پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفترمیں ہے, ارشاد احمد عارف

شیخ رشید درست کہتے ہیں، مولانا فضل الرحمن کے آگے کنواں ہے پیچھے کھائی، جب تک آزادی مارچ کے لئے انہوں نے تاریخ کا اعلان نہ کیا تھا اُن کی بارگیننگ پوزیشن بہت بہتر تھی، مسلم لیگ(ن) اور پیپلز پارٹی اپنے کارکنوں کے دبائو میں تھیں اعلیٰ قیادت پریشان تھی اور حکومت حیران کہ کہیں دونوں بڑی سیاسی جماعتیں مولانا کے ساتھ چل نہ پڑیں۔ چند سال پیشتر فواد چودھری نے جنرل پرویز مشرف کی جماعت کو چھوڑنے کا اعلان کیا تو میں نے رفاقت ترک کرنے کا سبب پوچھا، بولے جنرل صاحب بادشاہ آدمی ہیں انہوں نے وطن واپسی کی تاریخ دی اور پھنس گئے، ہم سیاسی کارکن ہیں جانتے ہیں کہ واپسی اُن کے بس میں نہیں، تاریخ سر پر آئی اور وہ وطن واپس نہ لوٹے تو ہمیں عوام اور کارکنوں کے روبرو وضاحتیں کرنا پڑیں گی اور شرمندگی الگ۔ تاریخ دیے بغیر واپسی کے ارادے ظاہر کرتے رہتے تو بات بنی رہتی، تاریخ تو آ جاتی ہے پھر کیا عذر پیش کریں گے۔ فواد چودھری کا اندازہ درست نکلا تاریخ آئی اور گزر گئی جنرل صاحب دبئی میں ہیں اور ان کی سیاست تاریخ کے کوڑے دان میں۔

مولانا کے اعتماد و یقین پر البتہ مسلم لیگ (ن) اور پیپلز پارٹی کے علاوہ ان کے اپنے ساتھی حیران ہیں، جس اعتماد کے ساتھ وہ اسلام آباد کے محاصرے اور حکومت کی رخصتی کی بات کر رہے ہیں وہ حکومت کے حوصلے تو پست نہیں کر سکا لیکن جمعیت علماء اسلام کے کارکنوں کے علاوہ جیالوں اور متوالوں کی ڈھارس بندھا رہا ہے۔ وہ ہر طرف سے مایوسی کے عالم میں سوچنے پر مجبور ہیں کہ ہو سکتاہے مولانا کہیں سے غیبی امداد کا بندوبست کر ہی لیں، کہ غضب کے سیاستدان ہیں، ایسے ہی ہنر مندوں کے لئے شاعر نے کہا تھا ؎

تم لوگ بھی غضب ہو کہ دل پر یہ اختیار

شب موم کر لیا، سحر آہن بنا لیا

حکمران جماعت تحریک انصاف کا معاملہ یہ ہے کہ وہ اپوزیشن کے دنوں میں اپنے دھرنے کا انجام دیکھ چکی ہے کہ عوام کا موڈ نہ ہو، اسٹیبلشمنٹ یکسوئی سے محروم اور حالات نا سازگار تو 126دن کا قیام بھی رائیگاں جاتا ہے بعض لوگوں کا مگر خیال ہے کہ مولانا اتنے ناداں نہیں کہ سایوں کے تعاقب میں چل پڑیں اور اس سادگی میں عزت سادات گنوا بیٹھیں۔ وہ آزادی مارچ کے کنویں میں گرے ہیں تو کچھ نہ کچھ دیکھ کر ہی گرے ہوں گے۔ چند روز قبل تک سیاست اور صحافت کے افق پر عمران خان اور حکومت کے بالمقابل میاں نواز شریف، آصف علی زرداری، بلاول بھٹو اور مریم نواز چھائے ہوئے تھے یا پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ کے دوسرے لیڈر، اب مولانا حکومت کے مدمقابل ہیں اور باقی سارے سیاسی لیڈر ان کے پیچھے یا دائیں بائیں ہاتھ باندھے کھڑے ہیں، ساتھ نہ چلنے والے بھی اخلاقی حمائت کا اعلان کر رہے ہیں، مخالفین بھی انہی کے لتّے لے رہے ہیں۔ میڈیا پر بھی مولانا کے چرچے ہیں اور بعض ستم ظریف چندہ مہم کو آزادی مارچ کے نقد منافع سے تعبیر کر رہے ہیں۔ ظاہر ہے کہ مولانا کے آزادی مارچ سے جن قیدیوں اور نیب، ایف آئی اے اور اینٹی کرپشن کو مطلوب ملزموں کو ڈھیل مل سکتی ہے وہ بھی دل کھول کر عطیات دیں گے کہ ہم خرما وہم ثواب۔ انہیں آزادی مارچ سے آسانی ملے نہ ملے عمران خان کو پریشانی ہو گی یہی غنیمت ہے۔

عمران حکومت کو اصل خطرہ مولانا سے ہے نہ دو واضح حصوں میں بٹی پیپلز پارٹی اور مسلم لیگ (ن) سے، کہ دونوں اندرونی تضادات کا شکار ہیں اور عوام کی نظرمیں ملک کے موجودہ مسائل کی اصل ذمہ دار، دو محاذوں پر حکومت تاحال عوامی نقطہ نگاہ سے ناکامی کا شکار ہے اور مخالفین کے الزامات کا تسلی بخش جواب دینے سے قاصر۔ قومی معیشت کی زبوں حالی کسی سے مخفی نہیں، ذمہ دار سابقہ حکمران سہی مگر ایک سال میں بگڑی معیشت کو سدھارنے کی کوششیں کامیابی کا مُنہ نہیں دیکھ سکیں، ملک کے بزنس لیڈرز سے آرمی چیف کی ملاقات کے بعد وزیر اعظم ملے اور شناختی کارڈ کے ایشو پر ان کی بات مانی، یہ کام عمران خان اور اس کی معاشی ٹیم کے ارکان گزشتہ ایک سال کے دوران خود کیوں نہ کر سکے؟ یہ اہم سوال ہے۔ اسد عمر، حفیظ شیخ، شبر زیدی نے ازخود یہ کارنامہ کیوں انجام نہ دیا اور عمران خان نے اقتدار میں آتے ہی معاشی اصلاحات کے لئے بزنس لیڈرز کو اعتماد میں لینے کی ضرورت محسوس کیوں نہ کی؟ موجودہ حکومت کی گورننس پر بھی سوالات اُٹھ رہے ہیں مثال کے طور پر مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے صوبائی حکومتیں اپنا فرض ادا کرنے سے کیوں قاصر ہیں۔ پہلے تو یہ الزام لگتا تھا کہ کاروباری برادری کو ناجائز منافع خوری کا موقع دے کر حکمران اپنے سیاسی مقاصد کی تکمیل کر رہے ہیں اب کیا جواز ہے، نااہلی، چشم پوشی یا غیر ذمہ داری۔ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ نے ملاقات میں بزنس لیڈرز کو بتایا کہ چین اور پاکستان کے درمیان بارہ ارب ڈالر کی تجارت ہوئی، مگر پاکستان میں چھ ارب ڈالر کی تجارت ظاہر کی گئی اور چھ ارب ڈالر انڈر انوائسنگ کا شکار ہو گئے۔ چھ ارب ڈالر کی یہ خطیر رقم کس کی جیب میں گئی، حکومت پتہ چلانے کی کوشش کر رہی ہے سوال یہ ہے کہ یہ بات حکومت کے کسی ذمہ دار فرد مثلاً حفیظ شیخ، حماد اظہر، شبر زیدی نے آج تک میڈیا کے ذریعے عوام کو کیوں نہیں بتائی اور قومی خزانے کو نقصان پہنچانے والے کاروباری افراد یا اداروں کو ایکسپوز کیوں نہیں کیا؟ناتجربہ کاری، نااہلی یا ملی بھگت؟ یہ صرف گورننس کی خرابی نہیں بلکہ کاروباری برادری کی قوت و طاقت سے لاعلمی کا شاہکار بھی ہے۔

سی پیک کے بارے میں مسلم لیگی لابی مسلسل پروپیگنڈا کر رہی ہے کہ امریکہ اور آئی ایم ایف کے دبائو پر یہ منصوبہ سست روی کا شکار ہے اور امریکی خوشنودی کی خاطر حکومت نے قوم کو سی پیک کے ثمرات سے محروم کر دیا ہے مگر مجال ہے کہ کسی ذمہ دار شخص نے آج تک میڈیا کے روبرو اس تاثر کی نفی کی ہو، رزاق دائود ایک بار سی پیک کو منجمد کرنے کا بیان دے کر چپ بیٹھ گئے لہٰذا عوام یقین کرنے لگے ہیں کہ مخالفین سچ بولتے ہیں، واقعی عمران خان کی حکومت کی پشت پناہ اسٹیبلشمنٹ امریکی جال میں پھنس چکی ہے۔ ایک محفل میں ہم نے یہی سوال چینی سفیر یائوجنگ سے کیا تو انہوں نے تاثر کو غلط قرار دیا۔ گزشتہ دنوں وزیر اعلیٰ بلوچستان جام کمال لاہور آئے تو ان سے بھی یہی سوال ہوا جس کا جامع جواب جام صاحب نے دیا اور وہ اقدامات گنوائے جن کے باعث منصوبہ تکمیل کے مراحل طے کر رہا ہے مگر نگارخانے میں یہ دونوں بیان طوطی کی آوازبن چکے ہیں اور عمران خان، خسرو بختیار، حفیظ شیخ میں سے کوئی زبان کھولنے کو تیار نہیں۔ حکومت معیشت کی بحالی اور گورننس کی بہتری کے لئے اچھے اقدامات کرے بھی تو اس کی مناسب تشہیر کو گناہ سمجھتی ہے مبادا میڈیا کو مالی فائدہ پہنچے اور وہ سکھ کا سانس لینے لگے۔ مولانا فضل الرحمن کا آزادی مارچ تو شاید کامیابی کا منہ نہ دیکھ سکے مگر حکومت نے اپنی غلطیاں نہ سدھاریں اور ناقص میڈیا و معاشی ٹیم کے ذریعے اپنے لیے گڑھا کھودتی رہی تو مولانا فضل الرحمن کی کدوکاوش کے بغیر اپنا نقصان کر بیٹھے گی۔ ایک سال بعد بھی اگر وہ اپوزیشن کی ناکامی اور بے بسی کو اپنی کامیابی و طاقت گردان رہی ہے تو یہ دانشمندی نہیں ع

پیش کر غافل عمل کوئی اگر دفترمیں ہے

(Visited 76 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT