گستاخ رسول کی سزا اور توبہ کا کیا حکم ہے؟

 

السلام علیکم ورحمۃ اللہ وبرکاتہ! گستاخِ‌ رسول ﷺ کے بارے میں‌ شرعی احکام کیا ہیں؟ اس کی توبہ کا کیا حکم ہوگا؟ تفصیلی جواب عنایت فرمائیں

 

جواب:

Loading...

 

گستاخ رسول کی سزا اور اس کی توبہ کی قبولیت اور عدم قبولیت کے حوالے سے تین موقف پائے جاتے ہیں:

 

پہلا مؤقف:

موقف اوّل یہ ہے کہ اہانت رسالت مآب کا مرتکب بہر صورت واجب القتل ہے اور اس کی توبہ مطلقًا کسی صورت میں قبول نہیں کی جائے گی خواہ وہ قبل الأخذ یعنی مقدمے کے اندراج یا گرفتاری سے پہلے توبہ کرے یا بعد الأخذ مقدمے کے اندراج یا گرفتاری کے بعد تائب ہو، ہر صورت برابر ہے۔ کسی صور ت میں بھی قطعاً قبولیت توبہ کا اعتبار نہیں کیا جائے گا۔ اس موقف پر دلائل درج ذیل ہیں۔ قرآن مجید میں ہے:

 

وَلَئِنْ سَاَلْتَهُمْ لَيَقُوْلُنَّ اِنَّمَا کُنَّا نَخُوْضُ وَنَلْعَبُ ط قُلْ اَبِاﷲِ وَاٰيٰـتِهِ وَرَسُوْلِهِ کُنْتُمْ تَسْتَهْزِئُوْنَo لَا تَعْتَذِرُوْا قَدْ کَفَرْتُمْ بَعْدَ اِيْمَانِکُمْ ط

 

’’اور اگر آپ ان سے دریافت کریں تو وہ ضرور یہی کہیں گے کہ ہم تو صرف (سفر کاٹنے کے لیے) بات چیت اور دل لگی کرتے تھے۔ فرما دیجیے: کیا تم اللہ اور اس کی آیتوں اور اس کے رسول (صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ مذاق کر رہے تھے۔ (اب) تم معذرت مت کرو، بے شک تم اپنے ایمان (کے اظہار) کے بعد کافر ہوگئے ہو۔‘‘

 

التوبة، 9: 65، 66

 

مفسرین کرام اس آیت مبارکہ کی تفسیر میں فرماتے ہیں:

 

{قَدْ کَفَرْتُمْ} قد أظهرتم الکفر بإيذاء الرسول والطعن فيه.

 

’’تم کافر ہو چکے ہو یعنی تمہارا کفر حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو اذیت وتکلیف دینے، آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان اقدس میں طعن وتشنیع کرنے کی وجہ سے ظاہر ہوچکا ہے۔‘‘

 

عبد اﷲ بن عمر بيضاوی، أنوار التنزيل وأسرار التأويل، 3: 155، بيروت، لبنان: دارالفکر

أبو السعود محمد بن محمد، تفسير أبو السعود، 4: 80، بيروت، لبنان: دار احياء التراث العربي

آلوسي، روح المعاني، 10: 131، بيروت، لبنان: دارا حياء التراث العربي

دیگر مفسرین کرام کی اکثریت نے بھی یہی موقف اپنایا ہے۔ سورہ احزاب کی آیت مباکہ میں ہے:

 

اِنَّ الَّذِيْنَ يُؤْذُوْنَ اﷲَ وَرَسُوْلَهُ لَعَنَهُمُ اﷲُ فِی الدُّنْيَا وَالْاٰخِرَةِ وَاَعَدَّلَهُمْ عَذَابًا مُّهِيْنًاo

 

’’بے شک جو لوگ اللہ اور اس کے رسول ( صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو اذیت دیتے ہیں اللہ ان پر دنیا اور آخرت میں لعنت بھیجتا ہے اور اُس نے ان کے لیے ذِلّت آمیز عذاب تیار کر رکھا ہے۔‘‘

 

الاحزاب، 33: 57

 

اس آیت کریمہ سے علامہ ابن تیمیہ رحمہ اﷲ استدلال کرتے ہیں:

 

ان المسلم يقتل اذا سب من غير استتابة وان اظهر التوبة بعد اخذه کما هو مذهب الجمهور.

 

’’کوئی بھی مسلمان (جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے گا) اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے۔ اگر چہ وہ گرفتاری کے بعد توبہ کرلے یہی مذہب جمہور ہے۔‘‘

 

ابن تيمية، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 635، بيروت، لبنان: دار ابن حزم

 

علامہ ابن تیمیہ رحمہ اﷲ مزید بیان کرتے ہیں، نسبت رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہ ثابت ہے، شان رسالتمآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی و بے ادبی کا ارتکاب کرنے والے کی سزا تو بہ کا موقع دیئے بغیر اسے قتل کرنا ہے۔ حدیث رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم سے یہی بات سامنے آتی ہے:

 

فانه امر بقتل الذي کذب عليه من غير استتابه.

 

’’حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم نے اس شخص کے بارے میں بغیر توبہ کا موقع دیئے قتل کا حکم صادر فرمایا جس نے آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی طرف جھوٹ منسوب کیا۔‘‘

 

ابن تيمية، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 638

 

فتنہ اہانت رسول میں مسلم وغیر مسلم کا امتیاز روا نہیں رکھا جائے گا۔ دونوں پر حد کا اجراء ہوگا، کوئی بھی اس سے مستثنیٰ و مبراء نہ ہوگا۔ امام مالک رحمہ اﷲ نے اسی چیز کو واضح کرتے ہوئے فرمایا:

 

من سب رسول اﷲ أو شتمه أو عابه أو قتل مسلما کان أو کافراً ولا يستتاب.

 

’’جس شخص نے رسول اللہ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی یا عیب لگایا یا آپ کی تنقیص کی تو وہ قتل کیا جائے گا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اور اس کی توبہ بھی قبول نہیں کی جائے گی۔

 

ابن تيمية، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 572

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ نے فرمایا ہروہ شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی یا تنقیص واہانت کا مرتکب ہوا خواہ وہ مسلمان ہو یا کافر اس جسارت پر سزائے قتل اس پر لازم ہوجائے گی۔ مزید برآں فرماتے ہیں:

 

اری ان يقتل ولا يستتاب.

 

’’کہ میری رائے یہ ہے کہ اسے توبہ کا موقع دیئے بغیر قتل کر دیا جائے۔‘‘

 

امام احمد بن حنبل رحمہ اﷲ کے صاحبزادے فرماتے ہیں ایک روز میں نے والد گرامی سے پوچھا جو شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کرے آپ کی شان اقدس میں دشنام طرازی کا ارتکاب کرے تو ایسے شخص کی توبہ قبول کی جائے گی؟ اس پر آپ نے ارشاد فرمایا:

 

قد وجب عليه القتل ولايستتاب.

 

’’سزائے قتل اس پر واجب ہو چکی ہے اس کی توبہ بھی قبول نہیں ہوگی۔‘‘

 

ابن تيمية، الصارم المسلول علی شاتم الرسول، 3: 551

 

جو شخص حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی کا مرتکب ہو کیا اس کی توبہ قبول کی جائے گی؟ اس کے بارے میں امام زین الدین ابن نجیم حنفی فرماتے ہیں کہ ایسا شخص جو حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کے ساتھ قلبی طور پر بغض وعداوت رکھتا ہے وہ مرتد ہے جبکہ کھلم کھلا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دینے والا بطریق اولیٰ کافرومرتد ہے۔

 

يقتل عندنا حدا فلا تقبل توبته في إسقاطه القتل.

 

’’ہمارے نزدیک (یعنی مذہب احناف کے مطابق) اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور حد قتل کو ساقط کرنے کے حوالے سے اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

 

ابن نجيم، البحر الرائق، 5: 136، بيروت، لبنان: دارالمعرفة

 

امام ابن عابدین شامی حنفی رحمہ اﷲ شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں اہانت وگستاخی کے مرتکب کی سزا کے متعلق فرماتے ہیں:

 

فإنه يقتل حداً ولا تقبل توبته لأن الحد لايسقط بالتوبة، وأفاد أنه حکم الدنيا وأما عند اﷲ تعالیٰ فھي مقبولة.

 

اسے حداً قتل کر دیا جائے گا۔ اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی اس لئے کہ حد توبہ سے ساقط ومعاف نہیں ہوتی، یہ حکم اس دنیا سے متعلق ہے جبکہ آخرت میں اﷲ رب العزت کے ہاں اس کی توبہ مقبول ہوگی۔‘‘

 

ابن عابدين، رد المحتار، 4: 230، 231، بيروت، لبنان: دارالفکر

 

محمد بن علی بن محمد علائو الدین حصنی دمشقی المعروف حصکفی فرماتے ہیں:

 

الکافر بسب نبي من الأنبياء فإنه يقتل حدا ولا تقبل توبته مطلقا ولو سب اﷲ تعالیٰ قبلت لأنه حق اﷲ تعالیٰ والأول حق عبد لا يزول بالتوبة ومن شک في عذابه وکفره کفر.

 

’’انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی توہین کرکے جو شخص کا فر ہو اسے حداً قتل کردیا جائے گا اور اس کی توبہ کسی صورت میں قبول نہیںہوگی۔ اگر اس نے شان الوہیت میں گستاخی کی (پھر توبہ کی) تو اس کی توبہ قبول ہو جائے گی۔ اس لئے کہ یہ اللہ تعالیٰ کا حق ہے (جو توبہ سے معاف ہوجاتا ہے) جبکہ حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی شان میں گستاخی یہ حق عبد ہے جو توبہ سے زائل نہیں ہوتا اور جو شخص اس کے عذاب اور کفر میں شک کرے تو وہ کافر ہو جاتا ہے۔‘‘

 

حصکفي، الدر المختار، 4: 231، 232، بيروت، لبنان: دارالفکر

 

دوسرا مؤقف

دوسرا مؤقف یہ ہے کہ گستاخ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سزا حداً قتل ہی ہے لیکن قبولیت توبہ کے امکان کے ساتھ بایں طور پر اگر وہ قبل الأخذ گرفتاری یا مقدمے کے اندراج سے پہلے تائب ہو تو یہ توبہ لاسقاط الحد ہوگی۔ اس توبہ سے قتل کی سزا اٹھ جائے گی۔ اکثر شوافع اور بعض احناف نے اس موقف کو اختیار کیا ہے۔

 

امام ابو یوسف نے فرمایا کوئی بھی شخص جس نے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو گالی دی یا آپ صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی تکذیب اور عیب جوئی کی یا آپ کی شان اقدس میں تنقیص و اہانت کا مرتکب ہوا تو وہ کافر ہو جائے گا اور بیوی سے اس کا نکاح بھی ٹوٹ جائے گا۔

 

فإن تاب وإلا قتل.

 

’’اگر وہ توبہ کرے تو درست وگرنہ اسے قتل کر دیا جائے گا۔‘‘

 

ابن عابدين، ردالمحتار، 4: 234

 

امام ابن عابدین شامی نے امام اعظم ابو حنیفہ رحمہ اﷲ کا دوسرا قول اس طرح بیان کیا ہے:

 

إن کان مسلما يستتاب فإن تاب وإلا قتل کالمرتد.

 

’’اگر کوئی مسلمان (شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی کرے تو اس سے توبہ کا مطالبہ کیا جائے گا۔ پھر اگر وہ توبہ کرے تو بہتر ورنہ مرتد کی طرح قتل کر دیا جائے گا۔‘‘

 

ابن عابدين، ردالمحتار، 4: 233

 

احناف میں سے بعض ائمہ نے قبل الأخذ توبہ کی جو صورت بیان کی ہے اس کی وجہ یہ ہے کہ انہوں نے گستاخ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو بھی عام مرتدین کی صف میں شامل کرتے ہوئے اس پر بھی ارتداد کے احکام جاری کیے ہیں۔ چونکہ احناف کے نزدیک مرتد کو توبہ کا موقع دیا جاتا ہے۔ اتمام حجت کے لئے اس پر بھی توبہ پیش کی جاتی ہے ۔ مگر اس کے باوجود اسے تعزیراً قید بھی کیا جاتا ہے۔ غرضیکہ بعض ائمہ احناف نے حد ساقط کرنے کے لئے قبول توبہ کا جو قول کیا ہے اس میں سبب اختلاف ٹھہرا کہ ان کے نزدیک حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی بے ادبی وگستاخی اور اہانت و تنقیص ایسا کفر ہے جو باعث ارتداد ہے۔ اس لئے انہوں نے ارتداد کی صورت میں قبولیت توبہ کے احکام کا گستاخ رسول پر بھی اطلاق کر دیا ہے۔ بنابریں ان کے نزدیک اس کے لئے توبہ کی گنجائش پیدا ہوگئی ہے جبکہ بعض ائمہ نے تطبیق پیدا کرتے ہوئے فرمایا کہ امر واقعہ یہ ہے جو شخص حضور اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی گستاخی و اہانت کے سبب کافر ومرتد ہوا ہے وہ عام مرتدین سے مستثنیٰ ہے۔ عام مرتدین کے لئے اتمام حجت کے طور پر قبولیت توبہ کے معاملات ہوں گے جبکہ شاتم رسول کے لئے قبولیت توبہ کی کوئی صورت ہی نہیں۔ اسی چیز کو امام الشیخ زین الدین ابن نجیم حنفی رحمہ اﷲ ’’البحر الرائق‘‘ میں يعرض الاسلام علی المرتد (مرتد کو اسلام پیش کیا جائے) کے تحت عام مرتدین کے احکام بیان کرتے ہوئے حضور صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی اہانت کی بنا پر جو مرتد ہوا اسے اس سے مستثنیٰ قرار دیتے ہیں۔ ساتھ ہی کچھ اور مستثنیات کا بھی ذکر کرتے ہیں۔

 

يستثنی منہ مسائل الأولی الردة بسب النبي صلیٰ الله عليه وآله وسلم. والثانية الردة بسب الشيخين أبي بکر وعمر. والثالثة لا تقبل توبة الزنديق في ظاهر المذهب. والحق ان الذي يقتل ولا تقبل توبته هو المنافق والرابعة توبة الساحر.

 

’’ارتداد کے احکام میں سے چند مسائل مستثنیٰ ہیں، اس میں پہلا مسئلہ حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو سب وشتم کرنے کی وجہ سے مرتد ہونا ہے۔ دوسرا شیخین، حضرت ابو بکر صدیق اور حضرت عمر فاروق رضی اللہ عہنما کو گالی دے کر مرتد ہونا ہے۔ تیسرا زندیق۔ ظاہر مذہب میں ان کی توبہ قبول نہ ہوگی۔ اوردرست بات یہی ہے کہ جسے قتل کیا جائے گا اور جس کی توبہ قبول نہ ہوگی وہ منافق ہے۔ چوتھا جادوگر کہ اس کی توبہ قبول نہیں ہوگی۔‘‘

 

ابن نجيم، البحرالرائق، 5: 135، 136

 

امام حصکفی رحمہ اﷲ بھی عام مرتدین کے احکام سے گستاخ رسول صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کو مستثنیٰ قرار دیتے ہوئے فرماتے ہیں:

 

کل مسلم ارتد فتوبته مقبولة إلا الکافر بسب نبی من الانبياء فإنه يقتل حداً ولا تقبل توبته مطلقا.

 

’’ہر مسلمان جو مرتدہوا اس کی توبہ قبول ہوگی سوائے اس کافر کے جو انبیاء علیہم السلام میں سے کسی نبی کی گستاخی کے باعث کافر ہوا اسے حداً قتل کر دیا جائے گا اور مطلقا (قبل الاخذ اور بعد الاخذ) اس کی توبہ قبول نہیں کی جائے گی۔‘‘

 

حصکفی، الدرالمختار، 4: 231، 232

 

تیسرا مؤقف

تیسرا مؤقف پہلے مؤقف کی ہی تائید ہے۔ سزائے قتل حداً واجب ہے۔ توبہ بھی قبول نہیں، فرق صرف اتنا ہے کہ مؤقف ثانی کے مطابق قبل الأخذ قبولیت توبہ کا مفہوم ان کے ہاں عند اللہ مقبولیت کا ہے، عند الناس قبولیت مراد نہیں۔ اس کی توبہ سے آخرت کی سزا وعقوبت تو مرتفع ہوجائے گی۔ مگر توبہ سے حد قتل قطعاً ساقط نہیں ہو گی۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ موقف ثالث کے مطابق قبل الأخذ عندا للہ قبولیت توبہ سے اس شخص کو یہ فائدہ ہو گا کہ سزائے موت کے بعد اس پر احکام اسلام کا اجراء ہوگا، نماز جنازہ ادا کی جائے گی، تکفین وتدفین میں بھی اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا سلوک کیا جائے گا۔

 

اس ساری بحث کا خلاصہ یہ ہے کہ درحقیقت تیسرا موقف بھی پہلا مؤقف ہی ہے۔ بایں وجہ اس میں بھی قبولیت توبہ کو اسقاط قتل کے ساتھ متعلق نہیں کیا گیا بلکہ قبولیت توبہ کا تعلق عند اللہ مقبولیت کے ساتھ خاص ہے اور اس کے وقت موت، مسلم و غیر مسلم ہونے کے ساتھ مختص ہے کیونکہ اس بناء پر ہی تو فیصلہ کیا جائے گا کہ کیا اس کا نماز جنازہ پڑھا جائے اور اس کی تکفین و تدفین کی جائے یا نہ کی جائے۔ پہلے اور تیسرے موقف میں یہی بات قدرے مشترک ہے کہ سزائے موت کسی بھی صور ت میں مرتفع نہ ہو گی۔ بہر صورت اس کا نفاذ ہو گا سو اس اعتبار سے تیسرا موقف بھی حقیقتًا پہلا موقف ہی قرار پاتا ہے۔

 

امام ابن عابدین شامی تیسرے موقف کے حوالے سے گستاخ رسول کی مطلقًا عدم قبولیت توبہ اور اس پر بہر صورت حد قتل کے اجراء ونفاذ او ربعد از توبہ اس پر مسلمانوں کے احکام جاری کرنے کے متعلق فرماتے ہیں:

 

فيجب قتل هؤلاء الأشرار الکفار تابوا أو لم يتوبوا، لأنهم إن تابوا وأسلموا قتلوا حداً علي المشهور وأجري عليهم بعد القتل احکام المسليمن وإن بقوا علی کفرهم وعناد هم قتلوا کفراً وأجری عليهم بعد القتل أحکام المشرکين.

 

’’(شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں گستاخی وبے ادبی کرنے والے) ایسے شریر وگستاخ کفار کو قتل کرنا واجب ہے خواہ یہ توبہ کریں یا نہ کریں۔ اس لئے کہ اگر یہ (گستاخی و اہانت کے بعد) توبہ کر لیں اور دوبارہ مسلمان ہو بھی جائیں تو انہیں مذہب مشہور کے مطابق حداً قتل کر دیا جائے گا۔ (توبہ اور دوبارہ اسلام قبول کرنے کی وجہ سے) قتل کے بعد ان پر مسلمانوں کے احکام (تدفین وتکفین ) جاری کیے جائیں گے اور اگر یہ اپنے کفر اور عداوت ودشمنی پر قائم رہیں تو انہیں کفر وارتداد کی وجہ سے قتل کر دیا جائے گا۔ اور قتل کے بعد ان پر مشرکین کے احکام جاری کیے جائیں گے۔‘‘

 

ابن عابدين، تنقيح الفتاوی الحامدية، 1: 103، بيروت، لبنان: دارالفکر

 

گویا شان رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم میں کوئی فرد جس لمحے ادنیٰ سی گستاخی وبے ادبی، اہانت واستخفاف اور تحقیر و تنقیص کا مرتکب ہو۔ اس پر اسی وقت حد قتل لازم ہو جائے گی، یہ کسی بھی صورت میں ٹل نہیں سکتی۔ ناموس رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر حملہ کرنے والے کی توبہ مطلقاً قبول نہ ہوگی۔ ہاں صرف اس حد تک اسے فائدہ پہنچے گا کہ اگر حد قتل کے اجراء سے قبل اس نے صد ق دل سے توبہ کرلی تو اسے توبہ کے نتیجے میں بعد از اجراء حد اس کے ساتھ مسلمانوں جیسا ہی سلوک جائے گا۔ اس کی تدفین وتکفین اور نماز جنازہ بھی پڑھی جائے گی۔ اس کے برعکس اگر وہ گستاخی رسول پر حد قتل کے اجراء تک قائم رہے یوں ہمیشہ کیلئے اپنی تباہی و بربادی کا سامان بھی کرتا رہے اور اہانت رسالت مآب صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم پر بھی مصر رہے تو ایسے گستاخ کے ساتھ کفار ومشرکین جیسا ہی سلوک کیا جائے گا اور اسے قتل کرنے کے بعد مٹی کا گڑھا کھود کر دفن کر دیا جائے گا۔

 

خلاصہ کلام:

ہمارے نزدیک حضور نبی اکرم صلیٰ اللہ علیہ وآلہ وسلم کی ادنیٰ سی گستاخی و بےادبی، توہین و تنقیص، تحقیر و استخفاف، صریح ہو یا بانداز اشارہ و کنایہ، ارادی ہو یا بغیر ارادی بنیت تحقیر ہو یا بغیر نیت تحقیر، گستاخی کی نیت سے ہو یا بغیر اس کے حتیٰ کہ وہ محض گستاخی پر دلالت کرے تو اس کا مرتکب کافر و مرتد اور واجب القتل ہے۔

 

اب رہی بات کہ گستاخ رسول کا تعین اور سزا لاگو کون کرے گا؟ اس کا جواب یہ ہے کہ ریاست اور قانون کے ہوتے ہوئے کسی فرد واحد یا جماعت کو قانون ہاتھ میں لینے کی اجازت ہرگز نہیں ہے۔ ہاں اگر عدالتیں انصاف مہیا نہ کررہی ہوں تو قوم کا فرض بنتاہے کہ جدوجہد کریں اور نظام تبدیل کروائیں۔ مگر یہ اعتراض کرنا غلط ہے کہ عدالتیں انصاف مہیا نہیں کرتیں تو قانون کو ہاتھ میں لے لیا جائے۔ طاقت عوام کے ہاتھ میں ہوتی ہے۔ عوام چاہے تو بحیثیت قوم اٹھے اور بوسیدہ نظام کو جڑ سے اکھاڑ پھینکے تاکہ ہر ایک کو عدل وانصاف مل سکے۔

Fitwa Source

(Visited 144 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT