پر رکھنا چاہتا ہے، تو اسے اس کی اجازت نہیں ہے یہاں تک کہ وہ اس سے ایک تازہ نکاح نہ کر لے اس لئے کہ سابقہ نکاح ناجائز تھا۔ “( ترمذی)

شریعت کا غلط استعمال کرنے کے لئے اس مسخ شدہ تعبیر کا استعما کیا جاتا ہے جس کے قوانین اس کے بارے میں انتہائی سخت ہیں۔”

ظفر اقبال کلاناوری اپنی کتاب ‘‘Marriage, Divorce and Re-Marriage (Halala) in Islam’’ میں اس نظریہ کی وضاحت کرتے ہوئے لکھتے ہیں:

” اسلام میں حلالہ کا کوئی تصور نہیں ہے۔ بلکہ یہ کچھ مسلمانوں کے ذریعہ ایجاد کردہ شئی ہے اور بدقسمتی سے اب کچھ مسلمان اسے شریعت کا حصہ سمجھتے ہیں ۔ قرآن کریم کا حکم یہ ہے کہ اگر ایک شادی کے اندر کوئی مرد اپنی بیوی کو تین طلاق دے دیتا ہے تو اس کی زوجہ اس کے پاس واپس نہیں جا سکتی جب تک کہ وہ معمولاًکسی دوسرے مرد سے شادی نہ کرلے اور پھر وہ شخص بھی اسے طلاق دیدے۔ اس قانون میں پہلے سے طے کردہ شادی اور طلاق سے دخل اندازی نہیں کی جاسکتی۔ “

نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے حلالہ کو دین کے خلاف قرار دیا ، خلیفہ عمر نے اس پر رجم کی سزا کا تعین کیا اور خلیفہ عثمان غنی نے اسے نکاح کے (عہد) سے خالی قرار دیا۔

اس ضمن میں نبی صلی اللہ علیہ وآله وسلم کی دو حدیثیں قابل ذکر ہیں:

• حضرت علی سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا: اس شخص پر اللہ کی لعنت ہے جو کسی طلاق شدہ خاتون سے اسے اس کے سابقہ خاوند کے لئے حلال کرنے کے لئے شادی کرتا ہے اور اس پر بھی اللہ کی لعنت ہے جس کے لئے وہ حلال کی گئی ہے۔ ( سنن ابو داؤد ، کتاب 11، 2071-صحیح)

• حضرت ابن عباس سے مروی ہے کہ نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے محِلل (جو کسی طلاق شدہ خاتون سے اسے اس کے سابقہ خاوند کے لئے حلال کرنے کی نیت کے ساتھ شادی کرتا ہے) اور محَلل لہُ ( جس کے لئے وہ حلال کی گئی ہے۔) پر لعنت فرمائی۔ ( سنن ابن ماجہ، کتاب 9، حدیث 1934- صحیح)

آئین ہند کے آرٹیکل 25 میں مذہبی آزادی کی بات کی گئی ہے۔ اس کا آغاز ان الفاظ کے ساتھ ہوتا ہے، “اخلاقیات، صحت اور عوامی نظم و ضبط اور دیگر تمام بنیادی حقوق کا عنوان، لوگوں کو مذہب کی آزادی حاصل ہو گی۔” شرائط اور معیار پہلے ہیں اور اجازت بعد میں ہے۔

آرٹیکل میں یہ نہیں کہا گیا ہے کہ ہر شخص کو مذہب کی غیر محدود آزادی حاصل ہوگی یا وہ جسے آزادی تصور کرتے ہیں۔ یہ “عنوان ۔۔۔ ۔۔۔” کے لفظ کے ساتھ شروع ہوتا ہے اور دیگر احکامات کا مطلب ہے مساوات، قانون کی نظر میں مساوات اور جنسی مساوات وغیرہ۔ یہ اس حصہ کے اندر دوسرے مضامین کے ماتحت ہے۔ اگر کوئی تنازع ہو تو دیگر احکامات کو ترجیح حاصل ہوگی۔

لہٰذا، نکاح حلالہ نہ صرف یہ کہ غیر اخلاقی ہے؛ بلکہ یہ قومی قوانین کے بھی خلاف ہے۔

Source

(Visited 51 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT