ورلڈ کپ فائنل میں انگلینڈ کو اضافی رن دینے والے امپائر نے غلطی کا اعتراف کرتے ہوئے بڑا اعلان کر دیا

ورلڈ کپ کے فائنل میچ میں امپائر نے اضافی رنز دینے کی غلطی کا اعتراف کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق سری لنکن امپائر کمار دھرما سینانے اضافی رنز دینے کی غلطی کا اعترافی بیان جاری کر یدا ہے ۔ورلڈ کپ کے فائنل میچ کے دوران انگلینڈ کے بین سٹوکس دوسرا رن مکمل کرنے کیلئے وکٹ کی طرف بھاگ رہے تھے تو فیلڈر نے گیند تھرو کی جو سٹوکس کے بیٹ سے لگ کر باؤنڈری کے پار ہو گئی۔

سری لنکن امپائر نے انگلینڈ کی ٹیم کو چھ رنز دیئے تھے ۔ایک اخبار کو انٹرویو دیتے ہوئے انہوں نے کہا ہے کہ وہاں دیکھنے اور ٹی وی پر ری پلے دیکھنے کے بعد مجھے اپنی غلطی کا احساس ہوا میں رنز غلط دیئے ہیں ، ہمارے پاس ٹی وی کا ری پلے دیکھنے کوئی سہولیت نہیں ہوتی فیصلہ ہمیں اسی وقت دینا ہوتا ہے لیکن مجھے اپنے دیئے گئے فیصلے پر کوئی پچھتاوا نہیں ہے ، میں رنز دیگر حکام سے مشاورت کے بعد دیئے۔ دوسری جانب سابق انٹرنیشنل امپائر سائمن ٹافل نے کہاہے کہ ورلڈکپ کے فائنل میں انگلینڈ کو غلط طور پر ایک اضافی رن دیا گیا۔نیوزی لینڈ اور انگلینڈ کے فائنل میچ کے آخری اوور میں نیوزی لینڈ کے فیلڈر کی تھرو بیٹسمین بین اسٹوکس سے ٹکرا کر باؤنڈری لائن کراس کر گئی تھی جبکہ اس دوران اسٹوکس اپنا دوسرا رن مکمل کرنے کیلئے بھاگ رہے تھے۔اس پر فیلڈ امپائر دھرماسینا نے انگلش ٹیم کو 6 رنز دیئے جو کہ انگلینڈ کی فتح کا بنیادی سبب بنے۔سائمن ٹافل کا کہنا ہے کہ فیلڈ امپائر نے یہاں پر انگلینڈ کو چھ رنز دے کر واضح غلطی کی حالانکہ یہاں پانچ رنز ملنے چاہیے تھے کیونکہ جب گیند پھینکی کی گئی تو بیٹسمین نے ابھی اپنا دوسرا رنز مکمل نہیں کیا تھا،اس غلطی کی وجہ سے ہی بین اسٹوکس کو اسٹرائیک ملی۔آسٹریلوی ویب سائٹ فاکس اسپورٹس سے گفتگو کرتے ہوئے سائمن ٹافل نے ایم سی سی کے قوانین کی کتاب کے قانون 19.8 کا حوالہ دیا اور کہا کہ یہ ایک واضح غلطی ہے۔سائمن ٹافل کا شمار کرکٹ کی تاریخ کے بہترین امپائرز میں ہوتا ہے اور انہوں نے 2004 سے 2008 کے دوران لگاتار 5 سال تک آئی سی سی امپائر آف دی ائیر کا ایوارڈ حاصل کیا تاہم سائمن ٹافل نے

دونوں امپائرز کا دفاع کیا اور کہا کہ کمار دھرماسینا اور ماریاس اریسمس بہترین امپائر ہیں۔انہوں نے کہا کہ یہاں مشکل یہ ہے کہ امپائرز کو دیکھنا ہوتا ہے کہ بیٹسمین نے رنز مکمل کیا ہے یا نہیں کیونکہ انہیں دیکھنا ہوتا ہے کہ کب گیند پکڑی گئی اور کپ پھینکی گئی۔انہوں نے کہا کہ امپائرز کو یہ بھی دیکھنا ہوتا ہے کہ اس موقع پر بیٹسمین کہاں تھے۔اس واقعے کے متعلق نیوزی لینڈ کے کپتان کین ولیمسن نے

بھی فلسفیانہ جواب دیا اور کہا یہ کھیل کا حصہ ہے۔دریں اثناء  برطانوی نشریاتی ادارے کی  ایک رپورٹ کے مطابق چند ماہ پہلے تک انگلینڈ کے فاسٹ باؤلر  جوفرا آرچر کی ٹیم میں شمولیت کا امکان بھی نہیں تھا مگر   انہوں نے  لارڈز میں کھیلے جانے والے فائنل میں نیوزی لینڈ کے خلاف سپر اوور کیا۔حیران کن طور پر انہوں نے فرانس کے معروف پیش گوئی کرنے والے مچل نوسٹر ڈومس کے

انداز میں میچ کے اختتام کی پیشگوئی کررکھی تھی۔ باؤلر کے پرانے ٹوئیٹس انگلینڈ کی کامیابی کے بعد انٹرنیٹ پر ابھر کر سامنے آئے اور حیران کن حد تک میچ کے نتیجے میں اور ٹوئیٹس میں کافی مماثلت پائی گئی۔جنوری 2014 کے ٹوئیٹ میں اس وقت 18 سال کی عمر میں جوفرا آرچر جانتے تھے کہ وہ انگلش ٹیم کا حصہ بنیں گے۔وہ یہ بھی جانتے تھے کہ ایک دن انگلینڈ کو لارڈرز میں سنسنی

خیزاور ڈرامائی میچ کا سامنا بھی ہوگا۔ایک سال بعد یعنی 2015 میں جوفرا آرچر نے سپر اوور کی پیشگوئی کی۔اور 2019 کے ورلڈکپ کا اختتام اس پر ہوا، یہاں تک کہ کرکٹ ورلڈکپ کے آفیشل ٹوئٹر ہینڈل پر بھی آرچر کی اس ٹوئیٹ کو ری ٹوئیٹ کیا گیا۔اسی طرح 2013 کے ایک ٹوئیٹ میں جوفرا آرچر نے ایسا لگتا ہے کہ یہ پیشگوئی کردی تھی کہ فائنل میں کتنا اسکور اوور میں درکار ہوگا۔خیال رہے کہ انگلینڈ نے سپراوور میں پہلے کھیلتے ہوئے 15 رنز بنائے اور نیوزی لینڈ کو 16 رنز کا ہدف دیا۔

(Visited 932 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT