Indian administrated kashmir, sheeling over protesters leave many injured, watch latest report

کشمیر میں انڈیا مخالف مظاہرے، چھرے لگنے سے درجنوں زخمی

نریندر مودی کی حکومت کی جانب سے انڈیا کے زیرِ انتظام کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کرنے کے خلاف کشمیر میں مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے اور مظاہرین پر پولیس کی فائرنگ سے متعدد افراد زخمی ہوئے ہیں۔

سری نگر سے بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق مظاہروں کا سلسلہ جاری ہے جبکہ جمعے کو بڑے پیمانے پر انڈیا مخالف مظاہرے ہوئے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جمعے کی نماز کے بعد سخت ترین کرفیو کے باوجود ہزاروں افراد نے صورہ کے علاقے میں احتجاجی مارچ کیا اور انڈیا مخالف نعرے بازی کی۔

نامہ نگار کے مطابق جلوس کے شرکا ’ہم کیا چاہتے آزادی‘، ’انڈیا واپس جاؤ‘ اور ’انڈیا کا آئین نامنظور‘ کے نعرے لگاتے رہے۔

اس جلوس میں بچے، جوان اور بوڑھے کشمیریوں کی بڑی تعداد شریک تھی اور جلوس پر پولیس کی فائرنگ سے درجنوں افراد کے زخمی ہونے کی بھی اطلاعات ہیں جن میں سے کئی کی حالت تشویشناک بتائی جاتی ہے۔

سرینگر کے قمرواری علاقے میں پولیس نے مشتعل ہجوم کا تعاقب کیا تو کچھ نوجوان دریا میں کود پڑے جس کے باعث ایک نوجوان غرقاب ہو گیا۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ گذشتہ پانچ روز کے دوران پرتشدد مظاہروں کے تقریباً 100 واقعات پیش آئے ہیں جن میں بیس سے زیادہ افراد چھرے اور اشک آور گیس کے گولے لگنے سے زخمی ہوئے ہیں۔

اس سے قبل سری نگر میں ہی موجود بی بی سی کے نمائندے عامر پیرزادہ نے بتایا تھا کہ سری نگر کے مختلف ہسپتالوں سے حاصل کردہ اعدادوشمار کے مطابق مجموعی طور پر کم از کم 52 افراد کو چھرّوں سے زخمی ہونے کی وجہ سے ہسپتالوں میں لایا گیا ہے جن میں سے کم از کم تین افراد کی حالت تشویشناک بتائی گئی ہے۔

کشمیر میں نیم فوجی اہلکاروں کی جانب سے مظاہرین کو منتشر کرنے کے لیے ماضی میں بھی چھرّوں والے کارتوسوں کا استعمال کیا جاتا رہا ہے جس پر عالمی سطح پر تنقید بھی ہوتی رہی ہے۔

نامہ نگار کا کہنا ہے کہ گذشتہ 30 برس میں سخت ترین کرفیو اور مواصلاتی مقاطعے کی وجہ سے افواہوں میں بھی اضافہ ہو رہا ہے۔ تاہم گورنر ایس پی ملک نے اعلان کیا ہے کہ لوگوں کو عید منانے میں تکلیف نہیں ہو گی، کیونکہ ‘مختلف علاقوں میں غذائی اجناس کی موبائل گاڑیاں بھیجی جائے گی، سبزیوں اور گوشت کے لیے منڈیاں قائم ہوں گی جن تک لوگوں کی رسائی ممکن ہوگی۔’

جمعے کو شہریوں کو اپنی مقامی مساجد میں نمازِ جمعہ ادا کرنے کی اجازت تو دی گئی تاہم سری نگر کی جامع مسجد کو بند رکھا گیا۔

کارگل میں صورتحال

ادھر کارگل میں عوام نے لداخ کو مرکز کے زیرِانتظام علاقہ بنانے اور وہاں اسمبلی قائم نہ کرنے کے خلاف مظاہرے کیے ہیں جن کے بعد پولیس نے متعدد افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

کارگل میں موجود بی بی سی کے نامہ نگار زبیر احمد کے مطابق انڈین حکومت کے فیصلے کے بعد سے علاقے میں ماحول شدید تناؤ کا شکار ہے اور کارگل کے لوگ مرکزی حکومت سے کافی ناراض دکھائی دیتے ہیں

ان کا کہنا ہے کہ عوام اس بات پر برہم ہیں کہ کارگل کو لداخ میں شامل کیا گیا ہے اور انھیں ایک قانون ساز اسمبلی بھی نہیں دی گئی جس کا مطلب یہ ہے کہ وہ ووٹ ڈالنے کے اہل بھی نہیں ہیں۔

نامہ نگار کے مطابق چار دن سے کارگل مکمل طور بند ہے اور لوگوں نے جمعے کو بھی احتجاجاً دکانیں بند کر رکھیں۔

زبیر احمد کا کہنا ہے کہ کارگل میں پولیس اور نیم فوجی دستوں کی بھاری نفری تعینات ہے اور نوجوانوں کی جانب سے پولیس پر پتھراؤ کے واقعات کے بعد چند نوجوانوں کو پولیس نے حراست میں بھی لیا ہے۔

‘چین پاکستان کے سلامتی کونسل میں جانے کی حمایت کرتا ہے’

پاکستان کے وزیر خارجہ مخدوم شاہ محمود قریشی نے بھی چینی ہم منصب سے ملاقات کے بعد کہا ہے کہ چین نے کشمیر کے معاملے پر پاکستان کے سلامتی کونسل میں جانے کی حمایت کا اعلان کیا ہے۔

چین کے وزیرِ خارجہ وانگ ژی سے ملاقات کے بعد جمعے کی شب اپنے ایک ویڈیو پیغام میں انھوں نے کہا کہ ملاقات کے دوران چین کے وزیرِ خارجہ نے اس بات پر اتفاق کیا کہ انڈیا کے اس اقدام سے اس کے زیرِ انتظام جموں و کشمیر کی حیثیت اور ہیئت میں تبدیلی واقع ہوئی ہے۔

شاہ محمود قریشی کے مطابق پاکستان نے اس معاملے پر سلامتی کونسل میں جانے کا جو فیصلہ کیا ہے، چین اس کی حمایت کرے گا۔ انھوں نے مزید بتایا کہ اس بات پر بھی اتفاق ہوا ہے کہ انڈین اقدامات سے خطے کے امن و استحکام کو خطرات لاحق ہو سکتے ہیں۔

وزیرِ خارجہ نے بتایا کہ پاکستان اور چین کا مشترکہ مؤقف ہے کہ جموں و کشمیر ایک متنازع علاقہ تھا اور ہے۔ ‘اقوام متحدہ نے اسے (متنازع علاقہ) تسلیم کیا ہے اور اس کا حل بھی اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں ہونا چاہیے۔’

واضح رہے کہ پاکستان کے وزیرِ خارجہ شاہ محمود قریشی جمعرات کو رات گئے چین کے دورے پر روانہ ہوئے تھے۔

پاکستان انڈیا کی جانب سے انڈین آئین کی شق 370 کے تحت ریاست جموں و کشمیر کو حاصل خصوصی حیثیت کے خاتمے کے حوالے سے مختلف ممالک کے سفراء و مندوبین کو اپنی پوزیشن سے آگاہ کر رہا ہے۔

اسی تناظر میں پاکستان کے وزیرِ اعظم عمران خان نے چند دن قبل ملائیشیا کے وزیرِ اعظم مہاتیر محمد اور ترکی کے صدر رجب طیب اردوگان سے ٹیلی فون پر بات کی تھی

Source https://www.bbc.com/urdu/amp/regional-49303148?__twitter_impression=true


(Visited 22 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT