پاکستان میں ہونے والی طلاقوں کی تین اہم وجوہات



پاکستان کی فیملی عدالتوں میں طلاق کا رحجان روزبروز بڑھ رہا ہے پہلے فیملی مقدمات سول عدالتیں سنتی تھیں مگر فیملی مقدمات کی بے تحاشا دائری کی وجہ سے فیملی عدالتیں الگ بنا دی گئی ہیں

ایک سروے کے مطابق پاکستان کے ہر شہر میں اوسطاً دو ہزار طلاق کے مقدمات دائر ہوتے ہیں جن میں 600 مقدمات باہمی مصالحت اور عدالت کی کوشش سے بغیر طلاق کے حل ہوجاتے ہیں یوں لگ بھگ ایک لاکھ طلاقیں ہر سال ہورہی ہیں

ان سب کی بنیادی وجہ باہمی ہم آہنگی اور ہم خیال نہ ہونے کے وجہ سے ہے اگر میاں بیوی ایک دوسرے کی تلخ باتوں کونظر انداز کرنا سیکھیں تو طلاق کی نوبت کبھی نہیں آئی گی

طلاق کی دوسری اہم وجہ جوائنٹ فیملی ہے عورت چاہتی ہے کہ اسکا گھر سب سے الگ ہو جہاں وہ کسی کی بات سنے بغیر رہے جب طلاق کا مقدمہ عدالت میں دائر کرتی ہے تو مصالحت کے دوران یہی بات شوہر کو کہتی ہے کہ اگر اسے الگ گھر میں رکھے گا تو وہ واپس جانے کو تیار ہے

الگ گھر ہر عورت کی خواہش ہوتی ہے اور وہ چاہتی ہے کہ الگ گھر ہو اور شوہر اپنا سارا وقت اسے دے اور دوسروں کے تنزومذاق سے بھی دور رہا جاے

طلاق کی تیسری اہم وجہ ناجائز تعلقات اور منشیات نوشی ہے جو دونوں طرف سے ہوتی ہے اور شوہر جب بیوی کو طلاق دیتا ہے تو طلاق کی بنیادی وجہ یہی لکھتا ہے جبکہ بیوی بھی اکثر مقدمہ میں یہی لکھتی ہے کہ شوہر نے دیگر لڑکیوں سے ناجائز تعلقات استوار کیے ہوے ہیں ,شراب نوشی یا جواء بھی کھیلتا ہے جسکی وجہ سے طلاق لینا چاہتی ہے

تاہم اعلی عدلیہ نے اس وجہ کو ناپسندیدہ قرار دیا ہے اور فریقین پر زور دیا ہے کہ طلاق کے مقدمات میں ایک دوسرے کی کردار کشی نہ کریں

مزید اعلی عدلیہ نے یہ بھی قرار دیا ہے کہ میاں یا بیوی کوئی کسی پر ایسا سنگین الزام لگاتے ہیں تو انکو یہ الزام عدالت میں ثابت بھی کرنا چاہیے بصورت دیگر جس پر یہ الزام لگایا جاے گا وہ شخص ہرجانہ کا مقدمہ دائر کرسکتا ہے

source

(Visited 40 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT