ٗعمران خان اور شفقت محمود ہی چور نکلے، – مولانا فضل رحمان

راجہ ظفر الحق رپورٹ آگئی ہے ٗعمران خان اور شفقت محمود ہی چور نکلے، عمران خان نے قادیانیوں سے کیا وعدہ کیاتھا؟مولانا فضل الرحمان نے سنگین الزامات عائد کردیئے

 

لکی مروت(نیوز ڈیسک) جمعیت علمائے اسلام (ف) کے سربراہ مولانا فضل الرحمان کا کہنا ہے کہ عمران خان نے قادیانیوں سے تعاون کے بدلے ختم نبوت قانون میں تبدیلی کا وعدہ کیا تھا۔جلسے سے خطاب کرتے ہوئے

متحدہ مجلس عمل کے مرکزی صدرمولانا فضل الرحمان نے کہا کہ چیئرمین پی ٹی آئی عمران خان قادیانیوں کے سربراہ کے پاس گئے اور اس سے انتخابات میں تعاون مانگا اور اس کے بدلے قادیانیوں کے خلاف موجود قانون کو تبدیل کرنے کا وعدہ کیا،

ختم نبوت کے قانونمیں ترمیم اسی وعدے کی کڑی تھی۔مولانا فضل الرحمان نے کہا کہ حلف نامے میں ختم نبوت کی ترمیم پر راجہ ظفرالحق کی سربراہی میں تحقیقاتی کمیشن قائم ہوا، جس نے پوری تحقیق کی اور عدالت کے حکم پر رپورٹ شائع بھی کردی اور پھر رپورٹ کے مطابق عمران خان اور شفقت محمود ہی چور نکلے،

اب بلی تھیلے سے باہر آچکی ہے اورعمران خان کی چوری بھی پکڑی گئی ہے، سوال یہ ہے کہ جو قوتیں کل نوازشریف کے خلاف دھرنا دے رہی تھیں وہ اب خاموش کیوں ہیں۔

ویڈیو دیکھیں

رپورٹ کے مطابق اصل ذمہ دار انوشہ رحمان اور اور زاہد حامد ہے

ویڈیو دیکھئے

شفقت محمود کا الزامات کا جواب

تحریک انصاف کے رہنما شفقت محمود نے کہا ہے کہ انتخابی اصلاحات میں ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کے حوالے سے میرا کوئی تعلق نہیں تھا، مخالفین سازش کر کے ملبہ پی ٹی آئی پر ڈالنے کی کوشش کررہے ہیں۔

شفقت محمود کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن کے فارم 23 سے متعلق قوم کو بتانا چاہتا ہوں، یہ وہ فارم ہے جس میں امیدوار اپنے گواشواروں کی تفصیلات تحریر کرتا ہے جبکہ فارم 27 میں انتخابی مہم کے اخراجات بتائے جاتے ہیں۔

اُن کا کہنا تھا کہ میں آئینی شق کرنے والی تبدیلی کرنے والی کمیٹی نے فارم 3 ختم نبوت ﷺ کے قانون میں تبدیلی کی جس سے میرا کوئی تعلق نہیں کیونکہ یہ فارم میرے حصے میں نہیں تھا۔

اُن کا کہنا تھا کہ مخالفین نے زبردستی تعلق جوڑ کر سازش کی اور ختم نبوت کے قانون میں ترمیم کا ملبہ تحریک انصاف پر ڈالنے کی کوشش کی مگر اس سے ہمارا کوئی تعلق ہی نہیں ہے۔

واضح رہے کہ مسلم لیگ ن نے گزشتہ برس آئین کی انتخابی شق 203 میں ترمیم کا بل قومی اسمبلی سے منظور کروایا تھا جس کے بعد اعتزاز احسن نے اس بل کی مخالفت کے لیے قرارداد ایوانِ بالا میں پیش کی مگر ایم کیو ایم کے سینیٹر میاں عتیق نے حکومت کے حق میں ووٹ دیا جس کے بعد اس ترمیم کو صرف ایک ووٹ سے منظور کرلیا گیا تھا۔

حکومت نے آئین کے انتخابی آرٹیکل 203 میں ترمیمی قرار داد منظور کروائی اور پھر اس پر صدر مملکت نے دستخط کیے جس کے بعد نوازشریف کو دوبارہ مسلم لیگ ن کا پارٹی صدر تعینات کیا گیا ہے۔
دیکھئے شفقت محمود کی وضاحتی پریس کانفرنس

(Visited 114 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT