Kashmir ki Kahani کشمیر کی کہانی سیریز – Rauf Klasra

کشمیر کہانی… (1)

ہندوستان کی تقسیم کا اعلان ہو چکا تھا۔ ہندوستان کے آخری وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن کو کشمیر کے مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ بیٹھے ہوئے‘ دہلی سے سری نگر آنے سے پہلے سردار پٹیل کے ساتھ ہونے والی وہ خفیہ گفتگو یاد آئی جس کی وجہ سے وہ اب کشمیر آئے تھے۔ مائونٹ بیٹن کو احساس تھاکہ وہ بہت اہم مشن پر سری نگر آئے ہوئے ہیں اور وہ اس مشن کی ناکامی افورڈ نہیں کر سکتے۔ ہری سنگھ معمولی راجہ نہیں تھا۔ وہ ایک ایسی ریاست کا راجہ تھا جو اسے باپ دادا سے ملی تھی‘ جہاں پاکستان، ہندوستان، چین اور تبت کی سرحدوں نے ملنا تھا۔ راجہ ہری سنگھ اور مائونٹ بیٹن کی یہ پہلی ملاقات نہیں تھی۔ مائونٹ بیٹن کو یاد آیا‘ وہ برسوں پہلے اسی کشمیر میں پرنس ویلز کے ساتھ آیا تھا اور انہوں نے یہاں سرسبز میدانوں میں پولو اکٹھے کھیلی تھی۔ ایک دوسرے کے ساتھ بیٹھے راجہ اور وائسرائے کو اپنی جوانی کے وہ دن یاد آئے‘ جب دونوں سرپٹ دوڑتے گھوڑوں پر سوار تھے۔ وہ اپنے گھوڑوں کی سموں کی آوازیں آج بھی محسوس کر سکتے تھے۔مائونٹ بیٹن کی جانب سے آزادی کے اعلان کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں موجود 565 ریاستوں کے راجوں‘ مہاراجوں میں تھرتھلی مچ گئی تھی۔ انہوں نے کبھی نہیں سوچا تھا کہ ایک دن انہیں اپنی ریاستوں سے ہاتھ دھونا پڑیں گے‘ انہوں نے جو ٹائٹل پہلے برٹش حکومت کو سرنڈر کیے تھے‘ اب دوبارہ بھارتی یا پاکستانی حکومت کو سرنڈر کرنا ہوں گے۔ ان کے لیے یہ خیال ہی قیامت سے کم نہ تھا کہ وہ اب اپنی اپنی ریاستوں کے عوام کے سیاہ و سفید کے مالک نہیں ہوں گے بلکہ یہ بھی ممکن تھا کہ غالباً پاکستان یا ہندوستان میں ان پر مقدمے چل سکتے تھے اور انہیں عام لوگوں کی طرح ٹرائل کا بھی سامنا کرنا پڑ سکتا تھا۔ ان کی تمام مراعات اور عیاشیاں ختم ہونے جارہی تھیں۔ بہت سارے راجے بٖغاوت پر اترے ہوئے تھے اور وہ اتنی آسانی سے انگریز سرکار کی تقسیم سے خوش ہونے والے نہیں تھے۔ وہ سب چاہتے تھے وہ اسی طرح آزاد رہیں جیسے انگریز حکومت کی وفاداری کا حلف اٹھانے سے پہلے وہ تھے۔ ان راجوں کا ایک وفد مائونٹ بیٹن سے بھی ملا تھا جس میں انہوں نے جہاں اپنے خدشات کا اظہار کیا تھا وہیں انہوں نے فرنگی سرکار کو اپنی ان خدمات کا بھی حوالہ دیا تھا جو وہ ان برسوں میں انجام دیتے آئے تھے۔ وہ راجے اب چاہتے تھے کہ جب انگریز ہندوستان سے واپس جا رہا ہے تو کوئی جواز نہیں بنتا کہ وہ انہیں پاکستان یا ہندوستان کے درمیان بانٹ کر چلا جائے اور وہ تخت سے ہاتھ دھو بیٹھیں۔ راجے چاہتے تھے کہ واپس جاتے ہوئے گورے ان کا وہی سٹیٹس بحال کرکے جائیں جو ان کے آنے سے پہلے تھا۔ بہت سارے راجوں‘ مہاراجوں کو مائونٹ بیٹن ذاتی طور پر جانتا تھا۔ کچھ تو اس کے بہت قریبی دوست تھے۔ جب وہ پرنس آف ویلز کے ساتھ برسوں پہلے ہندوستان آیا تھا تو وہ بہت ساری ریاستوں میں ان راجوں‘ مہاراجوں اور شہزادوں کا مہمان بنا رہا تھا۔ اس نے ان کی ریاستوں میں بہت اچھا وقت گزارا تھا۔ ان راجوں کے ہاں اس نے ہاتھی کی پیٹھ پر بیٹھ کر شکار کھیلے تھے، زبردست قسم کی دعوتیں اڑائی تھیں۔ اور تو اور ایک راجے کے ہاں تو اس نے ایک انگریز گوری کے ساتھ بال روم میں ڈانس بھی کیا تھا جس کے بعد اس نے شادی کر لی تھی۔شاید یہی وجہ تھی کہ ہندوستان کے یہ راجے مہاراجے، پٹیالہ کے مہاراجہ کے ہاں اکٹھے ہوئے تھے‘ جہاں انہوں نے وائسرائے پر دبائو ڈالا تھا کہ وہ اس بات پر غور کرے کہ اگر ہندوستانی سیاستدان ہندوستان کو تقسیم کر سکتے ہیں تو وہ راجے مہاراجے ہندوستان کو تباہ بھی کر سکتے ہیں۔ ان راجوں کے ذہن میں تھا کہ اگر ان کی نہ مانی گئی تو پھر وہ اپنی اپنی ریاستوں کی آزادی کے لیے اپنے ہاں نسل، مذہب، قوم، زبان، رنگ کی جنگ کو ابھار کر پورے ہندوستان میں آگ لگا سکتے ہیں۔ ان شہزادوں کے پاس اپنی پرائیویٹ آرمی تھی‘ جیٹ جہاز تھے، اور سب سے بڑھ کر یہ لوگ ہندوستان میں ریلوے لنکس، کمیونیکیشن سسٹم کو ناکارہ کرکے انتشار پھیلا سکتے تھے۔ ٹیلی فون، ٹیلی گرام سب کچھ ان کے ہاتھ میں تھا۔ اور تو اور یہ کمرشل فلائٹس کو بھی ڈسٹرب کر سکتے تھے۔اب وائسرائے کیلئے ان کی دھمکیوں کے آگے جھک جانے کا مطلب تھا کہ پورے برصغیر کو ہی ایک ایسے آتش فشاں پر چھوڑ دیا جائے‘ جو پھٹ کر پورے ہندوستان‘ پاکستان کو تباہ کر سکتا تھا۔ سینکڑوں ریاستیں کیسے ایک ساتھ رہ سکتی تھیں‘ خصوصاً جب ان کے ایک دوسرے سے شدید اختلافات ہوں اور جن کا رنگ، نسل، مذہب، زبان تک ایک دوسرے سے مختلف ہوں۔ یہ ایک دوسرے سے لڑتے رہیں گے اور چین یقینا اس سے خوش ہوگا‘ اس لیے چین بھی گوروں کے ذہن میں تھا۔اس حوالے سے کسی نتیجے پر پہنچنے سے پہلے وائسرائے ہند نے جو پلان بنا کر لندن بھیجا تھا‘ وہ کچھ ترامیم کے ساتھ واپس بھیجا جا چکا تھا۔ مائونٹ بیٹن کے ذہن میں آیا کہ کیوں نہ وہ یہ پلان نہرو کو دکھا دیں۔ لارڈ مائونٹ بیٹن عمر بھر اپنے اندرونی وجدان پر بھروسہ کرتا آیا تھا‘ اور اس کے خدشات ہمیشہ درست نکلتے تھے۔ نہرو کو وہ پلان دکھانے سے پہلے مائونٹ بیٹن نے اپنے سٹاف کے ساتھ یہ بات شیئر کی تو وہ دہشت زدہ ہو گیا۔ سٹاف نے وائسرائے کو بتایا کہ یہ بہت خطرناک آئیڈیا ہے۔ اگر اس کی بھنک مسلمانوں کے راہنما قائد اعظم محمد علی جناح کو پڑ گئی تو سارا پلان خطرے میں پڑ جائے گا۔ مسلمان یہ سمجھیں گے کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوا ہے‘ وائسرائے نے نہرو اور کانگریس کے ساتھ مل کر اپنی مرضی کا پلان بنا کر اس کی منظوری لندن سے لے لی ہے۔وائسرائے ہند بڑے غور سے اپنے سٹاف کے خدشات سنتا رہا‘ جو اسے روک رہے تھے کہ اسے ہندوستان کی تقسیم کا پلان نہرو کے ساتھ شیئر نہیں کرنا چاہیے۔ وہ اپنی انگلیاں اپنے سامنے پڑی میز پر دھیرے دھیرے بجا کر گہری سوچ میں غرق رہا۔ جب اس کے سٹاف نے وہ سب باتیں کر لیں تو وائسرائے بولا: آپ سب لوگ درست ہیں۔ عقل کا یہی تقاضا ہے کہ یہ پلان نہرو کو نہیں دکھانا چاہیے۔ اس سے مسائل پیدا ہو سکتے ہیں۔ آپ لوگوں کی باتوں میں بہت وزن ہے۔ پھر وائسرائے نے گہری سوچ سے نکلتے ہوئے کہا: وہ عمر بھر اپنی اندرونی آوازوں کو سنتا آیا ہے اور اب کوئی اندرونی آواز کہہ رہی ہے کہ اسے پلان نہرو کو دکھا کر اس کی رائے لینی چاہیے۔لارڈ مائونٹ بیٹن کا بار بار اپنے گمان کی طرف اشارہ دراصل فروری 1941ء کے حوالے سے تھا‘ جب وہ جنگ عظیم دوم کے دوران برٹش نیوی کو کمانڈ کر رہا تھا۔ وہ اپنے بحری جہازوں کو Bicay کے ذریعے جبرالٹرز کی طرف جا رہا تھا‘ جب انہیں اطلاع ملی کہ دو جرمن بحری جہاز بھی Saint Nazire کی طرف جا رہے ہیں۔ انہیں کہا گیا کہ وہ ان جرمن جہازوں کو پکڑیں۔ اس پر لارڈ مائونٹ بیٹن نے اپنے عملے کو Brest کی طرف رخ موڑنے کا کہا۔ عملے نے احتجاج کیا کہ ہمیں بتایا گیا ہے کہ جرمن بحری جہازوں کو Saint Nazire کے ذریعے جا کر پکڑیں نہ کہ Brest کی جانب سے۔ اس پر مائونٹ بیٹن نے کہا: میرا وجدان کہتا ہے کہ ہمیں Brest جانا چاہیے۔ میں اگر ان جرمن بحری جہازوں کا کپتان ہوتا تو میں سورج ڈوبنے کے بعد Saint Nazire کا روٹ نہ لیتا بلکہ Brest کے روٹ کو ترجیح دیتا۔ وہی ہوا۔ مائونٹ بیٹن اپنے جہازوں کو اسی طرف لے گیا اور جرمن جہاز وہیں سے گزر رہے تھے۔یہی وجہ تھی کہ اب ایک دفعہ پھر لارڈ مائونٹ بیٹن کا وجدان کہہ رہا تھا کہ اسے لندن پلان سامنے لانے سے پہلے نہرو کو خفیہ طور پر یہ پلان پڑھوانا چاہیے۔ اسی رات مائونٹ بیٹن نے نہرو کو اپنی سٹڈی میں بلایا اور لندن پلان کا ایک مسودہ اس کے حوالے کرکے کہا: اسے پڑھیں اور بتائیں‘ اگر اسے اوپن کیا جائے تو کانگریس کا کیا ردعمل ہوگا؟ نہرو نے خود کو بہت اہم تصور کیا کہ وائسرائے ہند اسے وہ مسودہ دکھا رہا تھا جو ابھی تک کسی اور کے پاس نہیں تھا۔ نہرو خوشی خوشی مسودہ گھر لے گیا اور رات کو ہی اسے پڑھنا شروع کر دیا۔ جوں جوں نہرو تقسیم کا مسودہ پڑھتا گیا اور کا رنگ فق ہوتا چلا گیا ۔ جب نہرو آخری صفحے پر پہنچا تو وہ تقریباً چیخ پڑا کہ یہ لارڈ مائونٹ بیٹن ہندوستان کی تقسیم کا کیاخوفناک منصوبہ بنا کر بیٹھا ہے۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(2)

نہرو نے سوچا بھی نہ تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اس طرح کا منصوبہ بنا کر بیٹھا ہے جس کے مطابق وہ ہندوستان میں دو نہیں بلکہ درجن بھر آزاد ملک چھوڑ کر جانا چاہتا تھا۔اس پلان کے تحت لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کیا ہوا کہ پاکستان کے علاوہ بنگال بھی آزاد ملک بنے گا۔ نہرو یہ سوچ کر ہی کانپ گیا کہ وہ بھارت جس کی آزادی کے لیے سب لڑتے رہے تھے اس کا اہم علاقہ ایک آزاد ملک بنے گا؟ بنگال‘ جو ہندوستان کا دل تھا‘ ہمیشہ کے لیے اس کے سینے میں ایک آزاد ملک بن کر پیوست رہے گا۔ بنگال کوکھونا وہ کیسے افورڈ کر سکتے تھے؟ کلکتہ ایک تاریخی ساحلی شہر اور اس کے کارخانے، ملیں، سٹیل ورکرز سب کچھ ہندوستان کے ہاتھ سے نکل جائے گا۔ پھر کشمیر، جہاں وہ پیدا ہوا تھا وہ اب آزاد ریاست کے طور پر ہندوستان کے ایک کونے میں جنم لے گا اور اس پر ہری سنگھ جیسا راجہ راج کرے گا جس سے وہ نفرت کرتا تھا۔ اور اس سے بڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کے پلان میں یہ بھی شامل تھا کہ ہندوستان کے دل میں حیدر آباد دکن کی شکل میں ایک آزاد مسلمان ریاست بنائی جائے گی۔ ان کے علاوہ اس پلان میں چند اور بھی شاہی ریاستیں شامل تھیں جنہیں لارڈ مائونٹ بیٹن پلان کے تحت آزادی ملنا تھی۔نہرو کو سمجھ آ رہی تھی کہ انگریز جان بوجھ کر ہندوستان کو درجنوں نئے ملکوں میں بانٹ رہے تھے تاکہ وہ کبھی ایک طاقتور ملک کے طور پر نہ ابھر سکے‘ ہمیشہ یہ چھوٹے موٹے ملک آپس میں لڑتے رہیں اور کمزور رہیں۔ انگریزوں نے ہندوستان کو تین سو سال تک ”تقسیم کرو اور حکومت کرو‘‘ کے اصول پر چلایا تھا‘ اور اب ہندوستان کو چھوڑنے سے پہلے کمزور کرکے جارہے تھے۔ اب انگریزوں کا نیا منصوبہ تھا ”بانٹو اور چھوڑ دو‘‘۔ نہرو نے اپنے ہاتھ میں مائونٹ بیٹن کا دیا ہوا مسودہ پکڑا اور اپنے قریبی معتمد خاص کرشنا مینن کے بیڈ روم میں گیا‘ جو اس کے ساتھ شملہ گیا ہوا تھا۔ انتہائی غصے کی حالت میں نہرو نے وہ مسودہ اس کے بستر پر پھینکا اور بولا ”سب کچھ ختم ہو چکا ہے‘‘۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو اپنے دوست نہرو کے اس سخت ردعمل کا اندازہ اگلی صبح ہوا جب اسے ایک خط ملا جو نہرو نے اسے لکھا تھا۔ اس خط کو پڑھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن کو یوں لگا جیسے اس پر کسی نے بم دے مارا ہو۔ وہ یہ توقع رکھے پوری رات سکون سے سوتا رہا تھا کہ اس نے نہرو کو جو پلان پڑھنے کو دیا تھا وہ نہرو کو پسند آئے گا اور نہرو جا کر کانگریس کو بھی اس پلان پر قائل کر لے گا اور یوں وہ یعنی لارڈ مائونٹ بیٹن‘ جسے لندن سے خصوصاً بھیجا گیا تھا کہ اس نے انیس سو اڑتالیس تک ہندوستان کو آزاد کرنے کا پلان منظور کرنا ہے‘ وہ کام جلدی نمٹا لے گا اور دوبارہ سمندری پانیوں میں لوٹ جائے گا۔ وہ کام جو اسے بہت پسند تھا۔ جب مائونٹ بیٹن نے وہ خط پڑھنا شروع کیا تو اسے یوں لگا کہ اس نے پچھلے چھ ہفتوں میں اپنے تئیں بڑی محنت اور عرق ریزی سے جو پلان تیار کیا تھا اور ایک ڈھانچہ بنایا تھا‘ نہرو نے ایک ہی ہلے میں اس کی بنیادیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ اسے اپنی ساری محنت اکارت جاتی نظر آئی۔ نہرو نے انتہائی سخت الفاظ میں اس سارے پلان کو مسترد کر دیا تھا۔ نہرو نے لکھا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن کے اس پلان نے نہ صرف اسے خوفزدہ کر دیا بلکہ اسے یقین ہے کہ اگر وہ کانگریس کے ساتھ یہ شیئر کرے تو وہ اس پلان کو اس سے بھی زیادہ برے طریقے سے مسترد کر دے گی۔ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو کا وہ خط ختم کیا تو اسے لگا کہ اس نے اب تک جو خود کو اور پوری دنیا کو یہ یقین دلایا ہوا تھا کہ اس کے پاس ہندوستان کی آزادی کا پلان ہے اور اگلے دس دنوں میں وہ سب کو اس پلان پر راضی کر لے گا، وہ سب غلط فہمی تھی۔ نہرو کے سنگین اعتراضات کے بعد مائونٹ بیٹن کو یوں لگا کہ جس پلان کو وہ دنیا کے سامنے لانا چاہتا تھا‘ اس کا تو کوئی وجود ہی نہیں ہے۔ مائونٹ بیٹن یہ پلان برطانوی وزیراعظم ایٹلی کو بھیج چکا تھا‘ پوری کابینہ اس پلان پر اپنے اجلاس میں بحث کررہی تھی اور اس بارے میں مائونٹ بیٹن وزیراعظم کو بتا چکا تھا کہ وہ ہندوستانیوں کو اس پر راضی کر لے گا۔ اب اسے پتہ چلا کہ پورے ہندوستان کو چھوڑیں وہ تو محض کانگریس کو اس پلان پر راضی نہیں کرسکا تھا۔ تو کیا لارڈ مائونٹ بیٹن کو خود پر ضرورت سے زیادہ اعتماد تھا کہ اس نے ہندوستان کی آزادی کا پلان بنایا، اسے لندن بھیج دیا اور نہرو کو کل رات اس کی کاپی دے کر رات کو سکون سے سو گیا کہ سب کچھ ٹھیک ہو جائے گا؟ اس کا خیال تھا کہ وہ جس کام کے لیے ہندوستان بھیجا گیا تھا وہ مشن پورا ہو جائے گا اور وہ دوبارہ اپنی پرانی زندگی کی طرف لوٹ جائے گا۔ وہ اب تاریخ میں وائسرائے کے طور پر یاد رکھا جائے گا جس نے جنگ عظیم دوم کے بعد مسائل میں پھنسے برطانیہ کو ہندوستان سے بڑے آرام اور عزت کے ساتھ نکال لیا تھا؟ اس کا نام تاریخ میں عزت سے لکھا جائے گا؟ تو کیا خود پر زیادہ اعتماد لارڈ مائونٹ بیٹن کو لے ڈوبا تھا؟لیکن لارڈ مائونٹ بیٹن ایک عام انسان نہ تھا جو نہرو کے اس سخت خط کے بعد شدید مایوسی کا شکار ہو جاتا اور کسی کیفے یا بار میں بیٹھ کر کڑھتا رہتا کہ اس کا چھ ہفتے کی محنت سے بنایا ہوا پلان مسترد ہو گیا ہے اور وہ اب برطانوی حکومت اور دنیا بھر کو کیا منہ دکھائے گا کیونکہ اس نے دس دن بعد یہی پلان سامنے لانا تھا جو مسترد ہو چکا تھا۔لارڈ مائونٹ بیٹن نے مایوسی کا شکار ہونے کی بجائے سب سے پہلے خود کو مبارک باد دی کہ ایک دفعہ پھر اس کا وجدان درست نکلا تھا۔ اس نے سوچا‘ شکر ہے اس نے وہ مسودہ نہرو کو دے دیا کہ وہ پڑھ لے۔ اگر وہ یہ منصوبہ برطانوی حکومت سے منظوری کے بعد سامنے لاتا اور اس کو کانگریس مسترد کر دیتی تو یقینا اسے بہت پشیمانی کا سامنا کرنا پڑتا اور ایک نیا بحران پیدا ہو جاتا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے خود کو سنبھالا اور سوچنے لگ گیا کہ اب فوری طور پر اسے کیا کرنا چاہیے تاکہ جو نقصان ہو چکا تھا اس کا ازالہ کیا جا سکے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ تسلی تھی کہ اس بم شیل کے باوجود اس کی نہرو سے دوستی بچ جائے گی۔لارڈ مائونٹ بیٹن نے فوراً ایک پیغام نہرو کو بھیجا کہ وہ فوری طور پر دلی واپس نہ جائے بلکہ ایک رات وہ مزید شملہ میں ٹھہر جائے۔ نہرو ایک رات مزید ٹھہرنے پر رضامند ہو گیا۔ طے ہوا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن اور نہرو اکٹھے بیٹھ کر اس پلان پر غور کریں گے اور نئے سرے سے پلان بنے گا اور ان خامیوں کو نکالا جائے گا جن پر نہرو کو اعتراض تھا۔ اس نئے پلان کے تحت ہندوستان کی تمام ریاستوں اور صوبوں کو ایک ہی آپشن دیا جائے گا۔ پاکستان یا ہندوستان۔نہرو اور لارڈ مائونٹ بیٹن اس رات اکٹھے ہوئے۔ دونوں کے درمیان شملہ میں طے ہوا کہ بنگال آزاد نہیں ہوگا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے اس وقت کہہ دیا تھا کہ جناح کے پاس جو دو علاقے یا ریاستیں جا رہی ہیں وہ زیادہ دیر تک پاکستان میں نہیں رہ سکیں گی۔ کچھ عرصے بعد مائونٹ بیٹن نے اپنے دوست راج گوپال کو کہا تھا کہ مشرقی بنگال پچیس سال کے اندر اندر پاکستان سے الگ ہو جائے گا۔ انیس سو اکہتر کی جنگ نے مائونٹ بیٹن کی اس پیش گوئی کو درست ثابت کر دیا تھا۔ایک دفعہ جب لارڈ مائونٹ بیٹن نے طے کر لیا وہ اب نہرو کے پلان پر چلے گا تو انہوں نے ایک ایسے افسر کو اپنی سٹڈی میں بلایا جو اس پلان کو بیٹھ کر لکھے۔ اس کی ایسی کہانی تھی جس نے لارڈ مائونٹ بیٹن تک کو متاثر کیا تھا۔وی پی مینن کون تھا؟ اس کے پاس نہ آکسفورڈ یا کیمبرج کی ڈگری تھی نہ ہی وہ انڈین سول سروس کا افسر تھا اور نہ ہی وہ سیاسی خاندان سے تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن جیسا بندہ اس سے متاثر ہوتا؟ اہم سوال یہ تھا کہ وی پی مینن کون تھا جو نئے وائسرائے ہند کا اعتماد جیت کر اب اس کے ساتھ بیٹھ کر شملہ میں ہندوستان کی تقسیم کا نیا پلان لکھ رہا تھا؟ (جاری)

کشمیر کہانی… (3)

وی پی مینن کی کہانی بہت مسحور کن ہے کہ کیسے ایک عام سا لڑکا وائسرائے ہند کا معتمد خاص بن گیا۔ یہ لڑکا جس عام سے خاندان میں پیدا ہوا‘ وہاں بارہ بہن بھائی تھے۔ جب وہ تیرہ برس کا ہوا تو اسے اپنا سکول چھوڑنا پڑا کیونکہ گھر کے حالات اجازت نہیں دیتے تھے۔ اب اسے تیرہ سال کی عمر میں ہی کمانے پر لگ جانا تھا۔ وہ سکول چھوڑ کر کنسٹرکشن مزدور لگ گیا۔ وہاں کام نہ بنا تو کوئلے کی کانوں میں مزدوری کرنے لگا۔ پھر ایک فیکٹری میں نوکری تلاش کر لی۔ پھر ریلوے سٹیشن پر مزدوری کرنے لگا۔ وہاں بھی بات نہ بنی تو اس نے کاٹن بروکر بننے کا فیصلہ کیا۔ وہاں ناکام ہوا تو وہ سکول میں استاد لگ گیا۔ ان دنوں ٹائپ رائٹرز ٹیکنالوجی عام ہو رہی تھی‘ تو اس نے سوچا کیوں نہ وہ ٹائپ سیکھ لے کہ چند پیسے اس سے کما لے گا؛ تاہم وہ دس انگلیوں کی بجائے صرف دو انگلیوں سے ہی ٹائپ کرنا سیکھ سکا ۔ اور تو اور اس نے برسوں بعد شملہ میں وائسرائے کی سٹڈی میں بیٹھ کر ہندوستان کی تقسیم کا جو پلان ٹائپ کیا‘ وہ بھی دو انگلیوں سے کیا تھا۔ اسے انڈین انتظامیہ شملہ میں کلرک کی نوکری ملنے کی وجہ بھی یہ دو انگلیاں ہی تھیں‘ جن کی مدد سے وہ ٹائپ کرتا تھا۔جب 1929ء میں اسے شملہ میں نوکری کا پروانہ ملا تھا تو وہ شملہ جانے کے لیے دہلی پہنچا۔ وہاں اس پر انکشاف ہوا کہ اس کے پاس کرائے اور دیگر اخراجات کے جو پیسے تھے وہ راستے میں کسی نے چرا لیے ہیں۔ وہ اب خالی جیب کھڑا تھا۔ نہ وہ شملہ جا سکتا تھا اور نہ ہی اپنے گھر واپس۔ نوجوان وی پی مینن کو سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ کیا کرے۔ اسی اثنا میں اس کی نظر ایک بزرگ سکھ پر پڑی۔ نوجوان مینن اس کے پاس گیا اور اپنی ساری کتھا اسے سنائی کہ اس کے ساتھ کیا ہاتھ ہو گیا تھا۔ شملہ میں اس کی نوکری کا سوال تھا۔ مینن نے سکھ بزرگ سے کہا کہ اگر وہ اسے پندرہ روپے قرضہ دے سکیں تو وہ شملہ جا کر تنخواہ سے واپس جس ایڈریس پر کہے گا وہاں بھجوا دے گا۔ اس بزرگ سکھ نے جیب سے پندرہ روپے نکالے اور مینن کو دے دیے۔ مینن نے ان سے ایڈریس پوچھا تو وہ سکھ بولا کہ نہیں‘ تم میرے ساتھ ایک وعدہ کرو‘ مرتے دم تک جب بھی کوئی ایماندار انسان تم سے مدد مانگے گا تم اس کی اسی طرح مدد کرو گے جیسے میں تمہاری کر رہا ہوں۔ یہ پیسے تم پر مرتے دم تک قرض ہیں جو تم نے لوٹاتے رہنا ہے۔ برسوں بعد جب وی پی مینن فوت ہوا تو اس سے چھ ہفتے پہلے اس کے بنگلور میں واقع گھر کے باہر ایک فقیر نے آواز لگائی، تو مینن نے اپنی بیٹی کو بلایا اور اسے کہا: میرا بٹوہ لائو۔ اپنے بٹوے سے اس نے پندرہ روپے نکالے اور بیٹی کو کہا: جائو فقیر کو دے آئو۔ وہ مرتے دم تک اپنا قرض واپس کرتا رہا تھا۔ ان پندرہ روپوں کی مدد سے شملہ پہنچ کر جس محنت اور ذہانت سے وی پی مینن نے نوکری میں عروج پایا وہ اپنی جگہ ایک ایسی کہانی اور ایسا واقعہ تھا جو اس سے پہلے کبھی سروس کی تاریخ میں نہیں ہوا تھا۔ جب ہندوستان اور پاکستان آزاد ہو رہے تھے اور انگریز یہاں سے بوریا بستر لپیٹ رہے تھے تو اس وقت وی پی مینن صرف اٹھارہ برس کی سروس کے بعد شملہ میں ریفارم کمشنر بن چکا تھا۔ یہ سب سے بڑا عہدہ تھا جس پر کسی انڈین کو لگایا گیا تھا۔ اس سے پہلے انگریز ہی اس عہدے کو سنبھالتے آئے تھے۔ اور وہ پہلا انڈین تھا جس نے نہ صرف لارڈ مائونٹ بیٹن کا اعتماد جیت لیا تھا بلکہ بڑی حد تک وائسرائے ہند کی شفقت اور مہربانی بھی جیت چکا تھا۔وہی وی پی مینن اس وقت وائسرائے کے پاس موجود تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے وی پی کو کہا کہ نہرو سے ملاقات کے بعد اب آج رات اسے اس سارے پلان کو دوبارہ لکھنا ہو گا‘ جس کی بنیاد پر انڈیا کو آزادی ملے گی۔ وائسرائے نے اسے رات تک کا وقت دیا تھا جبکہ مینن اپنا کام سورج غروب ہونے سے پہلے مکمل کر چکا تھا۔ ایک تیرہ سال کے لڑکے نے‘ جس نے سکول چھوڑ کر مزدوری شروع کی تھی اور اپنا سروس کیریئر اس نے ٹائپنگ سے شروع کیا تھا، چھ گھنٹے دفتر میں بیٹھ کر پورا پلان ڈرافٹ کیا تھا۔ اس کے سامنے ہمالیہ کی پہاڑیاں تھیں جن پر وہ وقفے وقفے سے نظریں ڈال لیتا تھا۔ اسے احساس تھا کہ وہ ایک ایسا پلان ڈرافٹ کر رہا ہے جس نے دنیا کے نقشے کو بدل دینا ہے۔جب سارا پلان سامنے آیا تو اس میں سے بنگال اور حیدر آباد دکن جیسی ریاستوں کو آزاد ملک بنانے کا پلان نکال دیا گیا تھا۔ طے پایا کہ ملک صرف دو بنیں گے۔ 565 ریاستوں اور راجوں کو ایک ہی آپشن دیا گیا کہ وہ پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کو جوائن کر لیں۔ پلان ڈرافٹ کرنے کے بعد وی پی مینن کا کام ختم نہیں ہوا تھا بلکہ دراصل شروع ہورہا تھا۔ نہرو، سردار پٹیل اور مینن اب لارڈ مائونٹ بیٹن کو ان ریاستوں کے راجوں مہاراجوں کو ہندوستان کے ساتھ ملانے کے لیے استعمال کررہے تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن دراصل سردار پٹیل کے ساتھ کیے ہوئے اس وعدے یا ڈیل کو نبھا رہا تھا کہ اسے ہندوستان کی باسکٹ میں سب پھل چاہئیں تھے۔ (اس ڈیل پر پھر لکھوں گا)۔ مطلب پٹیل کو ساری ریاستیں ہندوستان میں چاہئے تھیں۔بہت سارے راجوں کے لیے ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کی دستاویزات پر دستخط کرنا قیامت سے کم نہ تھا۔ سنٹرل انڈیا کے ایک راجے کے سامنے جب یہ دستاویزات رکھی گئیں اور اس نے جونہی دستخط کیے اس کے کچھ دیر بعد اس کا دل کام کرنا چھوڑ گیا۔ دھول پور کے رانا نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا: آپ کے انگریز آبائواجداد اور ہمارے آبائواجداد کے درمیان 1765ء میں جو الائنس ہوا تھا وہ آج ختم ہو رہا ہے۔ ایک اور راجہ‘ جس کی ساری زندگی گوروں کو ڈائمنڈ پیش کرتے گزری تھی، الحاق کی دستاویزات پر دستخط کرنے کے بعد وی پی مینن کے گلے لگ کر زاروقطار روتا رہا تھا۔ آٹھ راجوں نے اکٹھے پٹیالہ کے دربار ہال میں ایک عالی شان تقریب‘ جس کا اہتمام سر بھوپندر سنگھ نے کیا تھا‘ میں دستخط کیے۔ بعد میں ایک راجہ نے کہا: اس تقریب میں یوں لگتا تھا جیسے وہ سب شمشان گھاٹ آئے ہوئے ہیں۔کچھ راجے مزاحمت کر رہے تھے۔ جوں جوں پندرہ اگست قریب آتی جا رہی تھی ان تینوں کا راجوں پر دبائو بھی بڑھ رہا تھا کہ وہ جلد فیصلہ کریں۔ جہاں کانگریس پارٹی موجود تھی ان ریاستوں میں سردار پٹیل نے اپنے ورکرز کو کہا کہ وہ مظاہرے شروع کریں تاکہ راجوں پر دبائو بڑھایا جائے۔ اوڑیسہ کے مہاراجہ کو ہجوم نے اپنے محل کے اندر محصور کر دیا تھا اور کہا تھا کہ اس وقت تک نہیں نکلنے دیا جائے گا جب تک وہ دستاویزات پر دستخط نہیں کرتا۔ ایک ریاست کے طاقتور وزیر اعظم کے منہ پر مظاہرین میں سے ایک نے چاقو مار دیا تھا۔ صدمے کے شکار وزیراعظم نے فوراً الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے تھے۔ ان تمام حربوں کے باوجود چند ریاستیں ایسی تھیں جن کے راجے مہاراجے اور وزیر اعظم سردار پٹیل، لارڈ مائونٹ بیٹن اور وی پی مینن کا کھیل کھیلنے کو تیار نہیں تھے۔ ان میں سے ایک جودھ پور ریاست کا نوجوان راجہ بھی تھا۔ کچھ عرصہ پہلے ہی اس کے باپ کا انتقال ہوا تھا۔ نوجوان راجہ کو اپنی تمام تر انسانی کمزوریوں کے باوجود جلدی نہیں تھی۔ اس نے جیسل میر ریاست کے راجہ کے ساتھ مل کر ایک پلان بنایا کہ انہیں جلدی نہیں کرنی چاہیے اور آرام سے بھارت اور پاکستان میں سے اس کے ساتھ ملنا چاہیے جس میں ان کا زیادہ فائدہ ہو۔ان دونوں نے ایک سیکرٹ پلان بنایا کہ انہیں پہلی ملاقات قائد اعظم محمد علی جناح سے کرنی چاہیے۔ ایک خفیہ پیغام جناح صاحب کو بھیجا گیا۔ جودھ پور کے راجہ نے دہلی میں ایک خفیہ ملاقات کا پلان بنایا۔ اب جودھ کا راجہ محمد علی جناح کے سامنے بیٹھا پوچھ رہا تھا کہ اگر جیسل میر اور جودھ پور ریاستیں پاکستان کے ساتھ مل جائیں تو انہیں بدلے میں کیا ملے گا؟ محمد علی جناح اور راجہ جودھ پور جب خفیہ معاملات طے کر رہے تھے تو انہیں علم نہ تھا کہ ان کی اس خفیہ ملاقات کی خبر وائسرائے تک پہنچ چکی ہے اور وی پی مینن اس راجے کو پکڑنے کیلئے وائسرائے ہائوس سے گاڑی لے کر نکل چکا ہے۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(4)

وائسرائے ہند لارڈ مائونٹ بیٹن اور پٹیل کو اندازہ تھا کچھ راجے بات نہیں مان رہے۔ اس کا مطلب تھا کہ وہ محمد علی جناح سے رابطے میں تھے تاکہ بہتر ڈیل لے کر اپنا مستقبل محفوظ کر سکیں۔ اس لیے وہ سب جناب جناح کے ملاقاتیوں پر نظر رکھے ہوئے تھے۔ ا گرچہ جودھ پور کے راجہ نے اپنے تئیں رازداری سے کام لیا تھا اور اس کا خیال تھا کہ پتہ نہیں چلے گا‘ وہ جناح سے مل رہا ہے‘ لہٰذا وہ دونوں راجے جناح سے ملنے کے بعد کانگریس والوں کو چیک کریں گے کہ وہ اس سے بہتر کیا ڈیل دے سکتے تھے۔ اسی لیے دونوں راجوں نے قائداعظم سے پوچھا: اگر جیسل میر اور جودھ پور ریاستیں پاکستان کے ساتھ الحاق کریں تو انہیں کیا ملے گا؟ راجہ جودھ پور اس لیے بھی پاکستان کو جوائن کرنے میں دلچسپی رکھتا تھا کہ اس نے کچھ شوق پال رکھے تھے‘ جیسے جہاز اڑانا، جادو سیکھنا اور رقص دیکھنا۔ اسے خطرہ تھا کانگریس کی سوشلسٹ پارٹی کے لیڈر اسے یہ شوق ہندوستان میں پورے نہیں کرنے دیں گے‘ لہٰذا اسے لگ رہا تھا کہ پاکستان میں شامل ہونا بہتر رہے گا۔ قائد اعظم نے منہ سے کچھ نہیں کہا۔ اپنے قریب رکھی میز کی دراز سے ایک سفید کاغذ نکالا‘ راجہ جودھ پور کے سامنے رکھ دیا اور بولے: اس پر جو شرائط لکھنی ہیں لکھ دو‘ میں اس پر دستخط کر دوں گا۔ قائد اعظم کے لیے یہ بہت بڑی کامیابی تھی کہ انہیں اپنی حریف پارٹی کانگریس کے خلاف دو ایسی ریاستیں مل رہی تھیں‘ جن کے راجے خود ان سے رابطہ کر رہے تھے۔ وہ ہر شرط ماننے کو تیار ہو گئے تھے اور اسی لیے سفید کاغذ سامنے کر دیا کہ وہ جو چاہیں اس پر لکھ دیں۔دونوں راجے توقع نہیں کر رہے تھے کہ انہیں ایسا بلینک چیک پیش کیا جائے گا۔ فوری طور پر ان کے ذہن میں کچھ نہ تھا کہ انہیں قائد اعظم سے کون سے مطالبے کرنے چاہئیں۔ انہوں نے سوچا کہ وہ واپس ہوٹل جا کر آرام سے ان شرائط پر غور کریں گے‘ جو انہیں قائد اعظم سے منوانی چاہئیں۔ جودھ پور کا راجہ اپنے تئیں بڑا مطمئن ہو گیا کہ چلیں اس کی جیب میں ایک بلینک چیک تو آ گیا ہے۔ اب دیکھتے ہیں وہ کانگریس کی لیڈرشپ سے کیا بارگین کر سکتے ہیں یا پھر انہیں پاکستان سے ہی سب مرضی کی شرائط منوا کر نئے ملک کو جوائن کر لینا چاہیے‘ جہاں سب کچھ ان کی مرضی کا ہو گا اور ان کی موجودہ زندگی اور لائف سٹائل کو کوئی خطرات نہیں ہوں گے۔یہ سب کچھ سوچ کر راجہ نے قائد اعظم سے کہا کہ اسے سوچنے کے لیے کچھ وقت چاہیے اور وہ پھر ان سے رابطہ کرے گا۔ قائد اعظم سے ہاتھ ملا کر وہ دونوں باہر نکلے اور اپنے ہوٹل کی طرف روانہ ہوگئے۔ اتنی دیر میں وی پی مینن ہوٹل پہنچ چکا تھا۔ مخبری ہو چکی تھی کہ دونوں راجے قائد اعظم سے مل رہے ہیں۔ وی پی مینن کے پاس ایک ہی آپشن تھا کہ وہ انہیں فوری طور پر وائسرائے ہائوس لے جائے۔جونہی ایک راجہ ہوٹل میں داخل ہوا تو اس کی نظر وی پی مینن پر پڑی۔ مینن آگے بڑھا اور بولا: ایمرجیسی ہوگئی ہے‘ وائسرائے ہند نے اسے فوراً اپنے گھر پر بلایا ہے۔ راجہ کو اندازہ نہیں تھا کہ وائسرائے ہند اور وی پی مینن کو یہ خبر پہنچ چکی تھی کہ وہ قائد اعظم سے مل آیا ہے‘ لہٰذا اس نے سوچا‘ وائسرائے ہند سے ملنے میں کیا ہرج ہے‘ اور ویسے بھی کون وائسرائے ہند سے ملنے سے انکار کرسکتا تھا۔راجہ کو لے کر وی پی مینن فوراً وائسرائے ہائوس کی طرف چل پڑا۔ جب دونوں وائسرائے ہائوس پہنچے تو وی پی مینن نے راجہ کو ویٹنگ رومن میں بٹھایا اور خود لارڈ مائونٹ بیٹن کو ڈھونڈنے نکل گیا۔ وہ مختلف کمروں میں وائسرائے کو تلاش کرتا رہا لیکن وہ اسے کہیں نہ ملا۔ آخرکار اس نے وائسرائے ہند کو واش روم میں جا تلاش کیا جہاں وہ پانی کے ٹب میں لیٹا ہوا تھا۔ وی پی مینن کے کہنے پر وائسرائے نے کپڑے پہنے اور وہ نیچے ویٹنگ روم میں بیٹھے جودھ پور کے شہزادے کے پاس آکر بیٹھ گیا۔ وائسرائے نے گفتگو شروع کی اور بولا کہ آج اگر اس کا (راجہ کا) باپ زندہ ہوتا تو یقین کرو وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کو ترجیح دیتا۔ وائسرائے کا اشارہ اس کی ضد کی طرف تھا کہ وہ سوچ سمجھ کر فیصلہ کرے گا کہ اس نے کس کو جوائن کرنا ہے۔ وائسرائے نے نوجوان راجہ کو کہا کہ جودھپور ایک ہندو ریاست ہے اور وہ محض اپنے ذاتی مفادات محفوظ کرنے کے نام پر اپنی رعایا کو پاکستان کے ساتھ ملا رہا ہے؟ وائسرائے ہند نے اس عمل کو خود غرضانہ قرار دیا۔ وائسرائے کو علم تھا کہ یہ نوجوان راجہ اس وقت پوری ریاست اس لیے دائو پر لگانے پر تل گیا ہے کہ اسے ذاتی فائدہ چاہیے۔ اس بات کو ذہن میں رکھ کر وائسرائے ہند نے نوجوان راجہ کو کہا کہ وہ فکر نہ کرے‘ وہ (وائسرائے) اور وی پی مینن مل کر سردار پٹیل کو کہیں گے کہ وہ راجہ کے ساتھ اچھا رویہ رکھے اور تمہارے مفادات کا خیال رکھا جائے گا۔ یہ کہہ کر وائسرائے اٹھ کر چلا گیا۔ اس نے باقی کا کام وی پی مینن کے حوالے کر دیا تھا کہ وہ اب اس سے جو لکھت پڑھت کرانی ہے کرا لے۔ جب راجہ کے سامنے دستاویز رکھی گئی تو اس نے جیب سے ایک غیرمعمولی فونٹیں پین نکالا جو اس نے اپنی ایک چھوٹی سی جادوگر فیکٹری میں تیار کرایا تھا۔ جب راجہ اس کاغذ پر دستخط کر چکا تو اس نے اس فونٹین پین کو گھمایا اور اس کے اندر سے ایک چھوٹا سا پستول نکل آیا۔ نوجوان راجہ نے فوراً وہ پستول وی پی مینن پر تان لیا اور کہا: میں تمہاری دھمکیوں سے نہیں ڈرتا۔ تم مجھے ڈرا نہیں سکتے۔شور شرابہ سن کر مائونٹ بیٹن فوراً نیچے اترا تو اس نے نوجوان راجہ کو فونٹین پین میں چھپا پستول وی پی مینن پر تانے ہوئے دیکھا۔ مائونٹ بیٹن جنگ عظیم دوم لڑ چکا تھا‘ لہٰذا اس کے لیے یہ نظارہ خوفناک نہ تھا۔ اس نے راجہ سے وہ پستول چھین کر اپنے پاس رکھ لیا۔مزے کی بات ہے کہ جب مائونٹ بیٹن لوٹ کر لندن گیا تو اس نے دیکھا کہ وہاں ایک کلب ہے‘ جس کا نام Magic Circle ہے۔ یہ ایک ستائیس سالہ جادوگر کے نام پر قائم کیا گیا تھا‘ جو جوانی ہی میں انتقال کر گیا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن اس کلب کا ممبر بن گیا۔ وہ خود بھی جادو سے محظوظ ہوتا تھا لہٰذا اس نے اس فونٹین پین میں چھپے پستول کو وہاں جادو کے طور پر استعمال کیا اور وہ میجک سرکل کا الیکشن جیب گیا۔ بعد میں مائونٹ بیٹن نے راجہ جودھ پور کا وہ پستول اس کلب کو دے دیا کہ وہ اپنے سرکل میوزیم میں رکھ دے؛ تاہم جب مائونٹ بیٹن کا 1979ء میں آئرلینڈ میں قتل ہوا تو وہ پستول نما فاونٹین پین اس کی فیملی کو دے دیا گیا۔ برسوں بعد دو ہزار تیرہ میں فیملی نے وہ تاریخی پین نیلام کرنے کا فیصلہ کیا اور اس کی لاگت سات ہزار ڈالر لگائی گئی۔ خیر تین دن بعد وی پی مینن نے باقاعدہ الحاق کی دستاویزات تیار کی اور راجہ جودھ پور کے محل گیا‘ جس پر ایک اداس اور افسردہ راجہ نے دستخط کر دیے۔ جب ایک دفعہ دستخط ہو چکے تو راجہ نے سوچا: جو ہونا تھا وہ ہوچکا اب وہ الحاق کو انجوائے کرے گا۔ نوجوان راجہ نے مینن کے ساتھ ایک پارٹی کرنے کا فیصلہ کیا۔ مینن وہاں رکنا نہیں چاہتا تھا لیکن اس کے پاس کوئی چوائس نہیں تھی۔ یہ راجہ کی فرمائش تھی کہ وہ الحاق کی خوشی میں پارٹی کرے گا۔ مینن کو خوشی تھی کہ اس نے ہندوستان کے لیے بڑا معرکہ مار لیا تھا۔ سردار پٹیل کو دینے کے لیے اس کے پاس تحفہ تھا۔ اس نے دو بڑی ہندو اکثریت والی ریاستوں کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنے سے بچا لیا تھا۔ اس کے دہلی میں ”پراسرار سورس‘‘ نے جناح اور جودھ پور کے راجہ کی خفیہ ملاقات کی مخبری کرکے ہندوستان پر احسان کیا تھا۔ اگرچہ وہ فوری طور پر دہلی روانہ ہونا چاہتا تھا لیکن نوجوان راجہ نے ضد کی کہ وہ فوراً واپس نہیں جا سکتا۔ پہلے جشن ہو گا۔ پرانا محاورہ ہے کہ راج ہٹ، بال ہٹ تے تریمت ہٹ۔ (جب شہزادہ، بچہ اور عورت کسی ضد پر اترے ہوں تو پوری کرنی پڑتی ہے) چنانچہ نہ چاہتے ہوئے بھی وی پی مینن رک گیا تاکہ وہ جشن میں شریک ہو سکے۔ لیکن وی پی مینن کو اندازہ نہ تھا کہ جشن کے نام پر نوجوان راجہ اس کے ساتھ کیا سلوک کرنے والا ہے۔ (جاری)

کشمیر کہانی…(5)

وی پی مینن کو جتنی جلدی دلی لوٹ جانے کی تھی‘ راجہ جودھ پور اتنا ہی عیاشی کے موڈ میں تھا کہ ہندوستان سے الحاق کو بھرپور انداز میں منایا جائے‘ اس لیے وی پی مینن نہیں جاسکتا تھا ۔ جو ہونا تھا‘ وہ ہو چکا ۔اب ‘نئی زندگی کا آغاز جشن سے کیا جائے۔ اتنی دیر میں راجہ نے ایک اور فرمائش کی کہ اب روسٹ گوشت پیش کیا جائے اور ساتھ ہی رقاصاؤں کو حکم ہوا کہ وہ رقص پیش کریں۔ پھر حکم ہوا کہ کوئی جادوگر وہاں جادو سے مہمانوں کو محظوظ کرے۔ وی پی مینن گوشت نہیں کھاتا تھا‘ اس کے مذہب میں گوشت کھانا حرام تھا۔ اب‘ یہ بات وہ راجہ کو کیسے سمجھا سکتا تھا اور یوں وہ کام شروع ہوا‘ جس کی وہ توقع نہیں کررہا تھا ۔ اصل ڈرائونا خواب اب‘ شروع ہورہا تھا۔ راجہ کو اچانک لگا کہ موسیقی کی آواز بہت تیز ہے۔ اس نے غصے اور مدہوشی میں اپنی روایتی پگڑی سر سے اتار کر زمین پر پھینک دی۔ساتھ ہی راجہ نے حکم صادر کیا کہ بس ‘بہت ہوچکا۔ پارٹی ختم۔ رقاصاؤں کو حکم ہوا کہ وہ فوراً وہاں سے چلی جائیں اور اسی حالت میں راجہ نے اعلان کیا کہ وہ وی پی مینن کو خود اپنے پرائیویٹ جہاز پر دلی چھوڑ کر آئے گا۔ یہ سن کر وی پی مینن کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے کہ اب ‘اس حالت میں راجہ خود جہاز اڑائے گا ۔ وہی ہوا کہ راجہ کا حکم تھا۔ جیسے تیسے راجہ نے جہاز اڑایا۔ راستے میں اس نے کئی کرتب بھی دکھائے ‘تاکہ وی پی مینن کو اپنی مہارت سے متاثر کرسکے۔ اس جہاز میں سوار تمام مسافروں کا جو حشر ہورہا تھا‘ وہ بیان کرنے کے قابل نہیں کہ یہ مدہوش راجہ کیسے انہیں دلی تک لے جائے گا؟آخرکار جہاز دلی اترا تو وی پی مینن کے ہاتھ اب تک کانپ رہے تھے‘ جس میں اس نے الحاق کی دستاویزات تھام رکھی تھیں۔ وہ جہاز سے تقریباً گھٹنوں کے بل باہر نکلا اور اس نے وہ دستاویزات جا کر سردار پٹیل کو دیں ۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کا ایک اور وعدہ پورا ہوا کہ وہ پٹیل کو اس کی فروٹ ٹوکری میں سب پھل اکٹھے کر کے دے گا۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے لیے بڑا چیلنج کشمیر میں درپیش تھا ۔ اس وقت کسی کو اندازہ نہ تھا کہ کشمیر کا معاملہ اس قدر ہاتھ سے نکل جائے گا کہ دو نئے ملک اس پر جنگ لڑیں گے۔لارڈ ماؤنٹ بیٹن اس بات پر قائل تھا کہ جب فارمولا یہ بنایا گیا تھا کہ جہاں مسلمانوں کی اکثریت ہوگی وہ علاقے پاکستان کے ساتھ الحاق کریں گے تو کشمیر کو بھی پاکستان ساتھ جانا چاہیے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن اور سردار پٹیل اس پر قائل تھے کہ کشمیر کی سرحدیں پاکستان کے ساتھ ملتی ہیں اور پھر وہاں سے دریا نکل کر نئے ملک جارہے ہیں اور اوپر سے اکثریت مسلمان ہے‘لہٰذا عقل اور سمجھ کا بھی یہی تقاضا تھا کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ جانا چاہیے‘ لیکن اب اس معاملے میں ایک بڑا مسئلہ پیدا ہوگیا کہ کشمیر کا راجہ ہری سنگھ بار بار یاد دہانی کے باوجود فیصلہ نہیں کررہا تھا ۔ راجہ کی کوشش تھی کہ آخری وقت تک اس الحاق کو ٹالا جائے اور وہ ایک آزاد ریاست کے طور پر قائم رہے۔ راجہ اس وقت ہندوستان اور پاکستان دونوں سے ملنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔ اب ‘سوال یہ تھا کہ کشمیر ‘جو مسلمان اکثریتی علاقہ تھا اور جس پر مغل حکومت کرتے رہے تھے وہ ایک سکھ راجے کے ہاتھ کیسے لگ گیا ؟ اس علاقے کی دلچسپ تاریخ ہے۔ جموں و کشمیر ایک آزاد ریاست کے طور پر پہلی دفعہ 1846ء میں ابھرا۔ چودہویں صدی تک اس علاقے پر بدھ اور ہندو راجے مہاراجے حکمران تھے‘ اس کے بعد ایک مسلمان حکمران نے ان کی جگہ لے لی اور وہ 1587ء تک اس پر حکمرانی کرتے رہے ‘جب اکبر بادشاہ نے کشمیرپر حملہ کر کے اسے مغل ریاست میں شامل کر لیا۔ اگلے دو سو برسوں تک یہ علاقہ مغلوں کاگرمائی دارالخلافہ کے طور پر استعمال ہوتا رہا اور آج بھی ہری پربت قلعہ‘ شالیمار باغ‘ نشاط کی شمل میں مغلوں کے اثرات محسوس کیے جاسکتے ہیں۔اس طرح چنار کے درختوں میں بھی مغلوں کے اثرات ملتے ہیں‘ جو وہاں کشمیر میں ہر طرف کثرت سے ملتے ہیں۔ جب مغلوں کا زوال شروع ہورہا تھا تو 1752ء میں احمد شاہ ابدالی نے افغانستان سے آکر قبضہ کر لیا اور اگلے ساٹھ برس تک کشمیر پٹھانوں نے اپنے قبضے میں رکھا ‘جس دوران مختلف گورنر تبدیل ہوتے رہے۔ 1819ء میں کشمیر کو مہاراجہ رنجیت سنگھ نے فتح کر لیا۔ یوں اگلے 27 برس تک سکھوں کی حکومت رہی۔ اٹھارہویں صدی کے پچاس سال گزرنے کے بعد جموں پر ڈوگرہ چیف راجپوت ‘جس کا نام رنجیت دیو تھا وہ حکمرانی کرتا رہا ۔ اس کا انتقال 1780ء میں ہوا اور اس کی موت پر اس کے خاندان میں حکمرانی کے لیے لڑائی شروع ہوگئی ۔ اس پر سکھوں کو موقع ملا اور انہوں نے جموں اور دیگر پہاڑی علاقوں کو اپنے ساتھ شامل کر لیا ۔ رنجیت دیو کے تین پڑپوتوں گلاب سنگھ‘ دھیان سنگھ اور سچیت سنگھ نے جا کر رنجیت سنگھ کی ملازمت کر لی ۔ ان تینوں نے مہاراجہ رنجیت سنگھ کی اتنی خدمت کی اور وہ اتنا متاثر ہوا کہ اس نے جموں کا تخت گلاب سنگھ کے حوالے کر دیا اور اس کو راجہ کا لقب بھی دے دیا ۔ بھمبر‘ چیبال اور پونچھ کے علاقے دھیان سنگھ کو دئیے گئے اور رام گڑھ کے علاقوں کا راجہ سچیت سنگھ کو بنا دیا گیا۔ دھیان سنگھ اور سچیت سنگھ بعد میں قتل ہوئے۔جب رنجیت سنگھ کا 1839ء میں انتقال ہوا تو سکھوں کی ساری طاقت دھڑام سے نیچے آن گری۔ جب انگریزوں اور سکھوں کے درمیان پہلی جنگ کا خاتمہ ہوا تو 1846ء میں گلاب سنگھ انگریزوں اور سکھوں کے درمیان صلح کار کے طور پر سامنے آیا۔ ان مذاکرات میں سکھ مہاراجہ کو کہا گیا کہ وہ ہرجانے کے طورپر ایسٹ انڈیا کمپنی کو ایک کروڑ روپے ادا کرے اور ساتھ پنجاب میں بھی بڑے بڑے علاقے وہ کمپنی کو سرنڈر کرے۔ اب‘ ایک کروڑ روپے نہیں تھے کہ وہ ہرجانہ ادا کرتے‘ اس پر انہوں نے دریائے بیاس سے سندھ کا درمیانی علاقہ ‘جس میں کشمیر اور جموں کے علاقے شامل تھے ‘ کمپنی کے حوالے کر دیے‘لیکن گورنر جنرل لارڈ ہارڈنگ نے اعتراض کیا کہ ان تمام پہاڑی علاقوں پر قبضے سے برٹش حکومت پر کنٹرول اور چلانے کیلئے اخراجات بہت بڑھ جائیں گے اور نئے مسائل پیدا ہوں گے۔ نئی فوجی لڑائیاں بھی شروع ہوسکتی تھیں۔گورنر جنرل کا خیال تھا کہ ہم نے ان پہاڑوں کا کیا کرنا ہے ‘کیونکہ ہمیں وہاں سے کوئی فائدہ ہونے والا نہیں ہے۔ اس پر گلاب سنگھ آگے بڑھا اور اس نے انگریزوں کو پیشکش کی کہ وہ سب پیسے کمپنی کو ادا کرنے کو تیار ہے ‘اس کے بدلے اسے کشمیر کا خودمختار حکمران بنا دیا جائے۔ اس پر گلاب سنگھ کے ساتھ امرتسر میں 16 مارچ 1846ء کو ایک معاہدہ کیا گیا ۔ اس معاہدے کے تحت گلاب سنگھ نے تسلیم کیا کہ وہ انگریزوں کا وفادار رہے گا اور ہر سال انگریز حکومت کو ٹوکن کے طور پر ایک گھوڑا‘ بارہ کشمیری بکریاں ‘جو اچھی نسل کی ہوں گی اور کشمیری شالوں کے تین جوڑے بھیجا کرے گا‘ جس سے یہ پتا چلتا رہے گا کہ وہ انگریزوں کا وفادار ہے۔ آنے والے برسوں میں یہ انتظامات بھی بدل لیے گئے اور طے ہوا کہ صرف دو کشمیری شالیں گوروں کو بھیجی جائیں گی اور ساتھ تین کشمیری رومال۔یوں امرتسر میں ہونے والے اس معاہدے کے بعد پہلی دفعہ کشمیر ایک سیاسی قوت کے طور پر ابھرا ‘جو ایک آزاد ریاست تھی۔ اس معاہدے کے تحت گلاب سنگھ کشمیر کا مہاراجہ قرار پایا اور اس کے پاس دریائے سندھ‘ راوی‘ کشمیر جموں‘ لداخ اور گلگت کے علاقے آگئے‘ تاہم گوروں نے کچھ پہاڑی علاقے اپنے پاس رکھ لیے ‘جو دفاعی نقطہ نظر سے اہم تھے۔ ان علاقوں کی قیمت پچیس لاکھ لگائی گئی۔ گوروں نے مہاراجہ گلاب سنگھ کو کہا کہ وہ پچیس لاکھ روپے ان علاقوں کے کاٹ کر باقی 75لاکھ انہیں ادا کرے گا۔ تاہم جب گلاب سنگھ یہ سب معاہدے کر کے کشمیر واپس لوٹا تو اسے پتا چلا کہ اس کے پیچھے تو بغاوت ہوچکی تھی ۔ اسے اندازہ نہیں تھا کہ انگریزوں کو ایک کروڑ روپے ادا کر کے بھی مہاراجہ کا لقب اتنی جلدی نہیں ملنے والا ۔ اب‘ گلاب سنگھ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ وہ کیا کرے۔ گلاب سنگھ کسی قیمت پر کشمیر کو ہاتھ سے نہیں جانے دینا چاہتا تھا ۔ اس کے پاس آخری آپشن رہ گیا تھا‘ جو اس نے استعمال کرنے کا فیصلہ کر لیا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(6)

گلاب سنگھ نے ایک کروڑ روپے میں انگریزوں کے ساتھ کشمیر کی ڈیل تو کر لی تھی لیکن اب اسے کشمیر میں بغاوت کا سامنا تھا۔ سکھوں کے نامزد کردہ گورنر نے اس کے لیے مسائل کھڑے کر دیے تھے۔ اس پر گلاب سنگھ کے پاس ایک ہی حل بچا تھا کہ وہ انگریزوں سے رابطہ کرے‘ جنہیں اس نے پچھتر لاکھ روپے کی نقد ادائیگی کرنی تھی‘ اور ان کی مدد سے پورے کشمیر کا قبضہ لے۔ انگریزوں کو اگر اپنے پچھتر لاکھ روپے نقد اور پچیس لاکھ روپے کی کشمیر کی پہاڑیاں چاہیے تھیں تو انہیں پورا اقتدار بھی لے کر دینا ہوگا۔1846 میں گلاب سنگھ نے انگریز فوج کی مدد سے باغیوں کو شکست دے کر کشمیر پر اپنی حکمرانی قائم کرلی تھی۔ یوں دہلی پر گوروں کی حکومت اور کشمیر کے درمیان تعلقات کا آغاز 1849 میں ہوا۔ یہ تعلقات پنجاب حکومت کے ذریعے قائم ہوئے اور مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنا ایک ایجنٹ لاہور میں مقرر کر دیا تھا؛ تاہم انگریز حکومت نے سری نگر میں فوراً اپنا ایجنٹ مقرر نہیں کیا؛ البتہ چند برس بعد انگریزوں نے اپنا پہلا خصوصی نمائندہ سری نگر میں تعینات کر دیا۔ یہ نمائندہ بھی کشمیر میں صرف گرمیوں کے دنوں میں ٹھہرتا تھا۔مہاراجہ گلاب سنگھ 1857 میں انتقال کر گیا اور اس کی جگہ اس کے بیٹے رنبیر سنگھ نے اقتدار سنبھال لیا؛ تاہم دہلی اور سری نگر کے درمیان تعلقات اس طرح چلتے رہے؛ تاہم 1877 میں دہلی سرکار نے ایک تبدیلی کی اور اپنے افسر خاص کو حکم دیا کہ وہ اب انڈین حکومت کے ساتھ براہ راست رابطے میں رہے گا اور جو بھی وادی میں سیاسی ایشوز ہوں گے ان پر بریف کیا کرے گا۔ 1885 میں مہاراجہ رنبیر سنگھ بھی انتقال کر گیا تو اس کی جگہ مہاراجہ پرتاپ سنگھ نے لے لی اور افسر خاص کے عہدے کا نام بدل کر Resident in Kashmir کر دیا گیا‘ جو اب مستقل سرینگر میں تعینات تھا۔ اس کے بعد لیفٹیننٹ جنرل مہاراجہ ہری سنگھ کو یہ گدی 1925 میں منتقل ہوئی۔ وہ جموں اور کشمیر کا حکمران تھا۔ جب ہندوستان تقسیم ہو رہا تھا تو اس وقت کشمیر بہت اہم جگہ پر واقع تھا۔ مشرق میں تبت تو شمال مشرق میں چین کا صوبہ سنکیانگ اور افغانستان، شمال میں گلگت۔ قریب ہی شمال میں افغانستان کا علاقہ واکان اور مغرب میں گلگت سے کاشغر تک کا روٹ تھا۔ اس سے چند میل پرے روس کا علاقہ ترکمانستان تھا۔ جموں اور کشمیر میں مسلمانوں کی تعداد زیادہ تھی جو بعد میں تقسیم کی وجہ سے متاثر ہوئی۔ لداخ میں زیادہ بدھ مذہب کے ماننے والے ہیں۔ اگرچہ ریاست میں اکثریت مسلمانوں کی تھی لیکن مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف یہ شکایات آرہی تھیں کہ حکومت اور فوج میں ہندوئوں کو زیادہ نوکریاں ملی ہوئی ہیں۔ ان ناانصافیوں کے ردعمل کے طور پر 1932 میں شیخ عبداللہ نے نیشنل کانفرنس کی بنیاد رکھی تاکہ مسلمانوں کے حقوق کی حفاظت کی جا سکے۔ مہاراجہ کے خلاف کئی دفعہ احتجاج ہوا اور شیخ عبداللہ کو متعدد بار گرفتار بھی کیا گیا۔ شیخ عبداللہ نے 1946 میں مہاراجہ کی حکمرانی کے خلاف ایک تحریک شروع کی جس کا نام تھا: Quit Kashmir اس پر شیخ کو جیل میں ڈال دیا گیا؛ تاہم اس وقت تک شیخ عبداللہ وادی کے لوگوں کی بڑی تعداد کی ہمدردیاں لینے میں کامیاب ہو چکے تھے۔ جب تین جون کو لارڈ مائونٹ بیٹن نے ہندوستان کو تقسیم کرنے کا اعلان کیا تو اس کے ذہن میں کشمیر کی ریاست کا مستقبل بھی تھا۔ ایک ایسی ریاست جو رقبے کے حساب سے ہندوستان کی چند بڑی ریاستوں میں سے ایک تھی اور اوپر سے اکثریتی آبادی مسلمان تھی لیکن اس کا حکمران ایک ہندو راجہ تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن مہاراجہ ہری سنگھ کو اچھی طرح جانتا تھا۔ راجہ ہری سنگھ دراصل 1922 میں برطانیہ سے آئے پرنس آف ویلز کے دورے میں ان کا سٹاف افسر تھا۔ نوجوان لارڈ مائونٹ بیٹن اپنے کزن کے ہمراہ ہندوستان کے اس دورے پر تھا۔ اس نے کشمیر میں راجہ ہری سنگھ کے ساتھ پولو تک کھیلی ہوئی تھی۔ اس لیے پرانی جان پہچان کے نام پر مہاراجہ نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو ہندوستان کا وائسرائے لگنے کے بعد دو تین دفعہ کشمیر کا دورہ کرنے کی دعوت دی تھی۔ اب وقت آ گیا تھا کہ لارڈ مائونٹ بیٹن کشمیر کا دورہ کرے تاکہ اس ریاست کا معاملہ حل ہو کہ کشمیری کس کے ساتھ شامل ہونا چاہتے ہیں‘ ہندوستان یا پاکستان۔ یوں جولائی 1947 میں لارڈ مائونٹ بیٹن سری نگر میں مہاراجہ ہری سنگھ کے ساتھ بیٹھا تھا تاکہ اسے سمجھا سکے کہ وہ ہندوستان یا پاکستان میں کسی ایک کے ساتھ مل جائے۔ عقل کا تقاضا یہ تھا کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ ملنا چاہیے کیونکہ اس کی اکثریتی آبادی مسلمان ہے۔ یہ وہ علاقہ تھا جس کے بارے چوہدری رحمت علی نے بات کی تھی تو کہا تھا کہ Pakistan میں K کشمیر کے لیے ہے۔ وائسرائے لارڈ مائونٹ بیٹن نے یہ دلیل مان لی تھی کہ کشمیر کو پاکستان کے ساتھ جانا چاہیے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے مہاراجہ ہری سنگھ کو بتایا کہ اس کی کانگریس راہنما سردار پٹیل سے بات ہوگئی تھی اور یہ فطری بات بھی تھی کہ کشمیر کے راجے کو پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہیے اور ہندوستان کی مستقبل کی حکومت راجہ کے اس فیصلے کو سراہے گی اور کوئی اعتراض نہیں کرے گی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے پریشان حال مہاراجہ کو بتایا کہ سری نگر آنے سے پہلے اس کی سردار پٹیل سے اس معاملے پر بڑی تفصیل سے بات ہوئی‘ اور سردار پٹیل نے ضمانت دی تھی کہ اگر مہاراجہ ہندوستان کی بجائے پاکستان کے ساتھ مل جائے تو وہ اس فیصلے پر اعتراض نہیں کریں گے۔ ایک تو آبادی مسلمان تھی اور پھر جغرافیائی طور پر بھی اس ریاست کا الحاق پاکستان سے ہونا چاہیے۔ راجہ کی آنکھوں میں پریشانی اور غیریقینی کی صورتحال دیکھ کر لارڈ مائونٹ بیٹن فوراً بولا: ہاں میری جناح سے بھی بات ہوئی ہے‘ انہوں نے یہی گارنٹی دی ہے کہ اگر کشمیر کا راجہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرلے تو وہ اسے پوری عزت و احترام دیں گے چاہے وہ مسلمان ریاست کاہندومہاراجہ ہی ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو اب کچھ ذاتی خطرات لاحق ہوچکے تھے۔ جو اندیشے اس کے ذہن میں تھے ان سے لارڈ مائونٹ بیٹن لاعلم تھا۔ مہاراجہ کو پتا تھا کہ ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق کے بعد اسے جلد یا بدیر یہ گدی چھوڑنی پڑے گی۔ نیشنل کانفرنس پہلے ہی اس کے خلاف تحریک شروع کرچکی تھی اور اس پر سنگین الزام تھا کہ وہ فوج اور حکومت میں مسلمانوں کو اکثریت میں ہوتے ہوئے نوکریاں نہیں دیتا۔ شیخ عبداللہ کشمیریوں کو بڑے پیمانے پر اس کے خلاف کرچکا تھا اور کشمیر چھوڑ دو کی تحریک چل رہی تھی۔ پاکستان سے خطرہ تھا کہ کچھ دنوں بعد اسے اٹھا کر پھینک دیا جائے گا۔ خطرہ ہندوستان سے بھی تھا کہ نہرو جیسا سوشلسٹ لیڈر‘ جو اس سے نفرت کرتا تھا‘ بھارت کے ساتھ الحاق کی شکل میں کب اسے برداشت کرے گا اور وہ اپنی ریاست کھو بیٹھے گا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو اس وقت ایک طرف کھائی تو دوسری طرف دریا نظر آرہا تھا۔ ریاست بچانے کا کوئی طریقہ اسے سمجھ نہیں آرہا تھا۔ کچھ دیر سوچنے کے بعد مہاراجہ نے آخرکار اپنے ہونٹ کھولے۔ لارڈمائونٹ بیٹن بے چینی سے اس کے جواب کا انتظار کررہا تھا۔ مہاراجہ بولا: میں کسی صورت پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کروں گا۔ مائونٹ بیٹن بولا: اگرچہ فیصلہ تم نے کرنا ہے لیکن میرا خیال ہے تم سوچ سمجھ کر یہ فیصلہ کرو کیونکہ تمہاری ریاست کی نوے فیصد آبادی مسلمان ہے۔ لیکن اگر تم پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں کرنا چاہتے تو پھر دوسرا آپشن یہ ہے کہ تم ہندوستان کے ساتھ الحاق کرلو۔ اگر تمہارا یہ فیصلہ ہے تو پھر میں ایک انفنٹری ڈویژن کشمیر بھیج دیتا ہوں تاکہ وہ تمہاری سرحدوں کی حفاظت کر سکے۔ مہاراجہ کا ذہن کسی اور طرف مصروف تھا۔ وہ کافی دیر تک لارڈ مائونٹ بیٹن کو دیکھتا رہا جیسے سوچ رہا ہو کہ کیا اسے یہ بات لارڈ مائونٹ بیٹن سے کرنی چاہیے اور اگر اس نے کر دی تو لارڈ مائونٹ بیٹن کا کیا ردعمل ہوگا۔ وہ کتنی حمایت کرے گا کیونکہ اس کی حمایت کے بغیر مہاراجہ اپنے اس پلان پر عمل نہیں کرسکتا تھا جو اس کے ذہن میں پل رہا تھا اور اب تک اس نے کسی سے شیئر نہیں کیا تھا۔ آخر مہاراجہ ہری سنگھ نے گلا صاف کیا اور لارڈ مائونٹ بیٹن کے سامنے مدعا رکھ دیا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن مہاراجہ کی بات سن کر غصے سے سرخ ہو گیا اور بولا ”ہرگز نہیں‘ یہ تو بالکل نہیں ہو سکتا‘‘۔لارڈ مائونٹ بیٹن کے منہ سے انکار سن کر مہاراجہ کا رنگ فق ہوگیا جبکہ وائسرائے ہند مہاراجہ کی بات سن کر پہلے ہی لال پیلا ہورہا تھا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(7)

لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ توقع نہیں تھی کہ مہاراجہ ہری سنگھ کچھ اور منصوبے بنا کر بیٹھا ہے۔ اس لیے مہاراجہ کے منہ سے یہ سن کر ہی لارڈ مائونٹ بیٹن چڑ گیا‘ جب ہری سنگھ بولا کہ دراصل وہ ہندوستان اور پاکستان دونوں کے ساتھ الحاق نہیں چاہتا‘ وہ کشمیر کو آزاد ریاست کے طور پر رکھنا چاہتا ہے۔ لارڈ مائونٹ کو پہلی دفعہ یہ نہیں سننا پڑا تھا کہ راجے مہاراجے ہندوستان یا پاکستان کے ساتھ الحاق نہیں چاہتے۔ سب کو خطرات لاحق ہو چکے تھے کہ ہندوستان یا پاکستان کی شکل میں ان کے راج ختم ہونے والے ہیں۔ تخت سے اتر کر خود رعایا بننا پڑے گا۔ وہ سب کسی نہ کسی طرح آزاد رہنا چاہتے تھے۔ شروع میں لارڈ مائونٹ بیٹن نے بھی یہی فارمولا پیش کیا تھا کہ ہندوستان میں دو کی بجائے درجن بھر ملک بنائے جائیں اور ریاستوں کو تین آپشن دیے جائیں۔ پہلا پلان یہی تھا: پاکستان، ہندوستان یا خود مختار ریاست۔ تاہم یہ نہرو تھا جس نے لارڈ مائونٹ بیٹن کے اس پلان کو مسترد کر دیا کہ اس سے ہندوستان میں مسلسل جنگی کیفیت رہے گی۔ چھوٹی چھوٹی ریاستیں ہر وقت حالت جنگ میں رہیں گی۔ اس لیے جب مہاراجہ نے اس خواہش کا اظہار کیا کہ وہ آزاد ریاست چاہتا ہے تو لارڈ مائونٹ بیٹن نے فوراً کہا: یہ ممکن نہیں ہے۔ تم چاروں طرف سے پہاڑوں میں گھرے ہوئے ہو۔ کشمیر کا رقبہ بہت زیادہ لیکن اس کے مقابلے میں آبادی بہت کم ہے۔ مجھے خطرہ محسوس ہورہا ہے کہ تمہارے اس رویے کی وجہ سے پاکستان اور بھارت کے درمیان کشیدگی جنم لے گی۔ تمہارے دو حریف ہمسائے اس کشمیر ایشو کی وجہ سے ہر وقت ایک دوسرے پر بندوقیں تانے کھڑے ہوں گے۔ تم دونوں ملکوں کے درمیان لڑائی جھگڑے کی وجہ بنو گے۔ کشمیر میدان جنگ بن کر رہ جائے گا۔ اگر تم نے احتیاط سے کام نہ لیا تو نہ صرف تم اپنا اقتدار کھو بیٹھو گے بلکہ تمہاری جان بھی خطرے میں ہوگی۔ مہاراجہ کو یہ سب کچھ سن کر شدید مایوسی ہوئی۔ اس نے نفی میں سر کو جھٹکے دیے اور اس کے چہرے پر گہری اداسی چھا گئی۔ اس کے خواب چکنا چور ہوگئے تھے۔ اگرچہ وہ دہلی سے آئے اپنے مہمان کو ٹرائوٹ مچھلی کے شکار کیلئے دریا کے کنارے لے گیا لیکن اس نے سارا دن کوشش کی کہ مائونٹ بیٹن سے فاصلہ رکھے تاکہ وہ اسے دوبارہ ہندوستان اور پاکستان میں سے کسی ایک کا آپشن استعمال کرنے پر مجبور نہ کرے۔ بلکہ مہاراجہ کی کوشش رہی کہ مائونٹ بیٹن سارا دن کشمیر کے دریا کے صاف ستھرے پانیوں میں ٹرائوٹ کا شکار ہی کرتا رہے۔ اگلے دو دن تک مائونٹ بیٹن مسلسل کوشش کرکے مہاراجہ کو سمجھاتا رہا کہ بہتر ہے وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی ایک کے ساتھ الحاق کر لے۔ دو دن کی محنت کے بعد مائونٹ بیٹن کو احساس ہوا کہ اس کا پرانا دوست اپنی رائے میں تبدیلی لانے پر تیار ہو رہا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے مہاراجہ کو کہا: میں کل جب دہلی کے لیے روانہ ہوں گا تو صبح ناشتے پر الوداعی ملاقات ہونی چاہیے اور ملاقات میں دونوں کا سٹاف بھی موجود ہونا چاہیے تاکہ ایک ہی دفعہ کھل کر سب بات کر لی جائے اور پالیسی بنا لی جائے۔ ”ٹھیک ہے‘‘ مہاراجہ بولا ”اگر آپ اصرار کرتے ہیں تو کل صبح مل لیتے ہیں‘‘۔اگلی صبح جب لارڈ مائونٹ بیٹن ناشتے پر انتظار کر رہا تھا تو اے ڈی سی آیا اور کہا: مہاراجہ صاحب کا معدہ خراب ہو گیا ہے اور ملاقات نہیں کر پائیں گے کیونکہ ڈاکٹر نے انہیں منع کر دیا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو اندازہ ہو گیا کہ یہ سب کہانی گھڑی گئی ہے اور مہاراجہ اس سے ملنا نہیں چاہتا۔ ڈاکٹر کا بہانہ بنا کر مہاراجہ نے ملاقات تو چھوڑیں، اسے رخصت کرنے کی بھی زحمت نہیں کی تھی۔ سری نگر چھوڑتے وقت مائونٹ بیٹن کو اندازہ ہوگیا تھا وہ اپنے پیچھے ایک ایسا مسئلہ چھوڑ کر جارہا ہے جو دو ملکوں کے درمیان ہمیشہ ایک جنگی ماحول پیدا کیے رکھے گا اور پوری دنیا اس سے متاثر ہوگی؛ تاہم مائونٹ بیٹن کو علم نہ تھا کہ مہاراجہ کس ذہنی کیفیت سے گزر رہا ہے۔ مہاراجہ دراصل اس وقت اپنی بیوی اور بھائی کے ہاتھوں شدید دبائو کا سامنا کررہا تھا۔ اس کی بیوی اور بھائی‘ جو وزیر کا درجہ رکھتے تھے‘ اس پر دبائو ڈال رہے تھے کہ وہ بھارت کے ساتھ الحاق کر لے جبکہ مہاراجہ کے وزیراعظم کا خیال تھا کشمیر کو پاکستان کے ساتھ الحاق کر لینا چاہیے۔ اس کیفیت میں مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے جوتشی سے مشورہ کرنے کا فیصلہ کیا۔ جوتشی نے مہاراجہ کو جو باتیں بتائیں اس کے بعد اس کے ذہن میں یہ بات پوری طرح بیٹھ گئی کہ اسے ہندوستان اور پاکستان‘ دونوں سے الحاق نہیں کرنا۔ اس نے کشمیر کو آزاد ریاست کے طور پر قائم رکھنا ہے۔ جوتشی کے بقول مہاراجہ کے ستاروں میں لکھا تھا کہ ہری سنگھ کا جھنڈا لاہور سے لداخ تک لہرائے گا۔ برٹش افسران‘ جو آرمی اور پولیس میں تھے‘ کا بھی یہی خیال تھا کہ پاکستان سے الحاق بہتر آپشن ہوگا۔ یہ سب دیکھ کر مہاراجہ نے پہلے تو اپنے وزیراعظم کو ڈسمس کیا اور پھر برٹش آرمی اور پولیس افسران کو بھی سائیڈ پر کرنے کا عمل شروع کردیا۔ ان کی جگہ اس نے ڈوگرہ فورس کے نوجوانوں کو منگوا لیا۔ ہوا میں یہ سب تبدیلیاں دیکھ کر مسلمان افسران اور جوانوں نے کشمیر آرمی کو چھوڑنا شروع کردیا تھا۔ سب کو اندازہ ہونا شروع ہوگیا تھا کہ اس علاقے میں جلد یا بدیر جنگ ہو گی۔ اس اثنا میں لارڈ مائونٹ بیٹن دہلی پہنچ چکا تھا لیکن اسے اندازہ نہیں تھا کہ ابھی تو اس کا امتحان شروع ہورہا ہے۔ کشمیر مشن سے ناکامی کے بعد حالات و واقعات بڑی تیزی سے رونما ہونا شروع ہورہے تھے۔ ہندوستان کو تقسیم کرنے کی پندرہ اگست کی تاریخ قریب آ رہی تھی اور اس کے ساتھ ہی پورے ہندوستان میں خطرناک رجحانات سامنے آرہے تھے۔ سب سے اہم بات یہ تھی جناح صاحب اور نہرو تک کا خیال تھا کہ ہندوستان میں آزادی کے ساتھ ہی تمام لڑائی جھگڑے ختم ہوجائیں گے۔ خود مائونٹ بیٹن بھی یہی یقین کیے بیٹھا تھا کہ تقسیم کے اعلان کے بعد تشدد نہیں ہوگا۔ فسادات نہیں ہوں گے۔ بھلا ہندو‘ مسلم یا سکھ فسادات کیوں ہوں گے کیونکہ جب ہندوستان تقسیم ہورہا تھا اور سب کو اپنا اپنا ملک مل رہا تھا‘ جہاں وہ اپنی مرضی سے رہ سکیں گے۔ صرف گاندھی جی اکیلے تھے جو بار بار کہہ رہے تھے کہ آپ لوگ غلط سوچ رہے ہیں‘ بڑے پیمانے پر خون خرابہ ہوگا۔لارڈ مائونٹ بیٹن کو اس سنگین خطرے کا احساس اس وقت ہوا جب اسے لاہور سے ایک خوفناک اطلاع دی گئی۔ سی آئی ڈی پنجاب کی طرف سے وائسرائے کو بھیجی گئی یہ سیکرٹ انفارمیشن اتنی خوفناک تھی کہ لارڈ مائونٹ بیٹن نے فوری طور پر قائداعظم اور لیاقت علی خان کو پیغام بھیجا کہ وہ جلد ملاقات کے لیے تشریف لائیں۔ اب قائداعظم اور لیاقت علی خان وائسرائے کے سٹڈی روم میں حیران بیٹھے تھے کہ وائسرائے نے انہیں کیوں اتنی ایمرجنسی میں فوری طور پر بلا لیا ہے۔ سٹڈی میں ان دونوں کے علاوہ ایک افسر بھی موجود تھا جس کا تعارف لارڈ مائونٹ بیٹن نے جناح اور لیاقت علی خان سے یہ کہہ کر کرایا کہ جنٹلمن اس کا نام Savage ہے اور ان کا تعلق پنجاب سی آئی ڈی سے ہے۔ اس کے پاس ایک اطلاع ہے جو میں چاہتا ہوں آپ اس کے منہ سے سنیں۔ جوں جوں سی آئی ڈی کا افسر پوری کہانی سناتا گیا جناح صاحب اور لیاقت علی خان اس کو سنجیدہ لینے پر مجبور ہوگئے کیونکہ وہ جس ایجنسی سے تعلق رکھتا تھا وہ برٹش انڈیا کی سب سے معتبر انٹیلی جنس ایجنسی سمجھی جاتی تھی۔ اس کی اطلاع غلط ہو ہی نہیں سکی تھی۔ سی آئی ڈی افسر ٹھیک بات کر رہا تھا تاہم وہ تھوڑا سا نروس تھا۔ وہ زندگی میں پہلی دفعہ وائسرائے ہند اور مسلمانوں کے دو لیڈروں کے سامنے بیٹھا ہوا تھا۔ وائسرائے کی سٹڈی میں مکمل خاموشی تھی۔ وائسرائے سے لے کر جناح اور لیاقت علی خان تک سب خاموش تھے۔ جب افسر نے بات ختم کر لی تو جناح، لیاقت علی خان اور مائونٹ بیٹن نے ایک دوسرے کی طرف بے یقینی سے دیکھا۔ انہیں لگا جیسے کسی نے ان پر بم پھینک دیا ہو۔ ان تینوں کو اندازہ نہ تھا کہ بات یہاں تک پہنچ چکی ہے۔ پہلی دفعہ انہیں احساس ہوا کہ وہ سب سنگین خطرات میں گھر چکے ہیں۔ جناح اور لیاقت علی خان خاموش تھے لیکن مائونٹ بیٹن کا ذہن تیزی سے چل رہا تھا کہ اسے اس بربادی سے کیسے بچنا ہے جس کی خبر سی آئی ڈی کا افسر لاہور سے لایا تھا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(8)

لاہور سی آئی ڈی سے آئے افسر نے وائسرائے کی سٹڈی میں مکمل خاموشی میں جناح صاحب، لیاقت علی خان اور وائسرائے کو تفصیل بتانا شروع کی تھی۔انٹیلی جنس کی دنیا میں اکثر بریک تھرو اچانک ہوتے ہیں جب کسی کو ویسے ہی شک پر پکڑ کر لاتے ہیں اور آپ کو کچھ پتا نہیں ہوتا کہ اسے کیوں پکڑا تھا‘ لیکن اندر کا انٹیلی جنس افسر یا پولیس مین آپ کو بتا رہا ہوتا ہے کہ اس بندے کو کچھ نہ کچھ پتا ہے۔ یہ اندر کا وجدان ہی ایسے بریک تھرو کا سبب بنتا ہے اور بڑے خفیہ پلان سامنے آ جاتے ہیں۔ نفسیاتی اور جسمانی تشدد کے دوران ہی یہ لوگ راز اگلتے ہیں۔ وہ یہ سوچتے ہیں کہ شاید انہیں اس لیے اٹھایا گیا کہ پولیس کو پتا چل چکا تھا‘ لہٰذا اب چھپانے کا کوئی فائدہ نہیں‘ جبکہ بعض تشدد اور دیگر حربوں سے بچنے کیلئے بارگین کے طور پر بھی ایسی اطلاعات دورانِ تفتیش از خود دے دیتے ہیں۔ لاہور سی آئی ڈی کے ہاتھ بھی کچھ ایسے ہی مشکوک لوگ لگے تھے‘ جنہوں نے وہ سارا خفیہ پلان انہیں بتا دیا تھا۔ سی آئی ڈی نے لاہور کے پاگل خانے کے ایک ونگ میں‘ جو استعمال نہیں ہوتا تھا‘ اپنا ایک تفتیشی سینٹر بنایا ہوا تھا‘ جہاں وہ مشکوک لوگوں سے تفتیش کرتے تھے۔ یہاں ہر قسم کے لوگ لائے جاتے تھے جن پر سی آئی ڈی کو شک ہوتا تھا کہ وہ برٹش سرکار کے خلاف سرگرمیوں میں ملوث ہیں یا ہو سکتے ہیں۔ ان سب سے سب کچھ اگلوایا جاتا تھا۔ سی آئی ڈی نے ہر سیاسی جماعت اور ہر گروپ کے اندر اپنے بندے گھسائے ہوئے تھے جو انہیں ہر پل کی خبریں پہنچاتے رہتے تھے اور یوں جس پر زیادہ شک ہوتا تھا وہ اسے اٹھا کر پاگل خانے کی عمارت میں لے آتے اور اس سے پھر باتیں اگلوانے کا سلسلہ شروع ہو جاتا تھا۔ ان کی چیخوں کو کوئی سنجیدگی سے نہیں لیتا تھا کیونکہ سب یہی سمجھتے تھے کہ کوئی پاگل چیخیں مار رہا ہو گا۔ جو خفیہ خبر سی آئی ڈی کا افسر سٹڈی میں بیٹھا سب کو بتا رہا تھا‘ وہ بھی زیرتفتیش ملزمان سے اگلوائی گئی تھی۔ یہ خبر اتنی خفیہ اور حساس تھی کہ سی آئی ڈی کے اس نوجوان افسر کو جب لاہور سے دہلی بھیجا جا رہا تھا کہ وہ جا کر وائسرائے کو سب کچھ بتائے تو اسے سب کچھ زبانی یاد کرایا گیا تھا‘ کسی دستاویز پر لکھ کر نہیں دیا گیا تھا تاکہ راستے میں کہیں ٹرین پر وہ دستاویزات کسی اور کے ہاتھ نہ لگ جائیں۔ اصل کہانی کچھ یوں کھل رہی تھی کہ سکھوں کے ایک تشدد پسند گروہ کے بھارت کے اندر سب سے زیادہ تشدد پسند گروپ آر ایس ایس سے تعلقات اور رابطوں کا انکشاف ہوا تھا (یہ وہی گروپ تھاجس کے ایک رکن نے بعد میں گاندھی کو قتل کیا تھا) سکھوں کے اس گروہ کا سربراہ ماسٹر تارا سنگھ تھا۔ تارا سنگھ نے لاہور میں سکھوں کے اس تشدد پسند گروہ کے خفیہ اجلاس میں اپنے حامیوں کو کہا تھا کہ وہ پورے بھارت کو خون میں نہلا دیں۔ ماسٹر تارا سنگھ‘ جو ایک سکول استاد تھا‘ یہ پلان بنائے بیٹھے تھا کہ وہ اس خطے میں لہو کی ہولی کھیلے گا۔ سکھوں کے اہم لوگ خون کی اس ہولی کیلئے روپیہ پیسہ اور دیگر وسائل فراہم کرنے کو تیار تھے تاکہ ہندوستان میں دہشت گردانہ کارروائیاں کی جائیں اور تقسیم کو روکا جائے۔ اس منصوبے کے پہلے مرحلے میں سکھوں کو چند ذمہ داریاں سونپی گئی تھیں۔ ان سکھوں کا انتخاب اس لیے کیا گیا تھا کہ ان میں سے اکثر کو بم بنانے اور انہیں استعمال کرنے کا طریقہ آتا تھا۔ سکھوں کے اس گروہ نے دہلی اور کراچی کے درمیان چلنے والی ان ریل گاڑیوں کو تباہ کرنا تھا جن میں نئی ریاست (پاکستان) کیلئے کام کرنے والے اہم لوگ اور ان کے ساتھ حصے میں ملنے والا سامان، روپیہ پیسہ اور دیگر دستاویزات ہونا تھیں۔ اپنے پلان پر عمل کیلئے ماسٹر تارا سنگھ پہلے ہی ایک انتظام کر چکا تھا۔ وہ دہلی سے کراچی روانہ ہونے والی ٹرین پر وائرلیس سیٹ اور ایک آپریٹر لگا چکا تھا‘ جس نے ٹرین کی روانگی کی اطلاع انہیں فراہم کرنا تھی اور اس کا روٹ بتانا تھا تاکہ سکھوں کے مسلح جتھے کو پتا چل سکے اور سکھ ٹرین پر حملہ کر سکیں۔ اس پلان کے دوسرے حصے میں آر ایس ایس تنظیم کے ہندو ممبران کو یہ ذمہ داری سونپی گئی کہ وہ خود کو مسلمانوں کے روپ میں ڈھال کر کراچی پہنچیں اور وہاں چودہ اگست کا انتظار کریں۔ آر ایس ایس کے اس قاتل سکواڈ کو برٹش آرمی ملز کے ہینڈ گرینیڈ دیے گئے تھے۔ اس گروپ میں شامل ہندو شدت پسند ایک دوسرے کو نہیں جانتے تھے تاکہ اگر کوئی پکڑا جائے تو بھی پورا پلان کمپرومائز نہ ہو۔ اس خفیہ منصوبے کے تحت آر ایس ایس کے ان ممبران نے چودہ اگست کو کراچی میں شہر کی ان گلیوں کے اس روٹ پر موجود ہونا تھا جہاں سے محمد علی جناح نے پاکستان بننے کی خوشی میں اپنی رہائش گاہ سے دستور ساز اسمبلی تک ایک جلوس کی شکل میں گزرنا تھا۔ منصوبہ یہ تھا کہ سربیا کے اس نوجوان کی طرح کی کارروائی کی جائے جس نے پورے یورپ کو جنگ عظیم اول میں دھکیل دیا تھا‘ جب اس نے ایک ڈیوک کو گولی مار دی تھی۔ یوں ایک ایسی جنگ شروع ہوئی جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے تھے۔ وہی کچھ اب یہاں کراچی میں دہرایا جانا تھا۔ اس تنظیم کے ممبران نے قائد اعظم کی بگھی پر گرینیڈز سے حملہ کرکے قتل کرنا تھا۔ آر ایس ایس کا پلان تھا کہ جناح صاحب کے قتل کے بعد پورے ہندوستان میں مسلمانوں اور ہندوئوں کے درمیان ایک خونخوار جنگ شروع ہو جائے۔ پورے ہندوستان میں فسادات پھیل جائیں ۔ اس طرح پوری جنگ میں ہندو فاتح بن کر ابھریں گے کیونکہ ان کی پورے ہندوستان میں آبادی مسلمانوں سے بہت زیادہ تھی اور یوں جہاں ہندوستان کی تقسیم کا سارا منصوبہ ناکام ہو گا وہیں مسلمانوں کا بھی ہندوستان سے صفایا ہو جائے گا اور پھر ہندوستان پر صرف ہندو راج ہوگا۔ لیکن اس کے لیے ضروری تھا کہ چودہ اگست کو ہی محمد علی جناح کو قتل کیا جائے اور اس کیلئے آر ایس ایس اپنے لوگوں کو گرینیڈ دے کر مسلمانوں کے روپ میں کراچی بھیجنا شروع کر چکی تھی۔ کئی تو پہلے ہی پہنچ بھی چکے تھے۔ جناح صاحب خاموشی سے یہ سب کچھ سن رہے تھے۔ انہیں یقین نہیں آرہا تھا کہ جب پاکستان کی آزادی میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا تھا تو انہیں قتل کرنے کا منصوبہ بنایا گیا ہے۔ سی آئی ڈی افسر خوفناک منصوبے کی تفصیلات بتا کر خاموش ہوا تو لیاقت علی خان نے فوراً لارڈ مائونٹ بیٹن سے کہا کہ وہ سب کام چھوڑ کر سکھوں کے تمام لیڈروں کو گرفتار کر لیں۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے لیاقت علی خان کا یہ مطالبہ سنا تو اسے سمجھ نہیں آئی کہ وہ ان حالات میں کیا کرے۔لارڈ مائونٹ بیٹن نے جناح صاحب اور لیاقت علی خان سے کہا کہ اگر وہ تمام سکھ لیڈروں کو گرفتار کرنے کا حکم دیتے ہیں تو اسی وقت ہندوستان میں سول وار شروع ہو جائے گی اور یہی آر ایس ایس چاہتی ہے۔ جو کام وہ چودہ اگست والے دن کرانا چاہتے ہیں‘ وہ آج ہی شروع ہو جائے گا۔ وائسرائے نے سی آئی ڈی کے نوجوان افسر کی طرف دیکھا اور پوچھا: جنٹلمین! تم بتائو اگر میں سکھوں کی قیادت کو گرفتار کر لیتا ہوں تو اس کے کیا اثرات ہوں گے؟ اس افسر نے ایک لمحے کے لیے سوچا اور پھر بولا: اگر یہ کیا تو بڑا نقصان ہوسکتا ہے۔ سکھ لیڈرشپ اس وقت امرتسر کے گولڈن ٹیمپل میں موجود ہے۔ اگر ان کی گرفتاری کا حکم دیا گیا تو کوئی ہندو اور سکھ سپاہی ان احکامات پر عمل نہیں کرے گا۔ کوئی بھی گولڈن ٹیمپل کے اندر جا کر انہیں گرفتار نہیں کرے گا جبکہ مسلمان سپاہیوں کو گولڈن ٹیمپل بھیج کر انہیں گرفتار کرانے کا تو سوچنا بھی نہیں چاہیے۔ سی آئی ڈی افسر بولا: سر معاف کیجیے گا لیکن ہندوستان کی آزادی اور تقسیم کے پلان کے بعد اب پورے پنجاب میں زیادہ قابل اعتماد پولیس افسران اور اہلکار نہیں بچے جو اس طرح کا ایکشن کر سکیں‘ مجھے علم ہے کہ میں پروفیشنل بات نہیں کر رہا لیکن مجھے کوئی ایسا راستہ نظر نہیں آتا کہ ہم کسی ایسے حکم پر عمل کرائیں یا سکھ قیادت کو گولڈن ٹیمپل سے گرفتار کر سکیں۔مائونٹ بیٹن ایک لمحے کے لیے سوچ میں گم ہوگیا۔ پھر اس نے جناب جناح اور لیاقت علی خان سے کہا کہ اس کے پاس ایک اور پلان ہے۔ جونہی لارڈ مائونٹ بیٹن نے اپنا وہ پلان ان کے ساتھ شیئر کیا کہ وہ اب کیا کرنے لگا ہے تو لیاقت علی خان اپنی کرسی سے اچھل پڑے اور وائسرائے ہند کو تیزی سے کہا: آپ قائد اعظم کو قتل کرانا چاہتے ہیں؟ (جاری)

کشمیر کہانی …(9)

مائونٹ بیٹن نے جناح صاحب اور لیاقت علی خان کے ساتھ اپنا پورا پلان شیئر کیا کہ اب جبکہ سی آئی ڈی پنجاب کے پاس پکی انفارمیشن ہے کہ جناح صاحب کو کراچی میں چودہ اگست کو قتل کرنے کا پلان بن چکا ہے تو اس کو ناکام کیسے بنانا ہے۔ مائونٹ بیٹن کا خیال تھا کہ بہتر ہوگا‘ وہ فوری طور پر پنجاب کے گورنر سر ایوین جینکنز سے سفارشات مانگیں کہ ان کے خیال میں اس سازش کو ناکام کیسے بنایا جا سکتا ہے اور ساتھ ساتھ ان دو عہدیداروں سے بھی مشورہ مانگیں‘ جنہیں پہلے نامزد کر دیا گیا تھا کہ وہ پندرہ اگست کے بعد دونوں ملکوں کے معاملات کو دیکھیں گے۔ اس پر لیاقت علی خان اپنی کرسی سے اچھلے اور احتجاجی لہجے میں بولے: آپ قائد اعظم کو قتل کرنا چاہتے ہیں؟ لارڈ مائونٹ بیٹن بولا: مسٹر خان اگر آپ کو لگ رہا ہے کہ میں جناح صاحب کو قتل کرانا چاہتا ہوں تو پھر اس کار میں‘ مَیں بھی جناح صاحب کے ساتھ بیٹھ کر جائوں گا اور ان کے ساتھ میں بھی قتل ہونا پسند کروں گا‘ لیکن میں ہندوستان کے ساٹھ لاکھ سکھوں کے لیڈروں کو فوری طور پر جیل میں نہیں ڈالوں گا‘ جب تک مجھے ان دونوں گورنرز کی رائے نہیں مل جاتی یا وہ دونوں اس بات سے اتفاق نہیں کر لیتے کہ ہاں مجھے سکھوں کے لیڈروں کو جیل میں ڈال دینا چاہیے۔ وائسرائے کی سٹڈی میں گفتگو ختم ہو چکی تھی۔ وائسرائے نے جناح صاحب‘ لیاقت علی خان اور سی آئی ڈی کے لاہور سے گئے افسر کو رخصت کر دیا تھا۔ سی آئی ڈی افسر اپنی سکیورٹی بارے خاصی احتیاط کر رہا تھا کیونکہ اسے یہی ہدایات دی گئی تھیں کہ کسی قیمت پر کسی کو پتا نہیں چلنا چاہیے کہ وہ دہلی میں کیا کر رہا تھا‘ لہٰذا اسی رات ٹرین سے وہ واپس لاہور کے لیے روانہ ہو گیا۔ سی آئی ڈی افسر کے پاس ایک بریف کیس تھا جو ٹشو پیپرز سے بھرا ہوا تھا تاکہ کوئی مسئلہ ہو تو دھوکا دیا جا سکے کہ اس میں تو کوئی اہم چیز نہیں تھی۔ جبکہ اس کے پاس مائونٹ بیٹن کا گورنر پنجاب کے نام لکھا ہوا ایک خط تھا‘ جو اس افسر نے اپنے انڈرپینٹ میں چھپایا ہوا تھا۔ لاہور پہنچ کر وہ فوری گورنر سے ملنا چاہ رہا تھا۔ اسے بتایا گیا تھا کہ اس وقت گورنر پنجاب لاہور میں فلیٹیز ہوٹل میں موجود ہیں۔ سی آئی ڈی افسر سیدھا وہیں پہنچا اور وائسرائے کا وہ خط گورنر پنجاب کے حوالے کیا۔ گورنر ایوین کے بارے میں مشہور تھا کہ ان سے بہتر پنجاب کے بارے میں اور کوئی انگریز نہیں جانتا تھا۔ گورنر پنجاب نے وہیں وائسرائے ہند کا خط پڑھا‘ مایوسی کی حالت میں اپنے کندھے اچکائے اور ایک گہری سانس بھر کر بولا: لیکن ہم کر ہی کیا سکتے ہیں‘ ہم انہیں کیسے روک سکتے ہیں؟تیرہ اگست کا دن آ چکا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے کراچی جانے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔ جہاز دہلی ایئرپورٹ پر تیار کھڑا تھا۔ سی آئی ڈی نے لارڈ مائونٹ بیٹن کو پھر بتایا کہ جناح صاحب کو قتل کرنے کے منصوبے میں تبدیلی نہیں آئی تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن ایک افسر کے ساتھ جہاز کے پیچھے چلا گیا تاکہ کوئی اور گفتگو نہ سن سکے۔ افسر بولا: ساری انٹیلی جنس رپورٹس کنفرم کر رہی ہیں کہ پلان موجود ہے‘ کل چودہ اگست جمعرات کی صبح ایک یا زیادہ بم اس اوپن کار پر پھینکے جانے کا منصوبہ ہے جس میں بیٹھ کر جناح صاحب نے کراچی کی سڑکوں سے گزرنا ہے۔ افسر نے بتایا کہ تمام تر کوششوں کے باوجود وہ اب تک آر ایس ایس کے ان لوگوں کو ٹریس کرنے میں ناکام رہے تھے‘ جنہیں کراچی جناح صاحب کو قتل کرنے کے لیے بھیجا گیا تھا۔ مائونٹ بیٹن کو پتا نہ چلا کہ کب اس کی بیوی بھی اسے جہاز کے ایک کونے میں ایک افسر سے باتیں کرتے دیکھ کر خاموشی سے پیچھے آ گئی ہے۔ مائونٹ بیٹن کو یہ بات پسند نہیں آئی۔ لیڈی مائونٹ بیٹن نے اس افسر کے وہ آخری الفاظ سن لیے اور بولی: میں بھی تمہارے ساتھ چلوں گی۔ مائونٹ بیٹن سختی سے بولا: ہرگز نہیں‘ کوئی وجہ نہیں بنتی کہ ہم دونوں ایک ساتھ بم سے اڑا دیے جائیں۔ میاں بیوی کی باتوں سے بے پروا سی آئی ڈی کا افسر مائونٹ بیٹن کو بریفنگ دیتا رہا۔ وہ بولا: ہماری جناح صاحب سے بات ہوئی ہے‘ وہ ہر صورت کھلی کار میں ہی جانا چاہتے ہیں‘ ہمارے پاس آپ دونوں کی حفاظت کے محدود طریقے ہیں‘ اس تباہی سے بچنے کا ایک ہی حل ہے‘ آپ کراچی پہنچ کر جناح صاحب کو قائل کریں کہ وہ کل کا جلوس کینسل کر دیں۔ مائونٹ بیٹن کراچی پہنچ کر جناح صاحب کو جلوس کی شکل میں جانے سے روکنے میں اسی طرح ناکام رہا جیسے وہ انہیں پاکستان بنانے سے نہیں روک سکا تھا۔ جناح صاحب اور لارڈ مائونٹ بیٹن ایک دوسرے کو پسند نہیں کرتے تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو جناح صاحب سے یہ شکایت تھی کہ وہ ضدی مزاج کے ہیں‘ جس بات پر ڈٹ جاتے ہیں‘ ایک انچ پیچھے نہیں ہٹتے۔ جناح صاحب کے مقابلے میں کانگریس کی قیادت مائونٹ بیٹن کے خیال میں بہت لچک دکھاتی تھی۔ اب بھی کراچی پہنچ کر لارڈ مائونٹ بیٹن نے جناح صاحب کو قائل کرنے کی کوشش کی لیکن اسے ناکامی ہوئی۔ روانگی کا وقت آیا تو لارڈ مائونٹ بیٹن بھی ٹینس تھا۔ اسے علم نہیں تھا کہ وہ بھی جناح صاحب کے ساتھ بم سے اڑا تو نہیں دیا جائے گا۔ جناح صاحب کا کہنا تھا کہ اگر انہوں نے کراچی کی سڑکوں پر کھلی کار میں جانے سے انکار کر دیا اور اپنا پلان کینسل کر دیا یا پھر کار کو تیزی سے وہاں سے گزار کر لے جایا گیا جب لوگ ان کا ہر طرف انتظار کر رہے ہوں تو یہ بزدلی سمجھی جائے گی۔اگر جناح صاحب اتنے ہی بزدل ہوتے تو ایک نئے ملک کا مطالبہ ہی نہ کرتے۔ یہ سب باتیں سن کر لارڈ مائونٹ بیٹن نے اپنی زندگی کا مشکل ترین فیصلہ کیا کہ وہ بھی جناح صاحب کے ساتھ اسی اوپن کار میں بیٹھے گا اور کراچی کی انہی سڑکوں پر سے گزرے گا۔ جو ہو گا دیکھا جائے گا۔جناح صاحب کے لیے اس نے خود کو بھی حملہ آوروں کے سامنے ایکسپوز کرنے کا فیصلہ کر لیا تھا جن کی ضد کو وہ ناپسند کرتا تھا۔ جناح صاحب اور مائونٹ بیٹن ایک ساتھ باہر نکلے تو ایک بلیک اوپن رولس رائس انہیں کراچی کی سڑکوں پر سے لے جانے کے لیے تیار کھڑی تھی۔ ایک لمحے کے لیے مائونٹ بیٹن نے لیٖٖڈی وائسرائے کو دیکھا جو دوسری گاڑی میں بیٹھ رہی تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے اس کی گاڑی کے ڈرائیور کو سخت ہدایات دی تھیں کہ وہ اس کی کار کے پیچھے جڑا رہے۔ جب لارڈ مائونٹ بیٹن گاڑی میں بیٹھ رہا تھا تو ایک لمحے کے لیے اسے اپنے خاندان کے تمام لوگوں کے انجام یاد آئے جو اسی طرح تشدد آمیز انداز میں مارے گئے تھے۔ تو کیا اس کا انجام بھی انہی جیسا ہونے والا تھا؟ حالات پھر خاندان کے ایک اور ممبر کو اس نازک لمحے پر لے ہی آئے تھے؟ اسے اپنے گریٹ انکل زار الیگزینڈ دوم یاد آئے‘ جنہیں تیرہ فروری 1881 کو سینٹ پیٹرز برگ میں عوام کے ایک ہجوم نے مار ڈالا تھا۔ گرینڈ ڈیوک رشتہ دار یاد آیا جسے اسی انداز میں 1904 میں ایک تخریب کار نے بم سے اڑا دیا تھا۔ کزن اینا یاد آئی جو سپین اپنی شادی کے لیے جا رہی تھی کہ ایک ہجوم نے اس کی بگھی پر حملہ کر دیا تھا اور کوچوانوں کی لاشیں بگھی کے اندر اس کے شادی کے ڈریس پر آن گری تھیں اور ہر طرف خون بکھرا ہوا تھا۔ تو کیا اس کی خاندانی تاریخ میں وہ سب کچھ آج دوبارہ ہونے والا تھا؟ آج اس شاہی خاندان کے وائسرائے کی قسمت میں بھی کراچی کی سڑکوں پر کسی آر ایس ایس کے کارکن کے ہاتھوں مارا جانا لکھا تھا؟ جونہی وہ گاڑی میں بیٹھے لارڈ مائونٹ بیٹن کی آنکھیں جناح صاحب سے جا ملیں۔ دونوں نے ایک دوسرے کو دیکھا لیکن بولے کچھ نہیں۔ گاڑی چل پڑی تھی۔ ہر طرف انسان ہی انسان نظر آرہے تھے جن کے چہروں پر خوشی پھیلی ہوئی تھی۔ اس تین کلومیٹر سفر کو محفوظ بنانے کے لیے فوجی دستے وہاں تعینات کیے گیے تھے‘ جن کی پشت مجمع کی طرف تھی۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے سوچا‘ اگر قاتل نے بم پھینکنے کے لیے باہر نکالا تو یہ فوجی دستے اسے کیسے روکیں گے کیونکہ مجمع کی طرف تو ان کی پشت تھی۔ وہ تو مجمع کو دیکھ ہی نہیں رہے تھے۔ جوں جوں دھیرے دھیرے اوپن گاڑی چل رہی تھی لارڈ مائونٹ لاشعوری طور پر مجمع کو ہی بڑی بے چینی سے دیکھ رہا تھا جیسے وہ اس قاتل کے چہرے کو تلاش کرنے کی کوشش کررہا ہو جس نے ابھی گرینیڈ سے جناح صاحب اور اس پر حملہ کرنا تھا۔ (جاری)

کشمیر کہانی…(10)

جب جناح صاحب اور وائسرائے ہند گاڑی میں بیٹھ کر روانہ ہوئے تو انہیں اکتیس توپوں کی سلامی دی گئی‘ جس کی گونج کراچی کی سڑکوں پر تا دیر سنی جاتی رہی۔ شہر کی سڑکوں پر ہر طرف جشن کا سماں تھا۔ ہر چہرہ خوش اور پرجوش لگ رہا تھا۔ کوئی سڑک پر تھا‘ کوئی گلی کی نکڑ پر‘ کوئی کونے میں تو کوئی گھر کی بالکونی پر لٹکا ہوا تھا۔ ہر طرف لوگ ہی لوگ تھے جو اپنا ملک پا کر خوشی سے بے حال ہو رہے تھے۔ مائونٹ بیٹن ان سب چہروں کو غور سے دیکھتا جا رہا تھا اور سوچ رہا تھا کہ انہی میں سے کسی کے ہاتھ میں وہ گرینیڈ ہے جو اس نے ان کی کار پر پھینکنا ہے۔ مائونٹ بیٹن سوچ رہا تھا کہ اس خوش باش اور نعرے لگاتے ہجوم کو کچھ علم نہیں ہے کہ جناح صاحب اور وہ کتنے بڑے خطرات مول لے کر اس وقت اس اوپن گاڑی میں سوار ہیں۔ جو اس وقت جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن پر بیت رہی تھی اس کا اندازہ ہجوم کبھی نہیں کر سکتا تھا‘ جس کے اندر ان کا متوقع قاتل چھپا ہوا تھا اور کسی لمحے وہ آگے بڑھ کر ان پر بم مار سکتا تھا۔لارڈ مائونٹ بیٹن اور جناح ابھی تک چپ چاپ بیٹھے تھے۔ دونوں کے درمیان ایک لفظ کا بھی تبادلہ نہیں ہوا۔ دونوں کی زندگیاں دائو پر لگی ہوئی تھیں۔ مائونٹ بیٹن کو یوں لگ رہا تھا کہ تین کلومیٹر کا سفر طے کرنے میں اسے جو تیس منٹ لگے تھے وہ دراصل چوبیس گھنٹوں پر محیط تھے۔ ان کی گاڑی کی رفتار بمشکل ہی اس بندے سے زیادہ ہو گی جو تیزی سے پیدل چلتا جا رہا ہو۔ اس روٹ کے ایک ایک انچ پر ہجوم کا قبضہ تھا۔ لوگ تو ٹیلی فون کے پولوں، لیمپ پوسٹوں تک سے لٹکے ہوئے تھے۔ کئی تو کھڑکیوں سے چمٹے ہوئے تھے اور ایک بڑی تعداد گھروں کی چھت پر موجود تھی۔ وہ سارا ہجوم جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن کو درپیش خطرات سے بے خبر نعرے لگانے میں مصروف تھا۔ پاکستان زندہ باد۔ جناح زندہ باد۔ مائونٹ بیٹن زندہ باد۔ کار میں سوار جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن کو یوں لگ رہا تھا جیسے وہ کسی سرنگ میں سے گزر رہے ہوں جس کے چاروں طرف انسانوں کی دیواریں تھیں اور کسی وقت کوئی بھی بم ان کی کار پر اچھال دے گا۔ مجمع کو پرجوش اور نعرے لگاتے دیکھ کر جناح اور مائونٹ بیٹن کے پاس اس کے علاوہ کوئی چارہ نہ تھا کہ وہ اپنے چہروں کو خوشگوار رکھنے کی کوشش کریں۔ لارڈ مائونٹ بیٹن اس ٹینشن کے ماحول میں اپنے ہاتھوں کو ایک دوسرے سے رگڑ رہا تھا اور ساتھ ہی چہرے پر زبردستی مسکراہٹ لانے کی کوششوں میں لگا ہوا تھا جبکہ اندر ہی اندر وہ ان چہروں کو بھی پڑھنے کی کوشش کر رہا تھا کہ کہیں اسے سوجن زدہ آنکھیں نظر آئیں یا خوفزدہ چہرہ جس سے وہ اندازہ لگا سکے کہ وہ دیکھو یہ ہے وہ بندہ اور یہ جگہ ہے جہاں یہ سب کچھ ہونے والا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کو یہ سب کچھ سوچتے ہوئے یاد آیا کہ اس کے ساتھ ایسا پہلی دفعہ نہیں ہو رہا تھا۔ جب 1921 میں وہ اپنے کزن پرنس آف ویلز کے ساتھ ہندوستان کے دورے پر آیا تھا تو اس وقت بھی سی آئی ڈی نے ایک سازش پکڑی تھی جب یہ پلان بنایا گیا تھا کہ کرائون پرنس کی کار پر بم پھینک دیا جائے جب وہ بھارت پور کی گلیوں میں سے گزر رہا ہو گا۔ یہی سوچتے ہوئے مائونٹ بیٹن ادھر ادھر دیکھ رہا تھا کہ اس ہجوم میں سے ایسا کون سا بندہ ہوسکتا ہے جس کے پاس وہ بم ہے جو اس نے جناح اور ان کی کار پر پھینکنا ہے؟ کیا وہ بندہ وہی تو نہیں جس کو دیکھ کر میں اپنا ہاتھ ہلا رہا ہوں؟ یا اس کے قریب جو کھڑا ہوا ہے وہ بندہ ہے جس نے بم مارنا ہے؟ مائونٹ بیٹن کو عجیب و غریب خیالات آرہے تھے۔ مائونٹ بیٹن کو بنگال کے گورنر کا وہ ملٹری سیکرٹری یاد آیا جس نے ایک قاتل کا بم پکڑ کر اسے واپس قاتل پر ہی پھینک دیا تھا۔ یہ سوچتے ہوئے مائونٹ بیٹن کو خیال آیا کہ بم کو پکڑنا تو دور کی بات ہے وہ تو کرکٹ کی بال تک نہیں پکڑ سکتا تھا۔ اچانک اس کی سوچ کا رخ اپنی بیوی کی طرف مڑ گیا جو بالکل اس کی گاڑی کے پیچھے ایک اور گاڑی میں سوار ہوکر آرہی تھی؛ تاہم اس نے پیچھے مڑ کر اس کی گاڑی کو دیکھنے کی کوشش نہیں کی بلکہ وہ نعرے لگاتے ہجوم کو ہی دیکھتا رہا کہ کہیں اسے کوئی خوفزدہ چہرہ نظر آئے جو سٹیل کا وہ خطرناک ٹکرا ان کی گاڑی کی طرف ہوا میں اچھال کر پھینکنے لگا ہو اور وہ چلا کر کہہ سکے کہ وہ رہا۔ جب یہ قافلہ وکٹوریہ روڈ پر واقع ہوٹل کے قریب پہنچنا تو ایک عمارت کی بالکونی میں کھڑے ایک نوجوان نے اپنے کوٹ کی جیب میں موجود اپنے آہنی ہتھیار پر انگلیاں سخت کر دیں اور وہ اس ہجوم کو دیکھنے لگ گیا جو زوروشور سے نعرے لگا رہا تھا۔ اس نے اپنے پستول کی سیفٹی کو ہٹایا۔ یہ وہی افسر Mr Savage تھا جس نے لاہور سے دہلی جا کر مائونٹ بیٹن کو اس سازش کی اطلاع دی تھی۔ قانوناً اس کے پاس یہ ہتھیار نہیں ہونا چاہیے تھا کیونکہ کچھ دنوں بعد وہ واپس برطانیہ جا رہا تھا۔ اس کی پنجاب پولیس کے ساتھ سروس چوبیس گھنٹے پہلے ختم ہو چکی تھی۔ دوسری طرف گاڑی میں مائونٹ بیٹن اور جناح صاحب اپنے چہرے پر مسکراہٹ سجانے کی کوششوں میں لگے ہوئے تھے اور اپنی پریشانیوں کو چھپانے کے لیے عوام کو دیکھ کر ہاتھ ہلا رہے تھے تاکہ کسی کو اندازہ نہ ہو کہ وہ اس وقت کس صورت حال سے گزر رہے ہیں۔ دونوں اتنے دبائو کا شکار تھے کہ انہوں نے ایک دوسرے سے بات تک نہیں کی۔ دونوں کے ہونٹ سلے ہوئے تھے لیکن وہ مجمع کو یہ تاثر نہیں دینا چاہتے تھے کہ ان کے ساتھ کچھ ہونے والا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن خود کو سمجھانا شروع ہوگیا کہ یہ سب لوگ اسے پسند کرتے ہیں۔ اس نے تو ان سب کو آج کے دن آزادی دی ہے۔ وہ بھلا اسے کیوں قتل کرنا چاہیں گے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن پوری طرح اس بات پر قائل ہو کر ہی جناح کے ساتھ اوپن گاڑی میں بیٹھا تھا کہ اس کی موجودگی کی وجہ سے جناح صاحب قتل ہونے سے بچ جائیں گے۔ مائونٹ بیٹن کے خیال میں جو لوگ جناح کو قتل کرنا چاہتے تھے وہ ان کے ساتھ گاڑی میں اسے بیٹھا دیکھ کر قتل نہیں کریں گے۔ مائونٹ بیٹن نے جناح کے ساتھ گاڑی میں سفر کرنے کا فیصلہ اس لیے کیا تھا کہ جناح کی جان بچائی جائے۔ انگریز افسر کی بالکونی کے نیچے سے جب جناح اور مائونٹ بیٹن کی گاڑی گزرنے لگی تو اس نے اپنے پستول پر گرفت مضبوط کر لی۔ جب تک رولز رائس وہاں سے گزر نہیںگئی وہ وہاں موجود رہا۔ وہ اپنے کمرے میں لوٹ گیا اور اس نے ایک گلاس میں سکاچ انڈیل لی۔ آگے ہندوئوں کا علاقہ آرہا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے سوچا‘ یقینا اگر گاڑی پر بم سے حملہ ہوا تو یہیں سے ہوگا۔ اس علاقے کی تمام دکانیں ہندوئوں کی ملکیت تھیں اور وہ سب مسلمانوں کو نعرے لگاتے دیکھ کر سہمے ہوئے بھی تھے۔ کچھ بھی نہ ہوا۔ اچانک مائونٹ بیٹن نے اپنے سامنے گورنر ہائوس کا بڑا گیٹ دیکھا۔ اسے یوں لگا جیسے کسی بحری جہاز کے کپتان کو بڑے طوفان کے بعد ساحل سمندر کی روشنیاں نظر آگئی ہوں۔ مائونٹ بیٹن کی زندگی کا سب سے خوفناک اور اعصاب شکن سفر اختتام پذیر ہوگیا تھا۔ جب گاڑی رکی تو جناح نے گہری سانس لی جیسے وہ بھی ریلیکس کررہے ہوں۔ انکے چہرے پرچھائی ہوئی سنجیدگی اور فکر کی جگہ مسکراہٹ نے لے لی۔ جناح نے اپنا کمزور ہاتھ وائسرائے کے گھٹنے پر رکھ کر کہا: خدا کا شکر ہے میں آپ کو زندہ سلامت لے آیا ہوں۔ لارڈ مائونٹ بیٹن مسکرایا اور بولا: کیا کہا آپ نے جناح‘ آپ مجھے زندہ سلامت لے آئے ہیں یا میں آپ کو زندہ سلامت گورنر ہائوس لے آیا ہوں۔اب جناح اور مائونٹ بیٹن کے ذہن میں یہ سوال ابھرا کہ سی آئی ڈی کے پاس اتنی پکی خبر تھی‘ پھر ان پر حملہ کیوں نہیں کیا گیا تھا؟ آخری لمحے پر ایسا کیا ہوگیا تھا کہ ان کی گاڑی پر بم نہیں اچھالا گیا تھا۔ جس سوال کا جواب جناح اور مائونٹ بیٹن تلاش کررہے تھے اس کا جواب صرف اور صرف جالندھر میں سائیکلوں کی مرمت کرنے والے سکھ مستری پریتم سنگھ کے پاس تھا کہ جناح اور لارڈ مائونٹ بیٹن پر آخری لمحے حملہ کیوں نہیں کیا گیا تھا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(11)

یہ سب کے لیے حیرانی کی بات تھی کیونکہ سی آئی ڈی کی مخبری غلط نہیں ہوتی تھی اور اس معاملے کو ہائی لیول پر دیکھا جا رہا تھا۔ جناح صاحب کو قتل کرنے کی جو سازش آر ایس ایس نے تیار کی تھی اس کو وائسرائے ہند، گورنر پنجاب اور دیگر اہم عہدے دار مانٹیر کر رہے تھے۔ سی آئی ڈی اتنی بڑی غلطی نہیں کر سکتی تھی کہ اس کا مخبر اسے غلط مخبری کرے۔ اگرچہ اچھا ہوا کہ جناح کو قتل کرنے کا پلان ناکام ہو گیا تھا اور ہندوستان تباہی‘ بربادی سے بچ گیا‘ لیکن سوال یہ تھا کہ آخر ایسا کیا ہو گیا تھا۔ فوری طور پر کسی کے پاس اس کا جواب نہ تھا؛ تاہم بعد میں کی گئی تفتیش میں یہ راز کھلا اور راز کھولنے والا جالندھر میں ایک سائیکل مکینک تھا۔ اس مکینک کا نام پریتم سنگھ تھا۔ پریتم سنگھ اس وقت پکڑا گیا تھا جب پاکستان آنے والی ایک اہم ٹرین پر سکھوں کے حملے کے بعد گرفتاریاں کی گئی تھیں۔ پریتم نے اس راز سے پردہ اٹھایا تھا کہ آر ایس ایس کا پلان پکا تھا۔ کراچی ان کے لوگ بھی پہنچائے گئے تھے؛ تاہم آر ایس ایس کا گینگ لیڈر‘ جس نے حملے کا اشارہ کرنا تھا تاکہ دیگر لوگ جناح کی گاڑی پر بموں سے حملہ کر دیں، لیکن جب گاڑی قریب آئی تو وہ یہ جرأت نہ کرسکا۔ طے یہ ہوا تھا کہ گینگ لیڈر پہلا بم پھینکے گا اور پھر سب اپنے اپنے بم جناح صاحب کی گاڑی پر مارنا شروع کریں گے۔ آر ایس ایس کے متوقع قاتل انتظار کرتے رہ گئے۔ وہ آخری لمحے پر بم پھینکنے کی ہمت نہ کرسکا۔ اتنی دیر میں کار ٹارگٹ سے نکل گئی اور یوں جناح اور مائونٹ بیٹن اس دن حملہ سے بچ گئے تھے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کراچی سے واپس دہلی لوٹ چکا تھا۔ پاکستان کے بعد اب ہندوستان کے آزاد ہونے کی باری تھی۔ اس کے پاس آخری چند لمحے بچ گئے تھے۔ رات کے بارہ بجتے ہی وہ وائسرائے ہند کے ٹائٹل سے دست بردار ہو جائے گا۔ وائسرائے ہند کے طور پر وہ آخری دستاویزات پر دستخط کر چکا تھا۔ آخری ڈاک بھی جا چکی تھی۔ وقت آن پہنچا تھا جب وائسرائے ہند کی تمام مہریں کسی ڈبے میں بند کرکے رکھ دی جائیں‘ جو دنیا کے طاقتور ترین سیاسی دفتر کی نشانی سمجھی جاتی تھیں۔ اپنی سٹڈی میں تنہا بیٹھے مائونٹ بیٹن کو کچھ دیر کے لیے عجیب سا سکون اور طاقت محسوس ہوئی ”میں اب بھی اس زمین پر سب سے طاقتور انسان ہوں۔ ابھی میرے پاس چند منٹ باقی ہیں۔ میں جو اس سلطنت کا سربراہ ہوں‘ جس کے پاس دنیا کے کروڑوں انسانوں کی زندگی اور موت کے فیصلے کرنے کا اختیار ہے‘‘۔ انہی خیالات میں گم اسے ایچ جی ویلز کی کہانی یاد آئی The Man who could Do miracles۔ یہ ایک ایسے انسان کی کہانی تھی جس کو ایک دن کے لیے یہ طاقت مل گئی تھی کہ وہ کوئی بھی معجزہ کرسکتا تھا جو اس کا دل چاہے۔ مائونٹ بیٹن نے سوچا‘ میرے پاس بھی چند منٹ بچ گئے ہیں اور میں اس دفتر میں موجود ہوں جس کا سربراہ کوئی بھی معجزہ کرنے کا اختیار رکھتا ہے۔ مائونٹ بیٹن نے سوچا‘ میں بھی کوئی معجزہ کرسکتا ہوں ۔ لیکن کون سا معجزہ؟ اچانک مائونٹ بیٹن سیدھا ہو کر بیٹھ گیا۔ ”اوہ خدایا‘‘ وہ آونچی آواز میں بولا ”یاد آیا مجھے پالن پور ریاست کی بیگم صاحبہ کو ہائی نس کا خطاب دینا تھا۔ خوش باش چہرے کے ساتھ مائونٹ بیٹن نے گھنٹی بجانا شروع کر دی تاکہ وہ خادم کو فوراً بلا سکے۔ دراصل مائونٹ بیٹن اور نواب پالن پور اس وقت دوست بن گئے تھے جب وہ انیس سو اکیس میں اپنے کزن پرنس ویلز کے ساتھ ہندوستان کے دورے پر آیا تھا۔ 1945 میں جب مائونٹ بیٹن جنگ عظیم دوم لڑ رہا تھا تو وہ نواب پالن پور کے پاس سپریم کمانڈر کی حیثیت سے دورہ کرنے گیا تھا۔ وہاں اس کی ملاقات نواب کی خوبصورت آسٹریلوی بیگم صاحبہ سے بھی ہوئی تھی۔ اس دورے میں نواب کا گورا ریذیڈنٹ مائونٹ بیٹن کے پاس نواب کی طرف سے ایک درخواست لے کر آیا تھا۔ اس گورے کا نام سر ولیم کرافٹ تھا۔ اس نے مائونٹ بیٹن کو بتایا کہ نواب آسٹریلوی خاتون سے شادی کرکے لے آیا ہے۔ وہ مسلمان ہوگئی ہے اور بہت سارے اچھے سوشل کام بھی کررہی ہے لیکن نواب بہت افسردہ ہے کیونکہ وائسرائے ہند بیگم صاحبہ کو ”ہائی نس‘‘ کا لقب اختیار کرنے کی اجازت نہیں دے رہا تھا کیونکہ وہ ہندوستانی نہیں۔ دہلی واپس پہنچ کر مائونٹ بیٹن نے وائسرائے ہند لارڈ ویول سے ملاقات کی اور اس سے درخواست کی کہ وہ نواب کی بیگم کو ہائی نس کا لقب اختیار کرنے کی اجازت دے۔ لیکن وائسرائے ہند نے انکار کر دیا تھا کہ اگر ایک کو اجازت دی گئی تو ہندوستانی راجوں مہاراجوں کا یورپی خواتین سے شادیوںکا راستہ کھل جائے گا اور یوں ہندوستان میں Princely States کا پورا نظریہ ہی ختم ہو کر رہ جائے گا۔اب تین برس بعد جب سلطنت برطانیہ کے ختم ہونے میں کچھ منٹ بچ گئے تھے تو مائونٹ بیٹن کو نواب پالن پور یاد آیا۔ جونہی سٹاف کے لوگ سٹڈی میں پہنچے تو مائونٹ بیٹن نے نواب کی بیگم صاحبہ کو ہائی نس کا درجہ دینے کا اعلان کیا۔ سٹاف میں سے ایک نے احتجاج کیا کہ آپ یہ کام نہیں کرسکتے۔ ہنستے ہوئے مائونٹ بیٹن نے کہا: کون کہتا ہے میں نہیں کرسکتا۔ میں وائسرائے ہند ہوں۔ نہیں؟ لارڈ مائونٹ بیٹن نے حکم دیا کہ فوراً جائیں وہ مخصوص دستاویز لائیں جس پر وائسرائے کا حکم لکھ کر یہ لقب یا خطاب عنایت کیا جاتا ہے۔ اس پر لکھ کر لائو‘ نواب پالن پور کی بیگم کو ہائی نس کا لقب دیا جاتا ہے۔ جب یہ دستاویز تیار کرکے وائسرائے کی میز پر رکھی گئی ‘ رات کے 11.58 ہوچکے تھے۔ بارہ بجنے میں دو منٹ باقی تھی جس کے بعد وائسرائے ہند کا عہدہ ختم ہوجانا تھا۔ مائونٹ بیٹن کے چہرے پر ایک مسکراہٹ ابھری۔ اس نے قلم اٹھایا اور وائسرائے ہند کے طور پر اپنا آخری کام سرانجام دیا۔ جونہی بارہ بجے وائسرائے ہند کا عہدہ ختم ہوا اور یونین جیک جھنڈا نیچے اتار دیا گیا۔ چند دن بعد نواب کے ریذیڈنٹ افسر کی طرف سے مائونٹ بیٹن کو خط ملا جس میں لکھا تھا کہ نواب صاحب بہت شکر گزار ہیں‘ اگر میں کبھی آپ کے کسی کام آسکا تو مجھے خوشی ہوگی۔تین سال بعد 1950 میں مائونٹ بیٹن ایک دفعہ پھر اپنی پسندیدہ جاب سمندروں پر کررہا تھا۔ وہ نیوی کے تمام معاملات کا انچارج تھا‘ جس میں ڈیوٹی فری اشیا، الکوحل، سگریٹ اور دیگر آئٹمز بھی شامل تھے جو نیوی افسران اور اہلکاروں کو ملتے تھے۔ برطانوی وزیراعظم ایٹلے کی حکومت کو پیسوں کی ضرورت پڑ گئی تو سوچا گیا کہ ٹیکس اکٹھا کیا جائے تو کلکٹر کسٹمز نے یہ عندیہ دیا کہ وہ یہ تمام مراعات ختم کر رہا ہے۔ نیوی کے تمام چھوٹے بڑے عہدیداروں نے پوری کوشش کرکے دیکھ لی لیکن کلکٹر نہ مانا اور وہ ڈٹا رہا کہ سب مراعات ختم ہوں گے۔ آخر مائونٹ بیٹن نے کہا کہ وہ خود جا کر کلکٹر سے بات کرے گا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن ایک دن کلکٹر کے دفتر پہنچ گیا۔ مائونٹ بیٹن اندر داخل ہوا تو حیران رہ گیا کہ وہ کلکٹر اور کوئی نہیں بلکہ ریاست پالن پور کا ریذیڈنٹ سر کرافٹ تھا جو اسے دیکھ کر اپنی سیٹ سے اٹھ کھڑا ہوا اور بولا: آپ نے نواب کی بیگم صاحبہ کے لیے جو کچھ کیا تھا اس پر آپ کا شکریہ تک ادا نہیں ہوسکتا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن مسکرائے اور بولے: نہیں تمہارے پاس آج میرا شکریہ ادا کرنے کا موقع ہے۔ کلکٹر نے اسی وقت نیوی کی تمام مراعات بحال کر دیں۔ادھر جس رات بھارت آزاد ہو رہا تھا تو مائونٹ بیٹن کے رائٹ ہینڈ مین وی پی مینن‘ جس نے تقسیم کا پلان دوبارہ ڈرافٹ کیا تھا‘ اپنے کمرے میں بیٹھا تھا‘ جب اس کی ٹین ایجر بیٹی داخل ہوئی۔ باہر ہر طرف پٹاخے پھوڑے جانے لگے اور نعرے بلند ہوئے تو اس کی بیٹی خوشی سے چلائی کہ ہم آزاد ہو گئے ہیں‘ لیکن اس کا باپ وی پی مینن کرسی پر خاموش بیٹھا رہا۔ اپنی بیٹی کو چیخیں مارتے دیکھ کر وی پی مینن‘ جس نے آنے والے دنوں میں سردار پٹیل اور لارڈ مائونٹ بیٹن کے ساتھ مل کر کشمیر سمیت 565 ریاستوں کے ہندوستان کے ساتھ الحاق میں اہم کردار ادا کرنا تھا‘ کے منہ سے بے ساختہ نکلا: ہمارا اصل ڈرائونا خواب تو اب شروع ہورہا ہے۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(12)

وی پی مینن کے کہے ہوئے وہ الفاظ کہ اصل ڈرائونا خواب تو اب شروع ہو رہا ہے‘ اس کی بیٹی کو سنائی نہ دیئے۔ سنائی دے جاتے تو بھی چھوٹی بچی شاید ان کا مطلب نہ سمجھ سکتی کہ اس کا باپ‘ جس نے تین جون کو لارڈ مائونٹ بیٹن کا ہندوستان کی تقسیم کا پلان ڈرافٹ لکھا تھا‘ مستقبل کے کن خوابوں، خیالوں اور اندیشوں میں کھویا ہوا ہے۔دوسری طرف سری نگر میں کشمیر کا مہاراجہ ہری سنگھ وی پی مینن کے ان خدشات سے دور اپنے محل کے رنگے اور سجے دربار ہال میں موجود تھا۔ یہ موقع ہندوئوں کے اس سالانہ تہوار کا تھا جو اکتوبر کے چاند کے ساتھ ہی ان کی دیوی درگا کی نو دن کی جدوجہد کی یاد میں منایا جاتا تھا۔ درگا دیوی ہندوئوں کے لارڈ شیوا کی بیوی تھیں۔ ہری سنگھ کے آبائواجداد کی بھی یہ روایت تھی کہ وہ چوبیس اکتوبر کی شام ریاست کے تمام شرفا سے وفاداری کا حلف لیتے تھے۔ ایک ایک کرکے سب شرفا مہاراجہ کے تخت کی طرف بڑھتے اور شاہی ہاتھ میں ایک رومال میں بند سونے کا ٹکڑا رکھ دیتے تھے۔مہاراجہ بہت خوش قسمت تھا کہ ہندوستان کی تین میں سے ایک ریاست اس کے پاس تھی جن کی بہت اہمیت تھی۔ باقی دو حیدرآباد اور جوناگڑھ کی ریاستیں تھیں۔ کشمیر بہت بڑی ریاست تھی اور اس کا رقبہ بہت وسیع تھا۔ جونا گڑھ ریاست اگرچہ ہندوستان کے وسط میں واقع تھی اور اس کی اکثریتی آبادی بھی ہندو تھی لیکن راجہ ہر قیمت پر پاکستان کے ساتھ الحاق کرنا چاہتا تھا اور ہندوستان کی نئی حکومت کسی قیمت پر راجہ جوناگڑھ کو یہ کرنے کی اجازت دینے کو تیار نہ تھی۔دوسری طرف اپنے پرانے دوست لارڈ مائونٹ بیٹن کے سری نگر میں دیے گئے مشورے کو ردی کی ٹوکری میں پھینک کر مہاراجہ ہری سنگھ اب یہ پلان بنائے بیٹھا تھا کہ جو ریاست اس نے ایسٹ انڈیا کمپنی سے ایک کروڑ روپے (پچھتر لاکھ نقد اور پچیس لاکھ کے کچھ دفاعی لحاظ سے اہم کشمیری علاقے) ادا کرکے خریدی تھی، اسے اپنے ہاتھ سے نہیں جانے دے گا۔ وہ پاکستان یا بھارت میں سے کسی کے ساتھ الحاق نہیں کرے گا۔ جب راجہ اپنی ریاست کے اہم شرفا سے وفاداری کا حلف لینے میں مصروف تھا، اسی وقت سری نگر سے پچاس کلومیٹر مشرق میں ایک مسلح گروہ دریائے جہلم کے کنارے پر واقع ایک دفتر کے اندر گھس رہا تھا جو مشینوں سے بھرا ہوا تھا۔ ان میں سے ایک مسلح آدمی نے ایک کمرے کے اندر ڈائنامائٹ فٹ کیا اور اسے کچھ فاصلے سے آگ کی تیلی دکھا کر باہر بھاگ گیا اور چیخ کر دوسروں کو بھی خبردار کیا کہ وہ بھی دور بھاگ جائیں۔ چند سکینڈز کے بعد مہورا پاور سٹیشن کی عمارت زوردار دھماکے سے اڑ گئی۔ اس عمارت کے اڑنے کے ساتھ ہی پاکستانی سرحد سے لے کر لداخ اور چین کے پہاڑی علاقوں تک بجلی مکمل طور پر غائب ہوگئی۔ ہری سنگھ کے دربار ہال میں لگے سینکڑوں بلب بھی بجھ گئے۔ ہری سنگھ کا محل اندھیرے میں ڈوب گیا تھا۔ پورے سری نگر میں بجلی غائب ہوگئی۔ اس اچانک بجلی چلے جانے کا سب نے اثر لیا اور سب سے زیادہ وہاں موجود گورے سپاہیوں اور ریٹائرڈ افسران نے محسوس کیا جو ہندوستان چھوڑنے سے پہلے گرمیوں کے موسم میں چھٹیاں منانے کے لیے وہاں پہاڑی علاقوں میں موجود تھے۔ بجلی کے بلب بجھنا ان گوروں کے لیے ایک طرح کا شگون تھا کہ اب ان کے ہندوستان سے جانے کا وقت آ گیا ہے۔چوبیس اکتوبر 1947 کی رات سینکڑوں قبائلی پٹھان ہری سنگھ کی ریاست میں داخل ہو رہے تھے تاکہ اس کے اس خواب کا توڑ کر سکیں کہ وہ مسلمانوں کی اکثریتی آبادی والی ریاست کو ایک آزاد ملک بنا کر اس کا حکمران بن کر رہے گا۔ مہاراجہ کی اپنی آرمی پہلے ہی اسے چھوڑ کر جا چکی تھی۔ بہت سارے فوجی آرمی سے بھاگ کر پہاڑیوں میں پناہ لیے بیٹھے تھے جبکہ مسلمان فوجی اہلکاروں نے ان پٹھانوں کو جوائن کر لیا تھا جو سری نگر کی طرف جارہے تھے۔ سوال یہ تھا کہ اتنی بڑی تعداد میں پٹھان قبائلی علاقوں سے مسلح ہو کر کشمیر کیسے پہنچ گئے تھے‘ جس کا پتا مہاراجہ تک کو نہیں چلا تھا اور پھر انہیں وہاں بھیجنے کی ضرورت ہی کیوں پیش آئی تھی؟اس سارے قصے کے تانے بانے دو ماہ پہلے ہونے والے ایک واقعے سے ملتے تھے جب قائد اعظم نے چوبیس اگست کو اپنے گورے ملٹری سیکرٹری کرنل ولیم کو بلا کر کہا کہ وہ کچھ دن آرام کرنے کشمیر جانا چاہتے ہیں۔ ایک طرف بگڑتی صحت‘ دوسری طرف ہندوستان کی تقسیم اور اوپر سے دن رات مذاکرات کے دبائو نے انہیں مزید کمزور کر دیا تھا۔ قائد اعظم اب کچھ آرام کرنا چاہتے تھے اور انہوں نے کشمیر کو پسند کیا تھا۔ قائد اعظم نے اپنے ملٹری سیکرٹری کو کہا کہ وہ ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ان کی کشمیر میں رہائش کا بندوبست کرے۔ قائداعظم کا کشمیر میں دو ہفتے آرام کرنے کا فیصلہ بالکل فطری تھا۔ قائد کے علاوہ پاکستان کی تمام آبادی بھی یہ نہیں سوچ سکتی تھی کہ ریاست کشمیر‘ جس کی اکثریتی آبادی مسلمان تھی‘ پاکستان کے علاوہ کوئی اور آپشن بھی لے سکتی تھی لہٰذا سب یہی سمجھے بیٹھے تھے کشمیر تو پاکستان کا ہے۔ اس لیے قائد اعظم نے اس سوچ کے ساتھ اپنے ملٹری سیکرٹری کو کشمیر بھیجا تھا کہ وہ جا کر ان کے لیے دو ہفتے کا بندوبست کرکے آئے۔ پانچ دن بعد قائد اعظم کا گورا ملٹری سیکرٹری واپس لوٹا اور اس نے جو بات بتائی اسے سن کر قائداعظم کو شدید جھٹکا لگا۔ سیکرٹری نے بتایا کہ ان کے قیام کے انتظامات تو ایک طرف، مہاراجہ ہری سنگھ تو انہیں وہاں ایک سیاح کے طور پر بھی قدم رکھنے کی اجازت دینے کو تیار نہیں تھا۔قائد اعظم کو پہلی دفعہ احساس ہوا کہ حالات تو بالکل کسی اور سمت جا رہے ہیں۔ ان کے کشمیر کے بارے میں تمام خیالات اور اندازے غلط نکلے تھے۔ یہ توکہانی ہی کچھ اور نکلی تھی۔ اب سوال یہ تھا کہ کیا کیا جائے؟ ہاتھ پر ہاتھ رکھ کر بیٹھا جائے یا پھر کچھ اور پلان کیا جائے۔ قائداعظم کو یوں لگا کہ ان کے ساتھ دھوکا ہوگیا ہے۔ اگلے اڑتالیس گھنٹوں کے اندر حکومت پاکستان نے ایک خفیہ ایجنٹ کشمیر بھیجا تاکہ وہ ساری صورتحال کی رپورٹ حاصل کرکے واپس آئے اور اس کی روشنی میں مستقبل کی حکمت عملی بنائی جا سکے۔ جو بندہ اس کام کے لیے سری نگر بھیجا گیا تھا جب وہ رپورٹ واپس لے کر آیا تو سب کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے۔ ہری سنگھ کا پاکستان کے ساتھ الحاق کا دور دور تک ارادہ نہیں تھا۔ یہ خفیہ اطلاع قائداعظم کے لیے ایک بم شیل سے کم نہ تھی کہ کشمیر ان کے ہاتھ سے نکل رہا تھا۔ یوں ستمبر کے وسط میں لیاقت علی خان نے ایک خفیہ اجلاس لاہور میں بلایا جس میں صرف چند اہم لوگ شریک تھے۔ اس خفیہ اجلاس میں طے کیا جانا تھا کہ مہاراجہ کو اس کے آزاد ریاست کے فیصلے سے کیسے روکا جائے کیونکہ کشمیر پر پاکستان کا حق بنتا تھا۔ پہلی تجویز یہ دی گئی کہ پاکستانی فوج کشمیر پر حملہ کر دے اور اس پر اپنا قبضہ جما لے؛ تاہم اس تجویز کو رد کر دیا گیا کہ موجودہ حالات میں یہ ممکن نہیں تھا۔ اس کے بعد دو اور تجاویز پیش کی گئیں۔ ایک تجویز کرنل اکبر خان نے دی۔ وہ Sandhurst کالج کے گریجویٹ تھے۔ کرنل صاحب کا خیال تھا کہ بہتر ہے ہم کشمیر میں مسلمان آبادی کو پیسہ، اسلحہ اور گولہ بارود فراہم کریں اور مہاراجہ ہری سنگھ کے خلاف بغاوت کو جنم دیا جائے۔ کرنل کا کہنا تھا کہ اس پورے معاملے کو چند ماہ لگیں گے لیکن اس کے نتائج پاکستان کے حق میں ہی نکلیں گے۔ سری نگر میں جب ہزاروں مسلح کشمیری اتریں گے تو راجہ کو وہاں سے بھاگنا ہی پڑے گا یا پھر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے گا۔ لیکن اس آپشن کو بھی اجلاس کے شرکا نے مسترد کر دیا کہ اس میں بہت وقت درکار تھا اور خطرات بھی بہت تھے۔ پاکستان کے پاس اتنا وقت نہیں تھا۔ اس پر ایک عہدے دار نے کہا: حکومت پاکستان بھی اپنی فوج نہیں بھیج سکتی، ہم کشمیریوں کو بھی پیسہ، اسلحہ اور گولہ بارود دے کر سری نگر پر لانچ نہیں کرسکتے تو پھر ایک ہی آپشن رہ جاتاہے۔ سب شرکا کی آنکھیں اس کی طرف اٹھ گئیں ۔ جب وہ پلان اس خفیہ اجلاس میں شیئر کیا گیا تو اسے سن کر وزیراعظم لیاقت علی خان سمیت سب شرکا اچھل پڑے۔ جو منصوبہ بنایا گیا تھا اس پر ایک ہی بندہ عمل کرا سکتا تھا۔ اس کا نام خورشید خان تھا۔لیکن یہ گمنام انسان خورشید خان تھا کون جو پاکستان کے لیے اچانک بہت اہمیت اختیار کر گیا تھا؟ (جاری)

کشمیر کہانی… (13)

سوال یہ ہے کہ برٹش آرمی کے ایک ریٹائرڈ میجر خورشید انور کی ضرورت کیوں پیش آئی تھی؟دراصل پندرہ اگست سے پہلے پاکستان اور بھارت دونوں یہ توقع کئے بیٹھے تھے کہ مہاراجہ کشمیر کا دماغ کچھ دنوں میں ٹھیک ہوجائے گا اور وہ فیصلہ کر لے گا‘ لیکن انہیں علم نہ تھا کہ مہاراجہ کچھ اور سوچ کر بیٹھا ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے پلان تیار کیا ہوا تھا کہ وہ پاکستان اور آزاد کشمیر ریاست کے درمیان ایک بفر زون پیدا کرے اور اس کام کے لیے اس نے ڈوگرا فورس اپنی مسلمان آبادی پر استعمال کرنے کا فیصلہ کیا‘ تاکہ مسلمانوں کی آبادی کم ظاہر کی جائے اور اس کے پاس اپنی ریاست کے قائم کرنے کا جواز بن جائے۔ یوں پونچھ ‘جو پاکستانی سرحد کے قریب علاقہ ہے ‘اور جنوبی جموں کے علاقوں میں باقاعدہ فوج کے ذریعے مسلمان کی نسل کشی شروع کر دی گئی۔جموں سے مسلمانوں کی تمام آبادی جو پانچ لاکھ کے قریب تھی‘ کو وہاں سے نکال دیا گیا‘ جبکہ دو لاکھ تو مکمل طور پر غائب ہوگئے ۔ایک پلان کے تحت مہاراجہ کی فوج نے کشمیری مسلمانوں کو پاکستان میں دھکیلنا شروع کر دیا ؛ اگرچہ ہندوستان اس سے انکاری رہا کہ اس طرح کی تباہی کشمیری مسلمان پر لائی گئی ‘ لیکن یہ دعویٰ کیا گیا کہ دراصل بھارت ہی خفیہ طور پر ڈوگرا فوج کو اسلحہ فراہم کررہا تھا ۔ جب یہ سب رپورٹس آنا شروع ہوئیں کہ کیسے ڈوگرا فورس کشمیری مسلمانوں کو مار رہی ہیں تو اس وقت برطانوی ڈپٹی ہائی کمشنر سی بی ڈیوک‘ جو لاہور میں تعینات تھے ‘نے صورتحال کا پورا جائزہ لینے کے لیے کشمیر جانے کا فیصلہ کیا۔ اس نے وہاں بیس ایسے گائوں دیکھے‘ جو کشمیر کے اندر دریائے چناب کے کناروں پر جلائے گئے تھے اور مسجد بھی راکھ ہو چکی تھی ۔ وہ اس نتیجے پر پہنچا کہ یہاں کشمیری مسلمانوں کے ساتھ زیادتی ہورہی ہے۔ مہاراجہ ہری سنگھ نے مسلمانون کی نسل کشی شروع کی ہوئی تھی‘ ہزاروں کی تعداد میں کشمیری مہاجرین‘ جن میں سے اکثریت کا تعلق جموں سے تھا ‘ سیالکوٹ کے علاقے میں جان بچانے کے لیے آنا شروع ہوگئے اور انہوں نے یہاں مقامی لوگوں کو اپنے اوپر ہونے والے مظالم کی دردناک کہانیاں سنائیں۔ مہاراجہ کو احساس نہ تھا کہ وہ ان کشمیریوں کو مار بھگا کر دراصل تاریخ کے سخت ترین جنگجو پٹھانوں کو اپنی طرف بلا رہا ہے۔ برطانوی سفارت کار ڈیوک کا خیال تھا کہ مہاراجہ بہت خطرناک کھیل کھیل رہا ہے ‘ اس کی وجہ سے پاکستان کے علاقوں سے کشمیر کے اندر بڑی تعداد میں جنگجو اس کے لیے مسائل پیدا کر دیں گے۔ ڈیوک کا اندازہ بالکل درست تھا‘ کیونکہ سکھوں اور ہندوئوں کے ہاتھوں مسلمانوں کے قتلِ عام کی خبروں پر قبائلی علاقوںمیں پہلے ہی بہت غصہ پایا جاتا تھا۔ ان سب کو لیڈ خورشید انور کر رہا تھا‘ جو اس برطانوی ڈپلومیٹ کے بقول ‘بہت بڑا ایڈونچرر اور لڑائی کا شوقین تھا۔ خورشید انور نے ان قبائلی پٹھانوں کو بتانا شروع کیا کہ اگر انہوں نے اپنے لاکھوں کشمیری مسلمان بھائیوں کی فوری مدد نہ کی تو ایک مسلمان ریاست بہت جلد ہندو مہاراجہ کے قبضے میں چلی جائے گی اور مہاراجہ ہری سنگھ بھارت کے ساتھ الحاق کا پلان بنا کر مسلمانوں کو مستقل غلام بنا لے گا۔ انہیں جہاد کرنا ہوگا ۔ یوں بڑی تعداد میں پٹھانوں نے اس لشکر کو جوائن کرنا شروع کردیا جو خورشید انور کی سربراہی میں کشمیر کی طرف روانہ ہورہا تھا ۔ قبائلی پٹھان جو زیادہ تر محسود اور آفریدی تھے ‘ نے اپنی رائفلوں کے ساتھ سفید کپڑے باندھ لیے کہ وہ اس وقت تک واپس نہیں لوٹیں گے جب تک وہ پنجاب میں اپنے مسلمان بھائیوں پر ہونے والے مظالم کا بدلہ نہیں لے لیتے۔برطانوی عہدیداروں کا خیال تھا کہ سرحد حکومت ان قبائلیوں کو روکنے کے لیے کوششیں کررہی تھی ‘لیکن اسے زیادہ کامیابی نہیں مل رہی تھی۔ ڈیوک نے اپنی رپورٹ میں خبردار کیا کہ قبائلی علاقوں کے پٹھانوں کے لیے کشمیر ہمیشہ سے ایک مالدار علاقہ سمجھا جاتا رہا ہے؛چنانچہ اگر مسلمانوں کے قتلِ عام کا بدلہ لینے کے ساتھ ان میں کشمیر کی لڑائی سے مال غنیمت جمع کرنے کا جوش بھی مل گیا تو صورتحال قابو سے باہر ہو جائے گی ۔اس لشکر کے ارکان نے خفیہ طور پر بازاروں سے سامان خریدنا شروع کر دیا‘ تاکہ وہ جنگ میں اپنے ساتھ لے جاسکیں‘تاہم پلان بنایا گیا کہ سامان بازار سے اس طرح خریدنا ہے کہ کسی کو پتہ نہ چلے۔ یوں بڑی تعداد میں گڑ اور چنے خریدے گئے ۔ یوں دھیرے دھیرے ان کے پاس اسلحہ اور کھانے پینے کی اشیا اکٹھی ہوگئیں۔ اتنی دیر میں پاکستانی افسران نے پٹرول‘ چینی اور دیگر اشیا کی سپلائی کشمیر کو روک دی ۔ ہائی کمشنر نے اس کی ذمہ داری پنڈی کے ڈپٹی کمشنر عبدالحق پر ڈالی‘ جو وزارت دفاع میں سروس کرنے والے ایک اور بھائی کے ساتھ مل کر کشمیر میں اپنی طرح کی جنگ شروع کر چکا تھا ۔جب یہ قبائلی اکٹھے ہورہے تھے تو ٹیلی فون لائن پر ایک طرف سر جارج کنگھمن‘ جو صوبہ سرحد کے گورنر تھے تو دوسری طرف پاکستان آرمی کے کمانڈ اِن چیف لیفٹیننٹ جنرل سر فرینک میسروی تھے۔ گورنر سرحد نے کمانڈر اِن چیف کو بتایا کہ یہاں صوبہ بھر میں عجیب و غریب اور پرسرار چیزیں ہورہی ہیں‘کئی دنوں سے قبائلی علاقوں سے ٹرکوں کے ٹرک پٹھانوں سے لدے اللہ اکبر کے نعرے لگاتے پشاور سے گزر رہے ہیں‘ لگتا ہے کہ وزیراعلیٰ پٹھانوں کو بڑھکا رہا ہے اورپشاور شہر میں سب کو علم ہے کہ یہ قبائلی جنگجو کہاں جارہے ہیں۔ گورنر نے آرمی کمانڈر سے پوچھا کہ آپ کو ابھی بھی یقین ہے کہ حکومت پاکستان کشمیر میں ان قبائلیوں کو نہیں بھیج رہی اور اس کے خلاف ہے؟ گورنر سرحد کو علم نہ تھا کہ جب وہ آرمی کمانڈر کو فون کررہا تھا تو وہ اس وقت لندن جانے کے لیے اپنا سامان پیک کررہا تھا۔ آرمی کمانڈر لندن اس لیے جارہا تھا کہ وہ پاکستان کی نئی فوج کے لیے وہاں گولہ بارود اور دیگر ہتھیاروں کا آرڈر دے‘ تاکہ جو ہتھیار بھارت نے روک لیے تھے ان کی جگہ وہ لے سکیں۔ جنرل نے گورنر کو بتایا کہ وہ کشمیر کے اندر قبائلیوں کے ایسے کسی بھی حملے کے خلاف ہیں اور وزیراعظم لیاقت علی خان نے انہیں پورا یقین دلایا ہے کہ حکومت پاکستان بھی ایسے کسی منصوبے کے خلاف ہے۔ اس پر گورنر سرحد نے کہا کہ اگر ایسی بات ہے تو پھر وہ فوری طور پر وزیراعظم لیاقت علی خان کو بتائے کہ قبائلی کشمیر کی طرف جنگ لڑنے جارہے ہیں۔ لندن جانے سے پہلے آرمی کمانڈر نے وزیراعظم لیاقت علی خان سے ملاقات کی اور وزیراعظم نے اسے یقین دلایا کہ حکومت پاکستان کا کوئی ارادہ نہیں کہ قبائلی کشمیر میں جنگ لڑیں۔ دوسری طرف برٹش افسران اس بات پر قائل تھے کہ سرحد حکومت پوری کوشش کررہی ہے کہ وہ پٹھانوں کو روک لے‘ لیکن وہ ناکام ہورہی ہے۔ یوں جنرل لندن روانہ ہوگیا‘ تاکہ وہ پاکستانی فوج کے لیے گولہ بارود خرید سکے۔ بیس اکتوبر کو اس وقت جنگ ناگزیر ہوگئی جب مہاراجہ کی فوج نے پاکستانی سرحد کے اندرچار گائوں پر حملہ کیا اور مارٹر‘ گرینیڈ اور آٹومیٹک اسلحے سے فائرنگ کی۔ تقریبا ً1750 لوگ اس حملے میں مارے گئے اور سینکڑوں زخمی ہوئے۔ ڈوگرا فورس کے پاکستانی سرحد کے اندر اس حملے کے دو دن بعد بائیس اکتوبر کی رات کی تاریکی میں ایک پرانی فورڈ جیپ دریائے جہلم کے پل سے سو گز دُور رک گئی۔ جیپ کے پیچھے ٹرکوں کی قطار لگی ہوئی تھی ‘جن میں مسلح لوگ سوار تھے۔ رات کی تاریکی میں اگر کوئی آواز سنی جاسکتی تھی تو وہ نیچے دریائے جہلم کے پانی کی آواز تھی۔ جیپ میں سوار سیراب خان ‘جو کمانڈ کررہا تھا ‘کی عمر تئیس برس تھی ۔ اس نے پل کے پار دیکھا‘ جہاں سے کشمیر شروع ہورہا تھا ۔ وہ دراصل یہاں رک کر ایک اشارے کا انتظار کررہا تھا۔نوجوان سیراب خان اپنی بے قراری پر قابو پانے کے لیے اپنی مونچھوں کو بار بار تائو دے رہا تھا ۔ اس کے اندر بے چینی بڑھ رہی تھی۔ رات گزرتی جارہی تھی ‘ لیکن ابھی تک اسے پل کی دوسری سائیڈ سے اشارہ نہیں ملا تھا ۔ اس نے آج رات ہی کشمیر میں داخل ہوکر جنگ شروع کرنی تھی۔ اس کے خدشات سانپ کی طرح پھن پھیلائے اس پر حملہ آور ہورہے تھے۔ کہیں آخری مرحلے پر گڑ بڑ تو نہیں ہوگئی ۔ یہ نہ ہو کہ وہ پل عبور کریں اور آگے ڈوگرا فورس کے جوان لشکر کا توپوں‘ بندوقوں‘ اور اسلحہ باردو سے لیس استقبال کریں ۔ کہیں ان کے ساتھ دھوکہ تو نہیں ہوگیا ؟ (جاری)

کشمیر کہانی …(14)

سیراب خان پل پر کھڑا دوسری طرف سے اشارہ ملنے کا بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ اسے یہ بتایا گیا تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی فوج میں مسلمان افسران اور فوجیوں نے بغاوت کرنی ہے اور وہ وہاں واقع چوکی پر قبضہ کرکے انہیں سنگل دیں گے تو وہ پھر پل عبور کرکے کشمیر کے اندر آجائیں گے۔ رات کی تاریکی میں آخر وہ سگنل مل ہی گیا جس کا انتظار سیراب خان اور اس کے جنگجوئوں کو تھا۔ محاذ گرم ہونے کو تیار تھا۔ سیراب خان نے اپنی سٹیشن ویگن سٹارٹ کی اور اسے پل پر چڑھا دیا۔کشمیر کی جنگ شروع ہو چکی تھی۔ تھوڑی دیر کے بعد سیراب خان کے جنگجو ایک چھوٹے سے شہر مظفر آباد میں بغیر کسی لڑائی کے داخل ہو چکے تھے۔ وہاں کسٹمز شیڈ میں کچھ سوئے جاگے اہلکاروں نے اس قافلے کو روکنے کی کوشش کی تاکہ ان کی تلاشی لی جا سکے۔ جونہی ان اہلکاروں کو اندازہ ہوا کہ یہ کوئی اور ٹرک ہیں تو ان میں سے ایک فون کی طرف بھاگا لیکن پٹھانوں نے پیچھے بھاگ کر اسے پکڑ لیا اور تاروں سے باندھ دیا۔ سیراب خان یہ سب کچھ دیکھ کر بہت خوش ہو رہا تھا کہ اس کی ایڈوانس ٹیم نے اہم مقصد حاصل کر لیا تھا۔ اب ان پٹھانوں کے سامنے ایک سو پینتیس میل کا سری نگر تک کا سارا راستہ اوپن تھا۔ اس طویل راستے میں اب انہیں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا تھا۔ جونہی صبح کا اجالا پھیلے گا تو اس وقت تک ہزاروں پٹھان ہری سنگھ کے دارالحکومت سری نگر پہنچ کر قبضہ کر چکے ہوں گے۔ سیراب خان مسکراتے ہوئے سوچ رہا تھا کہ وہ محل پر قبضہ کرنے کے بعد خود ناشتے کی ٹرے لے کر مہاراجہ کی خواب گاہ میں جائے گا اور ناشتے کے ساتھ یہ خبر بھی بریک کرے گا کہ چند لمحے بعد پوری دنیا کو پتا چلنے والا ہے کہ اب کشمیر پاکستان کا ہے۔ انہیں سہانی سوچوں میں گم سیراب خان کا یہ سارا خواب اس وقت ٹوٹ گیا جب اس نے دیکھا کہ اس کے اکثر پٹھان ساتھی رات کی تاریکی میں مظفر آباد کے بازاروں کی طرف نکل گئے تھے‘ جہاں انہیں بتایا گیا تھا کہ ہندوئوں کی دکانیں تھیں۔ وہ اس وقت سری نگر جانے کو تیار نہیں تھے۔ ان سب کا خیال تھا کہ کشمیر فتح ہو چکا ہے‘ اب ان کا راستہ کس نے روکنا ہے۔ وہ آرام سے بازار میں کچھ مال غنیمت اکٹھا کرنے کے بعد کل دیکھیں گے کہ کیا کرنا ہے۔ ان جنگجوئوں نے دکانوں کے تالے توڑ کر جو قیمتی چیز ملی نکال لی۔ سیراب خان اکیلا تھا جو اس کھیل میں شریک نہ ہوا۔ اس کی آنکھیں سری نگر پر تھیں جبکہ اس کے ساتھی مظفر آباد میں دکانوں کے تالے توڑ رہے تھے۔ سیراب خان اور اس کے چند ساتھیوں نے یہ صورت حال دیکھ کر سب کو روکنے کی کوششیں کیں۔ ان کی منتیں کیں، ترلے ڈالے بلکہ انہیں ان کے کپڑوں سے پکڑ کر گھسیٹنے کی کوشش بھی کرتے رہے کہ وہ یہ کام چھوڑیں اور سری نگر کا رخ کریں۔ وقت بہت کم تھا‘ بند کرو یہ کام‘ ہم نے سری نگر جانا ہے۔ سیراب خان چلاتا رہا‘ انہیں ایسا کرنے سے روکتا رہا‘ لیکن اس کی بات سننے کو کوئی بھی تیار نہیں تھا۔ لوٹ مار شروع ہو چکی تھی اور سیراب خان اکیلا کھڑا ہاتھ مل رہا تھا۔ اسے لگ رہا تھا کہ اس کے ہاتھ سے سری نگر نکلا جا رہا ہے۔اس رات سری نگر ان پٹھانوں کے ہاتھ نہیں لگنے والا تھا۔ اب انہیں ایک پاور سٹیشن تک پہنچنے کیلئے اگلے ستر میل کو اڑتالیس گھنٹوں میں کور کرنا تھا۔ وہ پاور سٹیشن جو پہلے ہی اڑایا جا چکا تھا اور مہاراجہ ہری سنگھ کا محل تاریکی میں ڈوبا ہوا تھا۔ مظفرآباد کے بازاروں سے فارغ ہونے کے بعد ان پٹھانوں نے سری نگر کا رخ کیا اور راستے میں آنے والے سب گائوں وہ فتح کرتے گئے بلکہ ان کے ساتھ وہ فوجی بھی شامل ہوگئے تھے جو مہاراجہ کی فوج کو چھوڑ چکے تھے؛ تاہم پچیس اکتوبر کو مہاراجہ کی آرمی نے ان جنگجوئوں کو بارہ مولہ میں روک لیا۔ وہاں بھی ایک خونریز جنگ ہوئی جس کے بعد بارہ مولہ کے لوگوں کا قتل عام ہوا۔ پھر قبائلی پٹھان کشمیری‘ مسلمان اور غیر مسلم کشمیریوں کے درمیان فرق نہ کر سکے۔ میجر خورشید انور نے جب ان سب کو مال غنیمت اکٹھا کرنے سے روکنے کی کوشش کی تو اسی لمحے وہ اپنا اثر ان جنگجوئوں پر کھو بیٹھا۔ دو دن تک پٹھانوں کا جرگہ اس بات پر بحث کرتا رہا کہ وہ اپنے کمانڈر خورشید انور کو قتل کر دیں یا پھر اسے بدل دیں؟ یوں دو قیمتی دن اس پر ضائع کر گئے اور مہاراجہ کو وقت مل گیا کہ وہ اب کوئی نیا کرتب دکھائے تاکہ وہ پٹھانوں کے ہاتھوں موت اور سری نگر پر ان کے قبضے سے بچ جائے۔ پٹھانوں کے لشکر کے بارہ مولہ میں دو دن وقت ضائع کرنے، وہاں بازاروں اور گھروں سے مال غنیمت اکٹھا کرنے اور غیر مسلمانوں کو مارنے میں جو وقت ضائع کیا گیا تھا اس کے بعد اب اصل کھیل شروع ہو رہا تھا۔ادھر سری نگر میں مہاراجہ کو ایک اور مشکل در پیش تھی۔ اسے یہ بتایا جا رہا تھا کہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کا اعلان کرتا ہے تو پھر لداخ، جموں اور کشمیر کے دیگر حصوں کے نان مسلم اس فیصلے کو پسند نہیں کریں گے جبکہ اگر وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرتا ہے تو گلگت بلتستان اور کشمیر میں اکثریتی مسلمان اس فیصلے کو قبول نہیں کریں گے؛ تاہم ایک بات پاکستان کے حق میں جاتی تھی کہ کشمیر کے تمام راستے پاکستان کے ساتھ جڑے ہوئے تھے۔ مہاراجہ کے پاس ایک اور بھی آپشن تھا کہ وہ کشمیر کے مختلف قوموں اور مذاہب کے نمائندوں کو بلا کر ان سے یہ سب آپشن شیئر کرکے مشورہ مانگ سکتا تھا۔ لیکن مہاراجہ اس وقت کسی اور ہی دنیا میں تھا۔ وہ جتنے بڑے خواب لے کر اپنے محل میں سو رہا تھا‘ اتنی وہ ان خوابوں کو حاصل کرنے کے لیے کوشش نہیں کر رہا تھا۔ اسے یہ بات سمجھ نہیں آرہی تھی کہ پاکستان یا بھارت اسے ہرگز ایک آزاد ملک نہیں رہنے دیں گے۔ ہندوستان کو پاور ٹرانسفر ہونے سے کچھ دن پہلے ہی مہاراجہ نے اپنے وزیراعظم کو برطرف کر دیا تھا‘ جس کے بارے میں کہا جارہا تھا کہ وہ مہاراجہ کو پاکستان کے ساتھ الحاق کا مشورہ دے رہا تھا۔ اس کی جگہ نیا وزیراعظم میجر جنرل جنک سنگھ کو لگا دیا گیا۔ اس کے ساتھ ہی جموں و کشمیر حکومت نے پاکستان اور بھارت کے ساتھ stand still agreements پر مذاکرات کرنے کا اعلان کر دیا؛ تاہم بھارت جواب دینے سے پہلے اس معاہدے کے فوائد اور نقصانات پر غور کرنا چاہ رہا تھا۔ بھارت نے وقتی طور پر ریاست کو اکیلے چھوڑ دیا تھا۔ بھارت نے ابھی تک مہاراجہ کو نہیں کہا تھا کہ وہ ہندوستان کے ساتھ الحاق کر لے۔ اگرچہ ریڈکلف ایوارڈ کے اعلان کے بعد اب کشمیر بھی بھارت کے ساتھ سڑک کے زریعے لنک ہو چکا تھا۔ بھارت سمجھ رہا تھا کہ وہاں مسلم آبادی زیادہ ہونے کی وجہ سے مہاراجہ اور ریاست کے لیے ابھی بہت مشکلات تھیں کہ وہ ہندوستان ساتھ الحاق کا سوچیں؛ تاہم ہندوستان سے مہاراجہ کی حکومت نے اس وقت پہلا بڑا رابطہ کیا جب راولپنڈی کے ڈپٹی کمشنر عبدالحق نے کشمیر کو پٹرول، چاول، چینی اور دیگر اشیا کی سپلائی روک دی اور بحران پیدا ہونا شروع ہوا۔ مہاراجہ سوچ رہا تھا کہ یہ سب کچھ اس لیے کیا جارہا ہے کہ اسے مجبور کیا جائے کہ وہ پاکستان کے ساتھ الحاق کرے۔ یوں مہاراجہ ہری سنگھ کی حکومت نے پہلی دفعہ ہندوستان سے پانچ ہزار گیلن پٹرول کی درخواست کی تاکہ ان کا ٹرانسپورٹ سسٹم بالکل ہی نہ بیٹھ جائے۔ دوسری طرف مہاراجہ کسی پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں تھا۔ اس نے اگست کے پہلے ہفتے میں اپنے وزیراعظم کو ہٹا کر جنرل جنک سنگھ کو وزیراعظم بنایا تھا تو اکتوبر میں اس نے جنک سنگھ کو بھی برطرف کر دیا اور اس کی جگہ مہر چند مہاجن کو وزیراعظم لگا دیا۔ مہر مہاجن دراصل ایک مشہور وکیل تھے اور متحدہ پنجاب کے جج بھی رہے تھے۔ بعد میں وہ مشرقی پنجاب کے پنجاب ہائی کورٹ کے بھی جج لگا دیے گئے تھے۔ وہ بعد ازاں چیف جسٹس کے طور پر ریٹائرڈ ہوئے تھے۔ مہر مہاجن نے وزیراعظم بنتے ہی مہاراجہ ہری سنگھ کو ایک مشورہ دیا جسے سن کر ہری سنگھ کی آنکھیں چمک اٹھیں اور اسے نئے چوائس پر فخر محسوس ہوا۔ وہ جس کام کے لیے مہر مہاجن کو لایا تھا وہ مہاجن نے شروع کر دیا۔ مہر مہاجن نے کاغذ قلم لیا اور غیرمعمولی خط لکھنے بیٹھ گیا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کو ہرگز یہ اندازہ نہ تھا جو خط اس کا نیا وزیر اعظم لکھ رہا تھا‘ اس سے کشمیر میں تباہی آنے والی تھی۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(15)

وزیراعظم مہر مہاجن نے مہاراجہ ہری سنگھ کو مشورہ دیا کہ انہیں پاکستان کے خلاف برطانوی وزیراعظم کو خط لکھ کر شکایت کرنی چاہیے۔
برطانوی وزیراعظم ایٹلے کو لکھے گئے اس خط میں مہر مہاجن نے پاکستان پر الزامات کی بوچھاڑ کر دی۔ پہلا الزام یہ لگایا کہ پاکستان نے standstill agreement کی خلاف ورزی کی اور خوراک اور دیگر اہم اشیا کی سپلائی روک دی‘ جس سے کشمیر میں ان اشیا کی قلت پیدا ہو گئی ہے۔ دوسری یہ شکایت کی گئی کہ پاکستان کی طرف سے کشمیر کو گورداسپور سے لے کر گلگت تک حملے کا خطرہ ہے اور پونچھ کے علاقوں میں ایسی لڑائیاں شروع ہو چکی ہیں۔ مہاجن نے لکھا کہ برطانوی وزیراعظم پاکستان کو ان کارروائیوں سے روکے اور اس کی قیادت کو کہے کہ وہ کشمیر کے ساتھ انصاف پر مبنی کام کرے۔ برطانوی وزیراعظم نے مہاراجہ کے وزیراعظم کے اس خط کا کوئی جواب نہ دیا۔ اب انہوں نے براہ راست پاکستان کے بانی قائداعظم محمد علی جناح اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو خط لکھنے کا فیصلہ کیا۔
اٹھارہ اکتوبر کو جموں و کشمیر کی ریاست نے ایک احتجاجی مراسلہ گورنر جنرل قائداعظم محمد علی جناح اور وزیراعظم لیاقت علی خان کو لکھا۔ اس خط کے جواب میں قائداعظم نے لکھا کہ دراصل سپلائی میں پرابلم اس لیے آرہا تھا کہ مشرقی پنجاب میں ہونے والے فسادات اور ہنگاموں کی وجہ سے مواصلات میں بہت مسائل تھے‘ اور سب سے بڑھ کر کوئلے کی سپلائی معطل ہوگئی تھی۔
اس دوران پٹھان‘ جن میں آفریدی، وزیر، محسود، سواتی قبائل کے جنگجو اور پاکستانی فوج کے کچھ ریٹائرڈ یا چھٹی پر گئے ہوئے افراد شامل تھے‘ کشمیر کی طرف روانہ ہوئے۔ ان پٹھانوں نے ڈومیل اور گڑھی پر قبضہ کیا؛ تاہم مہاراجہ کے لیے سب سے بڑا جھٹکا یہ تھا کہ اس کی ڈوگرا فورس میں جتنے مسلمان اہلکار اور سپاہی شامل تھے وہ چھوڑ چکے تھے۔ انہوں نے اپنے کمانڈر کو گولی مار کر اس قافلے میں شمولیت اختیار کر لی تھی جو سری نگر کی طرف رواں دواں تھا۔ چند دن پہلے تک مہاراجہ ہری سنگھ اپنے لیفٹیننٹ جنرل نارائن سنگھ سے پوچھ رہا تھا کہ کیا وہ اپنی بٹالین پر بھروسہ کر سکتا ہے‘ جس میں آدھی تعداد مسلمانوں کی ہے۔ جنرل نے جواب دیا تھا کہ وہ ڈوگرا فورس سے زیادہ مسلمان اہلکاروں پر بھروسہ کر سکتا ہے۔ وہ برسوں سے اس بٹالین کی کمانڈ کر رہا تھا لیکن اسے علم نہ تھا کہ بدلتے حالات میں جب جموں میں مسلمانوں کی نسل کشی کی جا رہی تھی اور دو تین لاکھ کشمیریوں کو اپنی زمین چھوڑنے پر مہاراجہ کی فورس مجبور کر رہی تھی‘ مسلمانوں کے اندر بھی بغاوت کے اثرات نمودار ہورہے تھے۔ انہیں لگ رہا تھا کہ اگر انہوں نے اس موقع پر کوئی فیصلہ کن کردار ادا نہ کیا تو مسلمانوں کے لیے کشمیر میں ہمیشہ کے لیے جگہ تنگ ہوجائے گی اور وہ مہاراجہ کے غلام بن کر رہ جائیں گے۔ جب مہاراجہ کی فوج کے چیف آف سٹاف ایک بریگیڈیئر راجندر سنگھ کو پتا چلا کہ مہاراجہ کی فوج میں سے مسلمان اہلکار چھوڑ کر قبائلیوں کے لشکر کے ساتھ مل گئے ہیں تو اس نے مشکل سے ڈیڑھ سو سپاہی اکٹھے کیے اور انہیں روکنے کے لیے نکل کھڑا ہوا۔ اس نے سب سے پہلے اڑی کا پل اڑایا اور دو دن تک قبائلی لشکر کو یہاں روکے رکھا؛ تاہم لشکر نے بہت جلد انہیں شکست دے کر سری نگر کی طرف مارچ جاری رکھا اور چوبیس اکتوبر کو سری نگر کو بجلی سپلائی کرنے والا پاور سٹیشن دھماکے سے اڑا دیا گیا تھا۔ سری نگر اب لشکر کے قدموں میں پڑا تھا۔ لشکر نے اعلان کر دیا کہ چھبیس اکتوبر کو وہ سری نگر میں داخل ہو کر مسجد میں اپنی فتح کا جشن منائیں گے۔
اب مہاراجہ اور اس کے وزیراعظم مہر مہاجن کو اندازہ ہو چلا تھا کہ ان کا اقتدار ختم ہونے والا ہے۔ تخت تو چھوڑیں اب ان کی زندگیاں تک دائو پر لگ چکی تھیں۔ دونوں کی سب ترکیبیں ناکام ہوگئی تھیں۔ وہ کشمیر کو اب ایک آزاد ریاست کے طور پر نہیں منوا سکتے تھے۔ انہیں پاکستان اور بھارت میں سے کسی ایک کا انتخاب کرنا تھا۔ یوں مہاراجہ اور مہر مہاجن نے بھارت کو مدد کی اپیل کرنے کا فیصلہ کیا۔ بائیس تاریخ کو لشکر نے کشمیر میں جنگ شروع کی تھی جبکہ دو دن بعد چوبیس اکتوبر کی صبح دہلی میں ہندوستانی حکومت کو مہاراجہ کی طرف سے ایک خط ملا جس میں فوراً مدد کی اپیل کی گئی تھی۔ ساتھ ہی پاکستان کے اس وقت کی انگریز ملٹری کمانڈر نے ہندوستان اور پاکستان کے سپریم کمانڈر فیلڈ مارشل Auchinleck کو اطلاع دی کہ کشمیر میں پاکستانی لشکر داخل ہوچکا ہے۔ دراصل ہوا یہ تھا کہ جب ہندوستان اور پاکستان تقسیم ہوئے تو ساتھ ہی انڈین آرمی، رائل انڈیں نیوی اور رائل انڈین فورس کو بھی دونوں ملکوں میں تقسیم کر دیا گیا تھا۔ اس تقسیم کا کلیہ وہی بنایا گیا تھا کہ مسلمان افسران پاکستان آرمی میں جائیں جبکہ دیگر مذاہب کے ہندوستان فورسز کو جوائن کریں گے۔ یوں نیوی، آرمی اور ایئرفورس کے تین کمانڈرز پاکستان کے پاس تھے اور تین بھارت کے پاس۔ ان چھ کمانڈروں کے اوپر ایک سپریم کمانڈر تھا تاکہ وہ فوجی ہتھیاروں اور دیگر اشیا کی تقسیم کے پورے عمل کو یقینی بنائے۔ اس برٹش سپریم کمانڈر کو دونوں ملکوں کے چھ کمانڈرز ہر بات سے باخبر رکھتے تھے اور وہ سپریم کمانڈر آگے ہندوستان اور پاکستان کی حکومتوں کو اطلاع کرتے تھے۔
یوں جب قبائلی لشکر کی خبر پھیلی تو پاکستان کے جی ایچ کیو سے یہ خبر سپریم کمانڈر کو دہلی بھیجی گئی۔ اس وقت پاکستان آرمی کے کمانڈر ایک برٹش افسر تھے۔ سپریم کمانڈر نے آگے سے یہ اطلاع بھارتی حکومت تک پہنچائی۔ یوں بھارتی حکومت کے پاس جہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی مدد کی اپیل میز پر رکھی تھی کہ ہمیں بچائو اور ہمیں پاکستان ساتھ جانے سے بچائو‘ وہیں ان کے پاس سپریم کمانڈر کی طرف سے یہ اطلاع پہنچ گئی تھی کہ پاکستانی آرمی کے انگریز کمانڈر نے بھی لشکر کی تصدیق کی ہے۔
اب ہندوستانی حکومت‘ جسے قائم ہوئے ابھی دو ماہ بھی نہیں ہوئے تھے‘ کو سمجھ نہیں آرہی تھی کہ ان حالات میں کیا کرے۔ ہچکچاہٹ کی ایک وجہ یہ تھی کہ لارڈ مائونٹ بیٹن‘ جو اب ہندوستان کا گورنر جنرل تھا‘ شروع میں کشمیر کے پاکستان کے ساتھ الحاق کے حق میں تھا۔ مہاراجہ کو راضی کرنے کے لیے وہ تقسیم سے کچھ دن پہلے سری نگر میں تین راتیں بھی گزار آیا تھا‘ جس میں اس نے مہاراجہ کو قائل کرنے کی پوری کوشش کی تھی کہ وہ پاکستان ساتھ الحاق کرلے‘ اسی میں پوری وادی اور خطے کا فائدہ تھا۔ مائونٹ بیٹن نے اسے سمجھایا تھا کہ کشمیر ایک land locked خطہ ہے اور اسے دنیا سے رابطے‘ میل جول اور کاروبار کے لیے جن راستوں کی ضرورت ہے‘ وہ سارے پاکستان سے گزرتے ہیں۔ اب وہی ہو رہا تھا جس کا خدشہ مائونٹ بیٹن سری نگر میں مہاراجہ سے اپنی ملاقاتوں میں ظاہر کر چکا تھا۔ مہاراجہ نے اس کی بات نہ مان کر دونوں ملکوں کو جنگ کے دہانے پر لا کھڑا کیا تھا۔ وہی مہاراجہ جو لارڈ مائونٹ بیٹن کو سری نگر میں تین راتوں کے قیام کے بعد رخصت کرنے بھی نہیں آیا تھا‘ اب گڑگڑا کر مدد مانگ رہا تھا۔ مہاراجہ ہندوستانی حکومت سے اسلحہ اور گولہ بارود مانگ رہا تھا اور ساتھ ہی ہندوستان سے اپنے فوجی دستے بھیجنے کی اپیل بھی کررہا تھا۔ فیصلہ ہوا کہ فوری طور پر ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس بلایا جائے جس میں مہاراجہ کی اپیل اور سپریم کمانڈر کی بھیجی ہوئی اطلاع پر غور کیا جائے؛ تاہم لارڈ مائونٹ بیٹن اس بات پر اڑ گیا کہ اس وقت تک کوئی ایکشن نہ لیا جائے جب تک ہندوستانی حکومت کے پاس سری نگر کے حالات کی پوری خبر نہ ہو۔ اسے مہاراجہ ہری سنگھ پر اعتبار نہیں رہا تھا۔
لارڈ مائونٹ بیٹن نے کہا: پہلے کسی کو سری نگر فوراً بھیجا جائے جو مکمل رپورٹ لائے۔ پھر ہی فیصلہ ہوگا کہ مہاراجہ کو فوج اور اسلحہ بھیجنا ہے یا نہیں۔ اب سوال یہ تھا کہ جب پاکستانی لشکر سری نگر سے کچھ فاصلے پر پہنچ چکا تھا اور کس لمحے بھی سری نگر ان کے کنٹرول میں ہونا تھا‘ وہاں جانے پر کون راضی ہوتا جس کی رپورٹ پر سب کو اعتبار بھی ہو۔ ان حالات میں جب قبائلی لشکر کی دہشت ہر طرف پھیل چکی تھی اور مہاراجہ بھی ڈرا ہوا تھا کیونکہ لشکر سری نگر سے چند میل کے فاصلے پر تھا‘ وہاں جانے کا رسک کون لے سکتا تھا کیونکہ اس میں جان بھی جا سکتی تھی؟
مائونٹ بیٹن سمیت سب کی نظریں اجلاس میں بیٹھے ایک بندے کی طرف اٹھ گئیں کہ یہ خطرناک کام وہی کر سکتا تھا‘ جو چپ بیٹھا سب کچھ سن رہا تھا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(16)

جب قبائلی لشکر کی اطلاع پاکستان سے دہلی بھیجی گئی تو پاکستان اور ہندوستان کے اُس وقت کے ملٹری کمانڈرز جو انگریز تھے‘ کو یہ فکر لاحق تھی کہ اگر جنگ چھڑ گئی تو دونوں ملکوں کے فوجی افسران جو اکٹھے اکیڈمی میں تربیت لیتے رہے ہیں وہ بھی اس جنگ میں کود جائیں گے اور یہ سب کامریڈز ایک دوسرے کا گلا کاٹ رہے ہوں گے‘ لہٰذا اس خطرے کو ٹالنے کے لیے جب جنرل گریسی‘ جو لندن گئے ہوئے تھے‘ نے پاکستان آرمی کمانڈر کی عدم موجودگی میں یہ اطلاع دہلی ہیڈ کوارٹر بھیجی کہ انہیں انٹیلی جنس رپورٹ ملی ہے کہ پاکستان سے قبائلی لشکر کشمیر میں داخل ہوگیا ہے‘ تو ماؤنٹ بیٹن بھی پریشان ہو گیا۔ ماؤنٹ بیٹن اس وقت تھائی لینڈ کے وزیرخارجہ کو دیے گئے عشائیہ میں شرکت کے لیے تیار ہورہا تھا ‘جب اسے یہ خبر دی گئی ۔جب آخری مہمان بھی رخصت ہوگیا تو ماؤنٹ بیٹن نے وزیراعظم نہرو سے کہا کہ وہ ذرا رک جائیں‘ ضروری بات کرنی ہے۔ نہرو بھی یہ خبر سن کر ششدر رہ گیا۔ اس کے لیے اس سے زیادہ اور کوئی برُی خبر نہیں ہوسکتی تھی۔ ماؤنٹ بیٹن کے سامنے ایک اور نہرو کھڑا تھا جسے وہ پہلے نہیں جانتا تھا۔ پرانا نہرو ایک نارمل اور شاندار دانشور تھا‘ جسے ماؤنٹ بیٹن پسند کرتا تھا۔ وہ یہ خبر سن کر اچانک کہیں غائب ہوگیا اور اس کی جگہ ایک جذباتی نہرو نے لے لی جو اپنی آواز میںجذبات کوقابو نہیں کرپایا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن کو یوں لگا جیسے نہرو ابھی رو پڑے گا۔ نہرو نے ماؤنٹ بیٹن کو جذباتی بلیک میل کرنے کے لیے اس تاریخی واقعہ کی طرف اشارہ کیا جب انگلینڈ کی کوئین میری کے دور میں مسٹر ڈک ولنگٹن لندن اور Calasis کا مشترکہ مئیر تھا‘ لیکن فرانس سے جنگ میں انگلینڈ کو شکست ہوئی تو فرانس نے کلاسس پر قبضہ کر لیا۔ جب یہ خبر کوئین میری تک پہنچی تو وہ صدمے سے بولی: جب میں مروں گی تو میرے دل کو چیر کر دیکھنا‘ اس پر Calasis لکھا ہوا ہوگا۔ نہرو کے بعد ماؤنٹ بیٹن کی ملاقات فیلڈ مارشل سے ہوئی۔ سپریم کمانڈر نے گورنر جنرل کو بتایا کہ وہ فوری طور پر برٹش فوج کا ایک بریگیڈ سری نگر بھیجنا چاہتا ہے تاکہ وہ ان ریٹائرڈ برٹش افسران کو بچا کر واپس لا سکے جو اس وقت وہاں موجود تھے‘ اگر انہیں فوراً نہ نکالا گیا تو وہ بھی وہاں مارے جائیں گے۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: جنرل آئی ایم سوری‘ میں اس کی اجازت نہیں دے سکتا۔ وہ اب ہندوستان‘ پاکستان میں برٹش آرمی کے استعمال کی اجازت نہیں دے سکتا تھا‘ خصوصاً جب وہ ان دونوں ملکوں کو آزادی دے چکا ہے۔ اگر کشمیر میں فوجی مداخلت کی ضرورت محسوس ہوئی تو پھر بھارتی فوج ہی مداخلت کرے گی‘ انگریز فوج دور رہے گی۔ فیلڈ مارشل نے احتجاج کیا اور ماؤنٹ بیٹن سے کہا: پھر ہمارے جو سینکڑوں ریٹائرڈ افسران اور ان کے خاندانوں کے لوگ مارے جائیں گے‘ ان سب کا خون آپ کے ہاتھوں پر ہو گا۔ اپنے فیلڈ مارشل کی یہ بات سن کر ماؤنٹ بیٹن کے چہرے پر ناگواری کے اثرات ابھرے اور بولا: بالکل مجھے یہ ذمہ داری لینا ہوگی۔ میری ڈیوٹی بھی ایک طرح سے سزا ہے‘ لیکن میں ان چبھتے ہوئے سوالوںکے جواب نہیں دے پائوں گا جو بعد میں مجھ سے پوچھے جائیں گے‘ اگر اس وقت انگریز فورس کو میں نے جنگ میں دھکیل دیا۔ اب ماؤنٹ بیٹن ہندوستانی قیادت کے ساتھ بیٹھا تمام ایشوز پر بات کررہا تھا۔ نہرو کے جذبات سے ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ ہوچکاتھا کہ فوجی مداخلت ناگزیر ہے؛ تاہم ماؤنٹ بیٹن اس پر ڈٹا ہوا تھا کہ فوج بھیجنے سے پہلے ان کے پاس قانونی جواز پورے ہونے چاہئیں۔ اس لیے اس اجلاس میں ماؤنٹ بیٹن نے گورنر جنرل ہندوستان کے طور پر شرکا سے یہ بات منوا لی تھی کہ جب تک مہاراجہ ہندوستان کے ساتھ باقاعدہ طور پر الحاق کی دستاویزات پر دستخط نہیں کردیتا‘ وہ فوج نہیں بھیج سکتے۔ اگرچہ ماؤنٹ بیٹن کو یقین تھا کہ جیسے برطانیہ کے لیے ہندوستانیوں کی خواہشات کے برعکس ہندوستان میں رہنا مشکل ہوگیا تھا‘ ویسے ہی مسلم اکثریتی علاقے کشمیر میںکشمیریوں کی خواہشات کے برعکس کوئی بھی حل نہیں نکل سکے گا۔ یہی وجہ تھی کہ سات نومبر کو لارڈ ماؤنٹ بیٹن نے اپنے کزن بادشاہ کو لکھا کہ میں اس بات پر قائل ہوں کہ جس آبادی میں اتنی بڑی تعداد میں مسلمان ہوں وہ یقینا پاکستان کے حق میں ووٹ دیں گے۔ اس لیے نہرو اور دیگر کی مخالفت کے باوجود ماؤنٹ بیٹن نے انہیں قائل کر لیا کہ الحاق کے بعد وہ فوج بھیج سکتے ہیں اور یہ الحاق مستقل نہیں ہوگا۔ یہ سب عارضی معاملات ہیں اور اس وقت تک رہیں گے جب تک وادی میں سکون اور استصوابِ رائے نہیں ہوجاتا کہ کشمیر کس کے ساتھ جائے گا۔وی پی مینن دور بیٹھا ہوا تھا جب لارڈ ماؤنٹ بیٹن کی نظر اس پر پڑی۔ ماؤنٹ بیٹن ذاتی طور پر وی پی مینن کو پسند کرتا تھا۔ ماؤنٹ بیٹن نے کہا: مسٹر مینن آپ فوراً سری نگر جائیں اور وہاں سے پوری رپورٹ لے کر واپس آئیں‘ اس کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ مہاراجہ کی درخواست پر کشمیر میں فوج بھیجی جائے یا نہیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے وی پی مینن کو کہا کہ وہ مہاراجہ کو واضح طور پر بتائے کہ الحاق وقتی طور پر ہورہا ہے۔ کشمیر میں استصوابِ رائے ہوگا اور پھر فیصلہ ہوگا کہ کشمیری کس کے ساتھ جانا چاہتے ہیں۔ وی پی مینن کے ساتھ آرمی اور ایئر فورس کے افسران نے بھی جانا تھا ۔ جب وی پی مینن دو افسران کے ساتھ سری نگر ائیرپورٹ سے نکلا تو اسے یوں لگا کہ وہ کسی قبرستان میں آگیا ہو۔ ہر طرف سناٹا تھا۔ یوں لگ رہا تھا یہاں بڑی تباہی نازل ہونے والی ہے۔ ایئرپورٹ سے وی پی مینن اور اس کے ساتھی افسران سیدھے وزیراعظم مہر چند مہاجن کی رہائش گاہ کی طرف چل پڑے۔ سری نگر ائیرپورٹ سے وزیراعظم کے گھر تک کی سڑک اس وقت سنسان تھی۔ ہر اہم شاہراہ اورگلی کے کونے پر نیشنل کانفرنس کے رضاکار نظر آرہے تھے جن کے ہاتھوں میں لاٹھیاں تھیں اور وہ ہر گزرنے والے بندے کو روک رہے تھے۔ حیرانی کی بات یہ تھی کہ سری نگر پولیس کا کہیں دور دور تک نام و نشان نہیں تھا۔ وزیراعظم مہر چندمہاجن نے وی پی مینن کو گمبھیر صورتحال کے بارے میں بتایا اور اپیل کی کہ فوری طور پر بھارتی حکومت ان کی مدد کو آئے۔ اگرچہ مہاجن کے بارے میں یہ مشہور تھا کہ وہ ہرطرح کے حالات میں خود کو سنبھال کر رکھتے تھے؛ تاہم اس وقت وہ بری طرح ہلے ہوئے تھے۔ وہاں سے اُٹھ کر وی پی مینن مہاراجہ ہری سنگھ کے محل کی طرف چل پڑا۔ جب وی پی مینن مہاراجہ سے ملا تو اسے احساس ہوا کہ مہاراجہ ہری سنگھ کی حالت بہت بری ہے۔ جس طرح حالات نے پلٹا کھایا تھا اور اس کی فوج اور پولیس چھوڑ کر بھاگ گئی تھی اور سری نگر سے کچھ فاصلے پر پاکستانی لشکر موجود تھا‘ اس صورتحال میں وہ بری طرح سے ڈرا ہوا تھا۔ تنہائی اور بے بسی کا احساس مہاراجہ کی شخصیت پر دور سے پڑھا جا سکتا تھا۔ جس ریاست کی فوج بھاگ گئی ہو اور قبائلی لشکر بارہ مولا پہنچ چکا ہو اس کے مہاراجے کی یہی حالت ہونی چاہیے تھی جو اس وقت ہری سنگھ کی ہورہی تھی۔ مہاراجہ کا خیال تھا کہ اگر اسی رفتار سے لشکر آگے بڑھتا رہا تو زیادہ سے زیادہ ایک یا دو دن میں وہ سری نگر پہنچ جائیں گے۔ وی پی مینن نے محسوس کیا کہ مہاراجہ کبھی نہیں سوچ سکتا تھاکہ ایک قبائلی لشکر بھی اس کی ریاست کے اندر اتنی دور تک گھس سکتا ہے اور سب سے بڑھ کر اس کی فوج اور پولیس اہلکار اسے یوں اکیلا چھوڑ کر بھگوڑے بن سکتے ہیں۔ اس سے زیادہ خطرناک بات یہ تھی کہ سری نگر کا اس وقت ان علاقوں سے کوئی رابطہ نہیں تھا جہاں قبائلی لشکر موجود تھا‘ لہٰذا کسی کو سری نگر میں کچھ پتہ نہ تھا کہ وہاں کیا ہورہا ہے۔ مہاراجہ کو صرف ایک ہی امید تھی کہ بریگیڈیئر راجندر سنگھ اس سے یہ وعدہ کرکے گیا تھا کہ وہ بارہ مُولہ کے مقام پر لشکر کو روک لے گا اور مہاراجہ کو پتہ تھا کہ سنگھ مرتے دم تک لڑے گا۔ وی پی مینن کے ذہن میں فوری طور پر ایک ہی بات آئی کہ باقی کام ایک طرف اسے فوراً مہاراجہ کو سری نگر سے نکالنا ہوگا تاکہ لشکر کے قبضے کی صورت میں وہ اپنے خاندان سمیت نہ مارا جائے۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(17)

پچیس اکتوبر کو ہفتے کے روز رات گئے تاریخ کی سب سے بڑی ہجرت کرنے والوں میں ایک اور بندے کا اضافہ ہوا۔ پچھلے چند ماہ میں ڈیڑھ کروڑ مسلمان، ہندو اور سکھ پناہ کی تلاش میں گھر سے بے گھر ہوئے تھے۔ اب ان میں ایک اور مہاراجہ ہری سنگھ کا بھی اضافہ ہو گیا تھا۔ مہاراجہ کا قافلہ اس کی اپنی آرام دہ امریکن سٹیشن ویگن‘ جس میں وہ خود سوار تھا‘ کے علاوہ کئی ٹرکوں اور کاروں پر مشتمل تھا‘ جن میں مہاراجہ ہری سنگھ کا سامان لدا ہوا تھا۔ اس میں مہاراجہ کا سارا قیمتی سامان بھی موجود تھا جو اس کے محل سے ایمرجنسی میں نکال کر لاد دیا گیا تھا۔ مہاراجہ کو اندازہ نہ تھا کہ وہ آخری دفعہ اپنے محل کو دیکھ رہا ہے اور وہ اب یہاں کبھی نہیں لوٹ پائے گا۔ مہاراجہ کی اس انداز میں رخصتی پر ڈھول نہیں بجائے جا رہے تھے۔ ایک افسردگی اور خوف کا عالم تھا۔ وہ مہاراجہ جس نے قائد اعظم محمد علی جناحؒ کو کشمیر میں کچھ دن آرام کی غرض سے گزارنے کی اجازت تک نہیں دی تھی‘ اب رات کے اندھیرے میں اپنی جان بچانے کے لیے پناہ کی تلاش میں اپنے محافظوں کے ہمراہ سٹیشن ویگن میں سہما بیٹھا تھا۔ مہاراجہ ہری سنگھ کی منزل جموں تھی جہاں اسے پناہ ملنے کی امید تھی کیونکہ وہاں تک پاکستانی لشکر نہیں پہنچ سکتا تھا اور پھر جموں کی آبادی زیادہ تر ہندو تھی‘ جہاں وہ نسبتاً خود کو محفوظ پا سکتا تھا؛ تاہم مہاراجہ ہری سنگھ کے لیے یہ ہجرت ویسی نہیں تھی جیسی ہجرت کا ڈیڑھ کروڑ دیگر لوگوں کو سامنا کرنا پڑ گیا تھا۔ وہ کسی ریفیوجی کیمپ کی طرف نہیں جا رہا تھا بلکہ اس کا رخ جموں میں اپنے ایک اور محل کی طرف تھا جہاں وہ سردیوں کا موسم گزارتا تھا۔ جموں میں مہاراجہ کا محل وہی تھا‘ جہاں اس نے کبھی لندن سے آئے پرنس آف ویلز کا استقبال کیا تھا اور پرنس کے ساتھ اس وقت اس کا نوجوان کزن اور اے ڈی سی مائونٹ بیٹن بھی تھا‘ جہاں اس سے اکٹھے پولو کھیلتے ہوئے دوستی ہو گئی تھی۔ ہری سنگھ کی تمام چالاکیاں، حکمت عملی، سیاسی دائو پیچ اسے صرف تین ماہ ہی دے سکے تھے اور تمام تر کوششوں کے باوجود وہ کشمیر کو پاکستان‘ ہندوستان کی طرح پر ایک آزاد ملک نہیں بنوا سکا تھا۔ مائونٹ بیٹن نے سردار پٹیل سے سیبوں کی پوری ٹوکری پیش کرنے کا جو وعدہ کیا تھا‘ اس ٹوکری سے ہری سنگھ بمشکل تین ماہ ہی باہر رہ سکا تھا۔ وہ آخری سیب بھی بھارت کی ٹوکری میں گرنے والا تھا۔ اس سے پہلے جب مہاراجہ ہری سنگھ سے وی پی مینن اس کے محل میں ملا تو اسے مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر سری نگر چھوڑ دے کیونکہ اس کی جان کو خطرہ تھا۔ وی پی مینن نے مہاراجہ کو کہا کہ اس کا سری نگر کو چھوڑنا دو تین باتوں کی وجہ سے بہت اہم ہے۔ پہلی یہ کہ قبائلی لشکر بارہ مولہ کے قریب پہنچ چکا تھا۔ پھر مہاراجہ اس وقت بے بسی کی حالت میں تھا ۔ اس کی ریاستی پولیس اور فوج‘ دونوں اسے چھوڑ کر بھاگ گئی تھیں۔ اب اس کے پاس ان قبائلیوں سے لڑنے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا اور اگر بھارتی حکومت نے فیصلہ کیا کہ وہ کشمیر میں اپنی نہ تو فوجیں بھیجے گی اور نہ ہی مہاراجہ اور اس کی ریاست کو بچانے کے لیے پاکستان سے جنگ لڑے گی تو پھر اس میں کوئی شک نہیں تھا کہ مہاراجہ ہری سنگھ اور اس کے خاندان کے افراد اسی محل میں قبائلی لشکر کے ہاتھوں مارے جائیں گے۔ اس کے علاوہ قبائلی لشکر نے اس کے محل میں موجود تمام قیمتی اشیا بھی لوٹ لینا تھیں۔ ان حالات میں وی پی مینن نے اسے مشورہ دیا کہ وہ فوری طور پر سری نگر سے نکل جائے اور اپنے ساتھ محل میں موجود تمام قیمتی سامان بھی لیتا جائے۔اب سوال یہ تھا کہ مہاراجہ کہاں جائے؟ کیا وہ وی پی مینن کے جہاز میں بیٹھ کر دہلی جائے یا پھر اسے جموں جانا چاہیے جہاں وہ اپنے محل میں محفوظ ہو گا۔ وی پی مینن نے اسے کہا کہ جموں زیادہ محفوظ رہے گا‘ جہاں وہ اپنے ساتھ اپنی قیمتی اشیا اور اپنے خاندان کو افراد کو بھی لے جا سکتا تھا۔ مہاراجہ کا جب سامان لادا جا رہا تھا تو اسے علم نہ تھا کہ چند برس بعد اس کا محل ایک لگژری ہوٹل میں تبدیل ہو چکا ہو گا جہاں مہاراجہ ہری سنگھ کی بجائے دنیا بھر سے آئے امیر ٹورسٹ ان راہداریوں میں پھرا اور بالکونیوں میں بیٹھا کریں گے اور ناشتہ کیا کریں گے جہاں کبھی مہاراجہ کی مرضی کے بغیر پتا تک نہیں ہلتا تھا۔ ان بالکونیوں میں اب امریکن سیاح دیکھے جائیں گے جہاں کبھی مہاراجہ ہری سنگھ اپنے آرمی افسران کے ساتھ شامیں بسر کرتا تھا۔ وہی آرمی افسران جن کی وفاداریاں خزاں میں درختوں کے پتوں کی طرح حالات کے پہلے ہی تھپیڑے سے اڑ گئی تھیں۔ جب مہاراجہ کے ملازم اس کے قیمتی ڈائمنڈ، زمرد اور ہیرے جواہرت کے ڈبوں کو سمیٹ رہے تھے تو ہری سنگھ نے دو چیزوں کو خود تلاش کرنا شروع کر دیا جو وہ اپنے ساتھ رکھنا چاہ رہا تھا۔ وہ تھیں اس کی شاٹ گنیں جن کی نیلے اور سیاہ رنگ کی بیرل تھیں۔ یہ گنیں اس نے ورلڈ ڈک شوٹنگ ریکارڈ کے لیے استعمال کی تھیں۔ جونہی مہاراجہ نے ایک گن کے بیرل پر اپنا ہاتھ پھیرنا شروع کیا تو اس کے چہرے پر افسردگی ابھر آئی۔ وہ کچھ دیر تک کہیں گم اپنی اس شاٹ گن کی بیرل پر ہاتھ پھیرتا رہا۔ آخر اس نے ان بندوقوں کو چمڑے کے کیس میں بند کر دیا اور اٹھا کر اپنے ساتھ باہر لے گیا جہاں امریکن سٹیشن ویگن اس کو جموں لے جانے کے لیے کھڑی تھی۔اس سے پہلے جب وی پی مینن کو تسلی ہو گئی کہ مہاراجہ اسی رات سری نگر چھوڑ کر جموں کی طرف روانہ ہو جائے گا، تو وہ کچھ آرام کرنے کے لیے گیسٹ ہائوس چلا گیا تاکہ صبح ہوتے ہی دہلی روانہ ہو جائے؛ تاہم گیسٹ ہائوس جانے سے پہلے وی پی مینن نے کچھ دیگر اہم لوگوں سے بھی ملاقاتیں کیں جو اسے موجودہ صورتحال کے بارے بہت کچھ بتا سکتے تھے۔ وی پی مینن بستر پر سونے ہی والا تھا کہ گیسٹ ہائوس کے فون کی گھنٹی بجی۔ دوسری طرف مہاراجہ ہری سنگھ تھا۔ اس کی آواز میں خوف تھا۔ وہ بولا: شہر میں افواہیں پھیل رہی ہیںکہ قبائلی لشکر سری نگر میں داخل ہو چکا ہے لہٰذا ان سب کے لیے اس وقت شہر میں موجود رہنا خطرے سے خالی نہ ہوگا۔ وی پی مینن کے پورے بدن میں خوف کی ایک لہر دوڑ گئی۔ وہ یہ یقین نہیں کرسکتا تھا کہ قبائلی لشکر اتنی جلدی سری نگر میں داخل ہوسکتا ہے؛ تاہم وی پی مینن کے پاس اس کے علاوہ کوئی راستہ نہ تھا کہ وہ مہاراجہ کی بات پر یقین کرتا۔ مہاراجہ محل میں موجود سب گاڑیاں اپنے ساتھ لے جا چکا تھا؛ البتہ ایک پرانی جیپ وہاں موجود تھی۔ اس پرانی گاڑی میں مہاراجہ کے وزیراعظم مہر مہاجن اور جہاز کے عملے کے چھ سات ارکان نے خود کو بمشکل ٹھونسا اور ایئرپورٹ کی طرف بھگانا شروع کر دیا۔ جب وہ سب ہانپتے کانپتے ایئرپورٹ پہنچے تو وہاں لوگوں کا بہت بڑا ہجوم تھا جبکہ کل شام جب وہ ایئرپورٹ پر اترا تھا تو ہر طرف ویرانی تھی۔ وی پی مینن اپنے جہاز میں بیٹھنے ہی والا تھا کہ ایک ہندو خاتون اس کی طرف دوڑی اور آنکھوں میں آنسو بھر کر کہا کہ وہ اس کی دو بیٹیوں کو دہلی لیتا جائے۔ اس کو خوف تھا کہ اس کی بیٹیاں اب سری نگر میں محفوظ نہیں ہیں۔ وی پی مینن نے اس کی بیٹیوں کو جہاز میں بٹھا لیا۔ جہاز کے پائلٹ نے وی پی مینن کو بتایا کہ انہوں نے جس ہوٹل میں ڈنر کیا تھا وہاں کسی ایک بھی بندے کو بات کرتے نہیں دیکھا۔ اگر کوئی آواز ابھر بھی رہی تھی تو وہ صرف سالن کی پلیٹوں میں چمچ ہلانے کی تھی۔ ہر طرف موت جیسی خاموشی تھی۔ چھبیس اکتوبر کی صبح ہوتے ہی وی پی مینن کا جہاز سری نگر ایئرپورٹ سے اڑ کر دہلی کی طرف روانہ ہو گیا جہاں مائونٹ بیٹن، نہرو اور سردار پٹیل اس کا بے چینی سے انتظار کر رہے تھے۔دوسری طرف مہاراجہ ہری سنگھ کا جموں کی طرف سفر جاری تھا۔ جب مہاراجہ سترہ گھنٹوں کی مسافت کے بعد جموں اپنے محل پہنچا تو تھکاوٹ سے چور چور تھا۔ وہ فوراً اپنے بیڈروم سونے چلا گیا۔ سونے سے پہلے مہاراجہ ہری سنگھ نے اپنے اے ڈی سی کو بلایا اور اسے کہا: سنو جنٹلمین‘ اگر وی پی مینن دہلی سے صبح تک لوٹ آئے تو جگا دینا‘ ورنہ نیند ہی میں مجھے گولی مار دینا۔ (جاری)

کشمیر کہانی …(18)

وی پی مینن سری نگر سے ایک طرح سے جان بچا کر فرار ہونے کے بعد اب دہلی پہنچ چکا تھا‘ جہاں سب اس کا انتظار کر رہے تھے۔ اسے ایئرپورٹ سے سیدھا ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں لے جایا گیا‘ جہاں لارڈ مائونٹ بیٹن، نہرو‘ پٹیل اور کچھ فوجی افسران موجود تھے۔وی پی مینن نے ساری صورت حال شرکا کے سامنے رکھی اور کہا: مہاراجہ ہری سنگھ ہندوستان کے ساتھ الحاق کیلئے تیارہے اور فوری طور پر فوجی مدد کا طلبگار بھی کیونکہ پاکستانی قبائلی لشکر سری نگر سے پینتیس کلومیٹر کے فاصلے تک پہنچ چکا ہے۔ وی پی مینن سے پوچھا گیا کہ اس کی اپنی کیا رائے ہے جبکہ وہ سری نگر کے حالات خود دیکھ کر آرہا ہے۔ اس نے کہا کہ اس کے خیال میں فوری طور پر ہندوستان کو اپنی فوج سری نگر بھیج کر کشمیر کو بچانا چاہیے‘ ورنہ قبائلی لشکر‘ جو بارہ مولہ اور دیگر علاقوں میں قتل عام اور مال غنیمت اکٹھا کر رہا ہے‘ سری نگر کو تباہ کر دے گا۔لارڈ مائونٹ بیٹن کچھ اور سوچ رہا تھا۔ وہ کچھ دیر بعد بولا: میرے خیال میں کشمیر میں ان حالات میں فوجیں بھیجنا سمجھداری کی بات نہ ہوگی کیونکہ کشمیر کا نہ تو ہندوستان کے ساتھ الحاق ہے اور نہ ہی پاکستان کے ساتھ‘ ایک لحاظ سے کشمیر ایک آزاد ملک یا آزاد ریاست ہے‘ اور وہاں فوجیں بھیجنا جارحیت کے مترادف ہوگا۔ اس کا کہنا تھا کہ مہاراجہ نے ابھی تک لکھ کر کسی ملک کے ساتھ الحاق نہیں کیا ہے‘ اگر وی پی مینن کی یہ بات سچ ہے کہ مہاراجہ ہری سنگھ اس وقت ہندوستان کے ساتھ الحاق کرنے کو تیار ہے تو پہلے اسے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرنے ہوں گے‘ اس کے بعد ہی قانونی طور پر جموں اور کشمیر ہندوستان کا حصہ بن سکیں گے‘ اس کے بعد ہی ہندوستانی فوج کشمیر بھیجنے پر غور ہو سکتا ہے۔ لارڈ مائونٹ بیٹن نے نہرو اور پٹیل کو دیکھ کر مزید کہا: تاہم اس پر بھی کچھ شرائط ہوں گی‘ جب وادی میں سکون ہو جائے گا تو وہاں کشمیریوں کی مرضی معلوم کرنے کے لیے باقاعدہ استصواب رائے ہو گا اور کشمیری عوام یہ فیصلہ کریں گے کہ وہ پاکستان یا ہندوستان میں سے کس کے ساتھ ملنا چاہتے ہیں۔ مائونٹ بیٹن نے مزید کہا کہ کشمیر کا ہندوستان سے الحاق اس شرط پر ہی قبول کیا جا سکتا ہے کہ یہ سب انتظامات وقتی ہیں‘ لوگوں کی رائے کے بعد ہی فیصلہ ہوگا کہ کشمیر کس کا ہے۔ نہرو اور دیگر وزیروں نے فوری طور پر یہ بات مان لی۔ جونہی ڈیفنس کمیٹی کا اجلاس ختم ہوا تو وی پی مینن کو فوراً ایئرپورٹ بھیجا گیا تاکہ وہ دوبارہ کشمیر جائے اور مہاراجہ کو یہ سب شرائط بتا کر اس سے الحاق کی دستاویز پر دستخط کرا کے واپس لائے۔وی پی مینن کے ساتھ کشمیر کا وزیراعظم مہر مہاجن بھی تھا۔ جب دونوں جموں میں مہاراجہ کے محل میں پہنچے تو وہاں حالات بہت برے تھے۔ سارا سامان بکھرا پڑا تھا جو مہاراجہ اپنے ساتھ سری نگر سے لایا تھا۔ مہاراجہ اس وقت گہری نیند میں تھا جب وی پی مینن وہاں پہنچا۔ مہاراجہ کو وی پی مینن نے نیند سے جگایا اور اسے سب باتیں بتائیں کہ ہندوستان کی حکومت کن شرائط پر اس کی الحاق کی درخواست قبول کرنے کو تیار ہے۔ وہ فوراً تحریری طور پر الحاق کے لیے تیار ہو گیا۔ اس نے گورنر جنرل مائونٹ بیٹن کے نام ایک خط لکھا جس میں اس نے ریاست کی بری حالت کا ذکر کیا اور فوجی مدد کی درخواست دہرائی۔ مہاراجہ نے گورنر کو لکھا کہ اس کی خواہش ہے‘ وہ ایک نگران حکومت قائم کرے اور شیخ عبداللہ ریاست کے وزیر اعظم مہر مہاجن کے ساتھ مل کر صورتحال کو قابو میں لائیں۔ خط کے آخر میں مہاراجہ ہری سنگھ نے لکھا: اگر ہندوستان سری نگر کو بچانا چاہتا ہے تو ضروری ہے کہ فوری طور پر فوج بھیجی جائے۔ مہاراجہ نے اس الحاق کی دستاویز پر دستخط کر دیے جو وی پی مینن دہلی سے اپنے ساتھ لایا تھا۔ یہ سارا عمل مکمل کرنے کے بعد جب وی پی مینن واپس دہلی جانے لگا تو مہاراجہ ہری سنگھ بولا: ایک بات بتائوں‘ رات جب سونے گیا تھا تو میں نے اپنے اے ڈی سی کو کہا تھا کہ اگر وی پی مینن واپس آ جائے تو اسے نیند سے نہ جگائیں کیونکہ اس کا مطلب ہے کہ سب ٹھیک ہوگیا ہے‘ لیکن اگر وہ واپس نہ آئے تو اسے نیند ہی میں گولی مار دی جائے۔الحاق کی دستاویز لے کر وی پی مینن فوری طور پر دہلی کے لیے روانہ ہو گیا‘ جہاں سردار پٹیل اس کا بڑی بے چینی سے انتظار کر رہا تھا۔ پٹیل وہ خط لے کر فوراً دوبارہ ڈیفنس کمیٹی کے اجلاس میں چلا گیا‘ جہاں یہ فیصلہ ہونا تھا کہ فوج بھیجی جائے یا نہیں۔ اجلاس میں طویل بحث شروع ہو گئی کہ فوج بھیجنی چاہیے یا نہیں‘ کیونکہ ہندوستانی فوج کے جانے سے پاکستان بھی اپنی فوج بھیج سکتا تھا اور یوں ایک بڑی جنگ کا خطرہ پیدا ہو سکتا تھا۔ آخر طویل بحث مباحثہ کے بعد طے ہوا کہ پہلے مہاراجہ ہری سنگھ کی الحاق کی درخواست کو قبول کر لیا جائے۔شیخ عبداللہ پہلے سے دہلی میں تھا اور وہ نئی ہندوستانی حکومت سے بار بار منت سماجت کر رہا تھا کہ فوری طور پر کشمیر میں فوجی بھیجیں؛ تاہم ہندوستانی حکومت کو پتا تھا کہ شیخ عبداللہ کی کوئی قانونی یا آئینی حیثیت نہیں کہ محض اس کے کہنے پر ہندوستانی فوج سری نگر بھیجی جائے۔ اوپر سے ہندوستانی قیادت کو یہ بھی علم تھا کہ کل کلاں کو پاکستان نے بھی شیخ عبداللہ کی اس درخواست کو کوئی وقعت نہیں دینی کیونکہ اس وقت اصل حکمران مہاراجہ تھا۔ اگرچہ یہ بات بھی زیر بحث تھی کہ شیخ عبداللہ کی طرح مہاراجہ بھی تو اپنی ریاست کھو چکا ہے اور اس وقت سری نگر پر کوئی حکومت یا اس کا حکمران موجود نہیں ہے‘ لہٰذا اخلاقی یا قانونی طور پر مہاراجہ کے ان حالات میں ہندوستان سے الحاق کرنے کے فیصلے پر بھی بہت سارے شکوک پیدا ہو سکتے تھے؛ تاہم اب بھی شیخ عبداللہ کی نسبت مہاراجہ کے پاس زیادہ اخلاقی اور قانونی جواز تھا کہ وہ الحاق کر لے۔ اب سب سے بڑا سوال یہ تھا کہ مہاراجہ کی سب سے اہم درخواست کا کیا کیا جائے؟ وہ ہندوستان سے فوجی مدد مانگ رہا تھا۔ بڑی عجیب بات تھی کہ اسی مہاراجہ کو سمجھانے کے لیے دو ماہ پہلے لارڈ مائونٹ بیٹن سری نگر میں تین دن اس کے محل میں گزار کر آیا تھا۔ وہ مسلسل مہاراجہ کو قائل کرنے کی کوششوں میں لگا رہا کہ پاکستان کو جوائن کر لے کیونکہ یہی اس کے لیے اچھا تھا‘ وہ قائد اعظم سے بات کرکے اسے بہتر پیکیج لے دے گا۔ کشمیر کو فطری طور پر پاکستان کے ساتھ ہی جانا چاہیے تھا‘ اور مائونٹ بیٹن نے مہاراجہ کو اس حوالے سے دلیلیں دینے کی کوشش بھی کی تھی۔ مائونٹ بیٹن نے مہاراجہ کو یہ تک بتا دیا تھا کہ وہ اگر پاکستان کے ساتھ الحاق کرتا ہے تو بقول وزیر داخلہ سردار پٹیل کے‘ ان کی حکومت اس پر اعتراض نہیں کرے گی کیونکہ وہ یہ سمجھ سکتی تھی کہ ایک تو کشمیر کی آبادی میں مسلمان زیادہ ہیں‘ دوسرے کشمیر کے تمام راستے پاکستان سے ہی ہو کر جاتے ہیں؛ تاہم مہاراجہ نے نہ صرف مائونٹ بیٹن کی بات ماننے سے انکار کر دیا تھا بلکہ جس صبح اس نے دہلی واپس لوٹنا تھا، مہاراجہ اسے رخصت کرنے تک نہیں آیا تھا۔ لارڈ مائونٹ بیٹن کے ذہن میں یقینا یہ بات ہوگی کہ وہی مہاراجہ جو اس کی بات سننے کو تیار نہیں تھا اور اسے رخصت کرنے بھی نہیں آیا تھا‘ اس وقت خود سری نگر سے دربدر ہوکر جموں میں اپنے محل میں لیٹا اس سے مدد کی بھیک مانگ رہا ہے۔جب اجلاس میں فوج بھیجنے کی بات ہونے لگی تو بھارتی فوج کے سربراہ، نیوی اور ایئر چیف‘سب نے کہا: ہندوستانی فوجیں کشمیر بھیجنے میں بہت سارے خطرات ہیں۔ اجلاس میں نہرو کی حالت دیکھنے والی تھی۔ وہ ایک دانشور کی طرح گفتگو کر رہا تھا۔ وہ کشمیر کے معاملے کو فلسفیانہ رنگ دینے میں لگا ہوا تھا۔ وہ اس وقت کشمیر کو روس، امریکہ اور اقوام متحدہ کے نقطہ نظر سے دیکھنے کی کوشش کررہا تھا۔ سردار پٹیل یہ سب کچھ دیکھ رہا تھا اور اس کا صبر جواب دے رہا تھا۔ آخر سردار پٹیل سب کے سامنے پھٹ پڑا اور بولا: جواہر لال‘ چھوڑو یہ سب بحث مباحثہ اور فلاسفی، یہ بتائو تم کشمیر چاہتے ہو یا نہیں؟لارڈ مائونٹ بیٹن سمیت سب کی نظریں نہرو کی طرف اٹھ گئیں جو اس اچانک سوال کی توقع نہیں کر رہا تھا۔ اجلاس میں موجود ہندوستان کا ڈی جی ملٹری آپریشن سام مانک شاہ اچانک چوکس ہو گیا کیونکہ نہرو کے جواب پر ہی سب کچھ منحصر تھا۔نہرو گہری سوچ میں غرق تھا اور سب آنکھیں اس پر مرکوز تھیں۔ سردار پٹیل پھر زور سے بولا: جواہر لال تم کشمیر چاہتے ہو یا ہم پاکستان کو دے دیں؟ (جاری)

کشمیر کہانی …(19)

سب آنکھیں نہرو پر لگی ہوئی تھیں کہ وہ سردار پٹیل کو کیا جواب دیتا ہے۔ نہرو کہیں اور کھویا ہوا تھا۔ نہرو کو اپنے بزرگوں سے سنی ہوئی وہ باتیں یاد آئیں کہ جب دہلی سے میرٹھ تک بغاوت پھیل گئی تھی تو ہر طرف خون خرابہ ہو رہا تھا۔ پہلے انگریزوں کو مارا گیا تو بعد میں انگریزوں نے چن چن کر مسلمانوں اور ہندوئوں کو قتل کرنا شروع کر دیا۔ دہلی سے جو لوگ جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے‘ ان میں دہلی کے کوتوال گنگادھر کا خاندان بھی شامل تھا۔ کوتوال اور اس کی بیوی جیورانی (بعض کتابوں میں اندرانی) دریائے جمنا کے کنارے اپنے چار بچوں کے ساتھ جانیں بچانے کے لیے بھاگ رہے تھے۔ یہ فیملی کشمیر سے تعلق رکھتی تھی۔ کشمیری خود بھی خوبصورت اور ان کی آنکھیں بھی خوبصورت ہوتی ہیں‘ اس لیے جب فرنگیوں نے اس فیملی کو بھاگتے ہوئے پکڑا تو ان کی آنکھوں کی وجہ سے فرنگی یہ سمجھے کہ اس کانسٹیبل کی ایک بیٹی اصل میں کسی انگریز کی بیٹی ہے‘ جسے وہ اغوا کر کے لے جارہے ہیں‘ تاہم اس کوتوال گنگا دھر کے ایک بیٹے کو انگریزی آتی تھی‘ اس نے فرنگیوں کو بتایا کہ وہ کشمیری ہیں اور باقی کچھ راہگیروں نے بھی ان کی مدد کی‘ اس طرح اس گنگا دھر اور اس کے خاندان کی جان چھوٹی۔ چار سال بعد اس کشمیری کوتوال کی بیوی جیورانی نے ایک اور بیٹے کو جنم دیا ‘جس کا نام موتی لال رکھا گیا۔ بعد میں اسی موتی لال کا بیٹا پیدا ہوا جس کا نام جواہر لعل رکھا گیا۔ وہی جواہر لعل اب بھارت کا پہلا وزیر اعظم بنا بیٹھا سوچ رہا تھا کہ وہ سردار پٹیل کو کیا جواب دے کہ اسے اپنے پرکھوں کا کشمیر چاہیے یا نہیں۔ نہرو کو یاد آیا کہ جب وہ بچہ تھا تو اس نے اپنے باپ موتی لال کا قلم چرا لیا تھا تو باپ نے اسے اتنا مارا تھا کہ کئی دن تک وہ چل نہیں سکا تھا۔ اس کا باپ اکثر اس پر تشدد کرتا تھا‘ جس کا اثر نہرو پر ساری عمر رہا۔ کشمیر کی ان یادوں میں گم نہرو سے سردار پٹیل نے اس کے دل کی بات پوچھ لی۔ سردار پٹیل نے پوچھا: نہرو تم کشمیر چاہتے ہو یا پاکستان کو دینا ہے۔ نہرو نے فوراً جواب دیا‘ بالکل مجھے کشمیر چاہیے۔ اس سے پہلے کہ نہرو کچھ اور کہتا‘ سردار پٹیل نے ڈی جی ملٹری آپریشن مانک شاہ کو کہا: سن لیا آپ نے۔ اجلاس سے اُٹھ کر پٹیل خود آل انڈیا ریڈیو گیا اور کہا کہ سب مسافر اور دوسرے جہاز فوری طور پر ہندوستانی فوج کو سری نگر اتارنے کے لیے میسر ہوں۔ اگلے روز سردار پٹیل نے تمام جہازوں میں ہندوستان فوج کے دستے خود اپنی نگرانی میں بھجوائے۔ بڑے دنوں بعد ماؤنٹ بیٹن کو احساس ہوا کہ یہ سب کچھ اچانک نہیں ہوا بلکہ سردار پٹیل یہ سب انتظام پہلے سے کر کے بیٹھا تھا۔ اسی شام ماؤنٹ بیٹن کی ملاقات آئن سٹیفن سے ہوئی تو وہ یہ جان کر حیران ہو گیا کہ ماؤنٹ بیٹن کا پورا جھکائو بھارت کی طرف ہو چکا ہے۔ ماؤنٹ بیٹن نے اسے بتایا: جناح تو ایبٹ آباد بیٹھے سری نگر فتح ہونے کا انتظار کر رہے تھے تاکہ وہ فاتح کی طرح شہر میں داخل ہو سکیں‘ تاہم پاکستان میں بھارتی ہائی کمیشن نے کنفرم کیا کہ یہ غلط تھا‘ کیونکہ جناح نے اکتوبر کا مہینہ کراچی اور لاہور میں گزارا تھا۔ وہ ایبٹ آباد نہیں گئے تھے۔یوں ستائیس اکتوبر کی صبح ہندوستان نے اپنی فوجیں جہازوں کے ذریعے سری نگر اتارنا شروع کر دیں۔ سری نگر ایئرپورٹ خالی پڑا تھا اور قبائلی لشکر قبضہ کرنے کی بجائے بارہ مولا اور دیگر علاقوں میں اپنی کارروائیوں میں مصروف ہو گیا تھا‘ بجائے اس کے وہ ایئرپورٹ پر قبضہ کرتے تاکہ ہندوستان اپنی فوجیں نہ اتار پائے۔ نہرو نے بعد میں اپنی بہن کو لکھا کہ اگر ہم ایک دن بھی دیر کر دیتے تو سری نگر لشکر کے ہاتھ میں ہوتا۔ جب جناح صاحب کو یہ اطلاع دی گئی کہ ہندوستانی فوجیں سری نگر اتر گئی ہیں تو انہوں نے پاکستانی فوج کو حکم دیا کہ وہ جنگ شروع کرے؛ تاہم قائد اعظم کو اپنے احکامات اس وقت واپس لینا پڑے جب انگریز کمانڈر Auchinleck نے دھمکی دی کہ اگر پاکستانی فوج کشمیر لڑنے گئی تو وہ تمام برٹش افسروں کو ہٹا لیں گے۔ اسی دن لیڈی لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آئیں تاکہ وہ مغربی پاکستان کے ریفیوجی کیمپوں کا دورہ کر سکیں۔ اگلی شام وہ پنڈی میں تھیں اور انہوں نے پاکستان آرمی کے ایکٹنگ کمانڈر ان چیف جنرل گریسی سے ملاقات کی۔ جنرل گریسی نے انہیں خبردار کیا کہ کسی لمحے بھی پاکستان اور بھارت کے درمیان جنگ شروع ہو سکتی ہے۔ جنرل گریسی نے ڈنر پر لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو یہ تک کہہ دیا کہ ہو سکتا ہے اسے گرفتار کرنا پڑے۔ اگلے دن لیڈی ماؤنٹ بیٹن سیالکوٹ گئی تاکہ ہندو کشمیری مہاجرین کے کیمپوں کا دورہ کر سکیں جو ہندوستان جانے کا انتظار کر رہے تھے۔ ان مہاجرین نے بھی اپنی طرف سے مسلمانوں کی طرف سے کی گئی زیادتیوں کی کہانیاں بھی لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو سنائیں۔ ایک کشمیری سکھ نے یہاں تک لیڈی ماؤنٹ بیٹن کو کہا کہ اس نے خود پاکستانی فوجی دستوں کو عام کپڑے پہنچے کشمیر میں داخل ہوتے دیکھا تھا۔ یوں دہلی واپسی پر یہ سنی سنائی اطلاعات جب لیڈی ماؤنٹ بیٹن نے نہرو کو سنائیں تو نہرو کو اپنے بد ترین خدشات پورے ہوتے نظر آنے لگے‘ جبکہ پہلی دفعہ ماؤنٹ بیٹن اس اثر و رسوخ اور تعلق سے خوف زدہ ہوا جو نہرو اور اس کی بیوی کا ایک دوسرے کے ساتھ تھا۔ ان کی دوستی اور تعلقات کی کہانیاں دھیرے دھیرے پھیلنا شروع ہو چکی تھیں۔ ماؤنٹ بیٹن نے اپنی بیوی کو خبردار کیا کہ نہرو کشمیر کے بارے میں بہت جذباتی ہے‘ تاہم یہ بات دہلی میں پھیل رہی تھی کہ کشمیر کا مسئلہ اس لیے بگڑ رہا ہے کیونکہ جناح اور نہرو ایک دوسرے کو ذاتی طور پر شدید نا پسند کرتے تھے۔ دونوں کو ایک دوسرے پر ہر وقت شک ہی رہتا تھا۔ نہرو اس بات پر قائل تھا کہ جناح صاحب نے ہی قبائلی لشکر تیار کرا کے کشمیر بھیجا تھا جبکہ برٹش افسران‘ جو پوری صورت حال کو مانیٹر کر رہے تھے‘ کا کہنا تھا کہ جناح صاحب پر یہ الزام نہیں لگایا جا سکتا‘ ہاں یہ ضرور تھا کہ پاکستانی حکومت نے کشمیر جانے والے راستے اور سپلائی کھول کر قبائلی لشکر کے راستے میں رکاوٹ بھی نہیں ڈالی تھی۔ بعد میں مورخین نے لکھا کہ حقیقت یہ تھی کہ اگر جناح صاحب روکنے کی کوشش کرتے تو بھی وہ لشکر کو نہیں روک سکتے تھے۔ اگر وہ پاکستان آرمی کو حکم دیتے کہ وہ قبائلی لشکر کو کشمیر جانے سے روکے تو پاکستان کے اندر ہی سول وار شروع ہو جانی تھی۔ پٹھان قبائل اور پاکستان آرمی ایک دوسرے سے لڑ پڑتے اور فائدہ افغانستان کو ہونا تھا جو موقع کی تلاش میں تھا کہ کسی طرح پاکستانی قبائل کو ساتھ ملایا جائے‘ جبکہ یہ بھی ممکن تھا کہ روس بھی اس کھیل میں شریک ہو جاتا۔تاہم دہلی میں ایک حلقہ یہ کہہ رہا تھا کہ بہتر ہوتا جناح خود ہی نہرو کو یہ اطلاع دیتے کہ قبائلی لشکر نکل پڑے ہیں اور وہ انہیں نہیں روک سکتے۔ چونکہ جناح صاحب نے یہ نہیں کیا تھا‘ لہٰذا نہرو یہ سمجھ بیٹھا کہ یقینا یہ جناح صاحب کی سازش تھی ورنہ وہ اسے خود اطلاع دیتے۔ دوسری طرف نہرو بھی اس معاملے میں ناکام رہا۔ اس نے بھی جناح صاحب کو یہ اطلاع نہیں دی تھی کہ مہاراجہ ہری سنگھ نے ہندوستان سے مدد مانگی ہے اور وہ اپنی فوج سری نگر بھیج رہا ہے۔ یوں جناح اس بات پر قائل ہو گئے کہ نہرو بندوق کے زور پر کشمیر پر قبضہ کر رہا ہے۔ نہرو کی دلی خواہش کا سب کو پتا اس وقت چلا جب اس نے اٹھائیس اکتوبر کو اپنی بہن کو خط لکھا کہ شاید مجھے اس سے فرق نہ پڑے کہ کشمیر مکمل یا جزوی طور پر آزاد ریاست بن جائے‘ لیکن اسے پاکستان کا حصہ بننے دینے کا مطلب ایک اور ظلم ہو گا۔ ماؤنٹ بیٹن نے اس صورت حال کو سلجھانے کی کوشش کی اور کہا کہ بہتر ہو گا نہرو‘ پٹیل‘ جناح اور لیاقت علی خان کی دہلی میں ملاقات کرائی جائے اور مل بیٹھ کر کشمیر کے معاملے کو حل کر لیا جائے؛ تاہم ماؤنٹ بیٹن کو اس وقت اپنی شکست کا احساس ہوا جب جناح صاحب نے دہلی آنے سے انکار کر دیا اور سردار پٹیل لاہور جانے پر راضی نہیں تھا۔ ہندوستان کا گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن پھنس گیا تھا۔ آخرکار قائد اعظم نے نہرو سے ملاقات کے لیے ایک شرط رکھ دی جو ماؤنٹ بیٹن نے مان لی‘ لیکن ساتھ ہی کہا: نہرو اور سردار پٹیل کو ہوا بھی نہیں لگنی چاہیے‘ ورنہ بنا بنایا کھیل بگڑ جائے گا۔ لیکن ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ نہ تھا کہ تمام تر احتیاط کے باوجود کھیل پھر بھی بگڑنے والا ہے۔ (جاری)

کشمیر کہانی (20)

نہرو اور سردارپٹیل کو علم نہ تھا کہ جناح صاحب اور ماؤنٹ بیٹن کے درمیان کیسی سیکرٹ انڈرسٹینڈنگ ہوگئی ہے۔دراصل جب قائداعظم کو علم ہوا کہ بھارت نے اپنی فوجیں سری نگر میں اتار دی ہیں تو انہوں نے جنرل گریسی کو حکم دیا کہ وہ پاکستانی افواج کشمیر بھیجیں۔ جنرل گریسی نے یہ کہہ کر انکار کر دیا کہ جب تک انہیں دہلی سے سپریم کمانڈر حکم نہیں دیں گے وہ فوج نہیں بھیجیں گے۔ جنرل گریسی نے قائداعظم کا یہ حکم دہلی میں سپریم کمانڈر تک بھی پہنچایا ‘جو خود پاکستان پہنچا اور قائد اعظم کو وضاحت دی۔ سپریم کمانڈر کا کہناتھا کہ اگر پاکستانی فوج کشمیر میں داخل ہوئی تو پاکستانی فوج میں موجود تمام برٹش افسران کو فوج چھوڑنی پڑے گی۔ اس پر قائداعظم نے حکم واپس لے لیا۔قائداعظم نے کہا: پھر بہتر ہے نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن لاہور آئیں اور اس معاملے پر بات کریں۔ سپریم کمانڈر نے دہلی جا کر لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو جناح صاحب کا پیغام دیا ۔ماؤنٹ بیٹن جناح صاحب سے ملنے کو تیار ہوگیا‘ تاہم اس نے نہرو کو یہ بات نہیں بتائی کہ لاہور جانا دراصل قائداعظم کی شرط تھی ۔ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ تھا کہ اگر یہ بات نکل گئی تو کابینہ نہرو کو لاہور نہیں جانے دے گی۔ طے ہوا کہ یکم نومبر کو لاہور میں جناح صاحب‘ نہرو اور لارڈ ماؤنٹ بیٹن کے کشمیر پر مذاکرات ہوں گے۔ لارڈ ماؤنٹ بیٹن کو اندازہ نہ تھا کہ اندر کھاتے کیا کھچڑی پک رہی تھی ۔ وزیرداخلہ سردارپٹیل نہرو کے لاہور جا کر جناح صاحب سے مذاکرات کے خلاف تھا۔پٹیل نے کہا: اگر بات کرنی بھی ہے توجناح صاحب دہلی تشریف لائیں‘ تاہم نہرو لاہور آنے کے حق میں تھا ۔ نہرو اور سردارپٹیل کے درمیان بڑھتے ہوئے اختلاف کا معاملہ آخر کار گاندھی جی تک جا پہنچا ۔ کابینہ کے اندر بھی سردارپٹیل نے اس ملاقات کے خلاف خاصا ماحول بنا لیا تھا اور کابینہ کی اکثریت جناح نہرو ملاقات کے خلاف تھی۔ اب فیصلہ گاندھی جی نے کرنا تھا ۔ رات گئے وی پی مینن کو برلہ ہاؤس سے فون آیا کہ وہ فوراً گاندھی جی کے پاس پہنچیں ۔ مینن پہنچا تو نہرو اور سردار پٹیل موجود تھے۔ وی پی مینن کو بھی نہرو کے لاہور جا کر جناح صاحب سے ملاقات پر اعتراض تھا۔ گاندھی جی نے وی پی مینن سے پوچھا :آپ کو نہرو کے لاہور جا کر جناح صاحب سے ملاقات پر اعتراض کیوں ہے؟ وی پی مینن کی رائے کو بہت اہمیت دی جاتی تھی‘ کیونکہ وہی تھا جو مہاراجہ ہری سنگھ سے الحاق کی دستاویزات لایا تھا اور اس کی یہ بات بڑی مشہور ہوگئی تھی کہ ہم نے کشمیر لے لیا ہے اب ہم اسے ہمیشہ اپنے پاس ہی رکھیں گے۔ وی پی مینن نے گاندجی جی کو نہرو اور سردارپٹیل کی موجودگی میں بتایا کہ جب یہ بات مجھے گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن نے بتائی تھی میں نے اس وقت بھی اس ملاقات کی مخالفت کی تھی۔ مینن نے گاندھی جی سے اس مخالفت کی وجوہات بیان کیں۔ جب گاندھی‘ نہرو‘ سردارپٹیل اور وی پی مینن کے درمیان یہ بحث جاری تھی توسب نے نوٹ کیا کہ نہرو کی طبیعت بگڑ رہی تھی‘اُسے شدید بخار ہورہا تھا۔ یوں اب یہ ناممکن لگ رہا تھا کہ نہرو لاہور جا سکے گا ۔ جب یہ فیصلہ ماؤنٹ بیٹن تک پہنچا تو اس نے گہری سانس لی اور بولا: کسی حد تک یہ درست فیصلہ ہے‘ کیونکہ اگر نہرو جناح صاحب سے ملنے لاہور گیا تو کابینہ کے وزرااُ سے اٹھا کر باہر پھینک دیں گے۔ تاہم ماؤنٹ بیٹن نے کہا :پھر بہتر ہے میں خود لاہور جناح صاحب سے ملاقات کروں گا۔ ماؤنٹ بیٹن نے جناح صاحب کو اگلی صبح فون کیا اور بتایا کہ نہرو کی طبیعت خراب ہے‘ وہ اب اکیلا ہی لاہور آرہا ہے ۔ نہرو کے اس دورۂ لاہورکے کینسل ہونے پر پاکستان کو محسوس ہوا کہ یہ نیا کھیل اور سازش ہے‘ لہٰذا پاکستان نے سخت بیان جاری کر دیا ۔ وزیراعظم لیاقت علی خان نے کہا: نہرو کی بیماری ایک بہانہ ہے ‘ہندوستان‘ مہاراجہ ہری سنگھ اور شیخ عبداللہ ساتھ مل کر کشمیر پر سازش کررہے ہیں اور پاکستان کے دوستانہ انداز کو نظرانداز کررہے ہیں۔ پاکستان کی طرف سے یہ بھی کہا گیا کہ بھارت دراصل جان بوجھ کر لشکر کا بہانہ کررہا ہے‘ ورنہ اس نے پہلے سے ہی فوجیں سری نگر بھیجنے اور کشمیر پر جارحیت کا پلان بنا رکھا تھا۔اگرچہ معاملات بہت بگڑ چکے تھے اور نہرو جناح ملاقات کینسل ہونے سے کشمیر کے معاملے پر کسی بھی پیش رفت کا امکان کم ہو چکا تھا‘ تاہم ماؤنٹ بیٹن جناح صاحب سے ملنے لاہور آ گیا‘ لیکن جناح صاحب کو بھی پتہ تھا کہ فیصلہ کن طاقت نہرو اور سردارپٹیل کے پاس ہے۔ ماؤنٹ بیٹن کے پاس جناح صاحب کے ساتھ کوئی بھی معاہدہ کرنے کی پاورز نہیں تھیں۔ یوں اس ملاقات سے کچھ نہ نکلا‘ بلکہ اس ملاقات کا یہ نقصان ہوا کہ پاکستانی گورنر جنرل اور ہندوستانی گورنر جنرل‘ جو پہلے ہی ایک دوسرے کو ناپسند کرتے تھے‘ ان کے درمیان خلیج مزید گہری ہوگئی ۔ دونوں اس ملاقات کے بعد کمرے سے باہر نکلے تو ان کے ایک دوسر ے پر شکوک و شبہات مزید بڑھ چکے تھے۔ ماؤنٹ بیٹن یہ سوچے بیٹھا تھا کہ جناح صاحب دراصل قبائلی لشکر کو ساری ہدایات دے رہے تھے کہ کشمیر فتح کرنا ہے‘ جبکہ جناح صاحب کو یہ یقین تھا کہ ہندوستانی فوجوں کو براہ راست احکامات ماؤنٹ بیٹن ہی جاری کررہا ہے۔ اس ملاقات کے تین دن بعد پاکستان ٹائمز نے رپورٹ شائع کی‘ جس میں کہا گیا تھا کہ ماؤنٹ بیٹن دراصل کشمیر میں بھارتی فوجوں کے آپریشن کی کمانڈ کررہا ہے‘ جبکہ پاکستان میں تعینات دو سینئر برٹش سفارت کاروں کو یہ فکر تھی کہ ماؤنٹ بیٹن کے بارے میں جو تاثر پاکستان میں بن رہا ہے اس سے لوگوں میں برطانیہ کے خلاف جذبات ابھرنا شروع ہوگئے ہیں۔ پاکستان‘ جس کے قیام کو ابھی چند ماہ ہی ہوئے تھے ‘ کے بڑے مسائل میں سب کو ماؤنٹ بیٹن کا ہاتھ نظر آنا شروع ہوگیا تھا‘ جیسے ریڈ کلف ایوارڈ کے اعلان میں پرسرار تاخیر‘ سکھ لیڈروں کو گرفتار نہ کرنا‘ جو تقسیم سے پہلے ہی پنجاب میں بہت بڑے پیمانے پر مشکلات پیدا کررہے تھے اور رہی سہی کسر کشمیر پر ہندوستان کے قبضے سے پوری ہوگئی ۔ پاکستانی حکومت ماؤنٹ بیٹن کے اس رویے پر اتنی ڈسٹرب تھی کہ پاکستان کے پہلے وزیرخزانہ ملک غلام محمد نے گریفٹی سمتھ کوبا قاعدہ طنزیہ طور پر مبارک باد دی کہ برطانیہ نے پاکستان پر پہلی فتح حاصل کر لی ہے ۔ پاکستانیوں میں یہ احساس روز بروز بڑھ رہا تھا کہ برٹش حکومت کی ناک گورنر جنرل ماؤنٹ بیٹن کے ہاتھ میں ہے‘ جب وہ چاہے مروڑ دے‘ جبکہ ماؤنٹ بیٹن کی اپنی ناک نہرو کے ہاتھوں میں تھی اور نہرو کی ناک سردارپٹیل نے پکڑ رکھی تھی جو پاکستان کا سب سے بڑا دشمن تھا۔ رہی سہی کسر لیڈی ماؤنٹ بیٹن نے پوری کردی تھی ‘جو ہندوستان کے وزیراعظم نہرو اور اپنے خاوند ماؤنٹ بیٹن کے درمیان ایک بڑا لنک بن گئی تھی ۔ دوسری طرف کشمیر میں لڑائی اب اُڑی تک پھیل چکی تھی۔ پانچ نومبر کو ایک سو بیس ٹرک پراسرار طور پر جموں شہر میں آئے۔ انہوں نے مقامی مسلمانوں کو بتایا کہ انہیں پاکستان کی سرحد کے قریب لے جا کر چھوڑ دیا جائے گا۔ پانچ ہزار کے قریب مسلمان مرد‘ عورتیں اور بچے ان ٹرکوں میں بیٹھ گئے ۔ ان مسلمانوں کو پتہ نہ چلا کہ کب وہ ٹرک پاکستانی سرحد کی طرف جانے کی بجائے جموں سے دور چلے گئے۔ ٹرکوں کو روک کر گارڈز باہر نکلے‘ مسلمان عورتوں‘ بچوں اور مردوں کو باہر نکالا اور مشین گنوں کے ساتھ سب کو بھون ڈالا‘ چند سو بچ نکلنے میں کامیاب ہوئے ‘ باقی مارے گئے۔ دوسری طرف سکھ دستے‘ جو کشمیر میں لڑ رہے تھے وہ سست ہونا شروع ہوگئے تھے۔ ان کے بارے میں یہ خبریں پھیل رہی تھیں کہ انہوں نے بھی ایک آزاد سکھ ریاست کا مطالبہ شروع کردیا ہے‘ جس میں امرتسر‘ شملہ اور مشرقی پنجاب کے علاقے شامل ہوں۔ ہندوستان کی حکومت کو خبر پہنچی کہ اس پلان میں پٹیالہ کے مہاراجہ کا ہاتھ ہے۔ دوسری طرف کشمیر میں لڑتے قبائلیوں میں سکھوں کے خلاف نفرت بڑھ رہی تھی اور وہ یہ طے کیے بیٹھے تھے کہ وہ مہاراجہ ہری سنگھ کے خاتمے کے بعد سکھ ریاست پٹیالہ پر چڑھائی کریں گے اور کسی دن وہاں سے دہلی جا پہنچیں گے ‘جہاں کبھی پٹھانوں کی حکومت ہوا کرتی تھی ۔ پٹھانوں کے ہندوستان پر حکومت کرنے کے پرانے خواب جاگ رہے تھے ‘ یوں ہندوستان کی دو خطرناک لڑاکا قومیں ایک دفعہ پھر آمنے سامنے اور ایک دوسرے سے پرانے بدلے لینے کو تیار تھیں ۔ سوا سو سال پہلے پنجاب کے مہاراجہ رنجیت سنگھ کے دور سے پٹھانوں اور سکھوں کے درمیان شروع ہونے والی جنگیں دوبارہ پوری قوت سے نمودار ہورہی تھیں ۔اس دفعہ کشمیر میدان جنگ بننے والا تھا ۔ ( جاری)

(Visited 1240 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT