Most interesting decision of cricket history

ویسٹ انڈیز اور نیوزی لینڈ کے درمیان تیسرے ٹیسٹ میچ کے دوران بین اسٹوکس کے ساتھ ایک دلچسپ واقعہ پیش آیا ۔ اسٹوکس پر قسمت پوری طرح مہربان تھی ، جو امپائر نے انہیں آوٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم سے بھی واپس بلالیا جبکہ ان کے ساتھی بلے باز جان بیرسٹو کریز تک پہنچ چکے تھے ۔ گراس آئیلیٹ میں کھیلے جارہے تیسرے ٹیسٹ میچ کے پہلے دن یہ واقعہ پیش آیا ۔ بین الاقوامی کرکٹ کونسل ( آئی سی سی ) کے ایک بدلے ہوئے قانون نے اسٹوکس کو آوٹ ہونے سے بچالیا ۔

ممکنہ طور پر کرکٹ میں ایسا پہلی مرتبہ ہوا ہے جب کوئی بلے باز آوٹ ہونے کے بعد ڈریسنگ روم تک پہنچ گیا ہو اور دوسرا بلے باز میدان پر آگیا ہو اور اس کے بعد ڈریسنگ روم میں گئے بلے باز کو بلے بازی کیلئے واپس بلالیا گیا ہو۔


دراصل انگلینڈ کی اننگز کا 70 واں اوور ویسٹ انڈیز کے الجاری جوزیف ڈال رہے تھے، اس اوور کی آخری گیند پر بین اسٹوکس نے پل شاٹ کھیلا ، لیکن گیند جوزیف کے ہاتھ میں چلی گئی ۔ اس طرح سے اسٹوکس مایوس ہوکر ڈریسنگ روم کی طرف چل پڑے ۔ انہوں نے اس وقت 88 گیندوں میں 52 رن بنائے تھے ۔ آوٹ ہونے پر وہ تیزی سے میدان کے باہر چلے گئے اور ان کے ساتھی کھلاڑی جانی بیرسٹو میدان میں آگئے ۔

لیکن اسی دوران تیسرے امپائر نے گیند چیک کی اور نوبال قرار دیدی ۔ لیکن اس وقت تو اسٹوکس میدان سے باہر جاچکے تھے ، ایسے میں انہیں فورا واپس بلالیا گیا اور بیرسٹو لوٹ گئے۔ بین اسٹوکس نے اس کا کافی فائدہ اٹھایا اور دن کا کھیل ختم ہونے تک 62 رن بناکر ناٹ آوٹ رہے۔ انہوں نے پانچویں وکٹ کیلئے جوس بٹلر کے ساتھ 124 رن کی شراکت داری کی ۔ بٹلر 67 رن بناکر ناٹ آوٹ رہے۔



(Visited 527 times, 1 visits today)



Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT