کیا کبھی آپ نے غور کیا ہے کہ آپ کی ناف کے اندر کیا ہے؟ آئیں آج ہم آپ کو بتاتے ہیں۔

ناف کے بارے میں سب سے زیادہ مفصل تحقیق جارج اسٹائن ہاسر نامی سائنسدان نے کی اور اس کے لیے اس نے 3 سال تک اپنی ہی ناف کے تجزیے اور مختلف تجربات کیے۔

اسے علم ہوا کہ ناف میں معدے کے بال موجود ہوتے ہیں اور یہ جسم پر پہنے جانے والے کپڑے کے ننھے ننھے ذرات کو ناف کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔

ناف دراصل ایک زخم کا نشان ہے جو انسان کو دنیا میں آتے ہی دیا جاتا ہے۔ بچے اور ماں کے جسم کو آپس میں منسلک کرنے والی امبیلیکل کورڈ کو جب کاٹ دیا جاتا ہے تو پھر اس سے بننے والی ناف کا انحصار اس بات پر ہوتا ہے کہ یہ زخم کیسے مندمل ہوا۔

کچھ نافیں باہر کو نکلی ہوئی ہوتی ہیں جبکہ 90 فیصد اندر کی طرف ہوتی ہیں۔ اندر کی طرف والی ناف میں کپڑوں کے ٹکرے، بال اور جلد کے مردہ خلیات جمع ہوجاتے ہیں جبکہ ان میں بیکٹریا بھی ہوتے ہیں۔

ماہرین نے ایک تحقیق کے لیے 60 رضا کاروں کی ناف سے جمع کیے جانے والے اجزا میں 23 سو اقسام کے بیکٹریا دریافت کیی، یعنی ہر ناف میں اوسطاً 67 اقسام کے بیکٹریا موجود ہوتے ہیں۔

ان میں سے کچھ بیکٹریا ایسے ہوتے ہیں جو جسم کے دیگر حصوں پر بھی پائے جاتے ہیں جیسے اسٹیفلو کوکس جو بالوں، ناک اور حلق میں موجود ہوتے ہیں، تاہم ماہرین نے ان میں ایسے بیکٹریا بھی دریافت کیے جو انسانی جسم کے لیے بالکل اجنبی تھے۔ جیسے ماری مونس جو ماہرین نے صرف سمندر میں پایا تھا۔

اس کے علاوہ ناف میں وہ بیکٹریا بھی ہوتے ہیں جو شیفس پنیر بنانے کے لیے استعمال کرتے ہیں۔

ویسے تو ناف میں موجود بیکٹریا فائدہ مند ہوتے ہیں اور یہ جلد کے دفاعی نظام کو مضبوط بناتے ہیں، تاہم اگر آپ نے کبھی ناف کی صفائی نہیں کی تو ان میں موجود بے تحاشہ بیکٹریا خطرناک بھی ثابت ہوسکتے ہیں۔

غیر صاف شدہ ناف سے سب سے پہلے بو آئے گی اس کے بعد ناف انفیکشن کا شکار ہوجائے گی جس سے خارش اور سرخی پیدا ہوسکتی ہے۔

ناف کے لیے ایک اور خطرہ اندرونی طور پر بھی موجود ہے، یہ نیول ہرنیا یا بیلی بٹن ہرنیا ہوتا ہے۔

جب بچہ ماں کے جسم میں ہوتا ہے تو وہ نال کے ذریعے ماں سے منسلک ہوتا ہے۔ یہ نال ماں کےجسم سے ہوتی ہوئی بچے کے جسم تک جاتی ہے اور جسم کے اندر کھلتی ہے، پیدائش کے بعد جب ناف کو الگ کردیا جاتا ہے تو یہ کھلا حصہ بند ہوجاتا ہے۔

تاہم کبھی کبھار ایسا بھی ہوتا ہے کہ یہ کھلا حصہ ٹھیک سے بند نہیں ہوپاتا، اس کے باعث جسم کے بعض اعضا پھسل کر ناف کی طرف آجاتے ہیں اور ناف پر دباؤ پیدا کرتے ہیں۔

امریکا میں ہر 5 میں سے ایک بچہ اس ہرنیا کا شکار ہوتا ہے، تاہم یہ بچوں کے لیے جان لیوا نہیں ہوتا اور بالغ ہونے تک یہ نارمل ہوجاتا ہے۔

ماہرین کا کہنا ہے کہ ہفتے میں کم از کم ایک بار صابن ملے نیم گرم پانی سے اپنی ناف کو اچھی طرح ضرور دھونا چاہیئے تاکہ وہ صحت مند رہے۔

(Visited 440 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT