پشاور میں افغان جہاد کے نام پر بھتہ خوری کا سلسلہ جاری

خیبر پختونخوا اور سابق قبائلی علاقوں میں آپریشن ضرب عضب اور ردالفساد کے بعد تقریباً تمام علاقوں میں حکومتی عمل داری بحال کردی گئی ہے جبکہ دہشت گردی کے واقعات میں بھی خاطر خواہ حد تک کمی د یکھی گئی ہے۔

تاہم دوسری طرف مبینہ طور پر مسلح تنظیموں کی طرف سے بھتہ خوری کے واقعات میں نہ صرف مسلسل اضافہ ہورہا ہے بلکہ اس نے ایک نئی شکل اختیار کرلی ہے اور اب تو بڑے شہروں میں بھی دن دھاڑے قانون نافذ کرنے والے اداروں کے ناک کے نیچے کھلے عام بھتہ خوری کے واقعات پیش آ رہے ہیں۔

ان وارداتوں میں نہ صرف پاکستانی کالعدم تنظمیں ملوث بتائی جاتی ہیں بلکہ اب تو مبینہ طورپر افغان طالبان کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ بھی پاکستانی علاقوں میں کھلے عام ’افغان جہاد‘ کے نام پر ٹرک ڈرائیوروں سے بھتہ وصول کرتے ہیں۔

ندو میں ایک ٹرک اڈے کے مالک نے نام نہ بتانے کی شرط پر بی بی سی کو بتایا کہ افغان طالبان کے کارندے صبح سویرے بھتہ وصول کرنے کےلیے اڈے پر پہنچ جاتے ہیں اور افغانستان جانے والے ہر ٹرک سے پانچ ہزار روپے وصول کیا جاتا ہے اور جو ٹرک ڈرائیور انکار کرتا ہے ان کو قتل کی دھمکیاں دی جاتی ہیں۔

انھوں نے کہا کہ یہ سلسلہ تقریباً گذشتہ تین ماہ سے مسلسل جاری ہے۔

انھوں نے مزید کہا کہ بھتہ لینے افراد کا موقف ہے کہ وہ یہ رقم ’افغان جہاد‘ میں استعمال کرتے ہیں اور اسے ان افراد میں تقسیم کیا جاتا ہے جن کے عزیز رشتہ دار ’افغان جہاد‘ میں ہلاک یا زخمی ہو چکے ہیں۔

اڈہ مالک کے بقول ’شروع میں جب ہم نے بھتہ دینے سے انکار کیا تو ہمیں قتل کی دھمکیاں دی گئیں اور ہمارے بعض ڈرائیوروں کو افغان علاقوں میں روک کر ان کو اغوا کیا گیا اور ان کا سامان قبضے میں لے لیا گیا جس کے بعد اب ہمیں مجبوراً ان کی بات ماننی پڑ رہی ہے۔‘

انھوں نے کہا کہ پندو اور رنگ روڈ پر افغانستان کے تمام اڈوں میں صبح سے لے کر شام تک بھتہ لینے والے کارندے موجود ہوتے ہیں اور ہر ٹرک اور کنٹینر سے بلا خوف و خطر رقم وصول کرتے ہیں۔

اطلاعات ہیں کہ افغانستان جانے والے سیمنٹ کی گاڑیوں سے بھی باقاعدہ ’ٹیکس‘ کے نام پر بھتہ لیا جاتا ہے جو ایک اندازے کے مطابق لاکھوں ہے۔ پاکستان سے روزانہ سینکڑوں سیمنٹ اور دیگر تعمیراتی سامان کی گاڑیاں سرحد پار جاتی ہیں۔

(Visited 70 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT