Pakistan Official Contacts with Israel

سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے اسرائیل سے رابطہ کرنے کا اعتراف کر لیا ۔ تفصیلات کے مطابق حال ہی میں دئے گئے ایک انٹرویو میں سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ ہم نے نظریہ ضرورت کے تحت اسرائیل سے رابطہ کیا تھا۔ عراق سے جنگ کے دوران ایران نے مذہبی ریاست ہونے کے باوجود اسرائیل کو تیل بیچ کر ہتھیار حاصل کیے تھے۔انہوں نے کہا کہ اسرائیل کی جانب سے بھارت کو جدید اسلحے کی فروخت کے پیش نظر ہم نے نظریہ ضرورت کے تحت اسرائیلی حکومت سے رابطہ کیا تھا۔ رابطے کا مقصد اسرائیل کو یہ بآور کروانا تھا کہ وہ ایک حد سے آگے نہ جائے۔ سابق وزیر خارجہ خورشید قصوری نے کہا کہ جب ایران عراق جنگ ہو رہی تھی تو اس وقت تہران نے بھی نظریہ ضرورت کے تحت اسرائیلی ہتھیار لے کر بدلے میں تیل دیا تھا۔

ایران میں مذہبی حکومت ہے لیکن جب ایران کی سلامتی کا مسئلہ آیا تو انہوں نے بھی اسرائیل سے ہتھیار لیے تھے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی جانب سے رابطہ کرنے پر اس وقت کے اسرائیلی وزیراعظم نے غزہ سےاپنی فوج ہٹا دی تھی اور اس کی اسلامی دنیا میں بڑے پیمانے پر خوشی منائی گئی تھی۔یاد رہے کہ گذشتہ تین روز سے پاکستان میں اسرائیلی طیارے کی لینڈنگ کے حوالے سے کئی خبریں سامنے آئیں جن میں کہا گیا کہ اسرائیلی طیارہ خفیہ طور پر پاکستانآیا جس نے 10 گھنٹے اسلام آباد میں قیام کیا ،تاہم حکومت اور پاکستان کے سول ایوی ایشن حکام نے اس خبر کی تردید کی اور کہا کہ پاکستان میں کسی اسرائیلی طیارے کی کوئی لینڈنگ نہیں ہوئی اور اس حوالے سے سامنے آنے والی تمام خبریں بے بنیاد ہیں۔گذشتہ روز صدر مملکت عارف علوی نے بھی ان خبروں کی تردید کی اور کہا کہ اسرائیل سے نہ تو ہم تعلقات استوار کر رہے ہیں اور نہ ہی ایسی کوئی تجویز ہے۔

Loading...
(Visited 334 times, 1 visits today)

Also Watch

LEAVE YOUR COMMENT