پاکستان کے 6 ڈیموکریٹک امریکی صدور کیساتھ تعلقات

لاہور (صابر شاہ) قیام پاکستان سے اب تک پاکستان نے 13 امریکی صدور دیکھے ہیں۔ ان میں سے 7کا تعلق ریپبلکن پارٹی اور 6 کا تعلق ڈیمو کریٹک پارٹی سے رہا ہے۔ جوبائڈن کا تعلق بھی ڈیموکریٹک پارٹی سے ہے۔ مجموعی طور پر پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں اتارچڑھائو آتا رہا ہے۔ سات ریپبلکن صدور میں ڈیوائٹ آئزن ہاور، رچرڈ نکسن، جیرالڈ فورڈ، رونلڈ ریگن، جارج بش سینئر، جارج بش جونیئر اور ڈونلڈ ٹرمپ، جب کہ ڈیموکریٹس صدور میں ہیری ٹرومین، جان کینیڈی، لنڈن جانسن، جمی کارٹر، بل کلنٹن اور بارک اوباما شامل ہیں۔ تاہم، تحقیق سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ پاکستان کے حق میں ڈیموکریتس صدور بہتر رہے یا ریپبلکن، یہ فیصلہ کرنا ممکن نہیں ہے۔ ڈیموکریٹک صدور کے ساتھ پاکستان کے تعلقات کا جائزہ لیا جائے تو ہیری ٹرومین کے دور میں 1949 میں واشنگٹن ڈی سی نے بھارتی وزیراعظم نہرو کو امریکا کے دورے کی دعوت دی تھی لیکن پاکستان کے وزیراعظم لیاقت علی خن کو مدعو نہیں کیا گیا۔ دوسری جانب سویت یونین نے لیاقت علی خان کو ماسکو کے دورے کی دعوت دی تھی۔ جس کے بعد امریکا نے اچانک ہی دعوت نامہ بھجوایا اور 3 مئی 1950 کو لیاقت علی خان امریکا پہنچے، جہاں ان کا استقبال ٹرومین نے کیا۔ تاہم، جلد ہی پاکستان اور امریکا کے تعلقات میں تلخی آئی جب امریکا نے پاکستان

کو کورین جنگ میں اپنی فوج بھیجنے کا کہا جس کے جواب میں لیاقت علی خان نے کہا کہ کورین جنگ میں پاکستان امریکا کی مدد اسی صورت کرے گا جب امریکا ، کشمیر اور پشتون مسئلے کو حل کرنے کی حامی بھرے گا۔ امریکا کی جانب سے ایک مطالبہ ایران پر اپنے اثرورسوخ استعمال کرنے کا کیا گیا تاکہ امریکا ایرانی آئل فیلڈز تک محفوظ منتقلی میں مدد حاصل کرسکے۔ لیاقت علی خان نے اس مطالبے کو مسترد کردیا جس پر امریکا نے پاکستان کو دھمکی دی کہ وہ مسئلہ کشمیر میں مدد نہیں کرے گا۔ جب کہ پاکستان نے امریکا سے فضائی اڈے خالی کرنے کا کہا۔ 1951 میں لیاقت علی خان پہلے راولپنڈی سازش کیس میں بچ نکے لیکن اکتوبر 1951 میں انہیں شہید کردیا گیا۔ پاکستانی عوام نے ان دو واقعات کی ذمہ داری امریکا پر عائد کی۔ یہ واقعات ڈیموکریٹ امریکی صدر کے دور میں پیش آئے۔

امریکی انتخابات کے بعد امریکا کے ریاستوں میں احتجاجی مظاہرے جاری

امریکا نے پاکستان کو 1947 میں ہی آزاد ریاست کے طور پر قبول کرلیا تھا تاہم، اس نے پاکستان کی پہلی فوجی معاونت سات سال بعد صدر آئزن ہاور کے دور میں کی۔ جب دونوں ممالک کے درمیان باہمی دفاعی معاونت کا معاہدہ کراچی میں طے پایا۔ یہ معاہدہ لیاقت علی خان کی جانب سے دورہ ماسکو کے انکار کے باعث ہوا تھا۔ لیاقت علی خان کے فیصلے کے نتیجے میں 1954 سے 1964 کے درمیان پاکستان کو 70 کروڑ ڈالرز فوجی امداد کی مد میں ملے۔ جب کہ اس کے علاوہ 2.5 ارب ڈالرز اقتصادی امداد کے ضمن میں ملے تھے۔ 31 مئی، 2019 کی یو ایس ایڈ رپورٹ کے مطابق، کینیڈی کے دور حکومت میں پاکستان کی اقتصادی معاونت عروج پر تھی جو 2.3 ارب ڈالرز سے زائد تھی۔ 1965 اور 1971 کی پاکستان۔بھارت کے درمیان جنگوں کے بعد امریکی کی جانب سے فوجی امداد میں ڈرامائی کمی ہوئی۔ لنڈن جانسن جو کہ ڈیموکریٹ امریکی صدر تھے۔ انہوں نے 23 دسمبر، 1967 کو کراچی میں صدر ایوب خان سے ملاقات کی تھی۔ وہ اس وقت امریکا کے نائب صدر تھے۔ یہاں ان کی ایک اونٹ بان بشیر ساربان سے دوستی کے چرچے دنیا بھر میں ہوئے۔ یو ایس ایڈ رپورٹ کے مطابق، 1970 کی دہائی میں صدر جمی کارٹر نے یورینیئم افزودگی سہولت کے قیام کے فیصلے پر پاکستان کی تمام امداد معطل کردی تھی۔ جمی کارٹر کی وجہ سے ذوالفقار علی بھٹو کے امریکی عہدیداران سے تمام تعلقات منقطع ہوگئے جو صدر نکسن کے ذریعے بحال ہوئے۔ جمی کارٹر نے بالواسطہ بھٹو کی مخالفت کی جس کے جواب میں بھٹو نے زیادہ شدت کے ساتھ امریکا اور مغربی ممالک کے خلاف سفارتی اقدامات کیے۔

اس کے باوجود جمی کارٹر نے جنرل ضیاالحق کو بھٹو کو پھانسی دینے سے روکا تھا۔ اس وقت کے امریکا کے سیکرٹری اسٹیٹ ہینری کسنجر نے بھٹو سے کہا تھا کہ اگر انہوں نے افزودگی پلانٹ معاہدہ معطل نہیں کیا تو ہم تمھیں ایک ڈرائونی مثال بنادیں گے۔ جس کے جواب میں بھٹو نے کہا تھا کہ اپنے ملک اور عوام کے مفاد کی خطر میں اس بلیک میلنگ اور دھمکیوں کے آگے نہیں جھکوں گا۔ دسمبر، 1979 میں سوویت یونین نے افغانستان پر قبضہ کرلیا۔ جس پر امریکا نے 40 کروڑ ڈالرز فوجی امداد کی پیش کش کی جسے پاکستان نے ناکافی کہہ کر مسترد کردیا۔ 1980 میں پاکستان نے 28، ایف۔16 طیاروں کے لیے 65 کروڑ 80 لاکھ ڈالرز پر اتفاق کیا لیکن امریکی کانگریس نے معاہدہ منجمد کردیا۔ 1981 میں امریکا نے دوبارہ 1.5 ارب ڈالرز فوجی امداد کی مد میں دینے کی پیشکش کی جسے قبول کرلیا گیا۔ امریکا کے ایک اور ڈیموکریٹک صدر بل کلنٹن 25 مارچ، 2000 کو پاکستان آئے اور صدر پاکستان رفیق تارڑ اور آرمی چیف پرویز مشرف سے ملاقاتیں کیں۔ اس دورے میں انہوں نے صرف ریڈیو خطاب کیا تھا۔ 1991 سے 2000 کے دوران امریکی امداد میں بڑی کمی واقع ہوئی تھی۔ 2009 میں امریکی کانگریس نے 7.5 ارب ڈالرز کی غیرفوجی امداد کی کیری لوگر بل کے ذریعے منظوری دی۔ فروری، 2010 میں صدر اوباما نے پاکستان کی امداد میں اضافہ کیا ۔

جب کہ القائدہ کو شکست دینے کے لیے پاکستان کو 3.1 ارب ڈالرز منظور کیے۔ 2012 میں شکیل آفریدی نامی ڈاکٹر نے ایک جعلی ویکسینیشن مہم چلائی جو کہ مبینہ طور پر امریکا کے تعاون سے چلائی گئی تھی تاکہ اسامہ بن لادن کا سراغ لگایا جاسکے۔ جس پر پاکستان نے شکیل آفریدی کے خلاف بغاوت کا مقدمہ چلایا اور انہیں 33 سال قید کی سزا سنائی گئی۔ جس کے بعد پاکستان کی امداد میں امریکی کانگریس نے 3 کروڑ 30 لاکھ ڈالرز کی کٹوتی کی۔ 2014 میں امریکا نے پاکستان میں مطلوب دہشت گردوں کے ٹھکانوں پر ڈرون حملوں کا سلسلہ شروع کیا۔ جب کہ پاک فوج نے بھی جون 2014 میں آپریشن ضرب عضب کا آغاز کیا۔ مئی، 2015 کی امریکی رپورٹ کے مطابق، پاکستان نے 18 نئے جنگی طیاروں کے لیے امریکا کو 1.43 ارب ڈالرز کی ادائیگی کی۔ جب کہ 2016 میں امریکی حکومت نے پاکستان کے لیے 86 کروڑ ڈالرز امداد کی تجویز دی۔ جنگ گروپ اور جیو ٹیلی وژن نیٹ ورک کی تحقیق کے مطابق، امریکا 1947 سے اب تک پاکستان کو تقریباً 70 ارب ڈالرز امداد دے چکا ہے۔ واشنگٹن ڈی سی اور لندن کے تھنک ٹینک سینٹر فور گلوبل ڈیولپمنٹ کی جانب سے تیار کردہ رپورٹ کے مطابق، 1951 سے 2011 کے دوران امریکا نے پاکستان کو 67 ارب ڈالرز امداد دی۔ تحقیق میں یہ بات بھی سامنے آئی ہے کہ 1954 سے اب تک چھ سے زائد مواقع ایسے آئے ہیں کہ جب امریکا نے پاکستان کی فوجی امداد معطل کی۔ جب کہ قیام پاکستان سے اب تک صرف 5 امریکی صدور نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔ جب کہ پاکستان کے مختلف حکمرانوں نے 42 دورے امریکا کے کیے ہیں۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ جمہوریت پسند امریکی صدور آئزن ہاور، لنڈن جانسن، نکسن، کلنٹن اور بش جونیئر پاکستان کے فوجی حکمرانوں کے مہمان بنے۔ ان میں سے تین ریپبلکن پارٹی سے تعلق رکھتے تھے۔ یہ بتانا بھی ضروری ہے کہ متعدد امریکی صدور بشمول ہیری ٹرومین، جان ایف کینیڈی، جیرالڈ فورڈ، جمی کارٹر، رونلڈ ریگن، جارج بش سینئر، بارک اوباما اور ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے دور حکومت میں پاکستان کا دورہ نہیں کیا۔

(Visited 108 times, 1 visits today)

Also Watch

?