ٹرمپ کے مذاکرات منسوخ کرنے کے بعد”جنگ” جاری رہے گی: طالبان

افغان طالبان نے دھکمی دی ہے کہ امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے امن مذاکرات کی منسوخی سے متعلق فیصلے سے مزید امریکی مارے جائیں گے۔
امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے اتوار کو کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر اشرف غنی سے الگ الگ ملاقاتیں ہونا تھیں۔ تاہم اُنہوں نے یہ کہہ کر افغان امن مذاکرات منسوخ کرنے کا اعلان کیا کہ مذاکرات اور حملے ایک ساتھ نہیں چل سکتے۔
حالیہ چند روز کے دوران طالبان کے حملوں میں متعدد افراد ہلاک و زخمی ہوگئے تھے۔ جن میں ایک امریکی فوجی بھی شامل تھا۔
طالبان ترجمان کا کہنا ہے کہ امن مذاکرات کی منسوخی کے فیصلے سے امریکہ کو مزید جانی و مالی نقصان اٹھانا پڑے گا اور اس کے ساتھ اس کی ساکھ کو بھی نقصان پہنچے گا۔
طالبان ترجمان کا
مزید کہنا تھا کہ دنیا کے سامنے امریکہ کا امن مخالف چہرہ بے نقاب ہوگا۔

وزیر خارجہ پومپیو نے امریکی نشریاتی ادارے ‘سی این این’ اور ‘این بی سی’ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ اس سے پہلے کہ طالبان کو امریکی صدر سے ملاقات کا موقع دیا جائے، ہم دیکھنا چاہتے ہیں کہ وہ افغانستان میں تشدد اور دہشت گردی ختم کرنے سے متعلق اپنے وعدوں کی کس حد تک پاسداری کرتے ہیں۔
یاد رہے کہ امریکہ اور طالبان کے مذاکرات کاروں کے درمیان بات چیت کا سلسلہ لگ بھگ ایک سال سے جاری تھا اور امریکہ کے اعلیٰ ترین مذاکرات کار زلمے خلیل زاد نے گزشتہ ہفتے کہا تھا کہ فریقین کے درمیان سمجھوتے کا مسودہ تیار کر لیا گیا ہے۔
اگر صدر ٹرمپ اس مسودے کی منظوری دے دیتے ہیں تو امریکہ افغانستان کے پانچ فوجی اڈوں سے پانچ ہزار فوجیوں کو اگلے 135 دن میں واپس بلا لے گا۔
اُدھر طالبان ترجمان سہیل شاہین نے ایک ٹوئٹ میں کہا ہے، ’’ہم نے گزشتہ دنوں امریکی مذاکرات کاروں کے ساتھ ایک سمجھوتہ طے کر لیا تھا۔ فریقین اس سمجھوتے سے مطمئن تھے۔ اس بارے میں صدر ٹرمپ کی ٹوئٹس ناقابل یقین ہیں جن سے اُن کی ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔‘‘

مذاکرات نہ ہونے کا زیادہ نقصان افغانستان کو نہیں امریکہ کو ہو گا: طالبان

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے طالبان کے ساتھ امن مذاکرات منسوخ کر دینے کے اعلان کے بعد طالبان نے ردعمل میں کہا ہے کہ ’مذاکرات کی منسوخی کا سب زیادہ نقصان امریکہ کو ہوگا۔‘
وائس آف اندیا کے نامہ نگار  کے مطابق امریکی صدر کے بیان کے رد عمل میں طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کی جانب سے جاری ہونے والے بیان میں کہا گیا ہے کہ وہ امریکہ کی مذاکراتی ٹیم کے ساتھ سنیچر تک امن معاہدے کے باضابطہ اعلان کے لیے تیاریوں میں مصروف تھے جبکہ 23 ستمبر کو بین الافغان مذاکرات کا پہلا دن مقرر کیا تھا۔
’اب جب امریکی صدر نے اسلامی امارت کے ساتھ مذاکرات کی منسوخی کا اعلان کیا ہے، تو اس کا سب سے زیادہ نقصان خود امریکہ کو ہوگا، اُن کے اعتبار کو نقصان ہوگا، اُن کا امن مخالف مؤقف دنیا کو نظر آئے گا اور اُن کی جان اور مال کا نقصان زیادہ ہوگا۔‘
طالبان کی جانب سے اس بیان میں مزید کہا گیا ہے کہ طالبان وفد کو امریکہ جانے کا دعوت نامہ افغانستان کے لیے امریکہ کے خصوصی نمائندے زلمی خلیل زاد نے اگست کے آخر میں دیا تھا لیکن اُنھوں نے یہ دورہ امن معاہدے پر دستخط کرنے تک ملتوی کیا تھا۔
طالبان کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد کے مطابق اُنھوں نے گذشتہ 18 سال کی ’جدوجہد‘ میں یہ ثابت کر دیا کہ جب تک افغانستان سے تمام بین الاقوامی افواج کا انخلا نہیں ہوتا، وہ کسی دوسری چیز پر مطمئن نہیں ہوں گے۔
اُن کے مطابق اس ٹارگٹ کی حصولی تک جنگ جاری رہے گی۔

