آج کی زندگی نے بہت سے لوگوں کو نیند کے مطلوبہ دورانیے سے محروم کر دیا ہے۔ اس کے بدلے رات کو جاگنا اور کام کے لیے سویرے اٹھنا یہ عادتیں رواج پا گئی ہیں۔

وقت گزرنے کے ساتھ اس عادت اور رجحان کا انسانی یادداشت پر اثر پڑتا ہے۔ جسم کے خلیوں کے نظام میں ممکنہ خلل کے باعث انسان بتدریج قبل از وقت زوالِ عقل اور سرطان سے متاثر ہونے کی جانب گامزن ہو جاتا ہے۔

اِلزائمر کے مرض سے کئی برس قبل نیند کی اضطرابی کیفیت سامنے آتی ہے جو سائنس دانوں کے نزدیک فتورِ عقل کے حوالے سے ابتدائی انتباہ ہوتا ہے۔

ضرورت کے مطابق نیند پوری کرنا مضبوط اور سرگرم یادداشت باقی رکھنے میں مدد گار ہوتا ہے۔

سائنسی طور پر اِلزائمر (فتورِ عقل کا مرض) زوالِ عقل کی بدترین قسم ہے۔ یہ دماغ میں ایک خاص قسم کا پروٹین جمع ہوجانے کے سبب ہوتا ہے جس کا نام Amyloid beta ہے۔

وقت گزرنے کے ساتھ اِلزائمر کی شدت میں اضافہ ہوتا چلا جاتا ہے اور یہ انسانی یادداشت کو خاص طور پر متاثر کرتا ہے۔

مذکورہ زہریلے پروٹین کی تہیں دماغ کے خلیوں کو ختم کرنے پر کام کرتی ہیں۔ تاہم ایمائیلوئڈ بیٹا پروٹین کے رقعے دماغ کے فقط بعض حصّوں کو متاثر کرتے ہیں جس کی وجوہات آج تک واضح نہیں ہو سکیں۔

بعض طبّی مطالعوں میں یہ بات سامنے آ چکی ہے کہ گہری نیند کی کمی ایک اور عمل کو متاثر کرتی ہے جس کو ‘رات کے وقت توانائی کی تطہیر’ کا نام دیا جا سکتا ہے۔ اس عمل میں نخاعی مواد Cerebrospinal fluid)) دماغ کی صفائی کرتا ہے اور Metabolic Wastes کو باہر نکالتا ہے۔

لہذا گہری نیند کے نہ ہونے سے دماغ کی تطہیر کا عمل رک جاتا ہے جس کے نتیجے میں زہریلے رقعوں کا ڈھیر لگ جاتا ہے۔

اس سلسلے میں امریکا کے سابق صدر رونالڈ ریگن اور برطانیہ کی سابق وزیراعظم مارگریٹ تھیچر کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ یہ دونوں شخصیات دن میں صرف چار سے پانچ گھنٹے سو پاتی تھیں لہذا مطلوبہ ضرورت کے مطابق نیند پوری نہ ہونے کے سبب دونوں شخصیات قبل از وقت الزائمر کا شکار ہو گئیں۔