واٹس ایپ نے ڈیٹا پالیسی میں تبدیلی موخر کر دی

دنیا بھر سے صارفین کی شدید تنقید کے بعد فیس بک کی ذیلی کمپنی واٹس ایپ نے ڈیٹا شیئرنگ سے متعلق اپنی پالیسی موخر کر دی ہے۔ کمپنی کا کہنا ہے کہ رازداری کی حالیہ پالیسی سے متعلق ’غلط فہمی‘ کا خاتمہ ضروری ہے۔

صارفین کی جانب سے ‘زبردست دھچکے اور شدید تنقید‘ کے بعد واٹس ایپ نے جمعے کے روز اعلان کیا ہے کہ نئی ڈیٹا پالیسی کو فی الحال لاگو نہیں کیا جائے گا۔ قبل ازیں واٹس ایپ نے اعلان کیا تھا کہ صارفین کا ڈیٹا (صارف کی لوکیشن اور موبائل نمبر) ملکیتی کمپنی فیس بک اور اس کی انسٹاگرام اور مسینجر جیسی دیگر ذیلی کمپنیوں کو فراہم کیا جائے گا۔

اب اعلان کرتے ہوئے کہا گیا ہے، ”واٹس ایپ میں صارف کی رازداری اور سکیورٹی کس طرح کام کرتی ہے، پہلے اس حوالے سے پیدا ہونے والی غلط فہمیوں کا دور کیا جانا ضروری ہے۔‘‘ نجی ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والی تنظیموں نے اس فیصلے کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا تھا کہ اس سے پتا چلتا ہے کہ فیس بک اپنے صارفین کے ڈیٹا سے متعلق کس قدر بے پروا ہے۔

واٹس ایپ کے اس ابتدائی اعلان کے بعد دنیا بھر میں صارفین نے پیغام رسانی کے لیے دیگر ایپس کی تلاش شروع کر دی تھی اور اس حوالے سے سب سے زیادہ سگنل اور ٹیلی گرام جیسی ایپس ڈاؤن لوڈ کی گئیں۔

سگنل کا جمعے کے روز اعلان کرتے ہوئے کہنا تھا کہ صارفین کی تعداد یک دم بڑھنے سے انہیں تکنیکی مسائل کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ واٹس ایپ کے اعلان کے بعد امریکی خفیہ راز افشا کرنے والے ایڈورڈ سنوڈن اور دنیا کے امیر ترین شخص ایلون مسک نے سگنل کو محفوظ ترین قرار دیتے ہوئے اسے استعمال کرنے کا کہا تھا۔

واٹس ایپ کی جانب سے صارفین کو دی جانے والی آٹھ فروری تک کی ڈیڈ لائن کی ختم کر دی گئی ہے۔ واٹس ایپ نے ابتدائی اعلان میں کہا تھا کہ جو صارفین آٹھ فروری تک ان کی نئی پالیسی سے متفق نہیں ہوں گے، وہ ان کی سروس کا استعمال نہیں کر سکیں گے۔

اس تاخیر سے واٹس ایپ کا وہ منصوبہ بھی مشکلات کا شکار ہو جائے گا، جس کے تحت وہ واٹس ایپ میں ڈیٹا اور معلومات کا تبادلہ کرتے ہوئے صارف تک اشتہارات پہنچانا چاہتے ہیں۔ فیس بک نے سن دو ہزار چودہ میں واٹس ایپ کو انیس ارب ڈالر کے عوض خریدا تھا لیکن یہ میسیجنگ سروس بہت کم پیسہ کما رہی ہے۔

واٹس ایپ کی ڈیٹا شیئرنگ پالیسی کو دنیا بھر میں مخالفت کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے۔ بھارت کی ایک عدالت میں دائر کردہ ایک درخواست میں کہا گیا ہے کہ اس طرح صارفین کی نگرانی بڑھا دی گئی ہے اور ملکی سلامتی کو بھی خطرات لاحق ہیں۔ بھارت واٹس ایپ کی سب سے بڑی مارکیٹ ہے اور وہاں اس کے صارفین کی تعداد چار سو ملین کے قریب ہے۔ اب بھارت میں بہت سے صارفین نے ٹیلی گرام اور سگنل جیسی ایپس کا استعمال شروع کر دیا ہے۔

اٹلی میں ڈیٹا کے تحفظ کے لیے کام کرنے والے ادارے نے اپنے ایک بیان میں کہا ہے، ” اتھارٹی کے مطابق صارفین یہ سمجھنے سے قاصر ہیں کہ کونسی تبدیلیاں لائی جا رہی ہیں اور یہ بھی واضح نہیں کی آٹھ فروری کے بعد ڈیٹا کا استعمال کیسے کیا جائے گا۔‘‘ اطالوی حکام کا کہنا تھا کہ وہ نئی پالیسی کا بغور جائزہ لیں گے اور اس پالیسی کا ملکی قوانین سے مطابقت رکھنا ضروری ہے ورنہ انہیں فوری مداخلت کرنا پڑے گی۔

(Visited 56 times, 1 visits today)

Also Watch

?