ٹرمپ کا اعلان
امریکی صدر نے اپنی ٹویٹ میں لکھا کہ طالبان سے مذاکرات کابل حملے کے بعد منسوخ کیے گئے ہیں جس میں ایک امریکی فوجی سمیت 12 افراد ہلاک ہوئے تھے۔
انھوں نے مزید لکھا ’یہ کیسے لوگ ہیں جو اپنی سودے بازی کی پوزیشن کو مضبوط کرنے کے لیے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔‘
اپنے ٹویٹر پیغام پر امریکی صدر نے کہا کہ ’جھوٹے مفاد کے لیے طالبان نے کابل حملے کی ذمہ داری قبول کی۔ وہ مزید کتنی دہائیوں تک لڑنا چاہتے ہیں؟‘
ڈونلڈ ٹرمپ نے یہ بھی کہا ’کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں سے ہونے والی خفیہ ملاقاتیں بھی منسوخ کر دیں ہیں۔ کیمپ ڈیوڈ میں طالبان رہنماؤں اور افغان صدر سے الگ الگ ملاقاتیں اتوار کو ہونا تھیں۔ وہ آج رات امریکہ پہنچ رہے تھے۔‘
امریکی صدر نے اپنی ٹویٹ میں یہ بھی کہا کہ اگر طالبان جنگ بندی نہیں کر سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں بامقصد معاہدے کی صلاحیت موجود نہیں۔
واضح رہے کہ قطر کے دارلحکومت دوحا میں امریکہ اور طالبان کے نمائندوں کے مابین جاری امن مذاکرات کے نو دور ہو چکے ہیں۔
افغان حکومت نے مذاکرات کی منسوخی کے ردعمل میں ایک بیان میں کہا ہے کہ وہ دیرپا امن کے لیے پرعزم ہیں۔ انھوں نے امریکی حکومت سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان کے ساتھ مل کر قیام امن کے لیے کام کریں۔
امریکہ اور طالبان کے درمیان مذاکرات کے مجوزہ امن معاہدے کے مطابق طالبان کی طرف سے سکیورٹی کی ضمانت کے بدلے تقریباً پانچ ہزار امریکی فوجی 20 ہفتوں میں افغانستان سے چلے جائیں گے۔
اس وقت تقریباً 14 ہزار امریکی فوجی افغانستان میں موجود ہیں۔
سنہ 2001 میں امریکی حملے کے بعد افغانستان میں اب تک بین الاقوامی اتحادی افواج کے تقریباً 3500 ارکان ہلاک ہوچکے ہیں، جن میں سے 2300 سے زائد امریکی فوجی ہیں۔
دوسری جانب اس جنگ میں ہلاک ہونے والے افغان شہریوں، عسکریت پسندوں اور سرکاری افواج کی تعداد کا اندازہ لگانا مشکل ہے۔ اقوام متحدہ نے فروری 2019 کی اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ اس جنگ میں اب تک 32 ہزار سے زیادہ افغان شہری ہلاک ہوچکے ہیں۔
ادھر براؤن یونیورسٹی میں واٹسن انسٹیٹیوٹ کے مطابق اس جنگ میں 58 ہزار سکیورٹی اہلکار جبکہ 42 ہزار مخالف جنگجو ہلاک ہوچکے ہیں۔
واضح رہے کہ امریکہ اور طالبان کے درمیان جاری مذاکرات میں امن معاہدے پر دستخط کے فوراً بعد بین الافغان مذاکرات شروع ہونا تھے، جن میں جنگ بندی، افغانستان کے مستقبل کے سیاسی نظام، آئینی ترمیم، حکومتی شراکت داری اور طالبان جنگجوؤں کے مستقبل سمیت کئی مسائل پر بات چیت شامل ہے۔

(Visited 109 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT